<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 19:28:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Jul 2026 19:28:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیئر اسٹارمر کی جگہ لینے والے برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم 'کنگ آف دی نارتھ' کون ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509155/andy-burnham-becomes-labour-leader-will-replace-keir-starmer-as-pm</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو اپنا نیا قائد منتخب کر لیا ہے، جس کے بعد وہ پیر کو ملک کے نئے وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالیں گے۔ مسلسل تین مرتبہ گریٹر مانچسٹر کے میئر رہنے والے اینڈی برنہم نے اقتدار سنبھالنے سے قبل ملک کے نظر انداز علاقوں کو بااختیار بنانے اور ریفارم یو کے پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی سیاست میں حالیہ دہائی غیر معمولی اتار چڑھاؤ کی حامل رہی ہے۔ اس عرصے میں ملک میں چھ وزرائے اعظم تبدیل ہوچکے ہیں۔ جمعے کے روز لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو نیا سربراہ مقرر کرلیا ہے۔ یوں وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی اینڈی برنہم 10 سال میں 7 ویں وزیراعظم بن جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈی برنہم اس سے پہلے بھی دو مرتبہ لیبر پارٹی کی قیادت کا انتخاب لڑچکے ہیں تاہم انہیں دونوں مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس شکست کے بعد وہ لندن کی سیاست چھوڑ کر واپس مانچسٹر منتقل ہوگئے تھے تاہم یہی فیصلہ ان کے سیاسی عروج کا سبب بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر پارٹی کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اینڈی برنہم پیر کو برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم کا منصب سنبھالیں گے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں اختیارات کی تقسیم کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا وعدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے پارلیمانی نظام میں عام طور پر حکمران جماعت کا سربراہ ہی ملک کا وزیراعظم بنتا ہے۔ برطانوی عوام براہِ راست وزیراعظم کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ پاکستان کی طرح اراکینِ پارلیمنٹ (ایم پیز) کو منتخب کرتے ہیں۔ جس پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت ہوتی ہے، اس کا سربراہ ہی وزیراعظم قرار پاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز سینٹرل لندن میں منعقد ہونے والی لیبر پارٹی کی خصوصی کانفرنس میں پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی کی چیئرپرسن شبانہ محمود نے اینڈی برنہم کے بلامقابلہ پارٹی سربراہ منتخب ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SkyNews/status/2078077101341634748/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SkyNews/status/2078077101341634748/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیبر پارٹی کے قوانین کے مطابق کسی بھی امیدوار کو پارٹی قیادت کا الیکشن لڑنے کے لیے پارلیمنٹ کے کم از کم 80 ارکان (ایم پیز) کی تائید یا نامزدگی حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈی برنہم کو ہاؤس آف کامنز میں موجود پارٹی کے 403 ارکان میں سے 379 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ 94 فیصد ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے ان کے مقابل کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ ارکانِ پارلیمنٹ کے علاوہ لیبر پارٹی سے وابستہ برطانیہ کی بڑی ٹریڈ یونینز اور پارٹی کی مختلف برانچز نے بھی باضابطہ طور پر اینڈی برنہم کے نام کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیئر اسٹارمر 5 جولائی 2024 کو برطانیہ کے وزیراعظم بنے تھے۔ انہوں نے جولائی 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو ایک تاریخی اور بھاری اکثریت سے جتوایا تھا۔ تاہم دو سال سے بھی کم عرصے کے بعد 22 جون کو انہوں نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506710/7-prime-ministers-in-10-years-story-behind-britains-successive-resignations'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506710"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں مئی میں ہونے والے کے بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہی ان کے استعفے کی بڑی وجہ بنی تھی اور لیبر پارٹی کے اندر ہی کیئر اسٹارمر کے خلاف بغاوت شروع ہو گئی تھی۔ کئی اہم وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کے واضح اختلافات کی وجہ سے کیئر اسٹارمر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر پارٹی کا انتخاب مکمل ہونے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ موجودہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر پیر کو شاہی محل (بکنگھم پیلس) میں کنگ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے فوراً بعد اینڈی برنہم کنگ چارلس سے ملاقات کریں گے، جہاں برطانوی روایت کے مطابق بادشاہ انہیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دیں گے اور وہ باقاعدہ طور پر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیراعظم ہاؤس) کا چارج سنبھال لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;56 سالہ اینڈی برنہم کا سیاسی سفر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنے تجربے اور عوام سے براہِ راست رابطے کی صلاحیت کی بدولت ریفارم یو کے پارٹی کا مؤثر مقابلہ کرکے ووٹرز کا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ 2001 سے 2017 تک ویسٹ مِنسٹر میں رکنِ پارلیمنٹ رہے اور اس دوران ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن دونوں کی کابینہ میں مختلف ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ وہ وزیرِ صحت بھی رہے تاہم لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے دو مرتبہ انتخاب میں شکست کو تکلیف دہ تجربہ قرار دینے کے بعد وہ مرکزی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وہ اپنے آبائی علاقے مانچسٹر کی سیاست میں فعال ہوئے اور پھر مسلسل 3 مرتبہ گریٹر مانچسٹر کے میئر منتخب ہوتے رہے۔ وہ مجموعی طور پر 9 سال اس عہدے پر فائز رہے اور جون 2026 میں پارلیمنٹ کا رکن (ایم پی) منتخب ہونے کے بعد انہوں نے قانوناً میئر کا عہدہ چھوڑ دیا تاکہ وہ ملک کا وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی قیادت میں مانچسٹر کی معیشت اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی۔ اینڈی برنہم متوسط طبقے کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے پورے برطانیہ میں مقبول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں یہ تاثر عام ہے کہ حکومت تمام بجٹ اور ترقیاتی فنڈز لندن (جنوب) پر خرچ کرتی ہے اور شمالی انگلینڈ یعنی مانچسٹر، لیورپول، لیڈز وغیرہ کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈی برنہم نے بطور میئر ہمیشہ لندن کی اس اجارہ داری کو چیلنج کرتے رہے ہیں اور ٹرانسپورٹ، صحت اور روزگار کے شعبوں میں شمالی علاقوں کے لیے اربوں پاؤنڈز کے فنڈز حاصل کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/BBCBreaking/status/2078077922397565263/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BBCBreaking/status/2078077922397565263/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فلسطین کے معاملے پر بھی اینڈی برنہم کا مؤقف کیئر اسٹارمر کے مقابلے میں انتہائی سخت اور واضح رہا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں غزہ جنگ پر لیبر پارٹی کے سابقہ مؤقف پر معافی مانگی اور پارٹی کے مؤقف کو غلط قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے وقت جب کیئر اسٹارمر جنگ بندی کے خلاف تھے، اس وقت بھی اینڈی برنہم نے پارٹی قیادت کے مؤقف کے خلاف فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈی برنہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے بھی مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ برطانوی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/politics/2026/jul/09/andy-burnham-labour-didnt-get-it-right-stance-gaza-war"&gt;دی گارجین&lt;/a&gt; کو ایک انٹرویو میں انہوں نے نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں کو آزاد فلسطینی ریاست کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وزیراعظم بننے کے بعد وہ نیتن یاہو حکومت پر دباؤ بڑھائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/visegrad24/status/2077496173061910836'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/visegrad24/status/2077496173061910836"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اینڈی برنہم ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب برطانیہ میں عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اینڈی برنہم کی ایک بڑی طاقت ان کی ابلاغی صلاحیت ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کیئر اسٹارمر کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں عوام سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور اپنی پالیسیوں کو زیادہ واضح انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر پارٹی کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اینڈی برنہم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے خطاب میں وعدہ کیا کہ ان کی حکومت اب لندن کے بجائے ملک کے دیگر پسماندہ حصوں کو معاشی طاقت بنانے اور عوامی سہولیات پر توجہ مرکوز کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو اپنا نیا قائد منتخب کر لیا ہے، جس کے بعد وہ پیر کو ملک کے نئے وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالیں گے۔ مسلسل تین مرتبہ گریٹر مانچسٹر کے میئر رہنے والے اینڈی برنہم نے اقتدار سنبھالنے سے قبل ملک کے نظر انداز علاقوں کو بااختیار بنانے اور ریفارم یو کے پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانیہ کی سیاست میں حالیہ دہائی غیر معمولی اتار چڑھاؤ کی حامل رہی ہے۔ اس عرصے میں ملک میں چھ وزرائے اعظم تبدیل ہوچکے ہیں۔ جمعے کے روز لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو نیا سربراہ مقرر کرلیا ہے۔ یوں وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی اینڈی برنہم 10 سال میں 7 ویں وزیراعظم بن جائیں گے۔</p>
<p>اینڈی برنہم اس سے پہلے بھی دو مرتبہ لیبر پارٹی کی قیادت کا انتخاب لڑچکے ہیں تاہم انہیں دونوں مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس شکست کے بعد وہ لندن کی سیاست چھوڑ کر واپس مانچسٹر منتقل ہوگئے تھے تاہم یہی فیصلہ ان کے سیاسی عروج کا سبب بنا۔</p>
<p>لیبر پارٹی کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اینڈی برنہم پیر کو برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم کا منصب سنبھالیں گے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں اختیارات کی تقسیم کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا وعدہ کیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ کے پارلیمانی نظام میں عام طور پر حکمران جماعت کا سربراہ ہی ملک کا وزیراعظم بنتا ہے۔ برطانوی عوام براہِ راست وزیراعظم کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ پاکستان کی طرح اراکینِ پارلیمنٹ (ایم پیز) کو منتخب کرتے ہیں۔ جس پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت ہوتی ہے، اس کا سربراہ ہی وزیراعظم قرار پاتا ہے۔</p>
<p>جمعے کے روز سینٹرل لندن میں منعقد ہونے والی لیبر پارٹی کی خصوصی کانفرنس میں پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی کی چیئرپرسن شبانہ محمود نے اینڈی برنہم کے بلامقابلہ پارٹی سربراہ منتخب ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SkyNews/status/2078077101341634748/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SkyNews/status/2078077101341634748/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>لیبر پارٹی کے قوانین کے مطابق کسی بھی امیدوار کو پارٹی قیادت کا الیکشن لڑنے کے لیے پارلیمنٹ کے کم از کم 80 ارکان (ایم پیز) کی تائید یا نامزدگی حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔</p>
<p>اینڈی برنہم کو ہاؤس آف کامنز میں موجود پارٹی کے 403 ارکان میں سے 379 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ 94 فیصد ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے ان کے مقابل کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ ارکانِ پارلیمنٹ کے علاوہ لیبر پارٹی سے وابستہ برطانیہ کی بڑی ٹریڈ یونینز اور پارٹی کی مختلف برانچز نے بھی باضابطہ طور پر اینڈی برنہم کے نام کی منظوری دی۔</p>
<p>کیئر اسٹارمر 5 جولائی 2024 کو برطانیہ کے وزیراعظم بنے تھے۔ انہوں نے جولائی 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو ایک تاریخی اور بھاری اکثریت سے جتوایا تھا۔ تاہم دو سال سے بھی کم عرصے کے بعد 22 جون کو انہوں نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506710/7-prime-ministers-in-10-years-story-behind-britains-successive-resignations'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506710"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برطانیہ میں مئی میں ہونے والے کے بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہی ان کے استعفے کی بڑی وجہ بنی تھی اور لیبر پارٹی کے اندر ہی کیئر اسٹارمر کے خلاف بغاوت شروع ہو گئی تھی۔ کئی اہم وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کے واضح اختلافات کی وجہ سے کیئر اسٹارمر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔</p>
<p>لیبر پارٹی کا انتخاب مکمل ہونے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ موجودہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر پیر کو شاہی محل (بکنگھم پیلس) میں کنگ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔</p>
<p>ان کے فوراً بعد اینڈی برنہم کنگ چارلس سے ملاقات کریں گے، جہاں برطانوی روایت کے مطابق بادشاہ انہیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دیں گے اور وہ باقاعدہ طور پر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیراعظم ہاؤس) کا چارج سنبھال لیں گے۔</p>
<p>56 سالہ اینڈی برنہم کا سیاسی سفر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنے تجربے اور عوام سے براہِ راست رابطے کی صلاحیت کی بدولت ریفارم یو کے پارٹی کا مؤثر مقابلہ کرکے ووٹرز کا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>وہ 2001 سے 2017 تک ویسٹ مِنسٹر میں رکنِ پارلیمنٹ رہے اور اس دوران ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن دونوں کی کابینہ میں مختلف ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ وہ وزیرِ صحت بھی رہے تاہم لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے دو مرتبہ انتخاب میں شکست کو تکلیف دہ تجربہ قرار دینے کے بعد وہ مرکزی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔</p>
<p>بعد ازاں وہ اپنے آبائی علاقے مانچسٹر کی سیاست میں فعال ہوئے اور پھر مسلسل 3 مرتبہ گریٹر مانچسٹر کے میئر منتخب ہوتے رہے۔ وہ مجموعی طور پر 9 سال اس عہدے پر فائز رہے اور جون 2026 میں پارلیمنٹ کا رکن (ایم پی) منتخب ہونے کے بعد انہوں نے قانوناً میئر کا عہدہ چھوڑ دیا تاکہ وہ ملک کا وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل ہو سکیں۔</p>
<p>ان کی قیادت میں مانچسٹر کی معیشت اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی۔ اینڈی برنہم متوسط طبقے کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے پورے برطانیہ میں مقبول ہیں۔</p>
<p>برطانیہ میں یہ تاثر عام ہے کہ حکومت تمام بجٹ اور ترقیاتی فنڈز لندن (جنوب) پر خرچ کرتی ہے اور شمالی انگلینڈ یعنی مانچسٹر، لیورپول، لیڈز وغیرہ کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اینڈی برنہم نے بطور میئر ہمیشہ لندن کی اس اجارہ داری کو چیلنج کرتے رہے ہیں اور ٹرانسپورٹ، صحت اور روزگار کے شعبوں میں شمالی علاقوں کے لیے اربوں پاؤنڈز کے فنڈز حاصل کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ بھی کہا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/BBCBreaking/status/2078077922397565263/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BBCBreaking/status/2078077922397565263/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>فلسطین کے معاملے پر بھی اینڈی برنہم کا مؤقف کیئر اسٹارمر کے مقابلے میں انتہائی سخت اور واضح رہا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں غزہ جنگ پر لیبر پارٹی کے سابقہ مؤقف پر معافی مانگی اور پارٹی کے مؤقف کو غلط قرار دیا۔</p>
<p>اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے وقت جب کیئر اسٹارمر جنگ بندی کے خلاف تھے، اس وقت بھی اینڈی برنہم نے پارٹی قیادت کے مؤقف کے خلاف فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>اینڈی برنہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے بھی مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ برطانوی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/politics/2026/jul/09/andy-burnham-labour-didnt-get-it-right-stance-gaza-war">دی گارجین</a> کو ایک انٹرویو میں انہوں نے نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں کو آزاد فلسطینی ریاست کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وزیراعظم بننے کے بعد وہ نیتن یاہو حکومت پر دباؤ بڑھائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/visegrad24/status/2077496173061910836'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/visegrad24/status/2077496173061910836"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اینڈی برنہم ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب برطانیہ میں عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اینڈی برنہم کی ایک بڑی طاقت ان کی ابلاغی صلاحیت ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کیئر اسٹارمر کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں عوام سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور اپنی پالیسیوں کو زیادہ واضح انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔</p>
<p>لیبر پارٹی کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اینڈی برنہم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے خطاب میں وعدہ کیا کہ ان کی حکومت اب لندن کے بجائے ملک کے دیگر پسماندہ حصوں کو معاشی طاقت بنانے اور عوامی سہولیات پر توجہ مرکوز کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509155</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 18:23:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/17180518d25bb67.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/17180518d25bb67.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
