<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Crime</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 18:02:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Jul 2026 18:02:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی خاتون زیادتی کیس: ملزم کا ڈی این اے میچ ہو گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507661/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق اس واقعے میں ملوث ایک ملزم کا ڈی این اے میچ ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور شواہد کی تصدیق کے بعد تفتیش مزید آگے بڑھا دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرِ حراست ملزمان میں ایک نواز نامی ملزم بھی شامل ہے، جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ملزم پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے دیگر ملزمان کو بھی مبینہ جرم پر اکسایا، جس کے بعد باقی افراد نے بھی مبینہ طور پر اس واقعے میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام کے مطابق کیس کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507585/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507585"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں اس واقعے کی ایف آئی آر 2 جولائی کو درج کرائی گئی تھی۔ جس میں دو غیر ملکی خواتین نے پانچ افراد کے خلاف مبینہ اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان طلب کرنے کی شکایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار ڈچ شہری اسٹیفنی ایڈریانا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی رضا ڈار سے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی اور مبینہ طور پر ان کے ویزوں کا انتظام بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507440/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ متاثرہ خواتین میں ایک نیدرلینڈ اور دوسری وینزویلا کی شہری ہیں، جو 29 جون کو پاکستان پہنچی تھیں اور اسی روز انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا تھا کہ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون کے والد کی جانب سے بیرون ملک سے موصول ہونے والی کال کے بعد دونوں خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس سے بازیاب کرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے چاروں ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جنہیں عدالت پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر چکی ہے۔ پانچویں ملزم، جو پولیس کے مطابق سیکیورٹی گارڈ ہے، کو بھی گرفتار کرلیا گیا ساتھ ہی مزید تین افراد کو بھی حراست میں لیا گیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبینہ زیادتی کا شکار دونوں غیر ملکی خواتین پاکستان سے اپنے اپنے ملک روانہ ہوچکی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ متاثرہ خواتین اور ملزمان کے درمیان کرپٹو کرنسی میں شراکت داری موجود تھی۔ ملزمان کرپٹو کرنسی میں منافع کے دعوے دار تھے اور خواتین کو مزید سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر پاکستان بلایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق اس واقعے میں ملوث ایک ملزم کا ڈی این اے میچ ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور شواہد کی تصدیق کے بعد تفتیش مزید آگے بڑھا دی گئی ہے۔</p>
<p>زیرِ حراست ملزمان میں ایک نواز نامی ملزم بھی شامل ہے، جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>اسی ملزم پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے دیگر ملزمان کو بھی مبینہ جرم پر اکسایا، جس کے بعد باقی افراد نے بھی مبینہ طور پر اس واقعے میں حصہ لیا۔</p>
<p>تفتیشی حکام کے مطابق کیس کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507585/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507585"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں اس واقعے کی ایف آئی آر 2 جولائی کو درج کرائی گئی تھی۔ جس میں دو غیر ملکی خواتین نے پانچ افراد کے خلاف مبینہ اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان طلب کرنے کی شکایت کی تھی۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار ڈچ شہری اسٹیفنی ایڈریانا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی رضا ڈار سے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی اور مبینہ طور پر ان کے ویزوں کا انتظام بھی کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507440/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>تفتیشی حکام نے بتایا تھا کہ متاثرہ خواتین میں ایک نیدرلینڈ اور دوسری وینزویلا کی شہری ہیں، جو 29 جون کو پاکستان پہنچی تھیں اور اسی روز انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا تھا کہ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون کے والد کی جانب سے بیرون ملک سے موصول ہونے والی کال کے بعد دونوں خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس سے بازیاب کرایا گیا تھا۔</p>
<p>مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے چاروں ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جنہیں عدالت پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر چکی ہے۔ پانچویں ملزم، جو پولیس کے مطابق سیکیورٹی گارڈ ہے، کو بھی گرفتار کرلیا گیا ساتھ ہی مزید تین افراد کو بھی حراست میں لیا گیا گیا ہے۔</p>
<p>مبینہ زیادتی کا شکار دونوں غیر ملکی خواتین پاکستان سے اپنے اپنے ملک روانہ ہوچکی تھیں۔</p>
<p>پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ متاثرہ خواتین اور ملزمان کے درمیان کرپٹو کرنسی میں شراکت داری موجود تھی۔ ملزمان کرپٹو کرنسی میں منافع کے دعوے دار تھے اور خواتین کو مزید سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر پاکستان بلایا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507661</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 12:41:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/0612405309a8fbf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/0612405309a8fbf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
