<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 17:06:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Jul 2026 17:06:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا کلاڈ انسان بن رہا ہے؟ اینتھروپک نے اے آئی کی 'خفیہ سوچ' ڈھونڈ نکالی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507793/anthropic-claude-artificialintelligence-airesearch-machinelearning-aisafety-technologynews</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت کی مشہور کمپنی اینتھروپک نے اپنے معروف اے آئی ماڈل کلاڈ کے اندر ایک ایسا خفیہ اور اندرونی نظام دریافت کیا ہے جہاں یہ بوٹ صارف کو دکھائے بغیر خاموشی سے مختلف خیالات اور باتوں پر کام کرتا ہے۔ کمپنی نے اس خفیہ جگہ کو ”جے اسپیس“ کا نام دیا ہے جو کہ ایک خاص ریاضیاتی طریقے ”جیکوبین“ سے ماخوذ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ جے اسپیس کلاڈ کی عام نظر آنے والی سوچ یا چیٹ میں دکھائی دینے والی وجہ بیان کرنے کی صلاحیت سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسا اندرونی ورک اسپیس ہے جہاں اے آئی مختلف تصورات کو فعال کر سکتا ہے، منصوبہ بندی کر سکتا ہے اور معلومات کو سمجھ سکتا ہے، لیکن اس کی تفصیل صارف کو براہ راست دکھائی نہیں دیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک کے مطابق کلاڈ بعض اوقات اندر ہی اندر ایسے کام کر لیتا ہے جن کے تمام مراحل وہ اپنے جواب میں ظاہر نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر یہ کوڈ میں غلطیاں تلاش کر سکتا ہے یا تصاویر کو پہچان سکتا ہے، مگر صارف کو صرف آخری جواب نظر آتا ہے، مکمل اندرونی عمل نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506571/artificial-intelligence-cybersecurity-anthropic-technews-mythos5-fable5'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506571"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ کلاڈ کا جے اسپیس بعض اوقات ایسے خیالات کو بھی فعال رکھ سکتا ہے جن کا براہ راست تعلق اس کے موجودہ کام سے نہیں ہوتا۔ کمپنی نے اس عمل کا موازنہ انسانوں کی سوچ سے کیا ہے، جہاں ایک شخص بظاہر کوئی کام کر رہا ہوتا ہے لیکن ذہن میں کسی اور موضوع پر بھی غور کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کو جانچنے کے لیے محققین نے کلاڈ کو ایک ایسا جملہ نقل کرنے کا کہا جس کا تعلق ایک الگ موضوع سے تھا، جبکہ ساتھ ہی اسے گولڈن گیٹ برج کے بارے میں سوچنے کے لیے کہا گیا۔ کلاڈ نے صرف جملہ نقل کیا، لیکن تحقیق کرنے والوں نے دیکھا کہ اس کے اندرونی جے اسپیس میں ”پل“ اور ”کیلیفورنیا“ جیسے تصورات بھی فعال تھے۔ محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماڈل ایک ہی وقت میں مختلف معلومات پر اندرونی طور پر کام کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AnthropicAI/status/2074185358678364414?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AnthropicAI/status/2074185358678364414?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کلاڈ میں انسانوں جیسی جان یا شعور آ گیا ہے، لیکن اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز کس طرح انسانوں کی طرز پر کام کر رہے ہیں۔ یہ دریافت مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور اس کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک کے مطابق جے اسپیس کی اہمیت صرف یہ جاننے تک محدود نہیں کہ اے آئی کس طرح سوچتا ہے بلکہ یہ اے آئی کی حفاظت کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر محققین اے آئی کے اندرونی عمل کو بہتر طریقے سے دیکھ سکیں تو وہ ایسے حالات کو پہلے ہی پکڑ سکتے ہیں جہاں ایک ماڈل کے اندرونی ارادے اس کے ظاہر کیے گئے جواب سے مختلف ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506410/america-bans-claude-fable-five-mythos-anthropic-suspends-global-access'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506410"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ایک مثال بھی پیش کی جس میں ایک ایسے اے آئی ماڈل کا جائزہ لیا گیا جسے خفیہ طور پر کوڈ کو نقصان پہنچانے کے لیے تربیت دی گئی تھی۔ اینتھروپک کے مطابق اس ماڈل کے اندرونی جے اسپیس میں ”جعلی“، ”خفیہ طور پر“ اور ”دھوکا“ جیسے تصورات نظر آئے، حالانکہ اس کا آخری جواب بظاہر عام اور درست دکھائی دے رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے لیے یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ مستقبل میں اے آئی سسٹمز کے رویے کو سمجھنے اور ان کی نگرانی کے نئے طریقے سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ کہنا ابھی ممکن نہیں کہ کلاڈ یا کوئی اور اے آئی نظام انسانوں کی طرح سوچتا ہے یا شعور رکھتا ہے۔ موجودہ تحقیق صرف یہ بتاتی ہے کہ جدید اے آئی کے اندرونی عمل پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مصنوعی ذہانت کی مشہور کمپنی اینتھروپک نے اپنے معروف اے آئی ماڈل کلاڈ کے اندر ایک ایسا خفیہ اور اندرونی نظام دریافت کیا ہے جہاں یہ بوٹ صارف کو دکھائے بغیر خاموشی سے مختلف خیالات اور باتوں پر کام کرتا ہے۔ کمپنی نے اس خفیہ جگہ کو ”جے اسپیس“ کا نام دیا ہے جو کہ ایک خاص ریاضیاتی طریقے ”جیکوبین“ سے ماخوذ ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ جے اسپیس کلاڈ کی عام نظر آنے والی سوچ یا چیٹ میں دکھائی دینے والی وجہ بیان کرنے کی صلاحیت سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسا اندرونی ورک اسپیس ہے جہاں اے آئی مختلف تصورات کو فعال کر سکتا ہے، منصوبہ بندی کر سکتا ہے اور معلومات کو سمجھ سکتا ہے، لیکن اس کی تفصیل صارف کو براہ راست دکھائی نہیں دیتی۔</p>
<p>اینتھروپک کے مطابق کلاڈ بعض اوقات اندر ہی اندر ایسے کام کر لیتا ہے جن کے تمام مراحل وہ اپنے جواب میں ظاہر نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر یہ کوڈ میں غلطیاں تلاش کر سکتا ہے یا تصاویر کو پہچان سکتا ہے، مگر صارف کو صرف آخری جواب نظر آتا ہے، مکمل اندرونی عمل نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506571/artificial-intelligence-cybersecurity-anthropic-technews-mythos5-fable5'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506571"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق میں ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ کلاڈ کا جے اسپیس بعض اوقات ایسے خیالات کو بھی فعال رکھ سکتا ہے جن کا براہ راست تعلق اس کے موجودہ کام سے نہیں ہوتا۔ کمپنی نے اس عمل کا موازنہ انسانوں کی سوچ سے کیا ہے، جہاں ایک شخص بظاہر کوئی کام کر رہا ہوتا ہے لیکن ذہن میں کسی اور موضوع پر بھی غور کر سکتا ہے۔</p>
<p>اس بات کو جانچنے کے لیے محققین نے کلاڈ کو ایک ایسا جملہ نقل کرنے کا کہا جس کا تعلق ایک الگ موضوع سے تھا، جبکہ ساتھ ہی اسے گولڈن گیٹ برج کے بارے میں سوچنے کے لیے کہا گیا۔ کلاڈ نے صرف جملہ نقل کیا، لیکن تحقیق کرنے والوں نے دیکھا کہ اس کے اندرونی جے اسپیس میں ”پل“ اور ”کیلیفورنیا“ جیسے تصورات بھی فعال تھے۔ محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماڈل ایک ہی وقت میں مختلف معلومات پر اندرونی طور پر کام کر سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AnthropicAI/status/2074185358678364414?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AnthropicAI/status/2074185358678364414?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کلاڈ میں انسانوں جیسی جان یا شعور آ گیا ہے، لیکن اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز کس طرح انسانوں کی طرز پر کام کر رہے ہیں۔ یہ دریافت مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور اس کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اینتھروپک کے مطابق جے اسپیس کی اہمیت صرف یہ جاننے تک محدود نہیں کہ اے آئی کس طرح سوچتا ہے بلکہ یہ اے آئی کی حفاظت کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر محققین اے آئی کے اندرونی عمل کو بہتر طریقے سے دیکھ سکیں تو وہ ایسے حالات کو پہلے ہی پکڑ سکتے ہیں جہاں ایک ماڈل کے اندرونی ارادے اس کے ظاہر کیے گئے جواب سے مختلف ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506410/america-bans-claude-fable-five-mythos-anthropic-suspends-global-access'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506410"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی نے ایک مثال بھی پیش کی جس میں ایک ایسے اے آئی ماڈل کا جائزہ لیا گیا جسے خفیہ طور پر کوڈ کو نقصان پہنچانے کے لیے تربیت دی گئی تھی۔ اینتھروپک کے مطابق اس ماڈل کے اندرونی جے اسپیس میں ”جعلی“، ”خفیہ طور پر“ اور ”دھوکا“ جیسے تصورات نظر آئے، حالانکہ اس کا آخری جواب بظاہر عام اور درست دکھائی دے رہا تھا۔</p>
<p>ماہرین کے لیے یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ مستقبل میں اے آئی سسٹمز کے رویے کو سمجھنے اور ان کی نگرانی کے نئے طریقے سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ کہنا ابھی ممکن نہیں کہ کلاڈ یا کوئی اور اے آئی نظام انسانوں کی طرح سوچتا ہے یا شعور رکھتا ہے۔ موجودہ تحقیق صرف یہ بتاتی ہے کہ جدید اے آئی کے اندرونی عمل پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507793</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 14:01:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/07135912ac61fcb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/07135912ac61fcb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
