<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 13:41:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 24 Jul 2026 13:41:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج: سابق بھارتی کرکٹرز طلبہ کے حق میں بول پڑے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510040/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ تحریک کو سابق بھارتی کرکٹرز کی بھی حمایت حاصل ہونے لگی ہے۔ سچن ٹنڈولکر سمیت دیگر سابق کرکٹرز بھی طلبہ کے مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور پرامن احتجاج کے حق میں بول پڑے ہیں، انہوں نے اپنی حمایت اپنے خیالات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تفصیلی پیغام میں لکھا کہ ان کے والد ایک پروفیسر تھے، جنہوں نے انہیں بچپن سے یہ سبق دیا تھا کہ ناکامی قابل قبول ہے لیکن دھوکا دہی نہیں، اور زندگی میں کبھی شارٹ کٹ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچن ٹنڈولکر نے لکھا کہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی ثقافت کو فروغ دے جس میں محنت، دیانت داری اور میرٹ کو اہمیت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو ترجیح دے تو وہاں میرٹ کے بجائے شارٹ کٹ تلاش کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق بھارتی کرکٹر کا مزید کہنا تھا کہ آج اگر طلبہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو ان کے جذبات قابلِ فہم ہیں، اس لیے سب کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں نوجوانوں کو دوبارہ ایسی مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سچن نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ ملک مل کر ایسے حل تلاش کرے گا جو بچوں کے مستقبل اور ان کے خوابوں کا تحفظ کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sachin_rt/status/2080307190221664539?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sachin_rt/status/2080307190221664539?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سابق بھارتی آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے نئی دہلی طلبا احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر طالب علم اپنے بہتر مستقبل کے لیے برسوں محنت کرتا ہے جبکہ اس کے اہل خانہ بھی اس سفر میں قربانیاں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت پرچہ لیک ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے طلبہ کی امیدیں متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکام ہر طالب علم کو منصفانہ موقع فراہم کریں گے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ ہی ملک کا مستقبل ہیں، اس لیے ان کے خوابوں کا تحفظ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IrfanPathan/status/2080318624116727976?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IrfanPathan/status/2080318624116727976?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سابق بھارتی کرکٹر محمد کیف بھی طلبا پر ہونے والے ظلم کے خلاف خاموش نہ رہ سکے۔ انہوں نے پولیس کی بدترین کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر پیغام میں لکھا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے انہیں یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ تعلیمی نظام کی خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ سختی سے نمٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج بند ہونا چاہیے اور امید ظاہر کی کہ اس مسئلے کا جلد کوئی حل نکل آئے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MohammadKaif/status/2080213099450433934?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MohammadKaif/status/2080213099450433934?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور مبصر سنجے منجریکر نے بھی نوجوانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کے نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں کیونکہ یہی نوجوان مستقبل میں بھارت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sanjaymanjrekar/status/2080409537576591630?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sanjaymanjrekar/status/2080409537576591630?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وہیں ایک اور سابق بھارتی سریش رائنا نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر کہا کہ ہر چیلنج بہتر حل تلاش کرنے کا ایک موقع ہوتا ہے۔ امید ہے کہ موجودہ صورتحال پرسکون اور تعمیری مذاکرات کی طرف لے جائے گی، جہاں سوچ سمجھ کر فیصلے کیے جائیں گے جو طلبہ، تعلیمی اداروں اور پورے ملک کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے اور ایک مضبوط مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ImRaina/status/2080348081795604580'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ImRaina/status/2080348081795604580"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ احتجاج ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نامی ایک تحریک کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز مئی میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر ہوا تھا۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے میڈیکل امتحانات کے پرچوں کے بار بار لیک ہونے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ احتجاج گزشتہ ماہ سے جاری ہے، تاہم حالیہ دنوں میں ایک معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے بعد اس میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی، تاہم اب 26 روز بعد حکومتی یقین دہانیوں کے بعد وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کردی ہے لیکن سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کی جانب سے یہ احتجاج مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرچے لیک ہونے اور تعلیمی نظام کی خرابیوں کے معاملے پر جاری احتجاج حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گیا ہے اور اسے شوبز شخصیات ، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات اور اب معروف کرکٹرز کی جانب سے حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ تحریک کو سابق بھارتی کرکٹرز کی بھی حمایت حاصل ہونے لگی ہے۔ سچن ٹنڈولکر سمیت دیگر سابق کرکٹرز بھی طلبہ کے مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور پرامن احتجاج کے حق میں بول پڑے ہیں، انہوں نے اپنی حمایت اپنے خیالات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تفصیلی پیغام میں لکھا کہ ان کے والد ایک پروفیسر تھے، جنہوں نے انہیں بچپن سے یہ سبق دیا تھا کہ ناکامی قابل قبول ہے لیکن دھوکا دہی نہیں، اور زندگی میں کبھی شارٹ کٹ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>سچن ٹنڈولکر نے لکھا کہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی ثقافت کو فروغ دے جس میں محنت، دیانت داری اور میرٹ کو اہمیت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو ترجیح دے تو وہاں میرٹ کے بجائے شارٹ کٹ تلاش کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>سابق بھارتی کرکٹر کا مزید کہنا تھا کہ آج اگر طلبہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو ان کے جذبات قابلِ فہم ہیں، اس لیے سب کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں نوجوانوں کو دوبارہ ایسی مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سچن نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ ملک مل کر ایسے حل تلاش کرے گا جو بچوں کے مستقبل اور ان کے خوابوں کا تحفظ کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sachin_rt/status/2080307190221664539?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sachin_rt/status/2080307190221664539?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سابق بھارتی آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے نئی دہلی طلبا احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر طالب علم اپنے بہتر مستقبل کے لیے برسوں محنت کرتا ہے جبکہ اس کے اہل خانہ بھی اس سفر میں قربانیاں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت پرچہ لیک ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے طلبہ کی امیدیں متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکام ہر طالب علم کو منصفانہ موقع فراہم کریں گے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ ہی ملک کا مستقبل ہیں، اس لیے ان کے خوابوں کا تحفظ ضروری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IrfanPathan/status/2080318624116727976?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IrfanPathan/status/2080318624116727976?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور سابق بھارتی کرکٹر محمد کیف بھی طلبا پر ہونے والے ظلم کے خلاف خاموش نہ رہ سکے۔ انہوں نے پولیس کی بدترین کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر پیغام میں لکھا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے انہیں یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ تعلیمی نظام کی خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ سختی سے نمٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج بند ہونا چاہیے اور امید ظاہر کی کہ اس مسئلے کا جلد کوئی حل نکل آئے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MohammadKaif/status/2080213099450433934?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MohammadKaif/status/2080213099450433934?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارت کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور مبصر سنجے منجریکر نے بھی نوجوانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کے نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں کیونکہ یہی نوجوان مستقبل میں بھارت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sanjaymanjrekar/status/2080409537576591630?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sanjaymanjrekar/status/2080409537576591630?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وہیں ایک اور سابق بھارتی سریش رائنا نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر کہا کہ ہر چیلنج بہتر حل تلاش کرنے کا ایک موقع ہوتا ہے۔ امید ہے کہ موجودہ صورتحال پرسکون اور تعمیری مذاکرات کی طرف لے جائے گی، جہاں سوچ سمجھ کر فیصلے کیے جائیں گے جو طلبہ، تعلیمی اداروں اور پورے ملک کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے اور ایک مضبوط مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ImRaina/status/2080348081795604580'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ImRaina/status/2080348081795604580"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ احتجاج ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نامی ایک تحریک کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز مئی میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر ہوا تھا۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے میڈیکل امتحانات کے پرچوں کے بار بار لیک ہونے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔</p>
<p>اگرچہ احتجاج گزشتہ ماہ سے جاری ہے، تاہم حالیہ دنوں میں ایک معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے بعد اس میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی، تاہم اب 26 روز بعد حکومتی یقین دہانیوں کے بعد وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کردی ہے لیکن سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کی جانب سے یہ احتجاج مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا۔</p>
<p>پرچے لیک ہونے اور تعلیمی نظام کی خرابیوں کے معاملے پر جاری احتجاج حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گیا ہے اور اسے شوبز شخصیات ، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات اور اب معروف کرکٹرز کی جانب سے حمایت حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510040</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 12:26:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/24115022a74e12a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/24115022a74e12a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
