<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 12:19:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 12:19:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انگلینڈ کو شکست دینے کے بعد ارجنٹائن کے کھلاڑیوں نے متنازع بینر لہرا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508951/argentina-players-wave-controversial-banner-after-defeating-england</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو 1-2 سے شکست دینے کے بعد ارجنٹائن کے چند کھلاڑیوں کی جانب سے فالکلینڈز جزائر سے متعلق ایک سیاسی بینر لہرانے پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف کھیل کے میدان سے باہر سیاسی تنازع کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے بلکہ فیفا کے ضابطہ اخلاق پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے اختتام پر ارجنٹائن کے کھلاڑی لیساندرو مارٹینیز اور جیووانی لو سیلسو نے جیت کی خوشی مناتے ہوئے ایک بینر اٹھایا جس پر ہسپانوی زبان میں ”لاس مالویناس سن ارجنٹیناس“ یعنی ”فالکلینڈز ارجنٹینا کے ہیں“ تحریر تھا۔ دونوں کھلاڑی مسکراتے ہوئے یہ بینر شائقین کو دکھاتے رہے جبکہ ان کے ساتھ موجود نکولس اوتامندی بھی اس موقع پر نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اشارہ ان جزائر کی طرف تھا جنہیں برطانیہ میں فالکلینڈ کہا جاتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ان پر ملکیت کا جھگڑا چل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508946/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کھلاڑیوں کا یہ اقدام فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے قوانین کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ فیفا کے اسٹیڈیم کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق اسٹیڈیم کے اندر کسی بھی قسم کے سیاسی، نسلی یا تعصبی بینر، جھنڈے اور اشاراتی لباس لے جانے پر سخت پابندی ہے۔ ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کی جانب سے اس بینر کی نمائش کو اسی ضابطے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد عالمی میڈیا کی جانب سے فیفا سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم فوری طور پر فیفا کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا کہ وہ ان کھلاڑیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرے گا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ فالکلینڈز جزائر، جنہیں ارجنٹائن میں ”مالویناس“ کہا جاتا ہے، جنوبی بحر اوقیانوس میں واقع ہیں اور کئی دہائیوں سے برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان تنازع کا مرکز رہے ہیں۔ برطانیہ ان جزائر کو فالکلینڈز کے نام سے پکارتا ہے جبکہ ارجنٹائن انہیں مالویناس قرار دیتا ہے اور ان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان 1982 میں ان جزائر کے معاملے پر ایک مختصر لیکن خونریز جنگ بھی ہوئی تھی، جس میں ارجنٹائن کے 649  اور برطانیہ کے 255 فوجی مارے گئے تھے۔ اس جنگ میں برطانیہ کو فتح ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے جزائر کی اکثریتی آبادی خود کو برطانیہ کا حصہ برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508947/england-captain-faces-severe-criticism-after-defeat-to-argentina'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508947"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ارجنٹائن کا دعویٰ ہے کہ اسے 1816 میں اسپین سے آزادی کے بعد ان جزائر کی ملکیت ورثے میں ملی تھی اور برطانیہ نے 1833 میں ایک غیر قانونی نوآبادیاتی اقدام کے ذریعے ان پر ناجائز قبضہ کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے بعد ارجنٹائن کےکھلاڑی لیساندرو مارٹینیز اور جیووانی لو سیلسو یہ بینر اٹھا کر تماشائیوں کی جانب بڑھے تو یہ واضح نہ ہوسکا کہ یہ بینر میدان میں کہاں سے آیا اور کھلاڑیوں تک کیسے پہنچا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں جب ورلڈ کپ کے دوران سیاسی نوعیت کے بینرز یا جھنڈوں نے توجہ حاصل کی ہو۔ گزشتہ ماہ لاس اینجلس میں ایران کے میچ کے دوران بعض ایرانی نژاد امریکی شائقین نے ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کی علامت سمجھے جانے والے انقلاب سے قبل کے ایرانی پرچم بھی لہرا ئے تھے۔ اس موقع پر میچ بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے اختتام پذیر ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا فیفا اس معاملے پر کوئی کارروائی کرتا ہے یا اسے محض ایک علامتی اظہار کے طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو 1-2 سے شکست دینے کے بعد ارجنٹائن کے چند کھلاڑیوں کی جانب سے فالکلینڈز جزائر سے متعلق ایک سیاسی بینر لہرانے پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف کھیل کے میدان سے باہر سیاسی تنازع کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے بلکہ فیفا کے ضابطہ اخلاق پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔</strong></p>
<p>میچ کے اختتام پر ارجنٹائن کے کھلاڑی لیساندرو مارٹینیز اور جیووانی لو سیلسو نے جیت کی خوشی مناتے ہوئے ایک بینر اٹھایا جس پر ہسپانوی زبان میں ”لاس مالویناس سن ارجنٹیناس“ یعنی ”فالکلینڈز ارجنٹینا کے ہیں“ تحریر تھا۔ دونوں کھلاڑی مسکراتے ہوئے یہ بینر شائقین کو دکھاتے رہے جبکہ ان کے ساتھ موجود نکولس اوتامندی بھی اس موقع پر نظر آئے۔</p>
<p>یہ اشارہ ان جزائر کی طرف تھا جنہیں برطانیہ میں فالکلینڈ کہا جاتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ان پر ملکیت کا جھگڑا چل رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508946/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کھلاڑیوں کا یہ اقدام فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے قوانین کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ فیفا کے اسٹیڈیم کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق اسٹیڈیم کے اندر کسی بھی قسم کے سیاسی، نسلی یا تعصبی بینر، جھنڈے اور اشاراتی لباس لے جانے پر سخت پابندی ہے۔ ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کی جانب سے اس بینر کی نمائش کو اسی ضابطے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>واقعے کے بعد عالمی میڈیا کی جانب سے فیفا سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم فوری طور پر فیفا کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا کہ وہ ان کھلاڑیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرے گا یا نہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ فالکلینڈز جزائر، جنہیں ارجنٹائن میں ”مالویناس“ کہا جاتا ہے، جنوبی بحر اوقیانوس میں واقع ہیں اور کئی دہائیوں سے برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان تنازع کا مرکز رہے ہیں۔ برطانیہ ان جزائر کو فالکلینڈز کے نام سے پکارتا ہے جبکہ ارجنٹائن انہیں مالویناس قرار دیتا ہے اور ان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان 1982 میں ان جزائر کے معاملے پر ایک مختصر لیکن خونریز جنگ بھی ہوئی تھی، جس میں ارجنٹائن کے 649  اور برطانیہ کے 255 فوجی مارے گئے تھے۔ اس جنگ میں برطانیہ کو فتح ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے جزائر کی اکثریتی آبادی خود کو برطانیہ کا حصہ برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508947/england-captain-faces-severe-criticism-after-defeat-to-argentina'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508947"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب ارجنٹائن کا دعویٰ ہے کہ اسے 1816 میں اسپین سے آزادی کے بعد ان جزائر کی ملکیت ورثے میں ملی تھی اور برطانیہ نے 1833 میں ایک غیر قانونی نوآبادیاتی اقدام کے ذریعے ان پر ناجائز قبضہ کر لیا تھا۔</p>
<p>میچ کے بعد ارجنٹائن کےکھلاڑی لیساندرو مارٹینیز اور جیووانی لو سیلسو یہ بینر اٹھا کر تماشائیوں کی جانب بڑھے تو یہ واضح نہ ہوسکا کہ یہ بینر میدان میں کہاں سے آیا اور کھلاڑیوں تک کیسے پہنچا؟</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں جب ورلڈ کپ کے دوران سیاسی نوعیت کے بینرز یا جھنڈوں نے توجہ حاصل کی ہو۔ گزشتہ ماہ لاس اینجلس میں ایران کے میچ کے دوران بعض ایرانی نژاد امریکی شائقین نے ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کی علامت سمجھے جانے والے انقلاب سے قبل کے ایرانی پرچم بھی لہرا ئے تھے۔ اس موقع پر میچ بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے اختتام پذیر ہوا تھا۔</p>
<p>اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا فیفا اس معاملے پر کوئی کارروائی کرتا ہے یا اسے محض ایک علامتی اظہار کے طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508951</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 11:09:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/161030325036ac7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/161030325036ac7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
