<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 10:48:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Jul 2026 10:48:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کے ایران پر مسلسل 12ویں روز حملے، میزائل اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509876/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائیاں بدھ کی رات واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 30 منٹ پر مکمل ہوئیں، جو گرین وچ وقت کے مطابق جمعرات کو 2 بج کر 30 منٹ بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/CENTCOM/status/2080122559547179197"&gt;سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم &lt;/a&gt;ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی جگہیں، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509847/if-attacks-are-not-stopped-we-will-carry-out-a-military-operation-that-will-be-mourned-in-america-iran'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509847"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ بدھ تک سینٹ کام نے ایران جانے یا وہاں سے نکلنے والے بحری راستوں پر کارروائی کرتے ہوئے 9 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، جبکہ ایک جہاز کو بھی ناکارہ بنا دیا تاکہ کوئی بھی جہاز ایرانی بندرگاہوں میں داخل نہ ہو سکے یا وہاں سے روانہ نہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران آبنائے ہرمز میں اپنی جانب سے بحری ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے، جبکہ امریکی افواج بھی ایرانی بحری نقل و حمل کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جانب سے اس امریکی بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آزاد ذرائع سے ان حملوں یا ان کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات کی فوری طور پر تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509809/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران نہ صرف مسلسل میزائل اور حملہ آور ڈرون تیار کر رہا ہے بلکہ اس کے میزائل سازی کے مراکز بھی امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائیاں بدھ کی رات واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 30 منٹ پر مکمل ہوئیں، جو گرین وچ وقت کے مطابق جمعرات کو 2 بج کر 30 منٹ بنتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/CENTCOM/status/2080122559547179197">سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم </a>ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی جگہیں، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509847/if-attacks-are-not-stopped-we-will-carry-out-a-military-operation-that-will-be-mourned-in-america-iran'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509847"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ بدھ تک سینٹ کام نے ایران جانے یا وہاں سے نکلنے والے بحری راستوں پر کارروائی کرتے ہوئے 9 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، جبکہ ایک جہاز کو بھی ناکارہ بنا دیا تاکہ کوئی بھی جہاز ایرانی بندرگاہوں میں داخل نہ ہو سکے یا وہاں سے روانہ نہ ہو سکے۔</p>
<p>سینٹ کام کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران آبنائے ہرمز میں اپنی جانب سے بحری ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے، جبکہ امریکی افواج بھی ایرانی بحری نقل و حمل کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں۔</p>
<p>ایران کی جانب سے اس امریکی بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آزاد ذرائع سے ان حملوں یا ان کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات کی فوری طور پر تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509809/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران نہ صرف مسلسل میزائل اور حملہ آور ڈرون تیار کر رہا ہے بلکہ اس کے میزائل سازی کے مراکز بھی امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں۔</p>
<p>پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509876</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 08:50:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/23085012d4bcfbd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/23085012d4bcfbd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
