<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 13:12:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Jul 2026 13:12:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509724/france-social-media-emmanuel-macron-child-safety-digital-policy-european-union-tech-regulation</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق ایک اہم قانون منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد فرانس یورپی یونین کا پہلا بڑا ملک بن گیا ہے جس نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے اس نوعیت کا جامع اقدام کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قانون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں ایوانوں سے منظوری مل چکی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد سے قبل فرانس کی آئینی کونسل اس کا جائزہ لے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قانون آئین سے مطابقت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506516/social-media-age-restrictions-worldwide-from-debate-to-legislation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قانون کے مطابق یکم ستمبر سے 15 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا پر نئے اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے۔ اس کے بعد جنوری 2027 سے ایسے بچوں کے پہلے سے موجود اکاؤنٹس بھی بند کر دیے جائیں گے۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق اگر کسی صارف کی عمر 15 سال سے کم ثابت ہوئی تو اس کا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے گا، جبکہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قانون انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ، ایکس، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگا۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ پابندی صرف سوشل میڈیا کے مواد شیئر کرنے والے حصے پر ہوگی، جبکہ میسجنگ سروسز اس قانون کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گی۔ اسی طرح آن لائن انسائیکلوپیڈیا، تعلیمی اور سائنسی ویب سائٹس پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/220931453d397a2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/220931453d397a2.webp'  alt='(فرانس کی قومی اسمبلی میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بل پر ووٹنگ کے نتائج اسکرین پر دکھائے جا رہے ہیں۔ )' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(فرانس کی قومی اسمبلی میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بل پر ووٹنگ کے نتائج اسکرین پر دکھائے جا رہے ہیں۔ )&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون اس اقدام کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں میں تنہائی، ہراسانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ انہوں نے ماضی میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور چین کے الگورتھمز نوجوانوں کے جذبات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ ہمارے بچوں کا دماغ فروخت کے لیے نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی صحت عامہ سے متعلق اداروں نے بھی گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نوجوانوں، خصوصاً لڑکیوں، کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی دوران فرانس میں کئی خاندانوں نے ٹک ٹاک کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پلیٹ فارم پر موجود بعض نقصان دہ مواد کا تعلق نوعمر بچوں کی خودکشیوں سے تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508995'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508995"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فرانس کا یہ اقدام یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ جرمنی، یونان، پرتگال، ڈنمارک، پولینڈ، آسٹریا، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک ایسے قوانین پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین بھی موسم گرما کی تعطیلات کے بعد بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے اپنا قانون پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے ایک مشترکہ نظام پر بھی کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس قانون کو بچوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔  تاہم بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متعدد والدین نے اس قانون کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں بچوں کی حفاظت کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کم عمر بچوں کو شراب یا دیگر نقصان دہ اشیا سے محفوظ رکھنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانس کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق ایک اہم قانون منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد فرانس یورپی یونین کا پہلا بڑا ملک بن گیا ہے جس نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے اس نوعیت کا جامع اقدام کیا ہے۔</strong></p>
<p>اس قانون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں ایوانوں سے منظوری مل چکی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد سے قبل فرانس کی آئینی کونسل اس کا جائزہ لے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قانون آئین سے مطابقت رکھتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506516/social-media-age-restrictions-worldwide-from-debate-to-legislation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قانون کے مطابق یکم ستمبر سے 15 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا پر نئے اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے۔ اس کے بعد جنوری 2027 سے ایسے بچوں کے پہلے سے موجود اکاؤنٹس بھی بند کر دیے جائیں گے۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق اگر کسی صارف کی عمر 15 سال سے کم ثابت ہوئی تو اس کا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے گا، جبکہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p>یہ قانون انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ، ایکس، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگا۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ پابندی صرف سوشل میڈیا کے مواد شیئر کرنے والے حصے پر ہوگی، جبکہ میسجنگ سروسز اس قانون کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گی۔ اسی طرح آن لائن انسائیکلوپیڈیا، تعلیمی اور سائنسی ویب سائٹس پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/220931453d397a2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/220931453d397a2.webp'  alt='(فرانس کی قومی اسمبلی میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بل پر ووٹنگ کے نتائج اسکرین پر دکھائے جا رہے ہیں۔ )' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(فرانس کی قومی اسمبلی میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بل پر ووٹنگ کے نتائج اسکرین پر دکھائے جا رہے ہیں۔ )</figcaption>
    </figure>
<p>فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون اس اقدام کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں میں تنہائی، ہراسانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ انہوں نے ماضی میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور چین کے الگورتھمز نوجوانوں کے جذبات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ ہمارے بچوں کا دماغ فروخت کے لیے نہیں ہے۔</p>
<p>فرانس کی صحت عامہ سے متعلق اداروں نے بھی گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نوجوانوں، خصوصاً لڑکیوں، کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی دوران فرانس میں کئی خاندانوں نے ٹک ٹاک کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پلیٹ فارم پر موجود بعض نقصان دہ مواد کا تعلق نوعمر بچوں کی خودکشیوں سے تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508995'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508995"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب فرانس کا یہ اقدام یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ جرمنی، یونان، پرتگال، ڈنمارک، پولینڈ، آسٹریا، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک ایسے قوانین پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین بھی موسم گرما کی تعطیلات کے بعد بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے اپنا قانون پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے ایک مشترکہ نظام پر بھی کام جاری ہے۔</p>
<p>اگرچہ اس قانون کو بچوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔  تاہم بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متعدد والدین نے اس قانون کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں بچوں کی حفاظت کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کم عمر بچوں کو شراب یا دیگر نقصان دہ اشیا سے محفوظ رکھنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509724</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 09:45:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2209294293bc670.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2209294293bc670.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
