<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 16:19:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 16:19:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریڑھ کی ہڈی میں درد، ٹانگیں سُن: کہیں بٹوہ رکھنے کا طریقہ آپ کی اعصابی تکلیف کا باعث تو نہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509496/health-health-tips-lifestyle-back-pain-wallet-sciatica-fat-wallet-syndrome-sciatic-nerve-nerve-health</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمر کے نچلے حصے، کولہے یا ٹانگ میں درد کو عام طور پر ریڑھ کی ہڈی کے مسائل سے جوڑا جاتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق بعض اوقات روزمرہ کی ایک معمولی عادت بھی ایسی علامات پیدا کر سکتی ہے۔ نیورولوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی پچھلی جیب میں موٹا بٹوا رکھ کر طویل وقت تک بیٹھا رہے تو اس سے جسم کے ایک اہم نرو پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں درد، سن ہونا یا جھنجھناہٹ جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کیفیت کو عام طور پر ”والٹ شیاٹیکا“ یا ”فیٹ والٹ سنڈروم“ کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ عادت ہے جو اعصاب پر پڑنے والے دباؤ کی وجہ سے مسلسل یا مستقل تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کی علامات ریڑھ کی ہڈی سے پیدا ہونے والے  شیاٹیکا سے کافی حد تک ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ اسے کمر یا ریڑھ کی ہڈی کی بیماری سمجھ لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق شیاٹک نروز انسانی جسم کا سب سے بڑا اور لمبا نرو ہے۔ یہ کمر کے نچلے حصے سے شروع ہو کر کولہوں سے دونوں ٹانگوں تک جاتا ہے۔ جب کوئی شخص موٹے بٹوے پر بیٹھتا ہے تو سطح بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے جسم کا ایک حصہ دوسرے کی نسبت اونچا ہو جاتا ہے، جس سے بیٹھنے کی حالت متاثر ہوتی ہے۔ مسلسل یہی طرزِ عمل یا عادت بن جانے کی وجہ سے دبنے والے نروز پر مسلسل یا دن میں کئی گھنٹوں اضافی دباؤ رہتا ہے اور اس حصے میں موجود شیاٹک نرو دب سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30381906'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ مسلسل دباؤ اعصاب تک خون کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے، اس حصے کی حفاظتی تہہ کو متاثر کر سکتا ہے اور سوزش کا سبب بن سکتا ہے اور بہت سے افراد میں یہ مسئلہ دراصل پیریفارمس سنڈروم کی صورت میں سامنے آتا ہے، جسے ریڑھ کی ہڈی کی کسی خرابی سمجھ لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کیفیت کی عام علامات میں کولہے یا کمر کے نچلے حصے میں ہلکا مگر مسلسل درد محسوس ہوسکتا ہے، ران یا ٹانگ کے پچھلے حصے میں جلنے جیسا یا بجلی کے جھٹکے جیسا احساس، ٹانگ یا پاؤں میں جھنجھناہٹ، متاثرہ جانب کا سن ہونا، اور زیادہ دیر بیٹھنے کے بعد درد کا بڑھ جانا شامل ہیں۔ یہ علامات عموماً جسم کے اسی حصے کی طرف محسوس ہوتی ہیں جس طرف بٹوا رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علامات سلِپ ڈسک، ریڑھ کی ہڈی کی نالی کے تنگ ہونے یا دیگر اعصابی بیماریوں سے بھی مل سکتی ہیں، اس لیے صرف انٹرنیٹ پر موجود معلومات کی بنیاد پر خود تشخیص کرنا درست نہیں۔ اگر احتیاط کے باوجود تکلیف یا علامات موجود رہیں تو  ڈاکٹر سے مکمل معائنہ کرانا بےحد ضروری ہے تاکہ اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل وقت تک بیٹھ کر کام کرنے والے افراد میں اس مسئلے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ ان میں دفتر میں کئی گھنٹے کرسی پر بیٹھنے والے ملازمین، ڈرائیور، بار بار سفر کرنے والے افراد اور وہ لوگ شامل ہیں جو اپنے بٹوے میں زیادہ تعداد میں کارڈز، رسیدیں اور نقد رقم رکھتے ہیں، جس سے بٹوا غیر معمولی طور پر موٹا ہو جاتا ہے اور یہی بٹوہ پینٹ کی بیک سائیڈ کی جیب میں رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30449343'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30449343"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بیک سائیڈ کی جیب میں رکھے بٹوے کی موٹائی اور مسلسل بیٹھنے کا دورانیہ، دونوں اس مسئلے کے امکانات بڑھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اچھی بات یہ ہے کہ زیادہ تر معاملات میں اس عادت سے چھٹکارہ پالیا جائے تو اس کا علاج نسبتاً آسان ہوتا ہے، یعنی اعصاب پر دباؤ ہی ختم کر دیا جائے تو وقت کے ساتھ چھوٹی موٹی تکلیف یا درد خود بخود، بس احتیاط کی وجہ سے ٹھیک ہوجاتا  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ بٹوا پچھلی جیب کے بجائے اگلی جیب، جیکٹ یا بیگ میں رکھا جائے، غیر ضروری کارڈز اور رسیدیں نکال کر اسے ہلکا کیا جائے، جہاں ممکن ہو ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے استعمال کیے جائیں تاکہ پیپرز یا سلپس بٹوے میں رکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں بیٹھا جائے وہاں سطح ہموار ہو تب بھی مسلسل بیٹھنے کی صورت میں ہر 30 سے 45 منٹ بعد چند منٹ کے لیے کھڑے ہو کر چہل قدمی کی جائے، کرسی پر سیدھا بیٹھا جائے اور کسی ماہر کی رہنمائی میں کولہے کے عضلات کی ہلکی پھلکی ورزشیں کی جائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503478'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503478"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں کے مطابق عموماً دیکھا گیا ہے کہ اعصاب پر دباؤ ختم ہونے کے بعد اکثر افراد کو چند ہفتوں میں بتدریج بہتری محسوس ہونے لگتی ہے۔ تاہم تکلیف زیادہ محسوس ہو یا چلنے پھرنے میں دشواری یا درد محسوس ہو فوری طور پر طبی معائنہ کروائیں کیونکہ ایسی علامات کسی پیچیدہ صورتِ حال کا نتیجہ بھی بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں لوگ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، اس لیے روزمرہ کی چھوٹی عادتیں بھی صحت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔ یاد رکھیں کمرمیں درد ہو یا ریڑھ کی ہڈی میں درد یا ٹانگیں سن ہوجاتی ہوں، اس طرح کی مسلسل یا شدید علامات کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے پیچھے کسی اہم اعصابی یا ریڑھ کی ہڈی کے مسئلے کا امکان بھی موجود ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمر کے نچلے حصے، کولہے یا ٹانگ میں درد کو عام طور پر ریڑھ کی ہڈی کے مسائل سے جوڑا جاتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق بعض اوقات روزمرہ کی ایک معمولی عادت بھی ایسی علامات پیدا کر سکتی ہے۔ نیورولوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی پچھلی جیب میں موٹا بٹوا رکھ کر طویل وقت تک بیٹھا رہے تو اس سے جسم کے ایک اہم نرو پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں درد، سن ہونا یا جھنجھناہٹ جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>اس کیفیت کو عام طور پر ”والٹ شیاٹیکا“ یا ”فیٹ والٹ سنڈروم“ کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ عادت ہے جو اعصاب پر پڑنے والے دباؤ کی وجہ سے مسلسل یا مستقل تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کی علامات ریڑھ کی ہڈی سے پیدا ہونے والے  شیاٹیکا سے کافی حد تک ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ اسے کمر یا ریڑھ کی ہڈی کی بیماری سمجھ لیتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق شیاٹک نروز انسانی جسم کا سب سے بڑا اور لمبا نرو ہے۔ یہ کمر کے نچلے حصے سے شروع ہو کر کولہوں سے دونوں ٹانگوں تک جاتا ہے۔ جب کوئی شخص موٹے بٹوے پر بیٹھتا ہے تو سطح بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے جسم کا ایک حصہ دوسرے کی نسبت اونچا ہو جاتا ہے، جس سے بیٹھنے کی حالت متاثر ہوتی ہے۔ مسلسل یہی طرزِ عمل یا عادت بن جانے کی وجہ سے دبنے والے نروز پر مسلسل یا دن میں کئی گھنٹوں اضافی دباؤ رہتا ہے اور اس حصے میں موجود شیاٹک نرو دب سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30381906'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30381906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ مسلسل دباؤ اعصاب تک خون کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے، اس حصے کی حفاظتی تہہ کو متاثر کر سکتا ہے اور سوزش کا سبب بن سکتا ہے اور بہت سے افراد میں یہ مسئلہ دراصل پیریفارمس سنڈروم کی صورت میں سامنے آتا ہے، جسے ریڑھ کی ہڈی کی کسی خرابی سمجھ لیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کیفیت کی عام علامات میں کولہے یا کمر کے نچلے حصے میں ہلکا مگر مسلسل درد محسوس ہوسکتا ہے، ران یا ٹانگ کے پچھلے حصے میں جلنے جیسا یا بجلی کے جھٹکے جیسا احساس، ٹانگ یا پاؤں میں جھنجھناہٹ، متاثرہ جانب کا سن ہونا، اور زیادہ دیر بیٹھنے کے بعد درد کا بڑھ جانا شامل ہیں۔ یہ علامات عموماً جسم کے اسی حصے کی طرف محسوس ہوتی ہیں جس طرف بٹوا رکھا جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علامات سلِپ ڈسک، ریڑھ کی ہڈی کی نالی کے تنگ ہونے یا دیگر اعصابی بیماریوں سے بھی مل سکتی ہیں، اس لیے صرف انٹرنیٹ پر موجود معلومات کی بنیاد پر خود تشخیص کرنا درست نہیں۔ اگر احتیاط کے باوجود تکلیف یا علامات موجود رہیں تو  ڈاکٹر سے مکمل معائنہ کرانا بےحد ضروری ہے تاکہ اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔</p>
<p>طویل وقت تک بیٹھ کر کام کرنے والے افراد میں اس مسئلے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ ان میں دفتر میں کئی گھنٹے کرسی پر بیٹھنے والے ملازمین، ڈرائیور، بار بار سفر کرنے والے افراد اور وہ لوگ شامل ہیں جو اپنے بٹوے میں زیادہ تعداد میں کارڈز، رسیدیں اور نقد رقم رکھتے ہیں، جس سے بٹوا غیر معمولی طور پر موٹا ہو جاتا ہے اور یہی بٹوہ پینٹ کی بیک سائیڈ کی جیب میں رکھا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30449343'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30449343"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق بیک سائیڈ کی جیب میں رکھے بٹوے کی موٹائی اور مسلسل بیٹھنے کا دورانیہ، دونوں اس مسئلے کے امکانات بڑھا سکتے ہیں۔</p>
<p>اچھی بات یہ ہے کہ زیادہ تر معاملات میں اس عادت سے چھٹکارہ پالیا جائے تو اس کا علاج نسبتاً آسان ہوتا ہے، یعنی اعصاب پر دباؤ ہی ختم کر دیا جائے تو وقت کے ساتھ چھوٹی موٹی تکلیف یا درد خود بخود، بس احتیاط کی وجہ سے ٹھیک ہوجاتا  ہے۔</p>
<p>ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ بٹوا پچھلی جیب کے بجائے اگلی جیب، جیکٹ یا بیگ میں رکھا جائے، غیر ضروری کارڈز اور رسیدیں نکال کر اسے ہلکا کیا جائے، جہاں ممکن ہو ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے استعمال کیے جائیں تاکہ پیپرز یا سلپس بٹوے میں رکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔</p>
<p>جہاں بیٹھا جائے وہاں سطح ہموار ہو تب بھی مسلسل بیٹھنے کی صورت میں ہر 30 سے 45 منٹ بعد چند منٹ کے لیے کھڑے ہو کر چہل قدمی کی جائے، کرسی پر سیدھا بیٹھا جائے اور کسی ماہر کی رہنمائی میں کولہے کے عضلات کی ہلکی پھلکی ورزشیں کی جائیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503478'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503478"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹروں کے مطابق عموماً دیکھا گیا ہے کہ اعصاب پر دباؤ ختم ہونے کے بعد اکثر افراد کو چند ہفتوں میں بتدریج بہتری محسوس ہونے لگتی ہے۔ تاہم تکلیف زیادہ محسوس ہو یا چلنے پھرنے میں دشواری یا درد محسوس ہو فوری طور پر طبی معائنہ کروائیں کیونکہ ایسی علامات کسی پیچیدہ صورتِ حال کا نتیجہ بھی بن سکتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں لوگ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، اس لیے روزمرہ کی چھوٹی عادتیں بھی صحت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔ یاد رکھیں کمرمیں درد ہو یا ریڑھ کی ہڈی میں درد یا ٹانگیں سن ہوجاتی ہوں، اس طرح کی مسلسل یا شدید علامات کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے پیچھے کسی اہم اعصابی یا ریڑھ کی ہڈی کے مسئلے کا امکان بھی موجود ہو سکتا ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509496</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 16:04:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/20160618902fa34.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/20160618902fa34.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
