<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 16:27:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 16:27:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی قرارداد؛ کیا پورے ملک میں نفاذ ممکن ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508995/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کے بعد پاکستان کے صوبے پنجاب میں بھی ایسا ہی ایک بل پیش کیا گیا ہے، جس کے بعد اس سوال نے جنم لیا ہے کہ اگر ایسا کوئی قانون منظور ہوتا ہے تو کیا اسے پورے ملک میں نافذ کیا جاسکتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند سال پہلے تک صرف ماہرینِ صحت، والدین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان ہی یہ سوال زیرِ بحث ہوا کرتا تھا کہ کیا کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟ مگر اب یہی سوال دنیا بھر کی قانون ساز اسمبلیوں سے ہوتا ہوا پاکستان کے ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی رکن اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کی جانب سے ایک اہم قرارداد جمع کرائی گئی ہے۔ اس قرارداد میں وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مؤثر قانونی پابندی عائد کی جائے اور عمر کی تصدیق کا لازمی نظام متعارف کرایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سارہ احمد نے بچوں کے حقوق اور ان کے بچپن کو محفوظ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور بچوں کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی نشوونما کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سارہ احمد کے مطابق، اس قرارداد کا مقصد بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن جنسی استحصال، غیر اخلاقی و نامناسب مواد اور دیگر سنگین خطرات سے بچانا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30486770/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30486770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، پاکستان میں فی الحال ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے کسی کم از کم عمر کا تعین کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قرارداد بذاتِ خود کوئی قانون نہیں ہے بلکہ اس میں پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر باقاعدہ قانون سازی کے لیے وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے رجوع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ضوابط وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے اس حوالے سے کسی بھی لازمی قانون کے ملک گیر نفاذ کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پنجاب اسمبلی اس قرارداد کو منظور کر بھی لیتی ہے تو یہ صوبائی اسمبلی کی صرف ایک رسمی رائے اور وفاقی حکومت کے لیے سفارش تصور ہوگی، ملک گیر لاگو ہوانے والا قانون نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے متعدد ممالک بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیاں سخت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں برطانیہ نے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک، یوٹیوب اور ایکس کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے عادی بنانے والے الگورتھمز پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ”تمام والدین کی طرح ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ بچے خوش اور محفوظ رہیں، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بعد کیا ایسا ممکن ہے؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اب ہر صورت یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کم عمر صارفین نئے اکاؤنٹس نہ بنا سکیں اور پرانے اکاؤنٹس بند کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2066420074265661746'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2066420074265661746"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح آسٹریلیا وہ پہلا ملک ہے جس نے دسمبر 2025 میں مکمل پابندی یعنی ”بلینکٹ بین“ کا قانون منظور کیا، جس کے تحت سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر سخت پابندی عائد کی گئی اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے رکھے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا نے مارچ 2026 میں ایسی ہی پابندیاں نافذ کیں جبکہ ملائیشیا، ترکیہ اور یونان نے بھی عمر کی تصدیق اور رجسٹریشن کے سخت قوانین بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں پہلے سے ہی ”مائنر موڈ“ فریم ورک موجود ہے جو والدین کو ایک کلک سے بچوں کے فون پر انٹرنیٹ رسائی بلاک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کا ماڈل تھوڑا مختلف ہے جہاں تیرہ سال سے کم عمر بچے والدین کی تحریری اجازت سے سوشل میڈیا استعمال کر سکتے ہیں اور خلاف ورزی پر والدین کو بھی جوابدہ بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اگرچہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق اب تک کوئی باضابطہ قانون پاس نہیں ہو سکا، مگر یہ معاملہ پارلیمنٹ اور عدالتوں میں مسلسل اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506516/social-media-age-restrictions-worldwide-from-debate-to-legislation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جون 2025 میں سینیٹ میں ایک ایسا ہی بل پیش کیا گیا تھا جو بعد میں اعتراضات کے باعث واپس لے لیا گیا، تاہم جنوری 2026 میں یہ معاملہ دوبارہ سینیٹ میں اٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت سینیٹ کی قائم مقام چیئرمین شیری رحمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ”سوشل میڈیا تعلیمی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے سینیٹ کو تمام پہلوؤں کا محتاط جائزہ لیتے ہوئے متوازن فیصلہ کرنا چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران سینیٹر فلک ناز نے ایک کم عمر ٹک ٹاکر کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے واقعات واضح کرتے ہیں کہ بچوں کا بغیر نگرانی سوشل میڈیا استعمال کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ عدالتوں میں بھی پہنچا ہے اور لاہور ہائی کورٹ سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے اور پیمرا سے اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا کی لت بچوں کے کچے ذہنوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے، اس پر طبی ماہرین شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2066868405358248391'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2066868405358248391"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں میں ڈپریشن، اضطراب یعنی اینزائٹی، نیند کی کمی اور سائبر بلنگ کا باعث بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق گیارہ سے چودہ سال کی عمر بچوں کے دماغی ارتقا کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے اور اس عمر میں سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال ان کے پُراعتماد ہونے کی صلاحیت کو کچل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل جیسے ممالک نے اسی لیے سوشل میڈیا کے ایسے فیچرز پر پابندی لگائی ہے جو لامتناہی اسکرولنگ یا ویڈیوز کو خود بخود چلا کر بچوں کے دماغ میں منشیات کی طرح ”ڈوپامن“ نامی کیمیکل پیدا کرتے ہیں اور انہیں اس لت کا عادی بنا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/bhavyapandya07/status/2066400491731595368'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/bhavyapandya07/status/2066400491731595368"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف نے اس بحث میں ایک مختلف زاویہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ انٹرنیٹ کے ماحول کو بچوں کے لیے محفوظ بنانا زیادہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کے بعد پاکستان کے صوبے پنجاب میں بھی ایسا ہی ایک بل پیش کیا گیا ہے، جس کے بعد اس سوال نے جنم لیا ہے کہ اگر ایسا کوئی قانون منظور ہوتا ہے تو کیا اسے پورے ملک میں نافذ کیا جاسکتا ہے؟</strong></p>
<p>چند سال پہلے تک صرف ماہرینِ صحت، والدین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان ہی یہ سوال زیرِ بحث ہوا کرتا تھا کہ کیا کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟ مگر اب یہی سوال دنیا بھر کی قانون ساز اسمبلیوں سے ہوتا ہوا پاکستان کے ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی رکن اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کی جانب سے ایک اہم قرارداد جمع کرائی گئی ہے۔ اس قرارداد میں وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مؤثر قانونی پابندی عائد کی جائے اور عمر کی تصدیق کا لازمی نظام متعارف کرایا جائے۔</p>
<p>سارہ احمد نے بچوں کے حقوق اور ان کے بچپن کو محفوظ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور بچوں کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی نشوونما کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔“</p>
<p>سارہ احمد کے مطابق، اس قرارداد کا مقصد بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن جنسی استحصال، غیر اخلاقی و نامناسب مواد اور دیگر سنگین خطرات سے بچانا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30486770/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30486770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، پاکستان میں فی الحال ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے کسی کم از کم عمر کا تعین کرتا ہو۔</p>
<p>یہ قرارداد بذاتِ خود کوئی قانون نہیں ہے بلکہ اس میں پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر باقاعدہ قانون سازی کے لیے وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے رجوع کرے۔</p>
<p>چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ضوابط وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے اس حوالے سے کسی بھی لازمی قانون کے ملک گیر نفاذ کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہوگی۔</p>
<p>اگر پنجاب اسمبلی اس قرارداد کو منظور کر بھی لیتی ہے تو یہ صوبائی اسمبلی کی صرف ایک رسمی رائے اور وفاقی حکومت کے لیے سفارش تصور ہوگی، ملک گیر لاگو ہوانے والا قانون نہیں۔</p>
<p>یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے متعدد ممالک بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیاں سخت کر رہے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں برطانیہ نے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک، یوٹیوب اور ایکس کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے عادی بنانے والے الگورتھمز پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ”تمام والدین کی طرح ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ بچے خوش اور محفوظ رہیں، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بعد کیا ایسا ممکن ہے؟“</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اب ہر صورت یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کم عمر صارفین نئے اکاؤنٹس نہ بنا سکیں اور پرانے اکاؤنٹس بند کیے جائیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2066420074265661746'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2066420074265661746"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح آسٹریلیا وہ پہلا ملک ہے جس نے دسمبر 2025 میں مکمل پابندی یعنی ”بلینکٹ بین“ کا قانون منظور کیا، جس کے تحت سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر سخت پابندی عائد کی گئی اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے رکھے گئے۔</p>
<p>انڈونیشیا نے مارچ 2026 میں ایسی ہی پابندیاں نافذ کیں جبکہ ملائیشیا، ترکیہ اور یونان نے بھی عمر کی تصدیق اور رجسٹریشن کے سخت قوانین بنائے۔</p>
<p>چین میں پہلے سے ہی ”مائنر موڈ“ فریم ورک موجود ہے جو والدین کو ایک کلک سے بچوں کے فون پر انٹرنیٹ رسائی بلاک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کا ماڈل تھوڑا مختلف ہے جہاں تیرہ سال سے کم عمر بچے والدین کی تحریری اجازت سے سوشل میڈیا استعمال کر سکتے ہیں اور خلاف ورزی پر والدین کو بھی جوابدہ بنایا جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں اگرچہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق اب تک کوئی باضابطہ قانون پاس نہیں ہو سکا، مگر یہ معاملہ پارلیمنٹ اور عدالتوں میں مسلسل اٹھایا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506516/social-media-age-restrictions-worldwide-from-debate-to-legislation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جون 2025 میں سینیٹ میں ایک ایسا ہی بل پیش کیا گیا تھا جو بعد میں اعتراضات کے باعث واپس لے لیا گیا، تاہم جنوری 2026 میں یہ معاملہ دوبارہ سینیٹ میں اٹھایا گیا۔</p>
<p>اس وقت سینیٹ کی قائم مقام چیئرمین شیری رحمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ”سوشل میڈیا تعلیمی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے سینیٹ کو تمام پہلوؤں کا محتاط جائزہ لیتے ہوئے متوازن فیصلہ کرنا چاہیے۔“</p>
<p>اسی دوران سینیٹر فلک ناز نے ایک کم عمر ٹک ٹاکر کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے واقعات واضح کرتے ہیں کہ بچوں کا بغیر نگرانی سوشل میڈیا استعمال کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔</p>
<p>یہ معاملہ عدالتوں میں بھی پہنچا ہے اور لاہور ہائی کورٹ سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے اور پیمرا سے اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا کی لت بچوں کے کچے ذہنوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے، اس پر طبی ماہرین شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2066868405358248391'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2066868405358248391"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں میں ڈپریشن، اضطراب یعنی اینزائٹی، نیند کی کمی اور سائبر بلنگ کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p>امریکی سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق گیارہ سے چودہ سال کی عمر بچوں کے دماغی ارتقا کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے اور اس عمر میں سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال ان کے پُراعتماد ہونے کی صلاحیت کو کچل دیتا ہے۔</p>
<p>برازیل جیسے ممالک نے اسی لیے سوشل میڈیا کے ایسے فیچرز پر پابندی لگائی ہے جو لامتناہی اسکرولنگ یا ویڈیوز کو خود بخود چلا کر بچوں کے دماغ میں منشیات کی طرح ”ڈوپامن“ نامی کیمیکل پیدا کرتے ہیں اور انہیں اس لت کا عادی بنا دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/bhavyapandya07/status/2066400491731595368'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/bhavyapandya07/status/2066400491731595368"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف نے اس بحث میں ایک مختلف زاویہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ انٹرنیٹ کے ماحول کو بچوں کے لیے محفوظ بنانا زیادہ ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508995</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 15:08:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/161419151981001.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/161419151981001.webp"/>
        <media:title>علامتی تصویر بزریعہ اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
