<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 11:04:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Jul 2026 11:04:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے برطانوی وزیراعظم نے ایران پر امریکی حملوں کے لیے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509720/burnham-approves-use-of-uk-bases-for-some-us-strikes-on-iran</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے برطانوی عسکری اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اینڈی برنہم کا یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی تیار کردہ پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت ان حملوں کو ایک کھلی جنگ کے بجائے دفاعی نوعیت کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل سینئر وزراء اور اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس میں اس پالیسی کا جائزہ لیا تھا، تاہم نئے وزیراعظم کے دفتر سے اس فیصلے پر کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں تیزی آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509690/trump-admits-iran-jordan-attack-says-tehran-wants-talks'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509690"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی حل نہ نکلا تو ایران کا پکس ایکس ماؤنٹین پر واقع ایٹمی مرکز امریکی حملوں کا ہدف بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے اس موقف کے بعد ایران کی جانب سے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ سینٹر ’خاتم الانبیاء‘ کے ترجمان نے ایرانی نیشنل ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر واشنگٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے بھر میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے تمام اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عرب خلیجی ممالک شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ امریکا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ایران پر مزید حملے کرنے سے روکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509719/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509719"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی کارروائی کی تو ایران ان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی جوابی کارروائی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بن گوریان ایئرپورٹ پر اضافی امریکی ملٹری ری فیولنگ طیاروں کو کھڑا کرنے کی تجویز پر بھی غور ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے برطانوی عسکری اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اینڈی برنہم کا یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی تیار کردہ پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت ان حملوں کو ایک کھلی جنگ کے بجائے دفاعی نوعیت کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل سینئر وزراء اور اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس میں اس پالیسی کا جائزہ لیا تھا، تاہم نئے وزیراعظم کے دفتر سے اس فیصلے پر کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p>یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں تیزی آ رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509690/trump-admits-iran-jordan-attack-says-tehran-wants-talks'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509690"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی حل نہ نکلا تو ایران کا پکس ایکس ماؤنٹین پر واقع ایٹمی مرکز امریکی حملوں کا ہدف بن سکتا ہے۔</p>
<p>امریکا کے اس موقف کے بعد ایران کی جانب سے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p>ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ سینٹر ’خاتم الانبیاء‘ کے ترجمان نے ایرانی نیشنل ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”اگر واشنگٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے بھر میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے تمام اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا“۔</p>
<p>اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عرب خلیجی ممالک شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ امریکا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ایران پر مزید حملے کرنے سے روکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509719/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509719"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی کارروائی کی تو ایران ان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی جوابی کارروائی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بن گوریان ایئرپورٹ پر اضافی امریکی ملٹری ری فیولنگ طیاروں کو کھڑا کرنے کی تجویز پر بھی غور ہو رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509720</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:48:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2208463695bdf0f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2208463695bdf0f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
