<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 13:16:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Jul 2026 13:16:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریڈ کارڈ کے باوجود امریکی فٹبالر بالوگن کو کھیلنے کی اجازت دینے والا فیفا کا 'آرٹیکل 27' کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507632/what-is-article-27-of-fifas-disciplinary-code-that-allows-red-carded-balogun-to-play</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹ بال ورلڈ کپ میں اس وقت ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، دنیا بھر میں فٹ بال کے کھیل کو چلانے والے ادارے فیفا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک کال پرامریکی ٹیم کے سب سے اہم کھلاڑی فولارن بالوگن پر لگی پابندی کو اچانک ختم کر دیا ہے۔ اب وہ پیر کے دن بیلجیم کے خلاف ہونے والے بڑے میچ میں کھیل سکیں گے۔ فیفا نے اس اقدام کے لیے آرٹیکل 27 کا سہارا لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالوگن کو پچھلے میچ میں ایک کھلاڑی کو گرانے پر ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد ان پر ایک میچ کی پابندی لگ گئی تھی۔ لیکن فیفا نے اپنے ایک خاص قانون، جسے آرٹیکل 27 کہا جاتا ہے، اس کا استعمال کرتے ہوئے اس پابندی کو فی الحال روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ آرٹیکل 27 ہے کیا، جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسان زبان میں، فیفا کے قانون کا یہ حصہ ان کی کمیٹی کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی کھلاڑی پر لگی سزا کو کچھ وقت کے لیے روک سکتے ہیں۔ سزا اپنی جگہ قائم رہتی ہے مگر کھلاڑی کو وہ سزا فوراً نہیں بھگتنی پڑتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قانون کے تحت کھلاڑی کو ایک سے چار سال تک کی آزمائشی مدت پر رکھ دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507629/football-norway-brazil-fifa-worldcup-2026-erling-haaland-quarter-finals-worldcup'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507629"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بالوگن کو بھی ایک سال کی آزمائشی مدت پر رکھا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس ایک سال کے دوران انہوں نے میدان میں دوبارہ کوئی ایسی ہی سنگین غلطی کی، تو پرانی پابندی خود بخود دوبارہ لاگو ہو جائے گی اور نئی سزا الگ سے ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کی اس کمیٹی کے سربراہ متحدہ عرب امارات کے محمد الکمالی ہیں، اس کمیٹی میں دیگر قانون دان بھی شامل ہوتے ہیں جو یہ فیصلے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یچ فکسنگ کرنے والوں کی سزا اس قانون کے تحت معاف یا مؤخر نہیں ہو سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بوسنیا کے خلاف میچ میں بالوگن نے پہلا گول کیا اور بعد میں ایک عام سے مقابلے کے دوران ان کا پاؤں مخالف کھلاڑی کے ٹخنے پر لگ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفری نے ویڈیو دیکھنے کے بعد انہیں سیدھا ریڈ کارڈ دکھا دیا، جسے ماہرین نے بہت سخت فیصلہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے تو امریکی فٹ بال حکام نے کہا تھا کہ ریڈ کارڈ کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی، لیکن اتوار کو فیفا نے اچانک آرٹیکل 27 کا استعمال کر کے سب کو حیران کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کے پیچھے بڑی سفارت کاری چل رہی تھی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کو تین بار فون بھی کیے تھے تاکہ اس فیصلے کو بدلوایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507631/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507631"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، ماضی میں بھی فیفا نے اسی قانون کا فائدہ پہنچا کر مشہور کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کو ورلڈ کپ کے پہلے میچ کھیلنے کی اجازت دی تھی، وہ بھی اس وقت ایک پابندی کا شکار تھے اور پابندی ہٹنے سے پہلے ٹرمپ کے مہمان بنے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، بیلجیم کی ٹیم اس فیصلے پر آگ بگولا ہو گئی ہے کیونکہ ان کے پاس میچ کی تیاری کے لیے صرف چوبیس گھنٹے بچے تھے اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ امریکا کا اہم ترین کھلاڑی میچ سے باہر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیلجیم فٹ بال ایسوسی ایشن نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس فیصلے پر شدید حیران ہیں، یہ فیصلہ ورلڈ کپ کے اپنے ہی قوانین کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ہر میٹنگ میں یہی بتایا گیا تھا کہ ریڈ کارڈ پر پابندی لازمی لگے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیلجیم کے مینیجر روڈی گارسیہ کو اب اچانک اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنی پڑ رہی ہے، جبکہ بیلجیم کے فٹ بال حکام کا کہنا ہے کہ وہ کھیل میں انصاف کے اصولوں کو بچانے کے لیے فیفا کے اس قدم کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے تمام راستوں پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹ بال ورلڈ کپ میں اس وقت ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، دنیا بھر میں فٹ بال کے کھیل کو چلانے والے ادارے فیفا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک کال پرامریکی ٹیم کے سب سے اہم کھلاڑی فولارن بالوگن پر لگی پابندی کو اچانک ختم کر دیا ہے۔ اب وہ پیر کے دن بیلجیم کے خلاف ہونے والے بڑے میچ میں کھیل سکیں گے۔ فیفا نے اس اقدام کے لیے آرٹیکل 27 کا سہارا لیا ہے۔</strong></p>
<p>بالوگن کو پچھلے میچ میں ایک کھلاڑی کو گرانے پر ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد ان پر ایک میچ کی پابندی لگ گئی تھی۔ لیکن فیفا نے اپنے ایک خاص قانون، جسے آرٹیکل 27 کہا جاتا ہے، اس کا استعمال کرتے ہوئے اس پابندی کو فی الحال روک دیا ہے۔</p>
<p>اب یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ آرٹیکل 27 ہے کیا، جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔</p>
<p>آسان زبان میں، فیفا کے قانون کا یہ حصہ ان کی کمیٹی کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی کھلاڑی پر لگی سزا کو کچھ وقت کے لیے روک سکتے ہیں۔ سزا اپنی جگہ قائم رہتی ہے مگر کھلاڑی کو وہ سزا فوراً نہیں بھگتنی پڑتی۔</p>
<p>اس قانون کے تحت کھلاڑی کو ایک سے چار سال تک کی آزمائشی مدت پر رکھ دیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507629/football-norway-brazil-fifa-worldcup-2026-erling-haaland-quarter-finals-worldcup'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507629"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بالوگن کو بھی ایک سال کی آزمائشی مدت پر رکھا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس ایک سال کے دوران انہوں نے میدان میں دوبارہ کوئی ایسی ہی سنگین غلطی کی، تو پرانی پابندی خود بخود دوبارہ لاگو ہو جائے گی اور نئی سزا الگ سے ملے گی۔</p>
<p>فیفا کی اس کمیٹی کے سربراہ متحدہ عرب امارات کے محمد الکمالی ہیں، اس کمیٹی میں دیگر قانون دان بھی شامل ہوتے ہیں جو یہ فیصلے کرتے ہیں۔</p>
<p>تاہم، یچ فکسنگ کرنے والوں کی سزا اس قانون کے تحت معاف یا مؤخر نہیں ہو سکتی۔</p>
<p>یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بوسنیا کے خلاف میچ میں بالوگن نے پہلا گول کیا اور بعد میں ایک عام سے مقابلے کے دوران ان کا پاؤں مخالف کھلاڑی کے ٹخنے پر لگ گیا۔</p>
<p>ریفری نے ویڈیو دیکھنے کے بعد انہیں سیدھا ریڈ کارڈ دکھا دیا، جسے ماہرین نے بہت سخت فیصلہ قرار دیا۔</p>
<p>پہلے تو امریکی فٹ بال حکام نے کہا تھا کہ ریڈ کارڈ کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی، لیکن اتوار کو فیفا نے اچانک آرٹیکل 27 کا استعمال کر کے سب کو حیران کر دیا۔</p>
<p>امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کے پیچھے بڑی سفارت کاری چل رہی تھی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کو تین بار فون بھی کیے تھے تاکہ اس فیصلے کو بدلوایا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507631/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507631"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق، ماضی میں بھی فیفا نے اسی قانون کا فائدہ پہنچا کر مشہور کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کو ورلڈ کپ کے پہلے میچ کھیلنے کی اجازت دی تھی، وہ بھی اس وقت ایک پابندی کا شکار تھے اور پابندی ہٹنے سے پہلے ٹرمپ کے مہمان بنے تھے۔</p>
<p>دوسری طرف، بیلجیم کی ٹیم اس فیصلے پر آگ بگولا ہو گئی ہے کیونکہ ان کے پاس میچ کی تیاری کے لیے صرف چوبیس گھنٹے بچے تھے اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ امریکا کا اہم ترین کھلاڑی میچ سے باہر ہوگا۔</p>
<p>بیلجیم فٹ بال ایسوسی ایشن نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس فیصلے پر شدید حیران ہیں، یہ فیصلہ ورلڈ کپ کے اپنے ہی قوانین کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ہر میٹنگ میں یہی بتایا گیا تھا کہ ریڈ کارڈ پر پابندی لازمی لگے گی۔</p>
<p>بیلجیم کے مینیجر روڈی گارسیہ کو اب اچانک اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنی پڑ رہی ہے، جبکہ بیلجیم کے فٹ بال حکام کا کہنا ہے کہ وہ کھیل میں انصاف کے اصولوں کو بچانے کے لیے فیفا کے اس قدم کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے تمام راستوں پر غور کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507632</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 09:22:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/060921141e893a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/060921141e893a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
