<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 15:17:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 15:17:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی پورٹ پر ’بی وائی ڈی‘ کی دو ہزار الیکٹرک گاڑیوں سے بھرے جہاز کی آمد؛ پاکستانی مارکیٹ میں کیا ہونے والا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509497/what-the-arrival-of-2000-byd-vehicles-signals-for-pakistans-ev-market</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کی معروف الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ نے اپنے دیوہیکل جہاز میں کراچی پورٹ پر دو ہزار سے زائد جدید الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں اُتار دی ہیں۔ ان گاڑیوں کی آمد کو پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری میں ایک بڑے سگنل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم وی گرانڈے شنگھائی نامی خصوصی ’رو رو‘ بحری جہاز نے کراچی کے پورٹ ٹرمینل پر لنگرانداز ہو کر ان گاڑیوں کو بغیر کسی کرین کی مدد کے، براہ راست چلا کر باہر نکالا، جس سے گاڑیوں کی منتقلی کا عمل انتہائی تیز اور محفوظ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/shen_shiwei/status/2079061585985970235/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/shen_shiwei/status/2079061585985970235/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے بی وائی ڈی کی اس اب تک کی سب سے بڑی شپمنٹ نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو نمایاں کر دیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق درپیش بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی کمی اس پیش رفت کو مزید تیز کرنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی وائی ڈی کی پاکستان میں باضابطہ پارٹنر ’میگا موٹر کمپنی‘ (ایم ایم سی) نے اس بڑی کھیپ کی آمد کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں ایندھن کی مسلسل بڑھتی قیمتوں اور ماحولیاتی فوائد کے باعث روایتی گاڑیوں کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دینے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/201456598162bbd.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/201456598162bbd.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بی وائی ڈی نے اس حوالے سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”صارفین میں مسلسل بڑھتی ہوئی یہ طلب ملک میں گاڑیوں کی شپمنٹ کے حجم میں واضح نظر آ رہی ہے، جس سے بی وائی ڈی کا پاکستانی صارفین کو جدید الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے اور پائیدار و ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے جہاں حکومتی پالیسیوں اور بائیکس اور رکشوں کی الیکٹرک منتقلی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، لیکن بڑی فور وہیلر گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز اور مقامی سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آر آئی ایم وینچرز کے سرمایہ کاری تجزیہ کار اسامہ نعیم نے اس حوالے سے &lt;a href="https://www.brecorder.com/news/40430881/what-the-arrival-of-2000-byd-vehicles-signals-for-pakistans-ev-market"&gt;بزنس ریکارڈر&lt;/a&gt; سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”بی وائی ڈی کی اتنی بڑی کھیپ کا آنا صارفین کی شروعاتی قبولیت اور ملک کی روایتی پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں سے دوری کی طرف ایک مثبت قدم کا اشارہ ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ تبدیلی ملک کے طویل المدتی اہداف، یعنی مہنگے درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ گھٹانے اور کاربن کے اخراج میں کمی لانے میں معاون ثابت ہوگی۔ تاہم، آنے والے وقت میں ای وی کو اپنانے کی رفتار تھوڑی سست بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ابتدائی طور پر اسے زیادہ تر شہری علاقوں کے وہ لوگ لے رہے ہیں جن کا روزمرہ کا سفر محدود اور طے شدہ ہے، جبکہ عام مارکیٹ تک اس کی پہنچ کے لیے چار جنگ اسٹیشنز کا نہ ہونا، مرمت کے ورکشاپس کی کمی اور گاڑیوں کی ری سیل ویلیو کے خدشات اب بھی موجود ہیں“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/201457352c7db19.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/201457352c7db19.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ تجزیہ کار مینکا کرپلانی کا کہنا تھا کہ اس کھیپ کی آمد ظاہر کرتی ہے کہ بی وائی ڈی کی طلب ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول جب تک سال کے آخر تک مقامی سطح پر ان گاڑیوں کی اسمبلی شروع نہیں ہو جاتی، بی وائی ڈی مکمل طور پر تیار شدہ درآمدات کے ذریعے صارفین کی پرانی بکنگز کو پورا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ تقریباً 4 سے 5 فیصد ہے۔ حکومت کی جانب سے ای وی کی درآمد پر محض 1 فیصد ٹیکس کی رعایت کی توسیع نے اس طلب میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور اگر اس رعایت کو طویل عرصے تک برقرار رکھا جائے تو اس سے صارفین اور مقامی مینوفیکچررز دونوں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/20145746abefca7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/20145746abefca7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر بی وائی ڈی پاکستان کے وائس پریذیڈنٹ دانش خلیق نے کہا کہ ”یہ پیش رفت پاکستانی شائقین کے الیکٹرک گاڑیوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔ عالمی سطح پر سپلائی کے مسائل کے باوجود ہم نے اپنے پارٹنرز کے ساتھ مل کر لاجسٹکس کو بہتر بنایا ہے تا کہ گاڑیوں کو بروقت صارفین تک پہنچایا جا سکے۔ ہم ملک بھر میں اپنا آفٹر سیلز نیٹ ورک اور چارجنگ کا نظام بھی تیزی سے پھیلا رہے ہیں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی وائی ڈی پاکستان کے کنٹری ہیڈ لی جیان نے مزید کہا کہ ”بی وائی ڈی کے عالمی سفر میں پاکستان ایک نہایت اہم مارکیٹ ہے، اور ہم یہاں عالمی معیار کی جدید گاڑیاں متعارف کروا کر ملک کو ایک صاف ستھرے ٹرانسپورٹ کے نظام کی طرف لانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے“۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کی معروف الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ نے اپنے دیوہیکل جہاز میں کراچی پورٹ پر دو ہزار سے زائد جدید الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں اُتار دی ہیں۔ ان گاڑیوں کی آمد کو پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری میں ایک بڑے سگنل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>ایم وی گرانڈے شنگھائی نامی خصوصی ’رو رو‘ بحری جہاز نے کراچی کے پورٹ ٹرمینل پر لنگرانداز ہو کر ان گاڑیوں کو بغیر کسی کرین کی مدد کے، براہ راست چلا کر باہر نکالا، جس سے گاڑیوں کی منتقلی کا عمل انتہائی تیز اور محفوظ ہو گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/shen_shiwei/status/2079061585985970235/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/shen_shiwei/status/2079061585985970235/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان کے لیے بی وائی ڈی کی اس اب تک کی سب سے بڑی شپمنٹ نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو نمایاں کر دیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق درپیش بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی کمی اس پیش رفت کو مزید تیز کرنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔</p>
<p>بی وائی ڈی کی پاکستان میں باضابطہ پارٹنر ’میگا موٹر کمپنی‘ (ایم ایم سی) نے اس بڑی کھیپ کی آمد کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں ایندھن کی مسلسل بڑھتی قیمتوں اور ماحولیاتی فوائد کے باعث روایتی گاڑیوں کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دینے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/201456598162bbd.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/201456598162bbd.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>بی وائی ڈی نے اس حوالے سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”صارفین میں مسلسل بڑھتی ہوئی یہ طلب ملک میں گاڑیوں کی شپمنٹ کے حجم میں واضح نظر آ رہی ہے، جس سے بی وائی ڈی کا پاکستانی صارفین کو جدید الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے اور پائیدار و ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے“۔</p>
<p>پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے جہاں حکومتی پالیسیوں اور بائیکس اور رکشوں کی الیکٹرک منتقلی پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، لیکن بڑی فور وہیلر گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز اور مقامی سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>ایف آر آئی ایم وینچرز کے سرمایہ کاری تجزیہ کار اسامہ نعیم نے اس حوالے سے <a href="https://www.brecorder.com/news/40430881/what-the-arrival-of-2000-byd-vehicles-signals-for-pakistans-ev-market">بزنس ریکارڈر</a> سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”بی وائی ڈی کی اتنی بڑی کھیپ کا آنا صارفین کی شروعاتی قبولیت اور ملک کی روایتی پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں سے دوری کی طرف ایک مثبت قدم کا اشارہ ہے“۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ تبدیلی ملک کے طویل المدتی اہداف، یعنی مہنگے درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ گھٹانے اور کاربن کے اخراج میں کمی لانے میں معاون ثابت ہوگی۔ تاہم، آنے والے وقت میں ای وی کو اپنانے کی رفتار تھوڑی سست بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ابتدائی طور پر اسے زیادہ تر شہری علاقوں کے وہ لوگ لے رہے ہیں جن کا روزمرہ کا سفر محدود اور طے شدہ ہے، جبکہ عام مارکیٹ تک اس کی پہنچ کے لیے چار جنگ اسٹیشنز کا نہ ہونا، مرمت کے ورکشاپس کی کمی اور گاڑیوں کی ری سیل ویلیو کے خدشات اب بھی موجود ہیں“۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/201457352c7db19.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/201457352c7db19.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ تجزیہ کار مینکا کرپلانی کا کہنا تھا کہ اس کھیپ کی آمد ظاہر کرتی ہے کہ بی وائی ڈی کی طلب ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔</p>
<p>ان کے بقول جب تک سال کے آخر تک مقامی سطح پر ان گاڑیوں کی اسمبلی شروع نہیں ہو جاتی، بی وائی ڈی مکمل طور پر تیار شدہ درآمدات کے ذریعے صارفین کی پرانی بکنگز کو پورا کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ تقریباً 4 سے 5 فیصد ہے۔ حکومت کی جانب سے ای وی کی درآمد پر محض 1 فیصد ٹیکس کی رعایت کی توسیع نے اس طلب میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور اگر اس رعایت کو طویل عرصے تک برقرار رکھا جائے تو اس سے صارفین اور مقامی مینوفیکچررز دونوں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/20145746abefca7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/20145746abefca7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس موقع پر بی وائی ڈی پاکستان کے وائس پریذیڈنٹ دانش خلیق نے کہا کہ ”یہ پیش رفت پاکستانی شائقین کے الیکٹرک گاڑیوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔ عالمی سطح پر سپلائی کے مسائل کے باوجود ہم نے اپنے پارٹنرز کے ساتھ مل کر لاجسٹکس کو بہتر بنایا ہے تا کہ گاڑیوں کو بروقت صارفین تک پہنچایا جا سکے۔ ہم ملک بھر میں اپنا آفٹر سیلز نیٹ ورک اور چارجنگ کا نظام بھی تیزی سے پھیلا رہے ہیں“۔</p>
<p>بی وائی ڈی پاکستان کے کنٹری ہیڈ لی جیان نے مزید کہا کہ ”بی وائی ڈی کے عالمی سفر میں پاکستان ایک نہایت اہم مارکیٹ ہے، اور ہم یہاں عالمی معیار کی جدید گاڑیاں متعارف کروا کر ملک کو ایک صاف ستھرے ٹرانسپورٹ کے نظام کی طرف لانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے“۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509497</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 15:02:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2014582916c68e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2014582916c68e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
