<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 11:26:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 11:26:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات اور فوجیوں پر حملے، جدید ڈرون مار گرانے کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508948/iran-says-it-targeted-bases-in-kuwait-and-jordan-after-new-wave-of-us-strikes</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تصادم انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل پانچویں رات بھی شدید فضائی اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے 15 جولائی کی رات نو بجے ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹ کام نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ ہم نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری گزرگاہ کے تحفظ اور آزاد بحری آمدورفت کو برقرار رکھنے کے لیے ایران کے فوجی اثاثوں، کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات سمیت ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی طیاروں نے اس آپریشن کے دوران بندر عباس سمیت مختلف مقامات پر انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2077563991069499714?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2077563991069499714?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل امریکی افواج نے جزیرہ تنب بزرگ پر واقع ایرانی ساحلی دفاع اور کروز میزائل سائٹس پر بھی نوے منٹ تک مسلسل بمباری کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی میزائلوں نے جنوبی اور مغربی ایرانی شہروں چاہ بہار، اہواز اور بندر عباس کو نشانہ بنایا۔ چاہ بہار میں تین زوردار دھماکے سنے گئے جہاں امریکی میزائلوں نے ایک بحری نگرانی کے ٹاور کو نشانہ بنایا جبکہ اہواز میں گرنے والا ایک امریکی میزائل کینسر کے مریضوں کے ایک اسپتال کے قریب گرا، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کشیدگی کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی بندرگاہ کی طرف جانے والے ایک تجارتی ٹینکر جہاز کو امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے اور بار بار دی جانے والی وارننگز کو نظر انداز کرنے پر میزائل مار کر ناکارہ بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کی پاسداران انقلاب نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے جنوب مغربی شہر اندیمشک کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے جدید امریکی ایم کیو نائن اسٹریٹجک ڈرون کو اپنے ایک نئے دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/iribnews_irib/status/2077555324135858569?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/iribnews_irib/status/2077555324135858569?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج اور پاسداران انقلاب نے جمعرات کے روز کویت اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسری طرف اردن نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں آنے والے متعدد ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، پاسداران انقلاب نے کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسداران انقلاب نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت کے فضائی اڈے پر موجود امریکی فوجیوں کے ایک اجتماع اور وہاں نصب دشمن کے قبل از وقت اطلاع دینے والے ریڈار سسٹم یعنی ارلی وارننگ ریڈار کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایرانی دعوے پر تاحال امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون یا امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت کے ساتھ ساتھ ایران نے پڑوسی ملک اردن میں موجود امریکی عسکری اثاثوں پر بھی حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508917/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508917"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اردن کے الازرق فوجی اڈے پر امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور ایندھن کے ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ الازرق کا یہ فوجی اڈہ امریکی فوجیوں اور ان کی مختلف فضائی کارروائیوں کا ایک بہت بڑا اور اہم مرکز مانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر اس حملے پر بھی امریکا، پینٹاگون یا اردن کی حکومت کی طرف سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم، ان حملوں کی خبریں عام ہونے کے فوری بعد اردن کی حکومت کا باضابطہ اور اہم بیان سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردن کی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اردنی فورسز نے اپنی حدود میں آنے والے ایرانی میزائلوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردن کے سرکاری ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردنی فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کے روز اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ سے دنیا کو ہونے والی تمام توانائی کی برآمدات کو بلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508906/who-are-the-houthis-iran-allies-yemen-explainer'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاسداران انقلاب نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والے تمام تجارتی راستے بند کر دیں گے اور علاقائی توانائی کی برآمدات یا تو سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج کے ترجمان نے بھی اس سخت موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا ایران کے قانونی نظامِ حکومت کو تسلیم نہیں کر لیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی اس نازک صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تمام انتظامات کو برقرار رکھنا ایران کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہماری فوج کو دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے، اگر ایران کو کسی مفاہمتی یادداشت سے کوئی فائدہ نہیں مل رہا تو ہمارے لیے اس پر قائم رہنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باقر قالیباف نے ایرانی عوام کو متحد ہونے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف اپنی طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا اور اسے مزید مضبوط بننا ہوگا، چاہے جنگ ہو یا مذاکرات، ہماری ہر حکمت عملی کا مرکز صرف قومی مفادات کا تحفظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکی عزائم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا اصل مقصد ایرانی نظام کو گرانا اور ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے، لیکن ہمیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کے تمام راستے بھی استعمال کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان جھڑپوں میں انسانی جانوں کا بھی بڑا نقصان ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں دو خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508825/after-hormuz-iran-turns-to-red-sea-gateway-as-new-pressure-point'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508825"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے ایرانشہر میں واقع بمپور فوجی اڈے پر ہونے والے امریکی حملے میں سات ایرانی فوجی بھی جاں بحق ہوئے ہیں، جہاں امریکا نے بیرکوں کے رہائشی حصے پر 13 میزائل داغے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حویزہ شہر میں گندم کے ایک گودام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حملوں کے جواب میں ایران نے آپریشن نصر ٹو کی ساتویں لہر شروع کی جس کے تحت بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے کمانڈ سینٹر اور شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود اسلحے کے گوداموں کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ اردن کی موافق السلطی ایئر بیس پر امریکی جنگی طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تصادم انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل پانچویں رات بھی شدید فضائی اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے 15 جولائی کی رات نو بجے ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔</strong></p>
<p>امریکی سینٹ کام نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ ہم نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری گزرگاہ کے تحفظ اور آزاد بحری آمدورفت کو برقرار رکھنے کے لیے ایران کے فوجی اثاثوں، کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات سمیت ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>امریکی طیاروں نے اس آپریشن کے دوران بندر عباس سمیت مختلف مقامات پر انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2077563991069499714?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2077563991069499714?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل امریکی افواج نے جزیرہ تنب بزرگ پر واقع ایرانی ساحلی دفاع اور کروز میزائل سائٹس پر بھی نوے منٹ تک مسلسل بمباری کی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی میزائلوں نے جنوبی اور مغربی ایرانی شہروں چاہ بہار، اہواز اور بندر عباس کو نشانہ بنایا۔ چاہ بہار میں تین زوردار دھماکے سنے گئے جہاں امریکی میزائلوں نے ایک بحری نگرانی کے ٹاور کو نشانہ بنایا جبکہ اہواز میں گرنے والا ایک امریکی میزائل کینسر کے مریضوں کے ایک اسپتال کے قریب گرا، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>اس کشیدگی کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی بندرگاہ کی طرف جانے والے ایک تجارتی ٹینکر جہاز کو امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے اور بار بار دی جانے والی وارننگز کو نظر انداز کرنے پر میزائل مار کر ناکارہ بنا دیا ہے۔</p>
<p>اس امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کی پاسداران انقلاب نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے جنوب مغربی شہر اندیمشک کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے جدید امریکی ایم کیو نائن اسٹریٹجک ڈرون کو اپنے ایک نئے دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/iribnews_irib/status/2077555324135858569?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/iribnews_irib/status/2077555324135858569?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج اور پاسداران انقلاب نے جمعرات کے روز کویت اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسری طرف اردن نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں آنے والے متعدد ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔</p>
<p>ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، پاسداران انقلاب نے کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>پاسداران انقلاب نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت کے فضائی اڈے پر موجود امریکی فوجیوں کے ایک اجتماع اور وہاں نصب دشمن کے قبل از وقت اطلاع دینے والے ریڈار سسٹم یعنی ارلی وارننگ ریڈار کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>اس ایرانی دعوے پر تاحال امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون یا امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p>کویت کے ساتھ ساتھ ایران نے پڑوسی ملک اردن میں موجود امریکی عسکری اثاثوں پر بھی حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508917/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508917"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی فوج نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اردن کے الازرق فوجی اڈے پر امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور ایندھن کے ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ الازرق کا یہ فوجی اڈہ امریکی فوجیوں اور ان کی مختلف فضائی کارروائیوں کا ایک بہت بڑا اور اہم مرکز مانا جاتا ہے۔</p>
<p>ابتدائی طور پر اس حملے پر بھی امریکا، پینٹاگون یا اردن کی حکومت کی طرف سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تھا۔ تاہم، ان حملوں کی خبریں عام ہونے کے فوری بعد اردن کی حکومت کا باضابطہ اور اہم بیان سامنے آیا ہے۔</p>
<p>اردن کی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اردنی فورسز نے اپنی حدود میں آنے والے ایرانی میزائلوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔</p>
<p>اردن کے سرکاری ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردنی فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کے روز اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ سے دنیا کو ہونے والی تمام توانائی کی برآمدات کو بلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508906/who-are-the-houthis-iran-allies-yemen-explainer'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاسداران انقلاب نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والے تمام تجارتی راستے بند کر دیں گے اور علاقائی توانائی کی برآمدات یا تو سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں ہوں گی۔</p>
<p>ایرانی فوج کے ترجمان نے بھی اس سخت موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا ایران کے قانونی نظامِ حکومت کو تسلیم نہیں کر لیتا۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی اس نازک صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق تمام انتظامات کو برقرار رکھنا ایران کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہماری فوج کو دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے، اگر ایران کو کسی مفاہمتی یادداشت سے کوئی فائدہ نہیں مل رہا تو ہمارے لیے اس پر قائم رہنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔</p>
<p>باقر قالیباف نے ایرانی عوام کو متحد ہونے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف اپنی طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا اور اسے مزید مضبوط بننا ہوگا، چاہے جنگ ہو یا مذاکرات، ہماری ہر حکمت عملی کا مرکز صرف قومی مفادات کا تحفظ ہے۔</p>
<p>انہوں نے امریکی عزائم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا اصل مقصد ایرانی نظام کو گرانا اور ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے، لیکن ہمیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کے تمام راستے بھی استعمال کرنے ہوں گے۔</p>
<p>ان جھڑپوں میں انسانی جانوں کا بھی بڑا نقصان ہوا ہے۔</p>
<p>ایران کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں دو خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508825/after-hormuz-iran-turns-to-red-sea-gateway-as-new-pressure-point'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508825"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے ایرانشہر میں واقع بمپور فوجی اڈے پر ہونے والے امریکی حملے میں سات ایرانی فوجی بھی جاں بحق ہوئے ہیں، جہاں امریکا نے بیرکوں کے رہائشی حصے پر 13 میزائل داغے۔</p>
<p>اس کے علاوہ حویزہ شہر میں گندم کے ایک گودام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>ان حملوں کے جواب میں ایران نے آپریشن نصر ٹو کی ساتویں لہر شروع کی جس کے تحت بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے۔</p>
<p>ایران کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے کمانڈ سینٹر اور شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود اسلحے کے گوداموں کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ اردن کی موافق السلطی ایئر بیس پر امریکی جنگی طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508948</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 09:12:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/160945460baf653.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/160945460baf653.webp"/>
        <media:title>یہ تصویر 15 جولائی 2026 کو سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو سے لی گئی ہے، جس میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ (رائٹرز)</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
