<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 00:19:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Jul 2026 00:19:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حملے نہ روکے تو ایسا فوجی آپریشن کریں گے جس پر امریکا میں سوگ منایا جائے گا: ایران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509847/if-attacks-are-not-stopped-we-will-carry-out-a-military-operation-that-will-be-mourned-in-america-iran</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران نہ صرف مسلسل میزائل اور حملہ آور ڈرون تیار کر رہا ہے بلکہ اس کے میزائل سازی کے مراکز بھی امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں۔ آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی جب کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 10 ایم کیو نائن ڈرونز تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://farsnews.ir/Qaysar/1784734766967540470/IRGC-Warns-US-of-Regrettable-Military-Operation-If-Attacks-on-Iran-Continue"&gt;فارس نیوز ایجنسی&lt;/a&gt; کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو ایران ایک ایسا ”افسوسناک فوجی آپریشن“ کرے گا، جس کے بعد امریکا میں عوامی سوگ منانا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509809/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی آر جی سی کے مطابق ملک سے جنگ کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ جارحیت کرنے والے فریق کو اس کے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر موجودہ جوابی کارروائیاں کافی ثابت نہ ہوئیں اور امریکا نے اپنے حملے جاری رکھے تو ایران مزید سخت فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق گزشتہ ہفتے سے امریکا ایران کے مختلف فوجی اور شہری مقامات پر فضائی حملے کر رہا ہے جب کہ اس کے جواب میں ایران نے خطے کے مختلف ممالک میں امریکی فوج کی جانب سے استعمال ہونے والی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ایرو اسپیس فورس نے اردن میں واقع کنگ فیصل اور پرنس حسن فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ بیان کے مطابق ایک حملے میں ایف-15 طیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والا ہینگر نشانہ بنا جب کہ ایک دوسرے حملے میں ڈرونز کی تیاری کے ہینگر میں موجود 8 نئے ایم کیو-9  ڈرونز، جو ابھی شپنگ کنٹینرز میں بند تھے، مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PressTV/status/2079883674401607824?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PressTV/status/2079883674401607824?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی آر جی سی نے مزید دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر 10 ایم کیو-9 ڈرونز تباہ کیے گئے جب کہ 2 امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں کو شدید نقصان پہنچا اور ان حملوں میں متعدد امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں آبنائے ہرمز کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ رات کسی بھی بحری جہاز نے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش نہیں کی، جس کے باعث وہاں کوئی دھماکا پیش نہیں آیا۔ آئی آر جی سی کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود امریکا نے ایرانی فوجی اور شہری تنصیبات پر فضائی اور میزائل حملے جاری رکھے، جن کا ایران کی جانب سے سخت جواب دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509719/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509719"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/inpqpc?update=4796292"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt; نے ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا کہ امریکا مسلسل حملوں اور وسیع انٹیلی جنس سرگرمیوں کے باوجود ایران کے میزائل تیار کرنے والے مراکز کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز سے لے کر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے نافذ ہونے تک ایران نے مسلسل میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز کی تیاری جاری رکھی۔ ان کے مطابق تیار کیے جانے والے میزائل براہِ راست پیداواری مراکز سے آپریشنل استعمال کے لیے منتقل کیے جا رہے ہیں جب کہ ساتھ ہی ایران اپنے میزائل ذخائر کو بھی دوبارہ بھر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/OSINTWarfare/status/2079907265293795442?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/OSINTWarfare/status/2079907265293795442?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران کی دفاعی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی اور میزائل پروگرام پوری طرح فعال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایران امریکا کی توقعات سے کہیں زیادہ امریکی حملوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے نے مئی میں اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس جنگ سے قبل موجود میزائل ذخیرے کا تقریباً 70 فیصد اب بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایرانی ہتھیار، خصوصاً ڈرونز، نسبتاً کم لاگت میں تیار کیے جا سکتے ہیں جب کہ انہیں تباہ کرنے کے لیے امریکا کو لاکھوں ڈالر مالیت کے دفاعی نظام استعمال کرنا پڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران نہ صرف مسلسل میزائل اور حملہ آور ڈرون تیار کر رہا ہے بلکہ اس کے میزائل سازی کے مراکز بھی امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں۔ آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی جب کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 10 ایم کیو نائن ڈرونز تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://farsnews.ir/Qaysar/1784734766967540470/IRGC-Warns-US-of-Regrettable-Military-Operation-If-Attacks-on-Iran-Continue">فارس نیوز ایجنسی</a> کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو ایران ایک ایسا ”افسوسناک فوجی آپریشن“ کرے گا، جس کے بعد امریکا میں عوامی سوگ منانا پڑے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509809/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی آر جی سی کے مطابق ملک سے جنگ کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ جارحیت کرنے والے فریق کو اس کے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر موجودہ جوابی کارروائیاں کافی ثابت نہ ہوئیں اور امریکا نے اپنے حملے جاری رکھے تو ایران مزید سخت فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق گزشتہ ہفتے سے امریکا ایران کے مختلف فوجی اور شہری مقامات پر فضائی حملے کر رہا ہے جب کہ اس کے جواب میں ایران نے خطے کے مختلف ممالک میں امریکی فوج کی جانب سے استعمال ہونے والی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ایرو اسپیس فورس نے اردن میں واقع کنگ فیصل اور پرنس حسن فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ بیان کے مطابق ایک حملے میں ایف-15 طیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والا ہینگر نشانہ بنا جب کہ ایک دوسرے حملے میں ڈرونز کی تیاری کے ہینگر میں موجود 8 نئے ایم کیو-9  ڈرونز، جو ابھی شپنگ کنٹینرز میں بند تھے، مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PressTV/status/2079883674401607824?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PressTV/status/2079883674401607824?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آئی آر جی سی نے مزید دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر 10 ایم کیو-9 ڈرونز تباہ کیے گئے جب کہ 2 امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں کو شدید نقصان پہنچا اور ان حملوں میں متعدد امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔</p>
<p>بیان میں آبنائے ہرمز کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ رات کسی بھی بحری جہاز نے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش نہیں کی، جس کے باعث وہاں کوئی دھماکا پیش نہیں آیا۔ آئی آر جی سی کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود امریکا نے ایرانی فوجی اور شہری تنصیبات پر فضائی اور میزائل حملے جاری رکھے، جن کا ایران کی جانب سے سخت جواب دیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509719/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509719"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قطری نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/inpqpc?update=4796292">الجزیرہ</a> نے ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا کہ امریکا مسلسل حملوں اور وسیع انٹیلی جنس سرگرمیوں کے باوجود ایران کے میزائل تیار کرنے والے مراکز کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے۔</p>
<p>ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے آغاز سے لے کر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے نافذ ہونے تک ایران نے مسلسل میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز کی تیاری جاری رکھی۔ ان کے مطابق تیار کیے جانے والے میزائل براہِ راست پیداواری مراکز سے آپریشنل استعمال کے لیے منتقل کیے جا رہے ہیں جب کہ ساتھ ہی ایران اپنے میزائل ذخائر کو بھی دوبارہ بھر رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/OSINTWarfare/status/2079907265293795442?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/OSINTWarfare/status/2079907265293795442?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران کی دفاعی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی اور میزائل پروگرام پوری طرح فعال ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایران امریکا کی توقعات سے کہیں زیادہ امریکی حملوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے نے مئی میں اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس جنگ سے قبل موجود میزائل ذخیرے کا تقریباً 70 فیصد اب بھی موجود ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایرانی ہتھیار، خصوصاً ڈرونز، نسبتاً کم لاگت میں تیار کیے جا سکتے ہیں جب کہ انہیں تباہ کرنے کے لیے امریکا کو لاکھوں ڈالر مالیت کے دفاعی نظام استعمال کرنا پڑتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509847</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 22:00:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/22215548fbcbf88.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/22215548fbcbf88.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
