<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 13:54:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 12 Jul 2026 13:54:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپان میں والدین اپنے ہی بچوں کو کیوں بار بار اغوا کر رہے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508430/why-are-parents-repeatedly-abducting-their-own-children-in-japan-tags</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپان میں طلاق کے بعد والدین کی طرف سے اپنے ہی بچوں کو ’اغوا‘ کرنے کا مسئلہ ایک سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سن کر عجیب لگتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اغوا کریں، لیکن جاپان کے پرانے قوانین اور عدالتی نظام نے ایک ایسی راہ ہموار کی جس میں طلاق کے دوران یا اس سے پہلے، ایک ساتھی بچے کو لے کر الگ ہو جاتا ہے تاکہ عدالت سے بچے کی مکمل سرپرستی حاصل کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل کو، جو دیگر ممالک میں سنگین جرم سمجھا جاتا ہے، جاپان میں اب تک قانونی تحفظ حاصل تھا۔ تاہم، اس سال اپریل میں جاپانی حکومت نے قانون میں ایک بڑی تبدیلی کی ہے جس کا مقصد اس مسئلے کو حل کرنا ہے، لیکن متاثرہ والدین اور ماہرین اب بھی فکر مند ہیں کہ کیا یہ تبدیلی واقعی کارآمد ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507136/russian-couple-arrested-after-climbing-the-empire-state-building-and-getting-engaged'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/07/11/asia/japan-law-parental-child-abduction-intl-hnk-dst"&gt;سی این این&lt;/a&gt; میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس قانون سے متاثرہ امریکہ اور روس کی شہریت رکھنے والی ایک ماں اناستاسیا  نے اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ پچھلے سال ستمبر میں ایک سفر سے واپس گھر لوٹیں تو ان کے شوہر ان کے دو سال کے بیٹے رین کو لے کر جا چکے تھے۔ وہ اب اپنے بچے کی تحویل کے لیے قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اناستاسیا نے کہا، ’جب میں اپنے بیٹے سے دوبارہ ملی تو اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑ لیا اور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے اپنا سر میرے سینے پر رکھ دیا، جیسے اسے سکون مل گیا ہو۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’جب ملاقات ختم ہوئی تو میرا دل ٹوٹ گیا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ ماہ میں انہیں اپنے بیٹے سے صرف ایک بار 30 منٹ کے لیے ملنے دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا: ’یہ بہت خوفناک ہے کہ مجھے ہر بار اپنے بیٹے کو الوداع کہنا پڑتا ہے، وہ اسے کار میں بٹھا دیتے اور میرا بیٹا ہر بار دل شکستہ نظر آتا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں طلاق کے پرانے قانون کے تحت، طلاق کے بعد بچہ صرف ایک ہی والدین کے پاس رہ سکتا تھا۔ اس قانون کی وجہ سے، اکثر میاں بیوی طلاق سے پہلے ہی بچوں کو لے کر بھاگ جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاندانی قوانین کے ماہر وکیل، مسانوری تانابے نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا: ’اگر کوئی والد یا والدہ بچے کو پہلے اپنے ساتھ لے جاتا ہے تو بعد میں عدالتی کارروائی کے دوران اس کی قانونی پوزیشن نسبتاً مضبوط ہو جاتی ہے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506826/technology-relationships-chief-breakup-officer-dating-app-jobs-relationship-trends-modern-dating-breakup-culture-emotional-intelligence'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506826"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹوکیو میں رہنے والی امریکی شہری ایملی ساتو نے بھی اپنی بیٹی سے جدائی کا درد بیان کرتے ہوئے کہا، ’ایک دن میں گھر واپس آئی تو زیادہ تر سامان غائب تھا۔ مجھے ای میل کے ذریعے بتایا گیا کہ میرے شوہر ہماری بیٹی کو لے جا چکے ہیں۔ میں نے فوراً اس کے اسکول کا رخ کیا لیکن مجھے بتایا گیا کہ وہ غیر حاضر ہے اور میرا نام بیٹی کو اسکول سے لینے والوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔‘ وہ اب بھی بیٹی کی آس میں جاپان میں رہ رہی ہیں اور کہتی ہیں: ’میں اپنے بچے کو چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح امریکی شہری جیفری مور ہاؤس گزشتہ 16 برس سے اپنے بیٹے سے جدا ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’فادرز ڈے 2010 کے بعد میں نے نہ اپنے بیٹے کو گلے لگایا اور نہ ہی اس کی آواز سنی۔ موچی، جہاں بھی ہو، میں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے پیش نظر جاپان نے حال ہی میں قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے مشترکہ سرپرستی کی اجازت دے دی ہے۔ اب طلاق کے بعد دونوں والدین بھی بچوں کے قانونی سرپرست بن سکتے ہیں۔ جاپان کی وزارت انصاف کے مطابق اس قانون کا مقصد والدین کو بچوں کی پرورش میں مشترکہ ذمہ داری دینا اور بچوں کو ایک والدین سے دور لے جانے کے واقعات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، کچھ ماہرین اور متاثرہ والدین اس تبدیلی سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف قانون بدلنے سے مسئلہ مکمل طور پرحل نہیں ہوگا۔ خاندانی قانون کی ماہر وکیل ماسامی کیتاکا کے مطابق، ’مشترکہ سرپرستی کا مطلب یہ ہے کہ دونوں والدین اہم فیصلوں میں شریک ہوں گے، لیکن اس سے یہ یقینی نہیں بنتا کہ بچے دونوں والدین کے ساتھ برابر وقت گزار سکیں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کی وزارت انصاف کا مؤقف ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت بچوں کی واپسی کے معاملات کو مناسب طریقے سے نمٹا رہے ہیں، لیکن والدین اب بھی پریشان ہیں کہ کیا یہ نیا قانون واقعی ان کے بچوں کو ان سے ملا پائے گا یا یہ صرف کاغذ کی حد تک ہی رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اناستاسیا منکووا نے اپنے شوہر کے بارے میں بتایا کہ جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ عدالتی کارروائی جاری ہے اور حقائق ابھی طے ہونا باقی ہیں، اس لیے میں احترام کے ساتھ تفصیلات پر بات کرنے سے گریز کروں گا۔ یہ کہانی کسی ایک خاندان کی نہیں ہے، بلکہ جاپان میں بسنے والے ان سینکڑوں والدین کی ہے جو اپنے ہی بچوں سے ملنے کے لیے تڑپ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی قانون کے ماہر ماسایوکی ہونڈا کے مطابق، ’مشترکہ سرپرستی کا نیا قانون مثبت قدم ضرور ہے، لیکن جب تک اس پر مؤثر عمل درآمد اور واضح قانونی سزائیں نہیں ہوں گی، بچوں کو ایک والدین سے دور لے جانے کے واقعات مکمل طور پر ختم ہونا مشکل ہے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپان میں طلاق کے بعد والدین کی طرف سے اپنے ہی بچوں کو ’اغوا‘ کرنے کا مسئلہ ایک سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔</strong></p>
<p>یہ سن کر عجیب لگتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اغوا کریں، لیکن جاپان کے پرانے قوانین اور عدالتی نظام نے ایک ایسی راہ ہموار کی جس میں طلاق کے دوران یا اس سے پہلے، ایک ساتھی بچے کو لے کر الگ ہو جاتا ہے تاکہ عدالت سے بچے کی مکمل سرپرستی حاصل کر سکے۔</p>
<p>اس عمل کو، جو دیگر ممالک میں سنگین جرم سمجھا جاتا ہے، جاپان میں اب تک قانونی تحفظ حاصل تھا۔ تاہم، اس سال اپریل میں جاپانی حکومت نے قانون میں ایک بڑی تبدیلی کی ہے جس کا مقصد اس مسئلے کو حل کرنا ہے، لیکن متاثرہ والدین اور ماہرین اب بھی فکر مند ہیں کہ کیا یہ تبدیلی واقعی کارآمد ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507136/russian-couple-arrested-after-climbing-the-empire-state-building-and-getting-engaged'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/07/11/asia/japan-law-parental-child-abduction-intl-hnk-dst">سی این این</a> میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس قانون سے متاثرہ امریکہ اور روس کی شہریت رکھنے والی ایک ماں اناستاسیا  نے اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ پچھلے سال ستمبر میں ایک سفر سے واپس گھر لوٹیں تو ان کے شوہر ان کے دو سال کے بیٹے رین کو لے کر جا چکے تھے۔ وہ اب اپنے بچے کی تحویل کے لیے قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔</p>
<p>اناستاسیا نے کہا، ’جب میں اپنے بیٹے سے دوبارہ ملی تو اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑ لیا اور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے اپنا سر میرے سینے پر رکھ دیا، جیسے اسے سکون مل گیا ہو۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’جب ملاقات ختم ہوئی تو میرا دل ٹوٹ گیا۔‘</p>
<p>چھ ماہ میں انہیں اپنے بیٹے سے صرف ایک بار 30 منٹ کے لیے ملنے دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا: ’یہ بہت خوفناک ہے کہ مجھے ہر بار اپنے بیٹے کو الوداع کہنا پڑتا ہے، وہ اسے کار میں بٹھا دیتے اور میرا بیٹا ہر بار دل شکستہ نظر آتا۔‘</p>
<p>جاپان میں طلاق کے پرانے قانون کے تحت، طلاق کے بعد بچہ صرف ایک ہی والدین کے پاس رہ سکتا تھا۔ اس قانون کی وجہ سے، اکثر میاں بیوی طلاق سے پہلے ہی بچوں کو لے کر بھاگ جاتے تھے۔</p>
<p>خاندانی قوانین کے ماہر وکیل، مسانوری تانابے نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا: ’اگر کوئی والد یا والدہ بچے کو پہلے اپنے ساتھ لے جاتا ہے تو بعد میں عدالتی کارروائی کے دوران اس کی قانونی پوزیشن نسبتاً مضبوط ہو جاتی ہے۔‘</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506826/technology-relationships-chief-breakup-officer-dating-app-jobs-relationship-trends-modern-dating-breakup-culture-emotional-intelligence'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506826"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹوکیو میں رہنے والی امریکی شہری ایملی ساتو نے بھی اپنی بیٹی سے جدائی کا درد بیان کرتے ہوئے کہا، ’ایک دن میں گھر واپس آئی تو زیادہ تر سامان غائب تھا۔ مجھے ای میل کے ذریعے بتایا گیا کہ میرے شوہر ہماری بیٹی کو لے جا چکے ہیں۔ میں نے فوراً اس کے اسکول کا رخ کیا لیکن مجھے بتایا گیا کہ وہ غیر حاضر ہے اور میرا نام بیٹی کو اسکول سے لینے والوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔‘ وہ اب بھی بیٹی کی آس میں جاپان میں رہ رہی ہیں اور کہتی ہیں: ’میں اپنے بچے کو چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔‘</p>
<p>اسی طرح امریکی شہری جیفری مور ہاؤس گزشتہ 16 برس سے اپنے بیٹے سے جدا ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’فادرز ڈے 2010 کے بعد میں نے نہ اپنے بیٹے کو گلے لگایا اور نہ ہی اس کی آواز سنی۔ موچی، جہاں بھی ہو، میں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، اس بڑھتے ہوئے مسئلے کے پیش نظر جاپان نے حال ہی میں قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے مشترکہ سرپرستی کی اجازت دے دی ہے۔ اب طلاق کے بعد دونوں والدین بھی بچوں کے قانونی سرپرست بن سکتے ہیں۔ جاپان کی وزارت انصاف کے مطابق اس قانون کا مقصد والدین کو بچوں کی پرورش میں مشترکہ ذمہ داری دینا اور بچوں کو ایک والدین سے دور لے جانے کے واقعات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔</p>
<p>تاہم، کچھ ماہرین اور متاثرہ والدین اس تبدیلی سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف قانون بدلنے سے مسئلہ مکمل طور پرحل نہیں ہوگا۔ خاندانی قانون کی ماہر وکیل ماسامی کیتاکا کے مطابق، ’مشترکہ سرپرستی کا مطلب یہ ہے کہ دونوں والدین اہم فیصلوں میں شریک ہوں گے، لیکن اس سے یہ یقینی نہیں بنتا کہ بچے دونوں والدین کے ساتھ برابر وقت گزار سکیں گے۔‘</p>
<p>جاپان کی وزارت انصاف کا مؤقف ہے کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت بچوں کی واپسی کے معاملات کو مناسب طریقے سے نمٹا رہے ہیں، لیکن والدین اب بھی پریشان ہیں کہ کیا یہ نیا قانون واقعی ان کے بچوں کو ان سے ملا پائے گا یا یہ صرف کاغذ کی حد تک ہی رہے گا۔</p>
<p>اناستاسیا منکووا نے اپنے شوہر کے بارے میں بتایا کہ جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ عدالتی کارروائی جاری ہے اور حقائق ابھی طے ہونا باقی ہیں، اس لیے میں احترام کے ساتھ تفصیلات پر بات کرنے سے گریز کروں گا۔ یہ کہانی کسی ایک خاندان کی نہیں ہے، بلکہ جاپان میں بسنے والے ان سینکڑوں والدین کی ہے جو اپنے ہی بچوں سے ملنے کے لیے تڑپ رہے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی قانون کے ماہر ماسایوکی ہونڈا کے مطابق، ’مشترکہ سرپرستی کا نیا قانون مثبت قدم ضرور ہے، لیکن جب تک اس پر مؤثر عمل درآمد اور واضح قانونی سزائیں نہیں ہوں گی، بچوں کو ایک والدین سے دور لے جانے کے واقعات مکمل طور پر ختم ہونا مشکل ہے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508430</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 10:34:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/121029122628eeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/121029122628eeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
