<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 21:57:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 21:57:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'موت کی پتلون': نئے فیشن نے تنازع کھڑا کردیا، معاملہ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509598/social-media-viral-fashion-trends-death-pants-viral-fashion-wide-leg-pants-zara-pants</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیشن کی دنیا میں عجیب اور منفرد انداز سامنے آنا نئی بات نہیں، لیکن بین الاقوامی برانڈ زارا کی نئی متعارف کروائی گئی ’فلوئی وائڈ لیگ پینٹ‘ نے اس وقت عالمی سطح پر ایک انوکھی بحث چھیڑ دی ہے۔ چوڑی ٹانگوں اور انتہائی لمبی کٹائی والی اس پتلون کو سوشل میڈیا پر صارفین نے طنزاً ’ڈیتھ پینٹس‘ یا ’موت کی پینٹ‘ کا نام دے دیا ہے، کیونکہ اس کی زیادہ لمبائی کی وجہ سے لوگ چلتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پینٹ کو پہننے والے متعدد افراد کا کہنا ہے کہ اس کا ڈیزائن عام استعمال کے لیے بالکل غیر عملی ہے۔ ڈھیلی ڈھالی اور لمبی ہونے کی وجہ سے چلتے وقت پاؤں پائنچے میں پھنس جاتا ہے، جس کی وجہ سے مصروف سڑکوں یا سیڑھیوں پر چلنا خاصا خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی خواتین نے اپنے ایسے تجربات شیئر کیے ہیں جہاں اس لباس کو پہننے کے بعد انہیں گرنے کے باعث چوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/211230585b9aef7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/211230585b9aef7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/style/2026/07/18/how-zara-new-wide-leg-pants-became-known-death-pants/"&gt;واشنگٹن پوسٹ کے مطابق&lt;/a&gt; 29 سالہ کانٹینٹ کریئیٹرگزلین اینگل کو اپنے 5 فٹ 8 انچ قد کی وجہ سے ہمیشہ لمبی پینٹ تلاش کرنے میں مسئلہ رہتا تھا لیکن جب انہوں نے ایمسٹرڈیم کے ایک اسٹور میں یہ پینٹ دیکھی تو خریدے بنا  نہ رہ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزلین اینگل کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اور بھی چوڑے پائنچوں والی لمبی پینٹس ہیں، لیکن زارا کی یہ پینٹ مختلف ہے، کیونکہ اس کے نچلے حصے میں آپ کا پورا پاؤں پھنس جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MonicaSaadeX/status/2077037441651765751?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MonicaSaadeX/status/2077037441651765751?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر جب اس حوالے سے ویڈیوز اپلوڈ ہوئیں تو سینکڑوں ایسی خواتین کے تبصرے سامنے آئے جو اس پینٹ کو پہن کر گرنے کے باعث زخمی ہو چکی تھیں۔ جلد ہی انٹرنیٹ پر اس پینٹ کو ”جان لیوا پتلون“ اور ”زارا ڈیتھ پینٹس“ کا نام دے دیا گیا۔ واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں زارا کے نمائندے  سے اس پر تبصرہ کرنے کی درخواست  بھی کی تھی لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/QueenAnticommie/status/2078618796479184949?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/QueenAnticommie/status/2078618796479184949?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ’جان لیوا پینٹ‘ پراڈکٹ ٹیسٹنگ کے مرحلے سے کیسے پاس ہوئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ برینڈز کی جانب سے کپڑوں کی ٹیسٹنگ کے طریقے بھی اس کی ایک وجہ ہیں، کیونکہ ٹیسٹنگ کے دوران کپڑوں کا جائزہ، ساکت کھڑے مجسموں یا ایک جگہ کھڑی ماڈلز پر لیا جاتا ہے، جبکہ عملی زندگی میں تیز چلتے یا سیڑھیاں اترتے وقت لباس کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پینٹ کی مقبولیت اور اس سے جڑے حادثات کی ایک بڑی وجہ موجودہ دور کا وہ فیشن رجحان بھی ہے جس میں انتہائی ڈھیلے ڈھالے کپڑوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام تر تنازع اور تنقید کے باوجود فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی بحث اس پینٹ کی مقبولیت میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ’موت کی پتلون‘ یا ’ڈیتھ پینٹس‘ جیسا چٹپٹا نام بھی اس لباس کی غیر ارادی تشہیر کا ذریعہ بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آج کل بہت سے لوگوں کے لیے روزمرہ کی سہولت اور حفاظت کے مقابلے میں جدید فیشن کا حصہ بننا زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض افراد نئے فیشن ٹرینڈ سے پیچھے رہنے کے بجائے اس لباس سے وابستہ ممکنہ خطرات کو بھی قبول کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیشن کی دنیا میں عجیب اور منفرد انداز سامنے آنا نئی بات نہیں، لیکن بین الاقوامی برانڈ زارا کی نئی متعارف کروائی گئی ’فلوئی وائڈ لیگ پینٹ‘ نے اس وقت عالمی سطح پر ایک انوکھی بحث چھیڑ دی ہے۔ چوڑی ٹانگوں اور انتہائی لمبی کٹائی والی اس پتلون کو سوشل میڈیا پر صارفین نے طنزاً ’ڈیتھ پینٹس‘ یا ’موت کی پینٹ‘ کا نام دے دیا ہے، کیونکہ اس کی زیادہ لمبائی کی وجہ سے لوگ چلتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>اس پینٹ کو پہننے والے متعدد افراد کا کہنا ہے کہ اس کا ڈیزائن عام استعمال کے لیے بالکل غیر عملی ہے۔ ڈھیلی ڈھالی اور لمبی ہونے کی وجہ سے چلتے وقت پاؤں پائنچے میں پھنس جاتا ہے، جس کی وجہ سے مصروف سڑکوں یا سیڑھیوں پر چلنا خاصا خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی خواتین نے اپنے ایسے تجربات شیئر کیے ہیں جہاں اس لباس کو پہننے کے بعد انہیں گرنے کے باعث چوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/211230585b9aef7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/211230585b9aef7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/style/2026/07/18/how-zara-new-wide-leg-pants-became-known-death-pants/">واشنگٹن پوسٹ کے مطابق</a> 29 سالہ کانٹینٹ کریئیٹرگزلین اینگل کو اپنے 5 فٹ 8 انچ قد کی وجہ سے ہمیشہ لمبی پینٹ تلاش کرنے میں مسئلہ رہتا تھا لیکن جب انہوں نے ایمسٹرڈیم کے ایک اسٹور میں یہ پینٹ دیکھی تو خریدے بنا  نہ رہ سکیں۔</p>
<p>گزلین اینگل کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اور بھی چوڑے پائنچوں والی لمبی پینٹس ہیں، لیکن زارا کی یہ پینٹ مختلف ہے، کیونکہ اس کے نچلے حصے میں آپ کا پورا پاؤں پھنس جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MonicaSaadeX/status/2077037441651765751?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MonicaSaadeX/status/2077037441651765751?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سوشل میڈیا پر جب اس حوالے سے ویڈیوز اپلوڈ ہوئیں تو سینکڑوں ایسی خواتین کے تبصرے سامنے آئے جو اس پینٹ کو پہن کر گرنے کے باعث زخمی ہو چکی تھیں۔ جلد ہی انٹرنیٹ پر اس پینٹ کو ”جان لیوا پتلون“ اور ”زارا ڈیتھ پینٹس“ کا نام دے دیا گیا۔ واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں زارا کے نمائندے  سے اس پر تبصرہ کرنے کی درخواست  بھی کی تھی لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/QueenAnticommie/status/2078618796479184949?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/QueenAnticommie/status/2078618796479184949?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ’جان لیوا پینٹ‘ پراڈکٹ ٹیسٹنگ کے مرحلے سے کیسے پاس ہوئی؟</p>
<p>اس سلسلے میں فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ برینڈز کی جانب سے کپڑوں کی ٹیسٹنگ کے طریقے بھی اس کی ایک وجہ ہیں، کیونکہ ٹیسٹنگ کے دوران کپڑوں کا جائزہ، ساکت کھڑے مجسموں یا ایک جگہ کھڑی ماڈلز پر لیا جاتا ہے، جبکہ عملی زندگی میں تیز چلتے یا سیڑھیاں اترتے وقت لباس کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔</p>
<p>اس پینٹ کی مقبولیت اور اس سے جڑے حادثات کی ایک بڑی وجہ موجودہ دور کا وہ فیشن رجحان بھی ہے جس میں انتہائی ڈھیلے ڈھالے کپڑوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔</p>
<p>اس تمام تر تنازع اور تنقید کے باوجود فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی بحث اس پینٹ کی مقبولیت میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ’موت کی پتلون‘ یا ’ڈیتھ پینٹس‘ جیسا چٹپٹا نام بھی اس لباس کی غیر ارادی تشہیر کا ذریعہ بن گیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آج کل بہت سے لوگوں کے لیے روزمرہ کی سہولت اور حفاظت کے مقابلے میں جدید فیشن کا حصہ بننا زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض افراد نئے فیشن ٹرینڈ سے پیچھے رہنے کے بجائے اس لباس سے وابستہ ممکنہ خطرات کو بھی قبول کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509598</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 12:46:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/21123542e1c3b22.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/21123542e1c3b22.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
