<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:27:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:27:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹبال ورلڈ کپ کی گیند کے پیچھے چھپے عددی کمال اور منفرد انکشافات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509270/fifa-fifa-worldcup-2026-mathematics-in-football-impossiball-adidas-telstar-durlast-trionda-historica-linnovation</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ کپ کا فائنل میچ جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، دنیا بھر میں فٹ بال کا جنون عروج پر پہنچ چکا ہے۔ میدان میں جہاں سب کی نظریں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مرکوز ہیں، وہیں اس کھیل کے ایک اہم ترین کردار یعنی فٹ بال کی گیند اور اس کے پیچھے چھپی حیرت انگیز کہانی کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف چمڑے یا مصنوعی مواد سے بنی ایک گیند نہیں، بلکہ اس کے ڈیزائن کے پسِ پردہ ریاضی، ہندسوں اور جیومیٹری کا ایک شاندار اور متوازن نظام موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی تاریخ میں مقبول ترین اور متوازن شکل کے سائنسی حسن کو اجاگر کرنے کے لیے نیویارک میں قائم نیشنل میوزیم آف میتھمیٹکس ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کر رہا ہے، جس کا عنوان ”فٹ بال کی خفیہ جیومیٹری“ رکھا گیا ہے۔ اس تقریب میں بتایا جا رہا ہے کہ کس طرح دنیا کے اس مقبول ترین کھیل کی گیند کے پیچھے ریاضی کے خوبصورت اصول کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیشکش کی قیادت کرنے والے ریاضی دان ڈاکٹر چائم گوڈمین اسٹراس کا کہنا ہے کہ ”یہ سیشن انتہائی دلچسپ، پُرجوش اور تفریحی ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں کہ جب وہ سڑک پر چلتے ہیں تو انہیں ہر جگہ، عمارتوں، لوہے کے دروازوں اور حتیٰ کہ سائے میں بھی ریاضی کا یہی توازن دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/181557304780b25.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/181557304780b25.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، روایتی 32 پینلز پر مشتمل سیاہ اور سفید فٹ بال دنیا میں ریاضیاتی توازن کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے، کیونکہ ایک گول شکل میں اس سے زیادہ متوازن نمونہ تشکیل دینا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹ بال بنانے والی معروف کمپنی ایڈیڈاس کے شعبہ فٹ بال انوویشن کے سربراہ ہانیس شیفکے بھی اس سائنسی حقیقت سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک انٹرویو میں ہانیس شیفکے نے کہا، ”دیکھا جائے تو یہ گیند اپنی تکنیکی خصوصیات سمیت ایک مکمل متوازن نظام کی نمائندگی کرتی ہے، چاہے آپ اسے کسی بھی سمت سے گھمائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فٹ بال کے ڈیزائن کے پیچھے ریاضی کا آغاز ایک بنیادی سوال سے ہوتا ہے کہ ایک گول دائرے یا کُرے کی سطح پر تمام نقاط کو کس طرح یکساں انداز میں تقسیم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاضی کے ماہرین کے مطابق عام زندگی میں توازن سے مراد عموماً حصوں کا باہمی میل یا یکسانیت ہوتی ہے، لیکن ریاضی میں توازن کا تصور اس سے کہیں زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موراویئن یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس ڈورس شیٹ شنائیڈر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”کسی شے کے توازن کو اس پر کی جانے والی تبدیلی یا عمل کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے۔ اگر کسی شے کو گھمانے یا تبدیل کرنے کے بعد بھی وہ بالکل ویسی ہی دکھائی دے جیسی ابتدا میں تھی تو اسے متوازن کہا جاتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلاسک فٹ بال، جیسا کہ 1970 اور 1974 کے ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی ایڈیڈاس ٹیل اسٹار تھی، 12 سیاہ پانچ کونوں والی شکلوں اور 20 سفید ہیکساگونز یعنی چھ کونوں والی شکلوں پر مشتمل ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155429d7edffb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155429d7edffb.webp'  alt=' (ایڈیڈاس ٹیل اسٹار) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(ایڈیڈاس ٹیل اسٹار)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریاضی دانوں کے مطابق اگر ایک مخصوص سیاہ اور سفید شکل کو مختلف زاویوں سے گھما کر اور آئینے کے عکس کے ذریعے دہرایا جائے تو یہی ایک بنیادی اکائی پوری فٹ بال کا منفرد ڈیزائن تشکیل دے دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کلاسک ڈیزائن کے بعد 2026 کے ورلڈ کپ کے لیے ایک نئی گیند تیار کی گئی ہے، جس کا نام ”ٹریونڈا“ رکھا گیا ہے۔ اس نام کا مطلب ”تین لہریں“ ہے، جو ورلڈ کپ کے تین میزبان ممالک کینیڈا، میکسیکو اور امریکا کی نمائندگی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گیند کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے پینلز روایتی سیدھی شکلوں کے بجائے لہردار یا ایس نما ڈیزائن کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر چائم گوڈمین اسٹراس کا کہنا ہے، ”اگر آپ کے پاس ٹریونڈا گیند موجود ہو تو آپ اسے مخصوص نقاط پر گھما کر اس کا ہندسی توازن خود دیکھ سکتے ہیں۔ مختلف زاویوں سے گھمانے کے باوجود گیند کی ہر تفصیل اپنی اصل جگہ پر بالکل درست انداز میں برقرار رہتی ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155048072cbaa.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155048072cbaa.webp'  alt=' (ٹرائیونڈا) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(ٹرائیونڈا)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریاضی کے ان اصولوں کے ساتھ ساتھ کچھ ڈیزائنرز نے دنیا کو حیران کرنے کے لیے ایسی فٹ بالز بھی تیار کی ہیں جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکساس کے کاریگر جان پال وہٹلی نے ایک ایسی گیند تیار کی ہے جسے ”امپاسی بال“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیند برطانیہ کے ایک سڑک کے سائن بورڈ پر بنے ایسے فٹ بال ڈیزائن سے متاثر ہے جس میں صرف چھ کونوں والے پینلز دکھائے گئے تھے، جبکہ ریاضی کے اصولوں کے مطابق ایسا ڈیزائن ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1815494467e9454.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1815494467e9454.webp'  alt=' (امپاسی بال فٹبال) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(امپاسی بال فٹبال)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جان پال وہٹلی کے مطابق، ”ایک مخصوص زاویے سے دیکھنے پر یہ گیند ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے یہ صرف چھ کونوں والے پینلز سے بنی ہو، لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں۔ اس تاثر کو پیدا کرنے کے لیے ہمیں پینلز کو مختلف سمتوں سے خم دینا پڑا، جس کا اندازہ سائیڈ سے دیکھنے پر ہوتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک اور گیند بھی تیار کی جسے ”گلچ بال“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیند دیکھنے میں ایسی دھندلی اور الجھی ہوئی محسوس ہوتی ہے جیسے آنکھوں کو دھوکا دے رہی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین نے اس منفرد گیند پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ شاید واحد گیند ہے جو گول کیپرز کے لیے 2010 کے ورلڈ کپ کی بدنام زمانہ جابولانی گیند سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔ جابولانی اپنی انتہائی ہموار سطح کے باعث ہوا میں غیر متوقع انداز میں راستہ بدلنے کے لیے مشہور ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، نیویارک کی ایک بیکری نے ورلڈ کپ کی مناسبت سے فٹ بال کے ڈیزائن سے متاثر ایک ڈونٹ بھی تیار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاضی کے اصول صرف گول گیندوں کی ساخت کو سمجھنے تک محدود نہیں بلکہ میٹھے ڈونٹس جیسی شکلوں کے توازن اور جیومیٹری کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ کپ کا فائنل میچ جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، دنیا بھر میں فٹ بال کا جنون عروج پر پہنچ چکا ہے۔ میدان میں جہاں سب کی نظریں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مرکوز ہیں، وہیں اس کھیل کے ایک اہم ترین کردار یعنی فٹ بال کی گیند اور اس کے پیچھے چھپی حیرت انگیز کہانی کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف چمڑے یا مصنوعی مواد سے بنی ایک گیند نہیں، بلکہ اس کے ڈیزائن کے پسِ پردہ ریاضی، ہندسوں اور جیومیٹری کا ایک شاندار اور متوازن نظام موجود ہے۔</strong></p>
<p>انسانی تاریخ میں مقبول ترین اور متوازن شکل کے سائنسی حسن کو اجاگر کرنے کے لیے نیویارک میں قائم نیشنل میوزیم آف میتھمیٹکس ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کر رہا ہے، جس کا عنوان ”فٹ بال کی خفیہ جیومیٹری“ رکھا گیا ہے۔ اس تقریب میں بتایا جا رہا ہے کہ کس طرح دنیا کے اس مقبول ترین کھیل کی گیند کے پیچھے ریاضی کے خوبصورت اصول کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس پیشکش کی قیادت کرنے والے ریاضی دان ڈاکٹر چائم گوڈمین اسٹراس کا کہنا ہے کہ ”یہ سیشن انتہائی دلچسپ، پُرجوش اور تفریحی ہوگا۔“</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ جب وہ سڑک پر چلتے ہیں تو انہیں ہر جگہ، عمارتوں، لوہے کے دروازوں اور حتیٰ کہ سائے میں بھی ریاضی کا یہی توازن دکھائی دیتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/181557304780b25.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/181557304780b25.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق، روایتی 32 پینلز پر مشتمل سیاہ اور سفید فٹ بال دنیا میں ریاضیاتی توازن کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے، کیونکہ ایک گول شکل میں اس سے زیادہ متوازن نمونہ تشکیل دینا ممکن نہیں۔</p>
<p>فٹ بال بنانے والی معروف کمپنی ایڈیڈاس کے شعبہ فٹ بال انوویشن کے سربراہ ہانیس شیفکے بھی اس سائنسی حقیقت سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔</p>
<p>ایک انٹرویو میں ہانیس شیفکے نے کہا، ”دیکھا جائے تو یہ گیند اپنی تکنیکی خصوصیات سمیت ایک مکمل متوازن نظام کی نمائندگی کرتی ہے، چاہے آپ اسے کسی بھی سمت سے گھمائیں۔“</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ فٹ بال کے ڈیزائن کے پیچھے ریاضی کا آغاز ایک بنیادی سوال سے ہوتا ہے کہ ایک گول دائرے یا کُرے کی سطح پر تمام نقاط کو کس طرح یکساں انداز میں تقسیم کیا جائے۔</p>
<p>ریاضی کے ماہرین کے مطابق عام زندگی میں توازن سے مراد عموماً حصوں کا باہمی میل یا یکسانیت ہوتی ہے، لیکن ریاضی میں توازن کا تصور اس سے کہیں زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہے۔</p>
<p>موراویئن یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس ڈورس شیٹ شنائیڈر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”کسی شے کے توازن کو اس پر کی جانے والی تبدیلی یا عمل کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے۔ اگر کسی شے کو گھمانے یا تبدیل کرنے کے بعد بھی وہ بالکل ویسی ہی دکھائی دے جیسی ابتدا میں تھی تو اسے متوازن کہا جاتا ہے۔“</p>
<p>کلاسک فٹ بال، جیسا کہ 1970 اور 1974 کے ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی ایڈیڈاس ٹیل اسٹار تھی، 12 سیاہ پانچ کونوں والی شکلوں اور 20 سفید ہیکساگونز یعنی چھ کونوں والی شکلوں پر مشتمل ہوتی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155429d7edffb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155429d7edffb.webp'  alt=' (ایڈیڈاس ٹیل اسٹار) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(ایڈیڈاس ٹیل اسٹار)</figcaption>
    </figure>
<p>ریاضی دانوں کے مطابق اگر ایک مخصوص سیاہ اور سفید شکل کو مختلف زاویوں سے گھما کر اور آئینے کے عکس کے ذریعے دہرایا جائے تو یہی ایک بنیادی اکائی پوری فٹ بال کا منفرد ڈیزائن تشکیل دے دیتی ہے۔</p>
<p>اس کلاسک ڈیزائن کے بعد 2026 کے ورلڈ کپ کے لیے ایک نئی گیند تیار کی گئی ہے، جس کا نام ”ٹریونڈا“ رکھا گیا ہے۔ اس نام کا مطلب ”تین لہریں“ ہے، جو ورلڈ کپ کے تین میزبان ممالک کینیڈا، میکسیکو اور امریکا کی نمائندگی کرتی ہیں۔</p>
<p>اس گیند کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے پینلز روایتی سیدھی شکلوں کے بجائے لہردار یا ایس نما ڈیزائن کے حامل ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر چائم گوڈمین اسٹراس کا کہنا ہے، ”اگر آپ کے پاس ٹریونڈا گیند موجود ہو تو آپ اسے مخصوص نقاط پر گھما کر اس کا ہندسی توازن خود دیکھ سکتے ہیں۔ مختلف زاویوں سے گھمانے کے باوجود گیند کی ہر تفصیل اپنی اصل جگہ پر بالکل درست انداز میں برقرار رہتی ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155048072cbaa.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155048072cbaa.webp'  alt=' (ٹرائیونڈا) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(ٹرائیونڈا)</figcaption>
    </figure>
<p>ریاضی کے ان اصولوں کے ساتھ ساتھ کچھ ڈیزائنرز نے دنیا کو حیران کرنے کے لیے ایسی فٹ بالز بھی تیار کی ہیں جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتی ہیں۔</p>
<p>ٹیکساس کے کاریگر جان پال وہٹلی نے ایک ایسی گیند تیار کی ہے جسے ”امپاسی بال“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیند برطانیہ کے ایک سڑک کے سائن بورڈ پر بنے ایسے فٹ بال ڈیزائن سے متاثر ہے جس میں صرف چھ کونوں والے پینلز دکھائے گئے تھے، جبکہ ریاضی کے اصولوں کے مطابق ایسا ڈیزائن ممکن نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1815494467e9454.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1815494467e9454.webp'  alt=' (امپاسی بال فٹبال) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(امپاسی بال فٹبال)</figcaption>
    </figure>
<p>جان پال وہٹلی کے مطابق، ”ایک مخصوص زاویے سے دیکھنے پر یہ گیند ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے یہ صرف چھ کونوں والے پینلز سے بنی ہو، لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں۔ اس تاثر کو پیدا کرنے کے لیے ہمیں پینلز کو مختلف سمتوں سے خم دینا پڑا، جس کا اندازہ سائیڈ سے دیکھنے پر ہوتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے ایک اور گیند بھی تیار کی جسے ”گلچ بال“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیند دیکھنے میں ایسی دھندلی اور الجھی ہوئی محسوس ہوتی ہے جیسے آنکھوں کو دھوکا دے رہی ہو۔</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین نے اس منفرد گیند پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ شاید واحد گیند ہے جو گول کیپرز کے لیے 2010 کے ورلڈ کپ کی بدنام زمانہ جابولانی گیند سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔ جابولانی اپنی انتہائی ہموار سطح کے باعث ہوا میں غیر متوقع انداز میں راستہ بدلنے کے لیے مشہور ہوئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب، نیویارک کی ایک بیکری نے ورلڈ کپ کی مناسبت سے فٹ بال کے ڈیزائن سے متاثر ایک ڈونٹ بھی تیار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاضی کے اصول صرف گول گیندوں کی ساخت کو سمجھنے تک محدود نہیں بلکہ میٹھے ڈونٹس جیسی شکلوں کے توازن اور جیومیٹری کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509270</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:20:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/181604274afc941.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/181604274afc941.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
