<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 18:24:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Jul 2026 18:24:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان میں دہشت گردی کے 3 بڑے واقعات میں 54 دہشت گرد ہلاک ہوئے: ترجمان پاک فوج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507959/dg-ispr-ahmed-sharif-chaudhry-press-briefing-on-balochistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز میں بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات ہوئے۔ ان تین آپریشنز کے دوران 42 افراد وطن پر قربان ہوگئے جب کہ جوابی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد مارے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہے جو ان کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کو پریس کانفرنس میں بلوچستان میں گزشتہ چند روز کے دوران پیش آنے والے دہشت گرد حملوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے 4 اور 5 جولائی کی رات ہنہ اوڑک میں مقامی آبادی پر حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے بہادرعوام نے ان دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو وہاں سے فرار ہونے پر مجبور کردیا جب کہ اس واقعے میں چار شہری شہید اور چھ زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 6 جولائی کو دہشت گردوں نے ضلع زیارت میں منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن کی حفاظت پر مامور پولیس چوکی پر حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جب کہ 9 بہادر سپاہیوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی اضافی نفری فوری طور پر موقع پر روانہ کی گئی، تاہم ان کے پہنچنے سے قبل دہشت گرد باقی پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق یرغمال اہلکاروں کی بازیابی کے لیے سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور زیارت کے پہاڑی علاقوں میں تاحال آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے خلاف گھیرا تنگ ہوتے دیکھ کر خوارج نے 18 مغویوں کو شہید کر دیا جب کہ اس آپریشن میں مزید کئی خوارج ہلاک ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507956/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردی کا تیسرا واقعہ بدھ کو بیلہ اور وندر کے علاقے میں پیش آیا جہاں این-25 شاہراہ کے قریب پاک فوج کے ایک قافلے پر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں ایک جونیئر کمیشنڈ افسر (جے سی او) اور 10 جوانوں سمیت 11 فوجی جوان شہید ہوئے جب کہ 14 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بدھ کو ہی مزید دو آپریشنز میں خاران میں 6 اور دالبندین میں 8 خوارج مارے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جب کہ سیکیورٹی فورسز، فرنٹیئر کور سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ امن دشمنوں سے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی ہضم نہیں ہورہی ہے۔ ان دہشت گرد حملوں میں ہندوستان ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے اور افغان طالبان رجیم اس دہشت گردی کی سہولت کاری کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز اورعوام مل کر یہ جنگ لڑ رہے ہیں، اس جنگ میں فتح ہماری ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز میں بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات ہوئے۔ ان تین آپریشنز کے دوران 42 افراد وطن پر قربان ہوگئے جب کہ جوابی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد مارے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہے جو ان کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔</strong></p>
<p>پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کو پریس کانفرنس میں بلوچستان میں گزشتہ چند روز کے دوران پیش آنے والے دہشت گرد حملوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے 4 اور 5 جولائی کی رات ہنہ اوڑک میں مقامی آبادی پر حملہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے بہادرعوام نے ان دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو وہاں سے فرار ہونے پر مجبور کردیا جب کہ اس واقعے میں چار شہری شہید اور چھ زخمی ہوئے۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 6 جولائی کو دہشت گردوں نے ضلع زیارت میں منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن کی حفاظت پر مامور پولیس چوکی پر حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جب کہ 9 بہادر سپاہیوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی اضافی نفری فوری طور پر موقع پر روانہ کی گئی، تاہم ان کے پہنچنے سے قبل دہشت گرد باقی پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق یرغمال اہلکاروں کی بازیابی کے لیے سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور زیارت کے پہاڑی علاقوں میں تاحال آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے خلاف گھیرا تنگ ہوتے دیکھ کر خوارج نے 18 مغویوں کو شہید کر دیا جب کہ اس آپریشن میں مزید کئی خوارج ہلاک ہوچکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507956/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردی کا تیسرا واقعہ بدھ کو بیلہ اور وندر کے علاقے میں پیش آیا جہاں این-25 شاہراہ کے قریب پاک فوج کے ایک قافلے پر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے حملہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں ایک جونیئر کمیشنڈ افسر (جے سی او) اور 10 جوانوں سمیت 11 فوجی جوان شہید ہوئے جب کہ 14 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بدھ کو ہی مزید دو آپریشنز میں خاران میں 6 اور دالبندین میں 8 خوارج مارے گئے ہیں۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جب کہ سیکیورٹی فورسز، فرنٹیئر کور سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ امن دشمنوں سے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی ہضم نہیں ہورہی ہے۔ ان دہشت گرد حملوں میں ہندوستان ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے اور افغان طالبان رجیم اس دہشت گردی کی سہولت کاری کر رہی ہے۔</p>
<p>ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز اورعوام مل کر یہ جنگ لڑ رہے ہیں، اس جنگ میں فتح ہماری ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507959</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 17:52:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/08155946abe5586.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/08155946abe5586.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
