<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 15:40:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Jul 2026 15:40:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ میں نیٹو سمٹ: کیا ہونے والا ہے اور غیر ممبران ممالک کیوں اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507792/nato-summit-begins-in-turkiyes-ankara-who-is-attending-what-is-at-stake</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد ’نیٹو‘ کے رہنماؤں کا ایک اہم دو روزہ اجلاس ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منگل اور بدھ کے روز ہو رہا ہے۔ یہ بیٹھک ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ملکوں پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے فوجی معاہدوں کا اعلان کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال نیٹو ممالک نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنی مجموعی آمدنی کا پانچ فیصد حصہ فوج اور سیکیورٹی پر خرچ کریں گے، جس میں سے ساڑھے تین فیصد حصہ سال 2035 تک سیدھا فوج پر اور ڈیڑھ فیصد سیکیورٹی کی دوسری ضروریات پر لگایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/07132725588a9b5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/07132725588a9b5.webp'  alt=' انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 ملکوں کے بڑے رہنما شریک ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو ایسے ملکوں کے صدر بھی آئے ہیں جو نیٹو کا حصہ نہیں ہیں، جن میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے لی جے میونگ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے اپنے وزیر دفاع یا وزرائے خارجہ بھیجے ہیں، اور خلیجی ممالک جیسے بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی اپنے وزیر بھیج رہے ہیں جو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507757/pakistan-mediating-libya-unity-push-as-rival-camps-seek-deal-pakistani-sources-say'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507757"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شام کے صدر احمد الشرع کے اس اجلاس میں آنے کی امید تو نہیں ہے، لیکن وہ انقرہ میں امریکی صدر ٹرمپ سے ایک الگ ملاقات ضرور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ اپنی پہلی انتخابی مہم سے ہی نیٹو کی افادیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ امریکا اکیلا ہی اس اتحاد کا بہت بڑا خرچہ اٹھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ میں جرمن مارشل فنڈ کے علاقائی ڈائریکٹر اوزگور انلوہسارکیکلی نے اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اتحادیوں نے گزشتہ سال ہی ہیگ میں اپنے دفاعی اخراجات کو پانچ فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا اور یورپی اتحادیوں نے اپنی دفاعی صنعتوں کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/07132851b8eec01.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/07132851b8eec01.webp'  alt=' انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سال انقرہ میں بحث اس بات پر ہوگی کہ اس خرچے کو عملی طاقت میں کیسے بدلا جائے۔ اس لیے یہ اتحاد گزشتہ سال کے مقابلے میں اب زیادہ مضبوط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، گلوبل پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے صدر پاولو ون شیراک کا کہنا ہے کہ زیادہ پیسہ خرچ کرنے کا مطلب زیادہ فوجی سامان تو ہے لیکن اس کا فائدہ سامنے آنے میں سالوں لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ بہت زیادہ خرچ کر کے بھی ہو سکتا ہے کہ بہت کم نتائج حاصل کر پائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کے فوجی معاہدوں کے اعلانات کو ماہرین ٹرمپ انتظامیہ کو خوش کرنے کی ایک کوشش دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یورپی ممالک ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے تو ٹرمپ نے کہا تھا کہ مجھے ان کا پیسہ نہیں بلکہ ان کی وفاداری چاہیے، اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس اجلاس کی میزبانی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نہ کر رہے ہوتے تو شاید وہ اس میں نہیں آتے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/0713303669d4057.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/0713303669d4057.webp'  alt=' انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اجلاس سے ٹھیک پہلے جرمنی کے دفاعی بجٹ کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا، جس پر جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے اپنے ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے یہ ہماری اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، امریکا نے نیٹو ممالک سے اپنے جنگی جہاز اور آبدوزیں آہستہ آہستہ واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ماہر جیک واٹلنگ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فضائی طاقت کے پیچھے ہٹنے کا زمین پر بڑا اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاولو ون شیراک نے اس اتحاد کی موجودہ حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کی اصل اہمیت سیاسی ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اتحادی اب بھی آپس میں بات کر رہے ہیں اور اتحاد دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، چاہے ان کے اندرونی اختلافات اور شک و شبہات ختم نہ ہوئے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انقرہ کا یہ اجلاس زمین پر کسی فوری تبدیلی کے بجائے صرف ایک دوسرے کو دلاسا دینے اور دنیا کو پیغام دینے کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اجلاس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے آمنے سامنے ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507764/what-is-the-national-committee-ncag-for-the-administration-of-gaza'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507764"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں ہے لیکن روسی حملوں میں تیزی آنے کے بعد زیلنسکی ٹرمپ سے پیٹریاٹ نامی فضائی دفاعی نظام مانگیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ماہر جیک واٹلنگ کا کہنا ہے کہ یوکرین نیٹو ملکوں سے مسلسل فوجی اور تکنیکی مدد چاہتا ہے تاکہ روس کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ یہ مدد جاری رہے گی اور اگلے ایک دو سال میں یوکرین کی دفاعی طاقت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو ملنے والے دفاعی نظام اور روس کے میزائلوں سے ہونے والے نقصان کے درمیان ایک سیدھا تعلق ہے، جتنے زیادہ نظام ملیں گے، نقصان اتنا ہی کم ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد ’نیٹو‘ کے رہنماؤں کا ایک اہم دو روزہ اجلاس ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منگل اور بدھ کے روز ہو رہا ہے۔ یہ بیٹھک ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ملکوں پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے فوجی معاہدوں کا اعلان کریں گے۔</strong></p>
<p>گزشتہ سال نیٹو ممالک نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنی مجموعی آمدنی کا پانچ فیصد حصہ فوج اور سیکیورٹی پر خرچ کریں گے، جس میں سے ساڑھے تین فیصد حصہ سال 2035 تک سیدھا فوج پر اور ڈیڑھ فیصد سیکیورٹی کی دوسری ضروریات پر لگایا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/07132725588a9b5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/07132725588a9b5.webp'  alt=' انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز)</figcaption>
    </figure>
<p>اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 ملکوں کے بڑے رہنما شریک ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو ایسے ملکوں کے صدر بھی آئے ہیں جو نیٹو کا حصہ نہیں ہیں، جن میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے لی جے میونگ شامل ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے اپنے وزیر دفاع یا وزرائے خارجہ بھیجے ہیں، اور خلیجی ممالک جیسے بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی اپنے وزیر بھیج رہے ہیں جو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507757/pakistan-mediating-libya-unity-push-as-rival-camps-seek-deal-pakistani-sources-say'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507757"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شام کے صدر احمد الشرع کے اس اجلاس میں آنے کی امید تو نہیں ہے، لیکن وہ انقرہ میں امریکی صدر ٹرمپ سے ایک الگ ملاقات ضرور کر رہے ہیں۔</p>
<p>صدر ٹرمپ اپنی پہلی انتخابی مہم سے ہی نیٹو کی افادیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ امریکا اکیلا ہی اس اتحاد کا بہت بڑا خرچہ اٹھا رہا ہے۔</p>
<p>ترکیہ میں جرمن مارشل فنڈ کے علاقائی ڈائریکٹر اوزگور انلوہسارکیکلی نے اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اتحادیوں نے گزشتہ سال ہی ہیگ میں اپنے دفاعی اخراجات کو پانچ فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا اور یورپی اتحادیوں نے اپنی دفاعی صنعتوں کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/07132851b8eec01.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/07132851b8eec01.webp'  alt=' انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز)</figcaption>
    </figure>
<p>اس سال انقرہ میں بحث اس بات پر ہوگی کہ اس خرچے کو عملی طاقت میں کیسے بدلا جائے۔ اس لیے یہ اتحاد گزشتہ سال کے مقابلے میں اب زیادہ مضبوط ہے۔</p>
<p>تاہم، گلوبل پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے صدر پاولو ون شیراک کا کہنا ہے کہ زیادہ پیسہ خرچ کرنے کا مطلب زیادہ فوجی سامان تو ہے لیکن اس کا فائدہ سامنے آنے میں سالوں لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ بہت زیادہ خرچ کر کے بھی ہو سکتا ہے کہ بہت کم نتائج حاصل کر پائیں۔</p>
<p>یورپی ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کے فوجی معاہدوں کے اعلانات کو ماہرین ٹرمپ انتظامیہ کو خوش کرنے کی ایک کوشش دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>جب یورپی ممالک ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے تو ٹرمپ نے کہا تھا کہ مجھے ان کا پیسہ نہیں بلکہ ان کی وفاداری چاہیے، اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس اجلاس کی میزبانی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نہ کر رہے ہوتے تو شاید وہ اس میں نہیں آتے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/0713303669d4057.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/0713303669d4057.webp'  alt=' انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز)</figcaption>
    </figure>
<p>ٹرمپ نے اجلاس سے ٹھیک پہلے جرمنی کے دفاعی بجٹ کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا، جس پر جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے اپنے ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے یہ ہماری اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے۔</p>
<p>دوسری طرف، امریکا نے نیٹو ممالک سے اپنے جنگی جہاز اور آبدوزیں آہستہ آہستہ واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔</p>
<p>اس پر رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ماہر جیک واٹلنگ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فضائی طاقت کے پیچھے ہٹنے کا زمین پر بڑا اثر پڑے گا۔</p>
<p>پاولو ون شیراک نے اس اتحاد کی موجودہ حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کی اصل اہمیت سیاسی ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اتحادی اب بھی آپس میں بات کر رہے ہیں اور اتحاد دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، چاہے ان کے اندرونی اختلافات اور شک و شبہات ختم نہ ہوئے ہوں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انقرہ کا یہ اجلاس زمین پر کسی فوری تبدیلی کے بجائے صرف ایک دوسرے کو دلاسا دینے اور دنیا کو پیغام دینے کے لیے ہے۔</p>
<p>اس اجلاس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے آمنے سامنے ملاقات کریں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507764/what-is-the-national-committee-ncag-for-the-administration-of-gaza'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507764"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں ہے لیکن روسی حملوں میں تیزی آنے کے بعد زیلنسکی ٹرمپ سے پیٹریاٹ نامی فضائی دفاعی نظام مانگیں گے۔</p>
<p>سیکیورٹی ماہر جیک واٹلنگ کا کہنا ہے کہ یوکرین نیٹو ملکوں سے مسلسل فوجی اور تکنیکی مدد چاہتا ہے تاکہ روس کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ یہ مدد جاری رہے گی اور اگلے ایک دو سال میں یوکرین کی دفاعی طاقت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو ملنے والے دفاعی نظام اور روس کے میزائلوں سے ہونے والے نقصان کے درمیان ایک سیدھا تعلق ہے، جتنے زیادہ نظام ملیں گے، نقصان اتنا ہی کم ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507792</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 13:31:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/071319486407253.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/071319486407253.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
