<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 16:25:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 16:25:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ میں ناکام بغاوت کے 10 برس؛ اردوان کی طاقت میں اضافے سمیت کیا کچھ بدل چکا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508864/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وہ 15 جولائی 2016 کی ایک گرم شام تھی، جب ترکیہ میں لوگ معمول کے مطابق اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہفتہ وار چھٹی منانے کی تیاری کر رہے تھے۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آنے والے چند گھنٹے ملک کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدلنے والے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات ہوتے ہی سڑکوں پر ٹینک نکل آئے، دارالحکومت انقرہ اور استنبول کی فضاؤں میں جنگی طیارے پرواز کرنے لگے اور باغی فوجیوں نے یورپ اور ایشیا کو ملانے والے باسفورس پل کو بند کر دیا۔ ساتھ ہی انقرہ میں پارلیمنٹ کی عمارت پر فائرنگ اور بمباری شروع ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سنگین صورتحال میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے موبائل فون پر ایک ویڈیو کال کے ذریعے براہِ راست ٹی وی پر عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور اس بغاوت کو روکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر کی پکار پر لاکھوں غیر مسلح شہری، پولیس اور فوج کے وفادار دستے سڑکوں پر آ گئے اور چند ہی گھنٹوں میں اس خونی بغاوت کو کچل دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151358384344fd8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151358384344fd8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس رات 250 سے زائد افراد، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 2200 سے زائد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کی تاریخ میں سویلین بالادستی اور فوج کے کردار کے حوالے سے یہ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹائرڈ کرنل اونال اتابے نے ’الجزیرہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں  اس رات کی کامیابی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ پندرہ جولائی  2016 کی ناکامی کے تین اہم ستون تھے، پہلا عوام کی بھرپور مزاحمت، دوسرا ترک مسلح افواج کے اندر موجود وہ افسران اور سپاہی جنہوں نے بغاوت کا راستہ روکا، اور تیسرا خود فوج کا اپنا ادارہ جاتی ردعمل۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1514005529a8eb9.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1514005529a8eb9.webp'  alt=' اردوان بغاوت کی کوشش کے دوران موبائل فون پر عوام سے خطاب کر رہے ہیں ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اردوان بغاوت کی کوشش کے دوران موبائل فون پر عوام سے خطاب کر رہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کی تاریخ میں فوج کا سیاست پر ہمیشہ گہرا اثر رہا ہے اور اس نے 1960، 1970، 1980 اور 1997 میں منتخب حکومتوں کو گھر بھیجا۔ لیکن اس بار عوام اور حکومت نے مل کر تاریخ کا دھارا بدل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک کی سینٹ لارنس یونیورسٹی کے ماہر ہاورڈ آئسن سٹیٹ کہتے ہیں کہ اب ترکیہ میں روایتی فوجی بغاوت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، اگر کوئی ترکیہ میں فوجی بغاوت پر شرط لگاتا ہے تو وہ اپنے پیسے ہی ہارے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1513590342ef6f0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1513590342ef6f0.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترک حکومت نے اس بغاوت کا ماسٹر مائنڈ امریکا میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن اور ان کی تنظیم کو قرار دیا۔ فتح اللہ گولن جو کبھی صدر اردوان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے، سن 2024 میں بیاسی سال کی عمر میں انتقال کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا الزام تھا کہ گولن کے حامیوں نے دہائیوں کے دوران عدلیہ، پولیس اور فوج جیسے حساس اداروں میں اپنے نیٹ ورک بنا لیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بغاوت کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تطہیرکا عمل (کلینزنگ آپریشن) شروع کیا گیا، جسے اپوزیشن، حکومت کی جانب سے مخالفین کو دبانے کی کوشش بھی قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی فورسز کے اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں سوا لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور فوجی افسران کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا، اور تقریباً تین لاکھ 90 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد کو جیل بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی ہزاروں تعلیمی اداروں، میڈیا ہاؤسز اور فلاحی اداروں کو بند کر دیا گیا اور چار ہزار سے زائد مجرموں کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151359509d29559.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151359509d29559.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بغاوت کے چھ دن بعد نافذ ہونے والی ہنگامی حالت دو سال تک برقرار رہی، اس دوران صدر نے 32 ہنگامی احکامات جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیٹیکل سائنٹسٹ ارسین کالائسیوگلو نے جرمن خبر رساں ادارے ’ڈوئچے ویلے‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ میں ہنگامی حالت کے اثرات آج بھی برقرار ہیں اور ان انتظامی طریقوں کو ایک حد تک مستقل شکل دے دی گئی ہے، جس کی وجہ سے اب یہ ایک انتہائی مرکزی نظام بن چکا ہے اور بیوروکریسی اب صرف سیاسی احکامات پر عمل کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس بحران کے سیاسی اثرات یہ ہوئے کہ صدر اردوان کی جماعت ’اے کے پی‘ اور قوم پرست جماعت ’ایم ایچ پی‘ کے درمیان اتحاد ہوا، جس کی مدد سے 2017 کے آئینی ریفرنڈم میں ترکیہ کا نظام پارلیمانی سے صدارتی نظام میں بدل دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر کے صدر کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151403201b58315.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151403201b58315.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ارسین کالائسیوگلو اس تبدیلی کو ایک بڑا انتظامی بدلاؤ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب سیاسی طاقت ایک فرد کے ہاتھ میں مرکوز ہو کر رہ گئی ہے اور تمام اہم فیصلے صدر کی مرضی پر منحصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صدارتی نظام نے جہاں صدر کو مضبوط کیا، وہیں اپوزیشن کو بھی متحد ہونے پر مجبور کیا، کیونکہ اب صدارت حاصل کرنے کے لیے 50 فیصد سے زائد اکثریت حاصل کرنا لازمی ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں اپوزیشن اتحاد نے استنبول اور انقرہ جیسے بڑے شہروں کے بلدیاتی انتخابات میں تاریخی فتوحات حاصل کیں، جہاں اکرم امام اوغلو جیسے رہنما صدر اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف کے طور پر ابھرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان اپوزیشن رہنماؤں کو اب بھی دہشت گردی کے الزامات اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے مطابق، بغاوت کے بعد لاگو کیے گئے ہنگامی قوانین اب عام شہریوں کی آزادیوں پر پابندیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور اس کی لپیٹ میں وہ لوگ بھی آ رہے ہیں جن کا بغاوت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان خفیہ نیٹ ورکس کا خاتمہ ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، اور یہی وجہ ہے کہ پندرہ جولائی کی دسویں سالگرہ کے موقع پر بھی ترکیہ کے تمام 81 صوبوں میں کارروائیاں کر کے ایک ہزار کے قریب مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ترکیہ کے لیے یہ باب ابھی بند نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وہ 15 جولائی 2016 کی ایک گرم شام تھی، جب ترکیہ میں لوگ معمول کے مطابق اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہفتہ وار چھٹی منانے کی تیاری کر رہے تھے۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آنے والے چند گھنٹے ملک کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدلنے والے ہیں۔</strong></p>
<p>رات ہوتے ہی سڑکوں پر ٹینک نکل آئے، دارالحکومت انقرہ اور استنبول کی فضاؤں میں جنگی طیارے پرواز کرنے لگے اور باغی فوجیوں نے یورپ اور ایشیا کو ملانے والے باسفورس پل کو بند کر دیا۔ ساتھ ہی انقرہ میں پارلیمنٹ کی عمارت پر فائرنگ اور بمباری شروع ہوگئی۔</p>
<p>اس سنگین صورتحال میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے موبائل فون پر ایک ویڈیو کال کے ذریعے براہِ راست ٹی وی پر عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور اس بغاوت کو روکیں۔</p>
<p>صدر کی پکار پر لاکھوں غیر مسلح شہری، پولیس اور فوج کے وفادار دستے سڑکوں پر آ گئے اور چند ہی گھنٹوں میں اس خونی بغاوت کو کچل دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151358384344fd8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151358384344fd8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس رات 250 سے زائد افراد، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 2200 سے زائد زخمی ہوئے۔</p>
<p>ترکیہ کی تاریخ میں سویلین بالادستی اور فوج کے کردار کے حوالے سے یہ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔</p>
<p>ریٹائرڈ کرنل اونال اتابے نے ’الجزیرہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں  اس رات کی کامیابی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ پندرہ جولائی  2016 کی ناکامی کے تین اہم ستون تھے، پہلا عوام کی بھرپور مزاحمت، دوسرا ترک مسلح افواج کے اندر موجود وہ افسران اور سپاہی جنہوں نے بغاوت کا راستہ روکا، اور تیسرا خود فوج کا اپنا ادارہ جاتی ردعمل۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1514005529a8eb9.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1514005529a8eb9.webp'  alt=' اردوان بغاوت کی کوشش کے دوران موبائل فون پر عوام سے خطاب کر رہے ہیں ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اردوان بغاوت کی کوشش کے دوران موبائل فون پر عوام سے خطاب کر رہے ہیں</figcaption>
    </figure>
<p>ترکیہ کی تاریخ میں فوج کا سیاست پر ہمیشہ گہرا اثر رہا ہے اور اس نے 1960، 1970، 1980 اور 1997 میں منتخب حکومتوں کو گھر بھیجا۔ لیکن اس بار عوام اور حکومت نے مل کر تاریخ کا دھارا بدل دیا۔</p>
<p>نیویارک کی سینٹ لارنس یونیورسٹی کے ماہر ہاورڈ آئسن سٹیٹ کہتے ہیں کہ اب ترکیہ میں روایتی فوجی بغاوت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، اگر کوئی ترکیہ میں فوجی بغاوت پر شرط لگاتا ہے تو وہ اپنے پیسے ہی ہارے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1513590342ef6f0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1513590342ef6f0.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ترک حکومت نے اس بغاوت کا ماسٹر مائنڈ امریکا میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن اور ان کی تنظیم کو قرار دیا۔ فتح اللہ گولن جو کبھی صدر اردوان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے، سن 2024 میں بیاسی سال کی عمر میں انتقال کر چکے ہیں۔</p>
<p>حکومت کا الزام تھا کہ گولن کے حامیوں نے دہائیوں کے دوران عدلیہ، پولیس اور فوج جیسے حساس اداروں میں اپنے نیٹ ورک بنا لیے تھے۔</p>
<p>بغاوت کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تطہیرکا عمل (کلینزنگ آپریشن) شروع کیا گیا، جسے اپوزیشن، حکومت کی جانب سے مخالفین کو دبانے کی کوشش بھی قرار دیتی ہے۔</p>
<p>سیکیورٹی فورسز کے اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں سوا لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور فوجی افسران کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا، اور تقریباً تین لاکھ 90 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد کو جیل بھیج دیا گیا۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی ہزاروں تعلیمی اداروں، میڈیا ہاؤسز اور فلاحی اداروں کو بند کر دیا گیا اور چار ہزار سے زائد مجرموں کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151359509d29559.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151359509d29559.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>بغاوت کے چھ دن بعد نافذ ہونے والی ہنگامی حالت دو سال تک برقرار رہی، اس دوران صدر نے 32 ہنگامی احکامات جاری کیے۔</p>
<p>پولیٹیکل سائنٹسٹ ارسین کالائسیوگلو نے جرمن خبر رساں ادارے ’ڈوئچے ویلے‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ میں ہنگامی حالت کے اثرات آج بھی برقرار ہیں اور ان انتظامی طریقوں کو ایک حد تک مستقل شکل دے دی گئی ہے، جس کی وجہ سے اب یہ ایک انتہائی مرکزی نظام بن چکا ہے اور بیوروکریسی اب صرف سیاسی احکامات پر عمل کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس بحران کے سیاسی اثرات یہ ہوئے کہ صدر اردوان کی جماعت ’اے کے پی‘ اور قوم پرست جماعت ’ایم ایچ پی‘ کے درمیان اتحاد ہوا، جس کی مدد سے 2017 کے آئینی ریفرنڈم میں ترکیہ کا نظام پارلیمانی سے صدارتی نظام میں بدل دیا گیا۔</p>
<p>اس کے بعد وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر کے صدر کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151403201b58315.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/151403201b58315.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ارسین کالائسیوگلو اس تبدیلی کو ایک بڑا انتظامی بدلاؤ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب سیاسی طاقت ایک فرد کے ہاتھ میں مرکوز ہو کر رہ گئی ہے اور تمام اہم فیصلے صدر کی مرضی پر منحصر ہیں۔</p>
<p>اس صدارتی نظام نے جہاں صدر کو مضبوط کیا، وہیں اپوزیشن کو بھی متحد ہونے پر مجبور کیا، کیونکہ اب صدارت حاصل کرنے کے لیے 50 فیصد سے زائد اکثریت حاصل کرنا لازمی ہو گیا۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں اپوزیشن اتحاد نے استنبول اور انقرہ جیسے بڑے شہروں کے بلدیاتی انتخابات میں تاریخی فتوحات حاصل کیں، جہاں اکرم امام اوغلو جیسے رہنما صدر اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف کے طور پر ابھرے۔</p>
<p>تاہم ان اپوزیشن رہنماؤں کو اب بھی دہشت گردی کے الزامات اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا ہے۔</p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے مطابق، بغاوت کے بعد لاگو کیے گئے ہنگامی قوانین اب عام شہریوں کی آزادیوں پر پابندیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور اس کی لپیٹ میں وہ لوگ بھی آ رہے ہیں جن کا بغاوت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان خفیہ نیٹ ورکس کا خاتمہ ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، اور یہی وجہ ہے کہ پندرہ جولائی کی دسویں سالگرہ کے موقع پر بھی ترکیہ کے تمام 81 صوبوں میں کارروائیاں کر کے ایک ہزار کے قریب مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ترکیہ کے لیے یہ باب ابھی بند نہیں ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508864</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 14:07:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/151358099dcf601.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/151358099dcf601.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
