<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 11:29:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Jul 2026 11:29:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیجی ممالک میں سی آئی اے کے خفیہ مراکز پر ایرانی حملے کیسے ممکن ہوئے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509880/iran-strikes-on-cia-facilities-prompt-questions-about-possible-russian-role</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیج کے خطے میں امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے مراکز پر ایرانی ڈرون حملوں کے بعد امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ کیا روس نے ایران کو ان حملوں کے لیے معلومات یا جدید ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی تھی؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/iran-strikes-cia-facilities-prompt-questions-about-possible-russian-role-2026-07-22/"&gt;’رائٹرز‘&lt;/a&gt; کے مطابق، امریکی قومی سلامتی کے امور سے واقف چار اہم ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ فی الحال امریکی حکام کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں، لیکن ان حملوں کی غیر معمولی درستگی اور روس کی جانب سے ایران کی مسلسل فنی معاونت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ روس اس میں ملوث ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق رواں سال مارچ کے دوران خطے میں سی آئی اے کے کم از کم دو اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے ایک ریاض میں امریکی سفارت خانے کے اندر قائم سی آئی اے اسٹیشن اور دوسرا مشرقی عراق میں واقع ایک مرکز تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2028971073040007565?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2028971073040007565?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خلیج میں موجود دو مغربی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ ریاض حملے میں ایران کے شاہد ڈرونز کے وہ جدید ماڈلز استعمال کیے گئے جنہیں روس نے تکنیکی طور پر اپ گریڈ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ایک ڈرون نے سفارت خانے کی عمارت کی بیرونی دیوار میں سوراخ کیا اور دوسرا ڈرون اسی سوراخ کے اندر داخل ہو کر دھماکے سے پھٹ گیا۔ تاہم اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509384/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509384"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق، انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ روس نے ایران کے ’شاہد 136‘ ڈرونز کے لیے ’کومیٹا ایم‘ نامی ایک جدید سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم فراہم کیا ہے جس سے ڈرونز کی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو گئی ہے اور ان کے سگنلز کو جام کرنا بھی نہایت مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق سی آئی اے اسٹیشن چیف اور انڈر کور آپریشنز آفیسر ڈینیئل ہوفمین نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ماسکو اپنے قریبی اسٹریٹجک شراکت دار ایران کو سی آئی اے کے مراکز کو نشانہ بنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے تو اس پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک اپنے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں سے امریکی اثر و رسوخ کو ختم یا کم کرنے میں مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509411/abbas-araghchi-says-us-and-israel-had-intelligence-on-iranian-leadership-meetings-before-attack'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509411"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے نیویگیشن سسٹم کی فراہمی سے متعلق جاری کی گئی رپورٹ کو کریملن نے پہلے ہی جھوٹی خبر قرار دے کر مسترد کر دیا تھا، لیکن امریکی حکام اب اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کیا ایران نے ان حملوں کے لیے روس سے سیٹلائٹ ڈیٹا حاصل کیا یا پھر انہوں نے اتفاقیہ طور پر سفارت خانے کے اس حصے کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وائٹ ہاؤس، سی آئی اے، اقوام متحدہ میں ایرانی مشن، روسی وزارتِ دفاع اور سعودی حکومت نے فی الحال اس تمام معاملے پر کسی قسم کا رسمی موقف یا تبصرہ دینے سے گریز کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیج کے خطے میں امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے مراکز پر ایرانی ڈرون حملوں کے بعد امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ کیا روس نے ایران کو ان حملوں کے لیے معلومات یا جدید ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی تھی؟</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/iran-strikes-cia-facilities-prompt-questions-about-possible-russian-role-2026-07-22/">’رائٹرز‘</a> کے مطابق، امریکی قومی سلامتی کے امور سے واقف چار اہم ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ فی الحال امریکی حکام کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں، لیکن ان حملوں کی غیر معمولی درستگی اور روس کی جانب سے ایران کی مسلسل فنی معاونت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ روس اس میں ملوث ہو سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق رواں سال مارچ کے دوران خطے میں سی آئی اے کے کم از کم دو اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے ایک ریاض میں امریکی سفارت خانے کے اندر قائم سی آئی اے اسٹیشن اور دوسرا مشرقی عراق میں واقع ایک مرکز تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2028971073040007565?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2028971073040007565?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>خلیج میں موجود دو مغربی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ ریاض حملے میں ایران کے شاہد ڈرونز کے وہ جدید ماڈلز استعمال کیے گئے جنہیں روس نے تکنیکی طور پر اپ گریڈ کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ایک ڈرون نے سفارت خانے کی عمارت کی بیرونی دیوار میں سوراخ کیا اور دوسرا ڈرون اسی سوراخ کے اندر داخل ہو کر دھماکے سے پھٹ گیا۔ تاہم اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509384/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509384"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز کے مطابق، انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ روس نے ایران کے ’شاہد 136‘ ڈرونز کے لیے ’کومیٹا ایم‘ نامی ایک جدید سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم فراہم کیا ہے جس سے ڈرونز کی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو گئی ہے اور ان کے سگنلز کو جام کرنا بھی نہایت مشکل ہے۔</p>
<p>سابق سی آئی اے اسٹیشن چیف اور انڈر کور آپریشنز آفیسر ڈینیئل ہوفمین نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ماسکو اپنے قریبی اسٹریٹجک شراکت دار ایران کو سی آئی اے کے مراکز کو نشانہ بنانے میں مدد فراہم کر رہا ہے تو اس پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک اپنے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں سے امریکی اثر و رسوخ کو ختم یا کم کرنے میں مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509411/abbas-araghchi-says-us-and-israel-had-intelligence-on-iranian-leadership-meetings-before-attack'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509411"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے نیویگیشن سسٹم کی فراہمی سے متعلق جاری کی گئی رپورٹ کو کریملن نے پہلے ہی جھوٹی خبر قرار دے کر مسترد کر دیا تھا، لیکن امریکی حکام اب اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کیا ایران نے ان حملوں کے لیے روس سے سیٹلائٹ ڈیٹا حاصل کیا یا پھر انہوں نے اتفاقیہ طور پر سفارت خانے کے اس حصے کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>دوسری جانب وائٹ ہاؤس، سی آئی اے، اقوام متحدہ میں ایرانی مشن، روسی وزارتِ دفاع اور سعودی حکومت نے فی الحال اس تمام معاملے پر کسی قسم کا رسمی موقف یا تبصرہ دینے سے گریز کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509880</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:29:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2309215968aeb86.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2309215968aeb86.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
