<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 18:15:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 10 Jul 2026 18:15:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قریب المرگ لوگ زیادہ تر کیا باتیں کرتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508214/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زندگی اور موت کے درمیان کا آخری سفر ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک پراسرار حقیقت رہا ہے۔ موت کے قریب پہنچنے والے افراد کن احساسات سے گزرتے ہیں، وہ کیا دیکھتے اور کیا کہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب برطانیہ کی ایک تجربہ کار نرس نے اپنے دو دہائیوں پر محیط مشاہدات کی روشنی میں دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نرس گزشتہ بیس برس سے ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں جو زندگی کے آخری مرحلے میں ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر موت قدرتی طور پر واقع ہو رہی ہو تو زیادہ تر مریض ایک جیسے جسمانی اور ذہنی مراحل سے گزرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینی کا کہنا ہے کہ زندگی کے آخری دنوں میں مریض معمول سے کہیں زیادہ سونے لگتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا اپنے اردگرد کے ماحول سے رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے، گفتگو کم ہو جاتی ہے اور وہ ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے جہاں جسم بتدریج اپنی توانائی کھونے لگتا ہے۔ طب میں اسے موت سے پہلے کا قدرتی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس دوران اہلِ خانہ اکثر خوف اور پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ ان کے بقول، خاندان کو چاہیے کہ وہ ان تبدیلیوں کو غیر معمولی سمجھنے کے بجائے صبر اور سکون کے ساتھ مریض کا ساتھ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق، ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے مریض اپنے آخری گھنٹوں یا دنوں میں ایسے تجربات بیان کرتے ہیں جو حیران کن حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ بعض افراد کہتے ہیں کہ انہیں اپنے وہ عزیز دکھائی دے رہے ہیں جو برسوں پہلے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ لوگ کسی سفر پر روانہ ہونے یا منزل کے قریب پہنچنے جیسی باتیں کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508162/the-hidden-treasure-of-nutrition-in-coriander-stems-discover-it-and-youll-be-amazed-too'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508162"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق میں ایسے واقعات غیر معمولی نہیں بلکہ اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے بہت سے مریض خوف کے بجائے ایک عجیب سا سکون اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینی کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں موت کے موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس قدرتی حقیقت سے ناواقف رہتے ہیں اور غیر ضروری خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، طبی تعلیم کا زیادہ تر زور مریض کی جان بچانے اور زندگی کو طول دینے پر ہوتا ہے، اسی لیے بعض اوقات موت کو ناکامی تصور کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ انسانی زندگی کا ایک ناگزیر اور فطری حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30406065/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتی ہیں کہ بہت سے خاندان اس حقیقت کو قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پیارے کی زندگی اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں ہاسپس عملے کی ذمہ داری صرف مریض کی دیکھ بھال تک محدود نہیں رہتی بلکہ اہلِ خانہ کو بھی ذہنی طور پر اس مرحلے کے لیے تیار کرنا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق اگرچہ ہر انسان کا آخری سفر منفرد ہوتا ہے، تاہم شدید بیماری کے آخری مرحلے میں زیادہ تر مریضوں میں کچھ علامات مشترک ہوتی ہیں، جن میں غیر معمولی نیند، اردگرد کے ماحول پر کم ردعمل، جسمانی کمزوری میں اضافہ اور آہستہ آہستہ خاموشی اختیار کرنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ موت کو خوف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اگر اسے زندگی کے ایک قدرتی مرحلے کے طور پر سمجھا جائے تو مریض اور اس کے اہلِ خانہ دونوں کے لیے اس سفر کو زیادہ سکون کے ساتھ گزارنا ممکن ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زندگی اور موت کے درمیان کا آخری سفر ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک پراسرار حقیقت رہا ہے۔ موت کے قریب پہنچنے والے افراد کن احساسات سے گزرتے ہیں، وہ کیا دیکھتے اور کیا کہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب برطانیہ کی ایک تجربہ کار نرس نے اپنے دو دہائیوں پر محیط مشاہدات کی روشنی میں دیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی نرس گزشتہ بیس برس سے ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں جو زندگی کے آخری مرحلے میں ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر موت قدرتی طور پر واقع ہو رہی ہو تو زیادہ تر مریض ایک جیسے جسمانی اور ذہنی مراحل سے گزرتے ہیں۔</p>
<p>پینی کا کہنا ہے کہ زندگی کے آخری دنوں میں مریض معمول سے کہیں زیادہ سونے لگتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا اپنے اردگرد کے ماحول سے رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے، گفتگو کم ہو جاتی ہے اور وہ ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے جہاں جسم بتدریج اپنی توانائی کھونے لگتا ہے۔ طب میں اسے موت سے پہلے کا قدرتی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس دوران اہلِ خانہ اکثر خوف اور پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ ان کے بقول، خاندان کو چاہیے کہ وہ ان تبدیلیوں کو غیر معمولی سمجھنے کے بجائے صبر اور سکون کے ساتھ مریض کا ساتھ دیں۔</p>
<p>پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق، ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے مریض اپنے آخری گھنٹوں یا دنوں میں ایسے تجربات بیان کرتے ہیں جو حیران کن حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ بعض افراد کہتے ہیں کہ انہیں اپنے وہ عزیز دکھائی دے رہے ہیں جو برسوں پہلے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ لوگ کسی سفر پر روانہ ہونے یا منزل کے قریب پہنچنے جیسی باتیں کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508162/the-hidden-treasure-of-nutrition-in-coriander-stems-discover-it-and-youll-be-amazed-too'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508162"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق میں ایسے واقعات غیر معمولی نہیں بلکہ اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے بہت سے مریض خوف کے بجائے ایک عجیب سا سکون اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>پینی کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں موت کے موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس قدرتی حقیقت سے ناواقف رہتے ہیں اور غیر ضروری خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول، طبی تعلیم کا زیادہ تر زور مریض کی جان بچانے اور زندگی کو طول دینے پر ہوتا ہے، اسی لیے بعض اوقات موت کو ناکامی تصور کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ انسانی زندگی کا ایک ناگزیر اور فطری حصہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30406065/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وہ کہتی ہیں کہ بہت سے خاندان اس حقیقت کو قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پیارے کی زندگی اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں ہاسپس عملے کی ذمہ داری صرف مریض کی دیکھ بھال تک محدود نہیں رہتی بلکہ اہلِ خانہ کو بھی ذہنی طور پر اس مرحلے کے لیے تیار کرنا ہوتی ہے۔</p>
<p>پینی ہاکنز اسمتھ کے مطابق اگرچہ ہر انسان کا آخری سفر منفرد ہوتا ہے، تاہم شدید بیماری کے آخری مرحلے میں زیادہ تر مریضوں میں کچھ علامات مشترک ہوتی ہیں، جن میں غیر معمولی نیند، اردگرد کے ماحول پر کم ردعمل، جسمانی کمزوری میں اضافہ اور آہستہ آہستہ خاموشی اختیار کرنا شامل ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ موت کو خوف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اگر اسے زندگی کے ایک قدرتی مرحلے کے طور پر سمجھا جائے تو مریض اور اس کے اہلِ خانہ دونوں کے لیے اس سفر کو زیادہ سکون کے ساتھ گزارنا ممکن ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508214</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 15:37:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1015293686a3a9c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1015293686a3a9c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
