<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 23:21:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 23:21:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیتن یاہو کی نیویارک میں ممکنہ گرفتاری؛ کیا ایک شہر کا میئر کسی ملک کے سربراہ کو گرفتار کرسکتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509636/possible-arrest-of-netanyahu-in-new-york-can-a-city-mayor-arrest-a-head-of-state</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی ستمبر میں نیویارک آمد پر ان کی گرفتاری کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح موقف اپنایا ہے کہ ”نیتن یاہو کو امریکا میں قیام کے دوران کسی بھی صورت میں گرفتار نہیں کیا جائے گا“۔ اس تمام تر بیان بازی نے یہ اہم سوالات اٹھا دیے ہیں کہ کیا نیویارک کا مقامی قانون کسی غیر ملکی سربراہ کو گرفتار کرنے کی اجازت دیتا ہے اور کیا واشنگٹن کی مرکزی حکومت کے پاس اس گرفتاری کو روکنے کا قانونی اختیار ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے 2024 میں نیتن یاہو اور دیگر افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ان پر غزہ جنگ کے دوران بھوک کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے جیسے جنگی جرم کے ساتھ ساتھ قتل، بزدلانہ کارروائیوں، اور دیگر غیر انسانی افعال کے طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) یعنی بین الاقوامی فوجداری عدالت، نیدرلینڈز کے شہر ’دی ہیگ‘ میں قائم ایک مستقل عالمی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں سب سے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والے انفرادی اشخاص پر مقدمہ چلاتی ہے۔ 1998 کے ’روم اسٹیٹیوٹ‘ معاہدے کے تحت قائم ہونے اور جولائی 2002 سے فعال یہ عدالت جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی اور جارحیت کے کیسز دیکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="نیتن-یاہو-کی-ممکنہ-گرفتاری-قانون-کیا-کہتا-ہے" href="#نیتن-یاہو-کی-ممکنہ-گرفتاری-قانون-کیا-کہتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری، قانون کیا کہتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;امریکی آئین اور قانونی نظام کے تحت کسی دوسرے ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات، غیر ملکی پالیسی اور سیکیورٹی کا تمام تر اختیار صرف اور صرف واشنگٹن میں قائم وفاقی یعنی مرکزی حکومت کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cbsnews.com/newyork/news/nyc-mayor-zohran-mamdani-israeli-prime-minister-benjamin-netanyahu/"&gt;’سی بی ایس نیوز‘ &lt;/a&gt; سے وابستہ نیویارک کی سینئر چیف پولیٹیکل رپورٹر مارشیا کریمر نے اس معاملے کی قانونی باریکیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی ریاستی اور مقامی قانون سرے سے موجود ہی نہیں ہے، تمام تر سفارتی پالیسی اور تعلقات وفاقی قانون کے تحت چلتے ہیں اور اقوامِ متحدہ میں آنے والے ہر غیر ملکی رہنما کو سفارتی استثنا حاصل ہوتا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ اگر ظہران ممدانی نیویارک پولیس کو ایسا کوئی حکم دیتے بھی ہیں تو وفاقی ایجنٹس کے پاس اسے فوری طور پر ناکام بنانے اور مداخلت کرنے کا مکمل اختیار موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک کے فوجداری قانون کے تحت پولیس افسر کسی شخص کو اس وقت گرفتار کر سکتا ہے جب اس کے پاس معقول وجہ ہو کہ اس شخص نے جرم کیا ہے، یا کسی مجاز عدالت کا  وارنٹ گرفتاری موجود ہو۔ نیویارک کے قانون میں گرفتاری کے وارنٹ کا تصور ایک مقامی فوجداری عدالت سے جاری ہونے والے قانونی عمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="کیا-میئر-گرفتاری-کا-حکم-دے-سکتا-ہے" href="#کیا-میئر-گرفتاری-کا-حکم-دے-سکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کیا میئر گرفتاری کا حکم دے سکتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;نیویارک کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nysenate.gov/legislation/laws/PEN/195.00?utm_source=chatgpt.com"&gt;اسٹیٹ گورنمنٹ کے قانون &lt;/a&gt;کے مطابق، ظہران ممدانی بطور میئر شہر کی انتظامیہ کے سربراہ ہیں اور نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ سیاسی طور پر میئر کے انتظامی ڈھانچے کے اندر کام کرتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ممدانی  قانون سے بالاتر ہو کر نیتن یاہو یا کسی دوسرے شخص کو گرفتار کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی آئین کے مطابق، پولیس افسر کو گرفتاری کے لیے قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔ اگر کوئی افسر کسی شخص کو بغیر قانونی اختیار کے گرفتار کرے تو یہ غیرقانونی حراست، شہری آزادیوں کی خلاف ورزی اور دیگر قانونی دعووں کا سبب بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک کے قانون کے مطابق پولیس افسر کسی جرم کی معقول وجہ پر ہی گرفتاری کر سکتا ہے، جبکہ عدالت کا وارنٹ بھی قانونی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن کسی سیاسی عہدیدار کا محض حکم بذاتِ خود گرفتاری کا قانونی جواز نہیں بنتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ اگر میئر ظہران ممدانی پولیس کمشنر کو ہدایات بھی دیں، تب بھی، پولیس افسران کو امریکی آئین اور نیویارک کے قانون کی پابندی کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/211533323887719.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/211533323887719.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر ممدانی نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حکم دیں اور بعد میں عدالت یہ فیصلہ کرے کہ گرفتاری کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی تو معاملہ خود ممدانی اور شہر کے لیے قانونی بحران پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک کے قانون میں سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف بھی دفعات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک پینل لا کی دفعہ 195 کے تحت کوئی سرکاری اہلکار اپنے عہدے سے متعلق ایسا غیرمجاز اقدام کرے جس کے بارے میں اسے علم ہو کہ وہ اس کے اختیار سے باہر ہے تو یہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ جو کہ کلاس اے کے تحت چھوٹا جرم  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موضوع پر قانونی اور آئینی ماہرین کا نقطہ نظر بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے کہ نیویارک میں نیتن یاہو کی گرفتاری تقریباً ناممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کین یونیورسٹی کے پرووسٹ اور آئینی تجزیہ کار ڈیوڈ برڈسل نے بھی سی بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی معاملے میں اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور وفاقی حکومت ہی امریکا کی خارجہ پالیسی طے کرتی ہے نہ کہ شہر یا ریاست“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیوڈ برڈسل کا مزید کہنا تھا کہ ”یہ بات بالکل روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ظہران ممدانی کے پاس بطور میئر کے پاس کسی غیر ملکی سربراہ کو گرفتار کرنے کا کوئی قانونی یا آئینی اختیار نہیں ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اگر کسی ملک کی عدالت کسی شخص کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے ہر ملک کی پولیس لازماً اسے گرفتار کرنے کی پابند ہو جائے گی۔ اس کے لیے یا تو دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ ہونا چاہیے، یا جس ملک میں وہ شخص موجود ہے وہاں کا قانون اس وارنٹ کو تسلیم کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا باقاعدہ رکن بھی نہیں ہے، اس لیے اس عالمی عدالت کا جاری کردہ وارنٹ امریکی سرزمین پر اس وقت تک قابلِ عمل نہیں ہوگا جب تک کہ امریکی وفاقی حکومت اسے نافذ نہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی آئین کا سپریمیسی کلاز یعنی وفاقی قانون کی برتری کا اصول یہ طے کرتا ہے کہ جب بھی وفاقی اور مقامی قوانین کے درمیان تصادم ہو گا تو وفاقی قانون ہی نافذ العمل ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ سال 1947 کے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت امریکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے لیے آنے والے عالمی رہنماؤں کی مکمل حفاظت کرے اور انہیں آزادانہ آمد و رفت فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائراکیوز یونیورسٹی میں قانون کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://law.syracuse.edu/news/professor-true-frost-discusses-legal-issues-surrounding-new-york-city-mayor-elects-statement-on-arresting-israels-prime-minister/?utm_source=chatgpt.com"&gt;پروفیسر کورا ٹرو-فروسٹ&lt;/a&gt; نے اس معاملے پر کہا کہ ممدانی کا وعدہ ’’سیاسی طور پر بہت اہم‘‘ ہے، لیکن اس پر عمل درآمد مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ’’خارجہ امور اور خارجہ پالیسی وفاقی حکومت کا خصوصی اختیار ہیں‘‘ اور امریکی انتظامیہ ’’یقینی طور پر نیتن یاہو کے لیے سربراہِ مملکت کے استثنا کا دعویٰ کرے گی‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر ٹرو-فروسٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر نیتن یاہو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں تو اقوام متحدہ سے متعلق معاہدے اور سفارتی تحفظات بھی ممدانی کی کارروائی کی راہ میں مزید رکاوٹ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21153152dac7068.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21153152dac7068.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="امریکا-کی-وفاقی-حکومت-کیا-کر-سکتی-ہے" href="#امریکا-کی-وفاقی-حکومت-کیا-کر-سکتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی وفاقی حکومت کیا کر سکتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے پاس کئی طاقتور راستے موجود ہیں۔ سب سے پہلے، وفاقی حکومت یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ نیتن یاہو کی گرفتاری وفاقی قانون، سفارتی استثنا یا امریکی خارجہ پالیسی سے متصادم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، وفاقی عدالت میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگر نیویارک کے کسی اقدام کو وفاقی قانون یا امریکی آئین سے متصادم سمجھا جائے تو وفاقی حکومت عدالت سے حکم امتناع یا دیگر قانونی تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی الگ قانونی ذمہ داریوں کے تحت کارروائی کر سکتے ہیں۔ یعنی امریکی سیکرٹ سروس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے نیتن یاہو کی گرفتاری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہاں ایک بنیادی آئینی اصول موجود ہے: وفاقی حکومت ہر صورت میں ریاستی پولیس کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں وفاقی حکومت اور ریاستوں کے درمیان طاقت کی تقسیم بہت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی آئین کا سپریمیسی کلاز یہ ضرور کہتا ہے کہ آئین، وفاقی قوانین اور مجاز معاہدے ریاستی قوانین پر فوقیت رکھتے ہیں اور اگر ریاستی قانون کسی معتبر وفاقی قانون سے متصادم ہو تو وفاقی قانون غالب آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن امریکی سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت عام طور پر ریاستی حکومتوں کے افسران کو اپنے احکامات ماننے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ اسے ’اینٹی کمانڈرنگ‘ اصول کہا جاتا ہے۔ عام زبان میں اس کا مطلب ہے کہ واشنگٹن ہر بار ریاستی پولیس کو اپنا ماتحت وفاقی محکمہ نہیں بنا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے اگر ٹرمپ نیویارک پولیس کو براہ راست یہ حکم دیں کہ ’’نیتن یاہو کو گرفتار نہ کرو‘‘ تو اس حکم کی قانونی نوعیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ حکم کس آئینی یا قانونی اختیار کے تحت دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر وفاقی قانون واضح طور پر کسی کارروائی کو روکتا ہے، یا وفاقی عدالت حکم جاری کرتی ہے، یا کوئی قابل اطلاق سفارتی معاہدہ موجود ہے، تو نیویارک کا کوئی مقامی اقدام اس کے خلاف نہیں جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی صدر کے پاس بہت طاقت ہے، لیکن وہ امریکی آئین سے بالاتر نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21153652c49db24.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21153652c49db24.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="کیا-نیویارک-اپنی-خارجہ-پالیسی-خود-بنا-سکتا-ہے" href="#کیا-نیویارک-اپنی-خارجہ-پالیسی-خود-بنا-سکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کیا نیویارک اپنی خارجہ پالیسی خود بنا سکتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال ظہران ممدانی کے نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کے منصوبے کے خلاف سب سے مضبوط آئینی دلائل میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی آئین کے تحت خارجہ امور بنیادی طور پر وفاقی حکومت کا معاملہ ہیں۔ ریاستیں اور شہر اپنی الگ خارجہ پالیسی نہیں بنا سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثلاً نیویارک یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ وہ کسی ملک کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا یا نہیں، کسی غیرملکی حکومت کے ساتھ جنگ کرے گا یا نہیں، یا امریکا کی قومی خارجہ پالیسی کے برعکس کسی غیرملکی وزیراعظم کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ کو خود نافذ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر کورا ٹرو-فروسٹ نے اسی نکتے پر کہا کہ ’’خارجہ امور اور خارجہ پالیسی وفاقی حکومت کا خصوصی اختیار ہیں‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ اگر نیویارک کسی ایسے اقدام کی کوشش کرے جو براہ راست امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی کے خلاف ہو تو واشنگٹن کے پاس اسے عدالت میں چیلنج کرنے کے مضبوط قانونی دلائل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="اگر-ممدانی-پھر-بھی-گرفتاری-کا-حکم-دیں-تو-کیا-ہوگا" href="#اگر-ممدانی-پھر-بھی-گرفتاری-کا-حکم-دیں-تو-کیا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اگر ممدانی پھر بھی گرفتاری کا حکم دیں تو کیا ہوگا؟&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;فرض کریں نیتن یاہو نیویارک پہنچتے ہیں، ممدانی اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد پولیس کو گرفتاری کی ہدایت دیتے ہیں اور نیویارک پولیس انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتحال میں نیتن یاہو کے وکلا فوری طور پر عدالت سے ہنگامی حکم طلب کر سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت بھی عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ اگر امریکی حکومت کا مؤقف ہو کہ نیتن یاہو کو استثنا حاصل ہے تو عدالت کو یہ فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے کہ آیا مقامی پولیس کو انہیں گرفتار کرنے کا اختیار تھا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر عدالت یہ قرار دے کہ نیتن یاہو کی گرفتاری قانونی بنیاد کے بغیر ہوئی تو نیتن یاہو کی حراست ختم ہو سکتی ہے اور ممدانی انتظامیہ کو سنگین قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف اگر کسی عدالت نے یہ قرار دیا کہ نیتن یاہو کی گرفتاری کے لیے کوئی الگ امریکی قانونی بنیاد موجود تھی اور نیتن یاہو کو متعلقہ استثنا حاصل نہیں تھا، تو صورتحال مکمل طور پر مختلف ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن موجودہ امریکی پالیسی، آئی سی سی کو تسلیم نہ کرنے، ممکنہ سفارتی استثنا، اقوام متحدہ سے متعلق معاہدوں اور وفاقی خارجہ پالیسی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ ممدانی کے لیے نیتن یاہو کو صرف آئی سی سی کے وارنٹ کی بنیاد پر گرفتار کرانا انتہائی مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی ستمبر میں نیویارک آمد پر ان کی گرفتاری کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح موقف اپنایا ہے کہ ”نیتن یاہو کو امریکا میں قیام کے دوران کسی بھی صورت میں گرفتار نہیں کیا جائے گا“۔ اس تمام تر بیان بازی نے یہ اہم سوالات اٹھا دیے ہیں کہ کیا نیویارک کا مقامی قانون کسی غیر ملکی سربراہ کو گرفتار کرنے کی اجازت دیتا ہے اور کیا واشنگٹن کی مرکزی حکومت کے پاس اس گرفتاری کو روکنے کا قانونی اختیار ہے؟</strong></p>
<p>انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے 2024 میں نیتن یاہو اور دیگر افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ان پر غزہ جنگ کے دوران بھوک کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے جیسے جنگی جرم کے ساتھ ساتھ قتل، بزدلانہ کارروائیوں، اور دیگر غیر انسانی افعال کے طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔</p>
<p>انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) یعنی بین الاقوامی فوجداری عدالت، نیدرلینڈز کے شہر ’دی ہیگ‘ میں قائم ایک مستقل عالمی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں سب سے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والے انفرادی اشخاص پر مقدمہ چلاتی ہے۔ 1998 کے ’روم اسٹیٹیوٹ‘ معاہدے کے تحت قائم ہونے اور جولائی 2002 سے فعال یہ عدالت جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی اور جارحیت کے کیسز دیکھتی ہے۔</p>
<h2><a id="نیتن-یاہو-کی-ممکنہ-گرفتاری-قانون-کیا-کہتا-ہے" href="#نیتن-یاہو-کی-ممکنہ-گرفتاری-قانون-کیا-کہتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری، قانون کیا کہتا ہے؟</strong></h2>
<p>امریکی آئین اور قانونی نظام کے تحت کسی دوسرے ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات، غیر ملکی پالیسی اور سیکیورٹی کا تمام تر اختیار صرف اور صرف واشنگٹن میں قائم وفاقی یعنی مرکزی حکومت کے پاس ہے۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cbsnews.com/newyork/news/nyc-mayor-zohran-mamdani-israeli-prime-minister-benjamin-netanyahu/">’سی بی ایس نیوز‘ </a> سے وابستہ نیویارک کی سینئر چیف پولیٹیکل رپورٹر مارشیا کریمر نے اس معاملے کی قانونی باریکیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی ریاستی اور مقامی قانون سرے سے موجود ہی نہیں ہے، تمام تر سفارتی پالیسی اور تعلقات وفاقی قانون کے تحت چلتے ہیں اور اقوامِ متحدہ میں آنے والے ہر غیر ملکی رہنما کو سفارتی استثنا حاصل ہوتا ہے“۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ اگر ظہران ممدانی نیویارک پولیس کو ایسا کوئی حکم دیتے بھی ہیں تو وفاقی ایجنٹس کے پاس اسے فوری طور پر ناکام بنانے اور مداخلت کرنے کا مکمل اختیار موجود ہے۔</p>
<p>نیویارک کے فوجداری قانون کے تحت پولیس افسر کسی شخص کو اس وقت گرفتار کر سکتا ہے جب اس کے پاس معقول وجہ ہو کہ اس شخص نے جرم کیا ہے، یا کسی مجاز عدالت کا  وارنٹ گرفتاری موجود ہو۔ نیویارک کے قانون میں گرفتاری کے وارنٹ کا تصور ایک مقامی فوجداری عدالت سے جاری ہونے والے قانونی عمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔</p>
<h2><a id="کیا-میئر-گرفتاری-کا-حکم-دے-سکتا-ہے" href="#کیا-میئر-گرفتاری-کا-حکم-دے-سکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کیا میئر گرفتاری کا حکم دے سکتا ہے؟</strong></h2>
<p>نیویارک کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nysenate.gov/legislation/laws/PEN/195.00?utm_source=chatgpt.com">اسٹیٹ گورنمنٹ کے قانون </a>کے مطابق، ظہران ممدانی بطور میئر شہر کی انتظامیہ کے سربراہ ہیں اور نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ سیاسی طور پر میئر کے انتظامی ڈھانچے کے اندر کام کرتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ممدانی  قانون سے بالاتر ہو کر نیتن یاہو یا کسی دوسرے شخص کو گرفتار کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔</p>
<p>ریاستی آئین کے مطابق، پولیس افسر کو گرفتاری کے لیے قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔ اگر کوئی افسر کسی شخص کو بغیر قانونی اختیار کے گرفتار کرے تو یہ غیرقانونی حراست، شہری آزادیوں کی خلاف ورزی اور دیگر قانونی دعووں کا سبب بن سکتی ہے۔</p>
<p>نیویارک کے قانون کے مطابق پولیس افسر کسی جرم کی معقول وجہ پر ہی گرفتاری کر سکتا ہے، جبکہ عدالت کا وارنٹ بھی قانونی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن کسی سیاسی عہدیدار کا محض حکم بذاتِ خود گرفتاری کا قانونی جواز نہیں بنتا۔</p>
<p>یہاں تک کہ اگر میئر ظہران ممدانی پولیس کمشنر کو ہدایات بھی دیں، تب بھی، پولیس افسران کو امریکی آئین اور نیویارک کے قانون کی پابندی کرنا ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/211533323887719.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/211533323887719.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اگر ممدانی نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حکم دیں اور بعد میں عدالت یہ فیصلہ کرے کہ گرفتاری کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی تو معاملہ خود ممدانی اور شہر کے لیے قانونی بحران پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>نیویارک کے قانون میں سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف بھی دفعات موجود ہیں۔</p>
<p>نیویارک پینل لا کی دفعہ 195 کے تحت کوئی سرکاری اہلکار اپنے عہدے سے متعلق ایسا غیرمجاز اقدام کرے جس کے بارے میں اسے علم ہو کہ وہ اس کے اختیار سے باہر ہے تو یہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ جو کہ کلاس اے کے تحت چھوٹا جرم  ہے۔</p>
<p>اس موضوع پر قانونی اور آئینی ماہرین کا نقطہ نظر بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے کہ نیویارک میں نیتن یاہو کی گرفتاری تقریباً ناممکن ہے۔</p>
<p>کین یونیورسٹی کے پرووسٹ اور آئینی تجزیہ کار ڈیوڈ برڈسل نے بھی سی بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی معاملے میں اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور وفاقی حکومت ہی امریکا کی خارجہ پالیسی طے کرتی ہے نہ کہ شہر یا ریاست“۔</p>
<p>ڈیوڈ برڈسل کا مزید کہنا تھا کہ ”یہ بات بالکل روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ظہران ممدانی کے پاس بطور میئر کے پاس کسی غیر ملکی سربراہ کو گرفتار کرنے کا کوئی قانونی یا آئینی اختیار نہیں ہے“۔</p>
<p>اس کے علاوہ اگر کسی ملک کی عدالت کسی شخص کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے ہر ملک کی پولیس لازماً اسے گرفتار کرنے کی پابند ہو جائے گی۔ اس کے لیے یا تو دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ ہونا چاہیے، یا جس ملک میں وہ شخص موجود ہے وہاں کا قانون اس وارنٹ کو تسلیم کرتا ہو۔</p>
<p>امریکا بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا باقاعدہ رکن بھی نہیں ہے، اس لیے اس عالمی عدالت کا جاری کردہ وارنٹ امریکی سرزمین پر اس وقت تک قابلِ عمل نہیں ہوگا جب تک کہ امریکی وفاقی حکومت اسے نافذ نہ کرے۔</p>
<p>امریکی آئین کا سپریمیسی کلاز یعنی وفاقی قانون کی برتری کا اصول یہ طے کرتا ہے کہ جب بھی وفاقی اور مقامی قوانین کے درمیان تصادم ہو گا تو وفاقی قانون ہی نافذ العمل ہو گا۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ سال 1947 کے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت امریکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے لیے آنے والے عالمی رہنماؤں کی مکمل حفاظت کرے اور انہیں آزادانہ آمد و رفت فراہم کرے۔</p>
<p>سائراکیوز یونیورسٹی میں قانون کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://law.syracuse.edu/news/professor-true-frost-discusses-legal-issues-surrounding-new-york-city-mayor-elects-statement-on-arresting-israels-prime-minister/?utm_source=chatgpt.com">پروفیسر کورا ٹرو-فروسٹ</a> نے اس معاملے پر کہا کہ ممدانی کا وعدہ ’’سیاسی طور پر بہت اہم‘‘ ہے، لیکن اس پر عمل درآمد مشکل ہوگا۔</p>
<p>ان کے مطابق ’’خارجہ امور اور خارجہ پالیسی وفاقی حکومت کا خصوصی اختیار ہیں‘‘ اور امریکی انتظامیہ ’’یقینی طور پر نیتن یاہو کے لیے سربراہِ مملکت کے استثنا کا دعویٰ کرے گی‘‘۔</p>
<p>پروفیسر ٹرو-فروسٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر نیتن یاہو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں تو اقوام متحدہ سے متعلق معاہدے اور سفارتی تحفظات بھی ممدانی کی کارروائی کی راہ میں مزید رکاوٹ بن سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21153152dac7068.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21153152dac7068.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<h2><a id="امریکا-کی-وفاقی-حکومت-کیا-کر-سکتی-ہے" href="#امریکا-کی-وفاقی-حکومت-کیا-کر-سکتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>امریکا کی وفاقی حکومت کیا کر سکتی ہے؟</strong></h2>
<p>وفاقی حکومت کے پاس کئی طاقتور راستے موجود ہیں۔ سب سے پہلے، وفاقی حکومت یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ نیتن یاہو کی گرفتاری وفاقی قانون، سفارتی استثنا یا امریکی خارجہ پالیسی سے متصادم ہوگی۔</p>
<p>دوسرا، وفاقی عدالت میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اگر نیویارک کے کسی اقدام کو وفاقی قانون یا امریکی آئین سے متصادم سمجھا جائے تو وفاقی حکومت عدالت سے حکم امتناع یا دیگر قانونی تحفظ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔</p>
<p>تیسرا، وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی الگ قانونی ذمہ داریوں کے تحت کارروائی کر سکتے ہیں۔ یعنی امریکی سیکرٹ سروس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے نیتن یاہو کی گرفتاری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔</p>
<p>لیکن یہاں ایک بنیادی آئینی اصول موجود ہے: وفاقی حکومت ہر صورت میں ریاستی پولیس کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال نہیں کر سکتی۔</p>
<p>امریکا میں وفاقی حکومت اور ریاستوں کے درمیان طاقت کی تقسیم بہت اہم ہے۔</p>
<p>امریکی آئین کا سپریمیسی کلاز یہ ضرور کہتا ہے کہ آئین، وفاقی قوانین اور مجاز معاہدے ریاستی قوانین پر فوقیت رکھتے ہیں اور اگر ریاستی قانون کسی معتبر وفاقی قانون سے متصادم ہو تو وفاقی قانون غالب آ سکتا ہے۔</p>
<p>لیکن امریکی سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت عام طور پر ریاستی حکومتوں کے افسران کو اپنے احکامات ماننے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ اسے ’اینٹی کمانڈرنگ‘ اصول کہا جاتا ہے۔ عام زبان میں اس کا مطلب ہے کہ واشنگٹن ہر بار ریاستی پولیس کو اپنا ماتحت وفاقی محکمہ نہیں بنا سکتا۔</p>
<p>اس لیے اگر ٹرمپ نیویارک پولیس کو براہ راست یہ حکم دیں کہ ’’نیتن یاہو کو گرفتار نہ کرو‘‘ تو اس حکم کی قانونی نوعیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ حکم کس آئینی یا قانونی اختیار کے تحت دیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم اگر وفاقی قانون واضح طور پر کسی کارروائی کو روکتا ہے، یا وفاقی عدالت حکم جاری کرتی ہے، یا کوئی قابل اطلاق سفارتی معاہدہ موجود ہے، تو نیویارک کا کوئی مقامی اقدام اس کے خلاف نہیں جا سکتا۔</p>
<p>یعنی صدر کے پاس بہت طاقت ہے، لیکن وہ امریکی آئین سے بالاتر نہیں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21153652c49db24.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21153652c49db24.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<h2><a id="کیا-نیویارک-اپنی-خارجہ-پالیسی-خود-بنا-سکتا-ہے" href="#کیا-نیویارک-اپنی-خارجہ-پالیسی-خود-بنا-سکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کیا نیویارک اپنی خارجہ پالیسی خود بنا سکتا ہے؟</strong></h2>
<p>یہ سوال ظہران ممدانی کے نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کے منصوبے کے خلاف سب سے مضبوط آئینی دلائل میں سے ایک ہے۔</p>
<p>امریکی آئین کے تحت خارجہ امور بنیادی طور پر وفاقی حکومت کا معاملہ ہیں۔ ریاستیں اور شہر اپنی الگ خارجہ پالیسی نہیں بنا سکتے۔</p>
<p>مثلاً نیویارک یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ وہ کسی ملک کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا یا نہیں، کسی غیرملکی حکومت کے ساتھ جنگ کرے گا یا نہیں، یا امریکا کی قومی خارجہ پالیسی کے برعکس کسی غیرملکی وزیراعظم کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ کو خود نافذ کرے گا۔</p>
<p>پروفیسر کورا ٹرو-فروسٹ نے اسی نکتے پر کہا کہ ’’خارجہ امور اور خارجہ پالیسی وفاقی حکومت کا خصوصی اختیار ہیں‘‘۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ اگر نیویارک کسی ایسے اقدام کی کوشش کرے جو براہ راست امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی کے خلاف ہو تو واشنگٹن کے پاس اسے عدالت میں چیلنج کرنے کے مضبوط قانونی دلائل ہوں گے۔</p>
<h2><a id="اگر-ممدانی-پھر-بھی-گرفتاری-کا-حکم-دیں-تو-کیا-ہوگا" href="#اگر-ممدانی-پھر-بھی-گرفتاری-کا-حکم-دیں-تو-کیا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اگر ممدانی پھر بھی گرفتاری کا حکم دیں تو کیا ہوگا؟</strong></h2>
<p>فرض کریں نیتن یاہو نیویارک پہنچتے ہیں، ممدانی اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد پولیس کو گرفتاری کی ہدایت دیتے ہیں اور نیویارک پولیس انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔</p>
<p>ایسی صورتحال میں نیتن یاہو کے وکلا فوری طور پر عدالت سے ہنگامی حکم طلب کر سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت بھی عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ اگر امریکی حکومت کا مؤقف ہو کہ نیتن یاہو کو استثنا حاصل ہے تو عدالت کو یہ فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے کہ آیا مقامی پولیس کو انہیں گرفتار کرنے کا اختیار تھا یا نہیں۔</p>
<p>اگر عدالت یہ قرار دے کہ نیتن یاہو کی گرفتاری قانونی بنیاد کے بغیر ہوئی تو نیتن یاہو کی حراست ختم ہو سکتی ہے اور ممدانی انتظامیہ کو سنگین قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری طرف اگر کسی عدالت نے یہ قرار دیا کہ نیتن یاہو کی گرفتاری کے لیے کوئی الگ امریکی قانونی بنیاد موجود تھی اور نیتن یاہو کو متعلقہ استثنا حاصل نہیں تھا، تو صورتحال مکمل طور پر مختلف ہو سکتی ہے۔</p>
<p>لیکن موجودہ امریکی پالیسی، آئی سی سی کو تسلیم نہ کرنے، ممکنہ سفارتی استثنا، اقوام متحدہ سے متعلق معاہدوں اور وفاقی خارجہ پالیسی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ ممدانی کے لیے نیتن یاہو کو صرف آئی سی سی کے وارنٹ کی بنیاد پر گرفتار کرانا انتہائی مشکل ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509636</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 16:23:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/21162149df57cc9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/21162149df57cc9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
