<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 11:47:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Jul 2026 11:47:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی انتخابات میں 'ڈیٹا ہیکنگ' کا الزام، بیجنگ کی تردید</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509087/china-election-security-president-donald-trump-us-politics-voter-data-white-house-us-election-2020</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین امریکی الیکشن ڈیٹا ہیک کرنے اور انتخابات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب ہار جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/trump-alleges-china-committed-2020-election-fraud-2026-07-17/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ چین نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابی مرحلے کے دوران انتخابی ڈیٹا میں مداخلت کی، جسے انہوں نے ”انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی خلاف ورزی“ قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس مبینہ واقعے کے نتیجے میں چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس مبینہ ڈیٹا کے ضائع ہونے یا غیر مجاز رسائی کے باعث امریکی انتخابی سلامتی کو ایک غیر معمولی خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ انتخابات کے تحفظ اور ووٹرز کے ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ٹرمپ رواں سال کے دوران متعدد مواقع پر یہ دعویٰ دہرا چکے ہیں۔ نہوں نے کہا کہ امریکی انتخابات میں سیکیورٹی کی کمزوریاں موجود ہیں اور ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2077958024916783570'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2077958024916783570"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ کبھی امریکا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بیجنگ امریکی انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/government/three-things-know-about-trumps-election-fraud-allegations-2026-07-17/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; صدر ٹرمپ ان الزامات کی بنیاد پر کانگریس سے ”سیو امریکہ ایکٹ“ منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ قانون کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے سخت شناختی شرائط نافذ کی جائیں گی اور وفاقی حکومت کو انتخابی معاملات میں زیادہ اختیارات دیے جائیں گے۔ یہ بل ایوانِ نمائندگان سے کئی بار منظور ہو چکا ہے، تاہم سینیٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر 2021 میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جانب سے جاری کی گئی ایک غیر خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ کسی بھی غیر ملکی فریق نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے کسی تکنیکی پہلو، جیسے ووٹر رجسٹریشن، بیلٹ، ووٹوں کی گنتی یا انتخابی نتائج میں ردوبدل کرنے کی کوشش کی یا اس میں کامیاب ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جائزہ اس وقت تیار کیا گیا تھا جب جان ریٹکلف امریکی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دے رہے تھے اور بعد میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے سرورق کے مطابق اس کی خفیہ تفصیلی رپورٹ 7 جنوری 2021 کو، یعنی ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل، صدر ٹرمپ، ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، کانگریس کی قیادت اور انٹیلی جنس کمیٹیوں کو بریف کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاحال صدر ٹرمپ کے حالیہ الزامات اور 2021 کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے نتائج کے درمیان فرق موجود ہے۔ ایک جانب ٹرمپ چین پر بڑے پیمانے پر انتخابی ڈیٹا حاصل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے پہلے سے جاری کردہ جائزے میں انتخابی نظام کے تکنیکی عمل یا نتائج میں کسی غیر ملکی مداخلت کے شواہد نہ ملنے کی بات کی گئی تھی۔ چین بھی ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین امریکی الیکشن ڈیٹا ہیک کرنے اور انتخابات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب ہار جائیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/trump-alleges-china-committed-2020-election-fraud-2026-07-17/">رائٹرز کے مطابق</a> ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ چین نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابی مرحلے کے دوران انتخابی ڈیٹا میں مداخلت کی، جسے انہوں نے ”انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی خلاف ورزی“ قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس مبینہ واقعے کے نتیجے میں چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس مبینہ ڈیٹا کے ضائع ہونے یا غیر مجاز رسائی کے باعث امریکی انتخابی سلامتی کو ایک غیر معمولی خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ انتخابات کے تحفظ اور ووٹرز کے ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ٹرمپ رواں سال کے دوران متعدد مواقع پر یہ دعویٰ دہرا چکے ہیں۔ نہوں نے کہا کہ امریکی انتخابات میں سیکیورٹی کی کمزوریاں موجود ہیں اور ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2077958024916783570'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2077958024916783570"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ کبھی امریکا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بیجنگ امریکی انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد سمجھتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/government/three-things-know-about-trumps-election-fraud-allegations-2026-07-17/">رائٹرز کے مطابق</a> صدر ٹرمپ ان الزامات کی بنیاد پر کانگریس سے ”سیو امریکہ ایکٹ“ منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ قانون کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے سخت شناختی شرائط نافذ کی جائیں گی اور وفاقی حکومت کو انتخابی معاملات میں زیادہ اختیارات دیے جائیں گے۔ یہ بل ایوانِ نمائندگان سے کئی بار منظور ہو چکا ہے، تاہم سینیٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکا۔</p>
<p>ادھر 2021 میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جانب سے جاری کی گئی ایک غیر خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ کسی بھی غیر ملکی فریق نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے کسی تکنیکی پہلو، جیسے ووٹر رجسٹریشن، بیلٹ، ووٹوں کی گنتی یا انتخابی نتائج میں ردوبدل کرنے کی کوشش کی یا اس میں کامیاب ہوا۔</p>
<p>یہ جائزہ اس وقت تیار کیا گیا تھا جب جان ریٹکلف امریکی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دے رہے تھے اور بعد میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی بنے۔</p>
<p>رپورٹ کے سرورق کے مطابق اس کی خفیہ تفصیلی رپورٹ 7 جنوری 2021 کو، یعنی ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل، صدر ٹرمپ، ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، کانگریس کی قیادت اور انٹیلی جنس کمیٹیوں کو بریف کی گئی تھی۔</p>
<p>تاحال صدر ٹرمپ کے حالیہ الزامات اور 2021 کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے نتائج کے درمیان فرق موجود ہے۔ ایک جانب ٹرمپ چین پر بڑے پیمانے پر انتخابی ڈیٹا حاصل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے پہلے سے جاری کردہ جائزے میں انتخابی نظام کے تکنیکی عمل یا نتائج میں کسی غیر ملکی مداخلت کے شواہد نہ ملنے کی بات کی گئی تھی۔ چین بھی ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509087</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 09:47:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/170906497fef16f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/170906497fef16f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
