<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 22:42:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 22:42:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق 100 لاپتا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509622/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغانستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے بعد آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق، 80 زخمی جبکہ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والے 100 افراد کی تلاش جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان حکام کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث شمال مشرقی صوبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں نے مکانات، زرعی زمینوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ نورستان میں سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جہاں متعدد دیہات زیرِ آب آگئے، مواصلاتی رابطے منقطع ہوگئے اور کئی خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو اداروں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقوں، خراب موسم اور منقطع راستوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والے تقریباً 100 افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی، زخمیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکام نے شہریوں کو مزید بارشوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509588/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509588"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;افغان حکام کے مطابق سیلاب سے صوبہ نورستان سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں صوبائی دارالحکومت پارون میں شدید تباہی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کے میئر بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں گھروں، دکانوں اور بلدیاتی عمارتوں کو بری طرح تباہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان حکام نے کہا کہ ہمیں مالی اور جانی نقصان بہت زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی غیر سرکاری تنظیم شپول کے سربراہ عاشق اللہ صافی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پارون کی میونسپلٹی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ مناسب مشینری اور آلات کے بغیر اپنے لاپتا عزیزوں کی تلاش میں ملبہ ہٹا رہے ہیں، جبکہ سیلابی ریلوں نے شہر میں بڑے بڑے پتھر بھی بکھیر دیے ہیں، جس سے امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بدھ تک افغانستان کے 34 میں سے 10 صوبوں میں مزید شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ برقرار رہے گا۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریاؤں کے کناروں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509139/khyber-pakhtunkhwa-monsoon-rains-pakistan-weather-heavy-rainfall-pdma-alert-flood-risk-landslide-warning'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509139"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نورستان افغانستان کا ایک خوبصورت پہاڑی صوبہ ہے، جو سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات اور شفاف دریاؤں کی وجہ سے مشہور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان حکومت نے 2020 میں اسے قومی پارک کا درجہ دیا تھا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نورستان اور دیگر علاقوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور غیر قانونی لکڑی کی تجارت نے اچانک آنے والے سیلابوں کی شدت میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ درخت کم ہونے سے زمین بارش کا پانی جذب نہیں کر پاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا زیادہ شکار ہے۔ شدید بارشیں، سیلاب، طوفان اور خشک سالی یہاں بار بار تباہی کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں برس اپریل میں بھی شمالی افغانستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تھا۔ حکام نے اس وقت کم از کم 150 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جبکہ عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) نے بتایا تھا کہ 300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغانستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے بعد آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق، 80 زخمی جبکہ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والے 100 افراد کی تلاش جاری ہے۔</strong></p>
<p>افغان حکام کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث شمال مشرقی صوبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں نے مکانات، زرعی زمینوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ نورستان میں سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جہاں متعدد دیہات زیرِ آب آگئے، مواصلاتی رابطے منقطع ہوگئے اور کئی خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔</p>
<p>ریسکیو اداروں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقوں، خراب موسم اور منقطع راستوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والے تقریباً 100 افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی، زخمیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکام نے شہریوں کو مزید بارشوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509588/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509588"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>افغان حکام کے مطابق سیلاب سے صوبہ نورستان سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں صوبائی دارالحکومت پارون میں شدید تباہی ہوئی۔</p>
<p>شہر کے میئر بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں گھروں، دکانوں اور بلدیاتی عمارتوں کو بری طرح تباہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>افغان حکام نے کہا کہ ہمیں مالی اور جانی نقصان بہت زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>مقامی غیر سرکاری تنظیم شپول کے سربراہ عاشق اللہ صافی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پارون کی میونسپلٹی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ مناسب مشینری اور آلات کے بغیر اپنے لاپتا عزیزوں کی تلاش میں ملبہ ہٹا رہے ہیں، جبکہ سیلابی ریلوں نے شہر میں بڑے بڑے پتھر بھی بکھیر دیے ہیں، جس سے امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔</p>
<p>افغان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بدھ تک افغانستان کے 34 میں سے 10 صوبوں میں مزید شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ برقرار رہے گا۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریاؤں کے کناروں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509139/khyber-pakhtunkhwa-monsoon-rains-pakistan-weather-heavy-rainfall-pdma-alert-flood-risk-landslide-warning'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509139"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نورستان افغانستان کا ایک خوبصورت پہاڑی صوبہ ہے، جو سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات اور شفاف دریاؤں کی وجہ سے مشہور ہے۔</p>
<p>افغان حکومت نے 2020 میں اسے قومی پارک کا درجہ دیا تھا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نورستان اور دیگر علاقوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور غیر قانونی لکڑی کی تجارت نے اچانک آنے والے سیلابوں کی شدت میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ درخت کم ہونے سے زمین بارش کا پانی جذب نہیں کر پاتی۔</p>
<p>افغانستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا زیادہ شکار ہے۔ شدید بارشیں، سیلاب، طوفان اور خشک سالی یہاں بار بار تباہی کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p>رواں برس اپریل میں بھی شمالی افغانستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تھا۔ حکام نے اس وقت کم از کم 150 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جبکہ عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) نے بتایا تھا کہ 300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509622</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 13:37:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2113304045486b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2113304045486b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
