<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 13:16:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 14 Jul 2026 13:16:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹبال ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کے موزے، ہر ایک کا الگ اور دلچسپ مقصد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508680/leroy-sane-fifa-worldcup-2026-jude-bellingham-football-fashion-mehdi-taremi-socks-fashion-in-fifa-football</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹبال کا میدان ہو اور نظریں صرف گیند یا گول پوسٹ پر ہوں، اب ایسا نہیں رہا۔ دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے میدانوں میں اب شائقین کی نظریں کھلاڑیوں کے پیروں پر بھی جمی رہتی ہیں، اور اس کی وجہ کوئی جادوئی کِک نہیں بلکہ ان کے موزے ہیں۔ ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑیوں کے جوتوں سے لے کر ان کے موزوں تک، ہر چیز میں ان کی ذاتی پسند، اسٹائل اور کھیل کی کارکردگی کا ایک انوکھا تال میل نظر آتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف ٹیموں کے کھلاڑی اپنے موزے الگ الگ انداز میں پہنتے ہیں، اور یہ فرق صرف فیشن تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے آرام، بہتر کارکردگی اور ذاتی پسند جیسے کئی عوامل بھی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹورنامنٹ کے دوران کچھ کھلاڑی اپنے موزے گھٹنوں سے بھی اوپر تک چڑھا لیتے ہیں، جس سے ٹانگ کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا، جبکہ کچھ کھلاڑی انہیں اتنا نیچے موڑ لیتے ہیں کہ وہ روایتی فٹبال موزوں کے بجائے عام ٹخنے تک کے موزوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ جاپان کے ایک کھلاڑی نے تو اتنے چھوٹے انداز میں موزے پہنے کہ وہ پورے ٹورنامنٹ میں سب سے نمایاں مثال بن گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14102446f41f557.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14102446f41f557.webp'  alt=' (گرافکس بشکریہ رائٹرز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(گرافکس بشکریہ رائٹرز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض کھلاڑی اپنی ٹیم کی جانب سے فراہم کیے گئے موزوں میں بھی تبدیلی کر لیتے ہیں۔ کچھ کھلاڑی موزے کے پاؤں والے حصے کو کاٹ دیتے ہیں اور صرف اوپری حصہ ٹانگ پر چڑھاتے ہیں، جبکہ نیچے اپنی پسند کے الگ گرپ یا اینکل موزے پہنتے ہیں۔ اس انداز میں اکثر سفید یا مختلف رنگ کے موزے ٹیم کی جرسی کے رنگوں کے ساتھ واضح طور پر نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فیفا کے قوانین کے مطابق ہر کھلاڑی کو منظور شدہ سرکاری کٹ اور ٹیم کے مقررہ رنگوں کا استعمال کرنا ہوتا ہے، لیکن موزوں کو پہننے اور ان میں معمولی تبدیلی کرنے کے مختلف انداز گزشتہ چند برسوں میں کافی عام ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر ٹیم میں بھی ایک جیسا انداز نہیں ہوتا۔ کچھ ٹیموں کے زیادہ تر کھلاڑی گھٹنوں تک موزے پہننا پسند کرتے ہیں، جبکہ بعض ٹیموں میں کئی کھلاڑی موزے نیچے موڑ کر کھیلتے ہیں۔ اسی لیے میدان میں مختلف انداز ایک دلچسپ منظر پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141106432be0fc9.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141106432be0fc9.webp'  alt=' (تصویر بشکریہ رائٹرز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(تصویر بشکریہ رائٹرز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان تبدیلیوں میں بھی خاصا فرق دیکھا جاتا ہے۔ کچھ کھلاڑی نہایت صاف ستھرے اور یکساں انداز میں موزوں کو تبدیل کرتے ہیں، جبکہ کچھ کے موزوں پر کٹے ہوئے کنارے، ڈھیلا کپڑا یا مختلف تہیں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں، جس سے ان کا انداز مزید منفرد محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں ایک نیا رجحان بھی سامنے آیا ہے جس میں بعض کھلاڑی اپنے موزوں کے پنڈلی والے حصے پر چھوٹے چھوٹے سوراخ کر لیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے پنڈلی پر دباؤ کم محسوس ہوتا ہے اور کھیل کے دوران زیادہ آرام ملتا ہے، اگرچہ اس حوالے سے مختلف آرا بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14103654142d239.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14103654142d239.webp'  alt=' (گرافکس بشکریہ رائٹرز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(گرافکس بشکریہ رائٹرز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان تمام تبدیلیوں کے باوجود، ایک چیز ایسی ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہے پنڈلی کی حفاظت کرنے والی شِن گارڈز۔ فیفا کے قوانین کے تحت شین گارڈز پہننا لازمی ہے، لیکن ان کے سائز یا شکل کے بارے میں کوئی سخت اصول نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کھلاڑی اپنے موزے بہت نیچے پہننا پسند کرتے ہیں، وہ اب انتہائی چھوٹے اور باریک شِن گارڈز کا استعمال کرنے لگے ہیں جو باہر سے بالکل دکھائی نہیں دیتے۔ دوسری طرف کچھ کھلاڑی اب بھی روایتی بڑے گارڈز کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141038480025ad2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141038480025ad2.webp'  alt=' (کھلاڑی شِن گارڈز کے ساتھ - تصویر بشکریہ رائٹرز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(کھلاڑی شِن گارڈز کے ساتھ - تصویر بشکریہ رائٹرز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ تمام چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اس بات کی مثال ہیں کہ سخت قوانین کے باوجود کھلاڑی اپنی شخصیت اور پسند کو کسی نہ کسی انداز میں ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں ایک سادہ سا موزہ بھی ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں صرف کھیل کا حصہ نہیں رہتا بلکہ ہر کھلاڑی کی انفرادی شناخت اور انداز کا ایک خاموش اظہار بھی بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹبال کا میدان ہو اور نظریں صرف گیند یا گول پوسٹ پر ہوں، اب ایسا نہیں رہا۔ دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے میدانوں میں اب شائقین کی نظریں کھلاڑیوں کے پیروں پر بھی جمی رہتی ہیں، اور اس کی وجہ کوئی جادوئی کِک نہیں بلکہ ان کے موزے ہیں۔ ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑیوں کے جوتوں سے لے کر ان کے موزوں تک، ہر چیز میں ان کی ذاتی پسند، اسٹائل اور کھیل کی کارکردگی کا ایک انوکھا تال میل نظر آتا ہے۔</strong></p>
<p>مختلف ٹیموں کے کھلاڑی اپنے موزے الگ الگ انداز میں پہنتے ہیں، اور یہ فرق صرف فیشن تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے آرام، بہتر کارکردگی اور ذاتی پسند جیسے کئی عوامل بھی ہوتے ہیں۔</p>
<p>ٹورنامنٹ کے دوران کچھ کھلاڑی اپنے موزے گھٹنوں سے بھی اوپر تک چڑھا لیتے ہیں، جس سے ٹانگ کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا، جبکہ کچھ کھلاڑی انہیں اتنا نیچے موڑ لیتے ہیں کہ وہ روایتی فٹبال موزوں کے بجائے عام ٹخنے تک کے موزوں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ جاپان کے ایک کھلاڑی نے تو اتنے چھوٹے انداز میں موزے پہنے کہ وہ پورے ٹورنامنٹ میں سب سے نمایاں مثال بن گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14102446f41f557.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14102446f41f557.webp'  alt=' (گرافکس بشکریہ رائٹرز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(گرافکس بشکریہ رائٹرز)</figcaption>
    </figure>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض کھلاڑی اپنی ٹیم کی جانب سے فراہم کیے گئے موزوں میں بھی تبدیلی کر لیتے ہیں۔ کچھ کھلاڑی موزے کے پاؤں والے حصے کو کاٹ دیتے ہیں اور صرف اوپری حصہ ٹانگ پر چڑھاتے ہیں، جبکہ نیچے اپنی پسند کے الگ گرپ یا اینکل موزے پہنتے ہیں۔ اس انداز میں اکثر سفید یا مختلف رنگ کے موزے ٹیم کی جرسی کے رنگوں کے ساتھ واضح طور پر نظر آتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ فیفا کے قوانین کے مطابق ہر کھلاڑی کو منظور شدہ سرکاری کٹ اور ٹیم کے مقررہ رنگوں کا استعمال کرنا ہوتا ہے، لیکن موزوں کو پہننے اور ان میں معمولی تبدیلی کرنے کے مختلف انداز گزشتہ چند برسوں میں کافی عام ہو چکے ہیں۔</p>
<p>ہر ٹیم میں بھی ایک جیسا انداز نہیں ہوتا۔ کچھ ٹیموں کے زیادہ تر کھلاڑی گھٹنوں تک موزے پہننا پسند کرتے ہیں، جبکہ بعض ٹیموں میں کئی کھلاڑی موزے نیچے موڑ کر کھیلتے ہیں۔ اسی لیے میدان میں مختلف انداز ایک دلچسپ منظر پیش کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141106432be0fc9.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141106432be0fc9.webp'  alt=' (تصویر بشکریہ رائٹرز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(تصویر بشکریہ رائٹرز)</figcaption>
    </figure>
<p>ان تبدیلیوں میں بھی خاصا فرق دیکھا جاتا ہے۔ کچھ کھلاڑی نہایت صاف ستھرے اور یکساں انداز میں موزوں کو تبدیل کرتے ہیں، جبکہ کچھ کے موزوں پر کٹے ہوئے کنارے، ڈھیلا کپڑا یا مختلف تہیں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں، جس سے ان کا انداز مزید منفرد محسوس ہوتا ہے۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں ایک نیا رجحان بھی سامنے آیا ہے جس میں بعض کھلاڑی اپنے موزوں کے پنڈلی والے حصے پر چھوٹے چھوٹے سوراخ کر لیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے پنڈلی پر دباؤ کم محسوس ہوتا ہے اور کھیل کے دوران زیادہ آرام ملتا ہے، اگرچہ اس حوالے سے مختلف آرا بھی موجود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14103654142d239.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14103654142d239.webp'  alt=' (گرافکس بشکریہ رائٹرز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(گرافکس بشکریہ رائٹرز)</figcaption>
    </figure>
<p>ان تمام تبدیلیوں کے باوجود، ایک چیز ایسی ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہے پنڈلی کی حفاظت کرنے والی شِن گارڈز۔ فیفا کے قوانین کے تحت شین گارڈز پہننا لازمی ہے، لیکن ان کے سائز یا شکل کے بارے میں کوئی سخت اصول نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کھلاڑی اپنے موزے بہت نیچے پہننا پسند کرتے ہیں، وہ اب انتہائی چھوٹے اور باریک شِن گارڈز کا استعمال کرنے لگے ہیں جو باہر سے بالکل دکھائی نہیں دیتے۔ دوسری طرف کچھ کھلاڑی اب بھی روایتی بڑے گارڈز کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141038480025ad2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141038480025ad2.webp'  alt=' (کھلاڑی شِن گارڈز کے ساتھ - تصویر بشکریہ رائٹرز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(کھلاڑی شِن گارڈز کے ساتھ - تصویر بشکریہ رائٹرز)</figcaption>
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق یہ تمام چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اس بات کی مثال ہیں کہ سخت قوانین کے باوجود کھلاڑی اپنی شخصیت اور پسند کو کسی نہ کسی انداز میں ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں ایک سادہ سا موزہ بھی ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں صرف کھیل کا حصہ نہیں رہتا بلکہ ہر کھلاڑی کی انفرادی شناخت اور انداز کا ایک خاموش اظہار بھی بن جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508680</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 11:09:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/14110212e8dc640.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/14110212e8dc640.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
