<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 17:06:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Jul 2026 17:06:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاکروچ جنتا پارٹی اور بھارتی طلبا کا احتجاج، بولی ووڈ شخصیات بھی بول پڑیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509928/cockroach-janta-party-and-indian-students-protest-bollywood-celebrities-also-speak-out</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور تعلیمی نظام میں تبدیلیوں کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جاری طلبہ کے احتجاج پر بولی ووڈ اور شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ اس معاملے پر بھارتی فنکاروں کے بیانات کا ایک تانتا بندھ گیا ہے، جس میں کچھ مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں تو کچھ کا کہنا ہے کہ احتجاج کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں، آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے بعد اس معاملے نے پورے بھارت میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق لاکھوں طلبہ سرکاری ملازمتوں، میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے مبینہ پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی وڈ کے سپر اسٹار سلمان خان نے سوشل میڈیا پر اپنا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا، ”یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے ملک کے طلبہ ایک بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے ہیں اور ان کے والدین نے بھی ان کی حمایت کی ہے۔ یہ ایک انتہائی پرامن تحریک تھی اور اس بات کا بہت دکھ ہے کہ اسے پرتشدد رخ اختیار کرنا پڑا۔ پرچہ لیک ہونا ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/23143648fd01507.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/23143648fd01507.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ عالیہ بھٹ نے بھی انسٹاگرام پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ”پچھلے چند دنوں میں جو کچھ ہوا، اس نے میرا دل توڑ دیا۔ لیکن طلبہ کی ہمت اور عزم نے مجھے امید دی ہے۔ میں طلبہ کے خوابوں اور ان کے اہلخانہ کی امیدوں کو سلام پیش کرتی ہوں۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/23143828da97f70.avif'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/23143828da97f70.avif'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سینئر اداکار نصیر الدین شاہ نے اپنے ویڈیو بیان میں پولیس کی سخت کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایک جاہل شخص ملک کی رہنمائی کرے گا تو اس کا دل یہی چاہے گا کہ پورا ملک جاہل اور بے رحم بن جائے۔ طلبہ ہمت نہ ہاریں، پورا ملک ان کے ساتھ ہے اور حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سب یاد رکھا جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نصیر الدین شاہ نے ان بڑے بولی ووڈ ستکاروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو اس معاملے پر خاموش ہیں اور ان کی خاموشی کو ان کے ذاتی مفاد سے جوڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/231449202379587.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/231449202379587.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنوب کے مشہور اداکار اور سیاستدان کمل ہاسن نے بھی طلبہ کہ حمایت کرتے ہوئے ایک جذباتی پیغام جاری کیا اور کہا، ”ہمیں اس وقت سننا چاہیے تھا جب ایک بچہ رویا تھا، لیکن ہم نے تب تک انتظار کیا جب تک بہت سے بچے اپنی جانیں نہ گنوا بیٹھے۔ جس نظام میں پڑھائی کی جگہ کوچنگ اور قابلیت کی جگہ جرم لے لے، وہ نظام گل سڑ چکا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی وڈ کے سینئر اداکار پرکاش راج نے احتجاج پر خاموش رہنے والے فنکاروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ”ایسی تحریکیں بتا دیتی ہیں کہ کون عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ میری خواہش تھی کہ کئی بڑے اداکار بھی اپنی آواز اس مقصد کے لیے استعمال کرتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ تاریخ شاید غلطی کرنے والوں کو معاف کر دے، مگر خاموش رہنے والوں کو نہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکار عمران خان نے ممبئی میں بچوں کے ساتھ بارش میں پیدل مارچ کرتے ہوئے کہا، ”میں یہاں ان تمام بچوں کی حمایت کے لیے آیا ہوں جن کی دن رات کی محنت کو ضائع کر دیا گیا۔ یہ ہمارے ملک کے مستقبل کی لڑائی ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/2314434641aafa6.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/2314434641aafa6.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر گلوکار دلجیت دوسانجھ نے کہا، ”جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے، طلبہ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ عوام کی آواز ہی خدا کی آواز ہے، حکام کو ان کی بات سننی چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف سینئر اداکار انوپم کھیر اور پریتی زنٹا نے بچوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے ایک محتاط موقف اپنایا۔ انوپم کھیر کا کہنا تھا، ”میں طلبہ کے ساتھ کھڑا ہوں لیکن انہیں محتاط رہنا چاہیے کہ سیاسی موقع پرست اور بیرونی لوگ ان تحریکوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال نہ کریں۔“ اداکارہ پریتی زنٹا نے طلبہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سونم وانگ چک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل بھی کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/2315153397db7f6.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/2315153397db7f6.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ اور رکن پارلیمان کنگنا رناوت نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اتنی سی بات پر وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ بالکل غلط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اس احتجاج کی حمایت کرنے والی دیگر معروف شخصیات میں شبانہ اعظمی، رتنا پاٹھک شاہ، سوارا بھاسکر، سونو سود، دیا مرزا، راج کمار راؤ، رچا چڈھا، انوراگ کشیپ، دولکر سلمان، پوجا بھٹ، ہما قریشی اور ارجیت سنگھ سمیت متعدد فنکار  نے بھی طلبہ کی ہمت کی تعریف کی ہے اور حکومت سے بات چیت کے ذریعے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے، احتجاج جاری رہے گا۔ ادھر حکومت نے دارالحکومت میں سکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے اضافی نیم فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحانی پیپر لیک کے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد صرف ایک امتحان یا ایک حکومت کے خلاف نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کے خلاف ہے جس نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس پر بھی حملے ہوئے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں بھارت میں جاری یہ احتجاج اب صرف طلبہ کی تحریک نہیں رہا بلکہ یہ تعلیمی نظام، حکومتی پالیسیوں اور عوامی اعتماد سے جڑا ایک بڑا قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس پر ملک کی فلمی صنعت بھی کھل کر اپنی رائے دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور تعلیمی نظام میں تبدیلیوں کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جاری طلبہ کے احتجاج پر بولی ووڈ اور شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ اس معاملے پر بھارتی فنکاروں کے بیانات کا ایک تانتا بندھ گیا ہے، جس میں کچھ مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں تو کچھ کا کہنا ہے کہ احتجاج کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں، آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے بعد اس معاملے نے پورے بھارت میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق لاکھوں طلبہ سرکاری ملازمتوں، میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے مبینہ پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔</p>
<p>بولی وڈ کے سپر اسٹار سلمان خان نے سوشل میڈیا پر اپنا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا، ”یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے ملک کے طلبہ ایک بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے ہیں اور ان کے والدین نے بھی ان کی حمایت کی ہے۔ یہ ایک انتہائی پرامن تحریک تھی اور اس بات کا بہت دکھ ہے کہ اسے پرتشدد رخ اختیار کرنا پڑا۔ پرچہ لیک ہونا ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/23143648fd01507.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/23143648fd01507.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اداکارہ عالیہ بھٹ نے بھی انسٹاگرام پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ”پچھلے چند دنوں میں جو کچھ ہوا، اس نے میرا دل توڑ دیا۔ لیکن طلبہ کی ہمت اور عزم نے مجھے امید دی ہے۔ میں طلبہ کے خوابوں اور ان کے اہلخانہ کی امیدوں کو سلام پیش کرتی ہوں۔“</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/23143828da97f70.avif'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/23143828da97f70.avif'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح سینئر اداکار نصیر الدین شاہ نے اپنے ویڈیو بیان میں پولیس کی سخت کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایک جاہل شخص ملک کی رہنمائی کرے گا تو اس کا دل یہی چاہے گا کہ پورا ملک جاہل اور بے رحم بن جائے۔ طلبہ ہمت نہ ہاریں، پورا ملک ان کے ساتھ ہے اور حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سب یاد رکھا جائے گا۔“</p>
<p>نصیر الدین شاہ نے ان بڑے بولی ووڈ ستکاروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو اس معاملے پر خاموش ہیں اور ان کی خاموشی کو ان کے ذاتی مفاد سے جوڑا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/231449202379587.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/231449202379587.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جنوب کے مشہور اداکار اور سیاستدان کمل ہاسن نے بھی طلبہ کہ حمایت کرتے ہوئے ایک جذباتی پیغام جاری کیا اور کہا، ”ہمیں اس وقت سننا چاہیے تھا جب ایک بچہ رویا تھا، لیکن ہم نے تب تک انتظار کیا جب تک بہت سے بچے اپنی جانیں نہ گنوا بیٹھے۔ جس نظام میں پڑھائی کی جگہ کوچنگ اور قابلیت کی جگہ جرم لے لے، وہ نظام گل سڑ چکا ہے۔“</p>
<p>بولی وڈ کے سینئر اداکار پرکاش راج نے احتجاج پر خاموش رہنے والے فنکاروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ”ایسی تحریکیں بتا دیتی ہیں کہ کون عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ میری خواہش تھی کہ کئی بڑے اداکار بھی اپنی آواز اس مقصد کے لیے استعمال کرتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ تاریخ شاید غلطی کرنے والوں کو معاف کر دے، مگر خاموش رہنے والوں کو نہیں۔“</p>
<p>اداکار عمران خان نے ممبئی میں بچوں کے ساتھ بارش میں پیدل مارچ کرتے ہوئے کہا، ”میں یہاں ان تمام بچوں کی حمایت کے لیے آیا ہوں جن کی دن رات کی محنت کو ضائع کر دیا گیا۔ یہ ہمارے ملک کے مستقبل کی لڑائی ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/2314434641aafa6.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/2314434641aafa6.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ادھر گلوکار دلجیت دوسانجھ نے کہا، ”جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے، طلبہ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ عوام کی آواز ہی خدا کی آواز ہے، حکام کو ان کی بات سننی چاہیے۔“</p>
<p>دوسری طرف سینئر اداکار انوپم کھیر اور پریتی زنٹا نے بچوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے ایک محتاط موقف اپنایا۔ انوپم کھیر کا کہنا تھا، ”میں طلبہ کے ساتھ کھڑا ہوں لیکن انہیں محتاط رہنا چاہیے کہ سیاسی موقع پرست اور بیرونی لوگ ان تحریکوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال نہ کریں۔“ اداکارہ پریتی زنٹا نے طلبہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سونم وانگ چک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل بھی کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/2315153397db7f6.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/2315153397db7f6.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اداکارہ اور رکن پارلیمان کنگنا رناوت نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اتنی سی بات پر وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ بالکل غلط ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ اس احتجاج کی حمایت کرنے والی دیگر معروف شخصیات میں شبانہ اعظمی، رتنا پاٹھک شاہ، سوارا بھاسکر، سونو سود، دیا مرزا، راج کمار راؤ، رچا چڈھا، انوراگ کشیپ، دولکر سلمان، پوجا بھٹ، ہما قریشی اور ارجیت سنگھ سمیت متعدد فنکار  نے بھی طلبہ کی ہمت کی تعریف کی ہے اور حکومت سے بات چیت کے ذریعے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے، احتجاج جاری رہے گا۔ ادھر حکومت نے دارالحکومت میں سکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے اضافی نیم فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحانی پیپر لیک کے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد صرف ایک امتحان یا ایک حکومت کے خلاف نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کے خلاف ہے جس نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس پر بھی حملے ہوئے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>یوں بھارت میں جاری یہ احتجاج اب صرف طلبہ کی تحریک نہیں رہا بلکہ یہ تعلیمی نظام، حکومتی پالیسیوں اور عوامی اعتماد سے جڑا ایک بڑا قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس پر ملک کی فلمی صنعت بھی کھل کر اپنی رائے دے رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509928</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 15:20:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2315185829bb942.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2315185829bb942.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
