<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 19:07:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 19:07:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی فوجیوں کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے’ٹیسٹو سٹیرون اسکریننگ‘ کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509021/us-military-mandatory-testosterone-screening</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے فوجیوں کی جسمانی صحت اور پیشہ ورانہ استعداد بہتر بنانے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرا دی ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے فوجیوں کا ہر سال ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ کیا جائے گا، جب کہ ضرورت پڑنے پر انہیں علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/litigation/hegseth-announces-testosterone-screening-us-troops-2026-07-16/?utm_source=Facebook&amp;amp;utm_medium=Social"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt;‘ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے فوجیوں کے لیے سالانہ ٹیسٹوسٹیرون اسکریننگ لازمی قرار دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے اہلکاروں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جن میں اس اہم ہارمون کی کمی کے باعث صحت اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹ ہیگستھ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح قدرتی طور پر کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ہارمون جسمانی طاقت، پٹھوں کی مضبوطی، توانائی، ذہنی چستی، برداشت اور مجموعی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی کے باعث تھکاوٹ، کمزوری، توجہ میں کمی، جسمانی صلاحیت متاثر ہونے اور دیگر طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SecWar/status/2077425458430230838'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SecWar/status/2077425458430230838"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نئی پالیسی کے تحت اگر کسی فوجی میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی تشخیص ہوتی ہے تو اسے ٹیسٹوسٹیرون ری پلیسمنٹ تھراپی کی پیش کش کی جائے گی۔ تاہم علاج کروانا لازمی نہیں ہوگا اور اس کا فیصلہ متعلقہ فوجی اپنی رضامندی سے کرے گا۔ 30 سال سے کم عمر اہلکار بھی اگر ضرورت محسوس کریں تو رضاکارانہ طور پر یہ ٹیسٹ کرا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’رائٹرز‘ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ صحت نے گزشتہ ماہ عمر سے متعلق ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کے شکار افراد کے لیے ہارمون ری پلیسمنٹ تھراپی پر عائد بعض پابندیاں نرم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اس اعلان پر سیاسی حلقوں میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانس جینڈر فوجیوں کے لیے ہارمون تھراپی پر پابندی عائد کرنے والی حکومت اب دوسرے فوجیوں کے لیے اسی نوعیت کے علاج کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2077626783093162317'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Reuters/status/2077626783093162317"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹ رکن کانگریس سمر لی اور سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ نے اس فیصلے کو ”جینڈر افارمنگ کیئر“ سے تشبیہ دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ امریکی وزیرِ جنگ کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کا مقصد فوجیوں کی جنگی تیاری، جسمانی استعداد اور مجموعی صحت کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیسٹوسٹیرون کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیسٹوسٹیرون ایک قدرتی ہارمون ہے جو بنیادی طور پر مردوں میں خصیوں اور خواتین میں معمولی مقدار میں بیضہ دانی کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہارمون جسمانی نشوونما، پٹھوں کی مضبوطی، ہڈیوں کی صحت، جسمانی طاقت، توانائی، جنسی صحت اور ذہنی چستی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوغت کے دوران آواز بھاری ہونے، جسم پر بال آنے اور پٹھوں کی افزائش جیسے جسمانی تغیرات بھی اسی ہارمون کی بدولت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ، خاص طور پر 30 سال کے بعد، ٹیسٹوسٹیرون کی سطح میں بتدریج کمی آنا ایک قدرتی عمل ہے۔ تاہم بعض افراد میں اس کی سطح معمول سے زیادہ کم ہو جائے تو مسلسل تھکاوٹ، جسمانی کمزوری، پٹھوں کے حجم میں کمی، وزن میں اضافہ، توجہ اور یادداشت متاثر ہونے، ہڈیوں کی کمزوری اور جنسی خواہش میں کمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر طبی معائنے سے ہارمون کی غیر معمولی کمی ثابت ہو جائے تو ڈاکٹر بعض مریضوں کو ٹیسٹوسٹیرون ری پلیسمنٹ تھراپی تجویز کرتے ہیں، جس کے ذریعے جسم میں ہارمون کی سطح کو متوازن رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہرین اس علاج کو صرف ضرورت اور مکمل طبی معائنے کے بعد ہی تجویز کرتے ہیں، کیونکہ غیر ضروری یا بے احتیاط استعمال سے دل کی بیماریوں، خون گاڑھا ہونے، جگر کے مسائل اور دیگر مضر اثرات کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے امریکی محکمہ دفاع کی نئی پالیسی میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ فوجیوں کو صرف طبی تشخیص کے بعد ہی علاج کی پیش کش کی جائے گی اور اسے قبول کرنا ان کی اپنی مرضی ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے فوجیوں کی جسمانی صحت اور پیشہ ورانہ استعداد بہتر بنانے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرا دی ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے فوجیوں کا ہر سال ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ کیا جائے گا، جب کہ ضرورت پڑنے پر انہیں علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/litigation/hegseth-announces-testosterone-screening-us-troops-2026-07-16/?utm_source=Facebook&amp;utm_medium=Social">رائٹرز</a>‘ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے فوجیوں کے لیے سالانہ ٹیسٹوسٹیرون اسکریننگ لازمی قرار دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے اہلکاروں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جن میں اس اہم ہارمون کی کمی کے باعث صحت اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>پیٹ ہیگستھ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح قدرتی طور پر کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ہارمون جسمانی طاقت، پٹھوں کی مضبوطی، توانائی، ذہنی چستی، برداشت اور مجموعی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی کے باعث تھکاوٹ، کمزوری، توجہ میں کمی، جسمانی صلاحیت متاثر ہونے اور دیگر طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SecWar/status/2077425458430230838'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SecWar/status/2077425458430230838"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>نئی پالیسی کے تحت اگر کسی فوجی میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی تشخیص ہوتی ہے تو اسے ٹیسٹوسٹیرون ری پلیسمنٹ تھراپی کی پیش کش کی جائے گی۔ تاہم علاج کروانا لازمی نہیں ہوگا اور اس کا فیصلہ متعلقہ فوجی اپنی رضامندی سے کرے گا۔ 30 سال سے کم عمر اہلکار بھی اگر ضرورت محسوس کریں تو رضاکارانہ طور پر یہ ٹیسٹ کرا سکیں گے۔</p>
<p>’رائٹرز‘ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ صحت نے گزشتہ ماہ عمر سے متعلق ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کے شکار افراد کے لیے ہارمون ری پلیسمنٹ تھراپی پر عائد بعض پابندیاں نرم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب اس اعلان پر سیاسی حلقوں میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانس جینڈر فوجیوں کے لیے ہارمون تھراپی پر پابندی عائد کرنے والی حکومت اب دوسرے فوجیوں کے لیے اسی نوعیت کے علاج کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2077626783093162317'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Reuters/status/2077626783093162317"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ڈیموکریٹ رکن کانگریس سمر لی اور سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ نے اس فیصلے کو ”جینڈر افارمنگ کیئر“ سے تشبیہ دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ امریکی وزیرِ جنگ کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کا مقصد فوجیوں کی جنگی تیاری، جسمانی استعداد اور مجموعی صحت کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دے سکیں۔</p>
<p><strong>ٹیسٹوسٹیرون کیا ہے؟</strong></p>
<p>ٹیسٹوسٹیرون ایک قدرتی ہارمون ہے جو بنیادی طور پر مردوں میں خصیوں اور خواتین میں معمولی مقدار میں بیضہ دانی کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہارمون جسمانی نشوونما، پٹھوں کی مضبوطی، ہڈیوں کی صحت، جسمانی طاقت، توانائی، جنسی صحت اور ذہنی چستی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p>بلوغت کے دوران آواز بھاری ہونے، جسم پر بال آنے اور پٹھوں کی افزائش جیسے جسمانی تغیرات بھی اسی ہارمون کی بدولت ہوتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ، خاص طور پر 30 سال کے بعد، ٹیسٹوسٹیرون کی سطح میں بتدریج کمی آنا ایک قدرتی عمل ہے۔ تاہم بعض افراد میں اس کی سطح معمول سے زیادہ کم ہو جائے تو مسلسل تھکاوٹ، جسمانی کمزوری، پٹھوں کے حجم میں کمی، وزن میں اضافہ، توجہ اور یادداشت متاثر ہونے، ہڈیوں کی کمزوری اور جنسی خواہش میں کمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>اگر طبی معائنے سے ہارمون کی غیر معمولی کمی ثابت ہو جائے تو ڈاکٹر بعض مریضوں کو ٹیسٹوسٹیرون ری پلیسمنٹ تھراپی تجویز کرتے ہیں، جس کے ذریعے جسم میں ہارمون کی سطح کو متوازن رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔</p>
<p>تاہم ماہرین اس علاج کو صرف ضرورت اور مکمل طبی معائنے کے بعد ہی تجویز کرتے ہیں، کیونکہ غیر ضروری یا بے احتیاط استعمال سے دل کی بیماریوں، خون گاڑھا ہونے، جگر کے مسائل اور دیگر مضر اثرات کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے امریکی محکمہ دفاع کی نئی پالیسی میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ فوجیوں کو صرف طبی تشخیص کے بعد ہی علاج کی پیش کش کی جائے گی اور اسے قبول کرنا ان کی اپنی مرضی ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509021</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 17:36:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16172046f1b99e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16172046f1b99e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
