<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 21:04:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Jul 2026 21:04:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار؛ پاکستان کو آگاہ کر دیا: العریبیہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510368/us-iran-respond-to-pakistan-qatar-proposal-to-resume-negotiations</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کی گئی نئی تجاویز پر اپنے جوابات پاکستان اور قطر کے حوالے کر دیے ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میان جاری کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان معطل ہونے والے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.alarabiya.net/iran/2026/07/26/%D9%88%D8%A7%D8%B4%D9%86%D8%B7%D9%86-%D9%88%D8%B7%D9%87%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%AA%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%B1%D8%AF%D9%8A%D9%87%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%D9%89-%D9%85%D9%82%D8%AA%D8%B1%D8%AD-%D8%A8%D8%A7%D9%83%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%8A-%D9%82%D8%B7%D8%B1%D9%8A-%D9%84%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A6%D9%86%D8%A7%D9%81-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%81%D8%A7%D9%88%D8%B6%D8%A7%D8%AA"&gt;العریبیہ &lt;/a&gt;کے مطابق امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر اپنے اپنے مؤقف سے ثالث ممالک کو آگاہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;العریبیہ نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی روشنی میں امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ایران مذاکرات میں پہلے آبنائے ہرمز، اس کے بعد اپنے منجمد اثاثوں اور آخر میں اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کا خواہاں ہے، تاہم وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی بحری راہداری کے قیام کو مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AlArabiya_Eng/status/2081377324751032400'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AlArabiya_Eng/status/2081377324751032400"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل دوسری رات بھی امریکا کی جانب سے ایران پر حملے نہیں کیے گئے اور نہ ہی ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے تصدیق کی ہے  کہ امریکا نے گزشتہ دو راتوں کے دوران ایران پر حملے نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا ’چوں کہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی ردعمل پر مبنی ہے، اس لیے ہم نے بھی اپنی فوجی کارروائیاں روک رکھی ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے بھی حملے عارضی طور پر روکنے اور سفارتی کوششوں کو موقع دینے کا اشارہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیک والٹز نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر ٹرمپ مذاکرات کو کچھ وقت اور گنجائش دے رہے ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملے عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جا سکے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AlArabiya_Eng/status/2081373762679697858'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AlArabiya_Eng/status/2081373762679697858"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;العریبیہ کے مطابق پاکستان اور قطر نے گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان اور قطر کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی واشنگٹن اور تہران کو 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی ایک نظرثانی شدہ تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز کی دو بنیادی شرائط میں دونوں جانب سے حملے روکنے اور آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی کی بحالی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت عمانی سمندری حدود میں واقع جنوبی بحری راستہ ایرانی حملوں سے محفوظ ہوگا جب کہ ایرانی سمندری حدود میں واقع شمالی بحری راستے پر امریکی بحری ناکہ بندی نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 10 روزہ عارضی جنگ بندی کا مقصد دونوں ممالک کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق ڈیڈلاک کے مستقل حل کے لیے بات چیت کے لیے وقت فراہم کرنا ہے۔ یہی وہ معاملہ ہے جسے پاکستان کی ثالثی میں گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورنڈم) کے معطل ہونے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AlArabiya_Eng/status/2081331276666003792'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AlArabiya_Eng/status/2081331276666003792"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ثالث ممالک 11 جولائی کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں عمان، ایران اور قطر کے درمیان ہونے والی بات چیت میں زیر غور آنے والی تجاویز کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد امریکا نے ایران سے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کی مکمل آزادی کے اعلان کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ عارضی جنگ بندی کے دوران واشنگٹن اور تہران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایک طویل المدتی انتظام پر بھی مذاکرات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ ایران کو بحری سلامتی سے متعلق خدمات کے عوض ’مناسب سروس فیس‘ وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس حوالے سے واقف ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر آبنائے ملاکا کی مثال بھی موجود ہے، جہاں ملائیشیا، انڈونیشیا اور سنگاپور عام ٹرانزٹ فیس کے بجائے مخصوص خدمات کے عوض فیس وصول کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510301/irgc-spokesman-us-death-toll-after-violating-mou-exceeds-200'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510301"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس ایک مشترکہ فنڈ میں جمع کی جائے، جس کی نگرانی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کے نام سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدہ پر الیکٹرانک دستخط کیے تھے جب کہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے بطورِ ثالث اس دستاویز کی توثیق کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم چند روز بعد ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی معطلی کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اعلان کے بعد 12 جولائی کی رات سے امریکی فوج نے ایران پر بمباری کا سلسلہ شروع کیا جو مسلسل 13 راتوں تک جاری رہا، جس کے بعد ایران نے بھی مفاہمتی یادداشت معطل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں واقع امریکی اہداف پر حملے شروع کر دیے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کی گئی نئی تجاویز پر اپنے جوابات پاکستان اور قطر کے حوالے کر دیے ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میان جاری کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان معطل ہونے والے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔</strong></p>
<p>عرب نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.alarabiya.net/iran/2026/07/26/%D9%88%D8%A7%D8%B4%D9%86%D8%B7%D9%86-%D9%88%D8%B7%D9%87%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%AA%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%B1%D8%AF%D9%8A%D9%87%D9%85%D8%A7-%D8%B9%D9%84%D9%89-%D9%85%D9%82%D8%AA%D8%B1%D8%AD-%D8%A8%D8%A7%D9%83%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%D9%8A-%D9%82%D8%B7%D8%B1%D9%8A-%D9%84%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A6%D9%86%D8%A7%D9%81-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%81%D8%A7%D9%88%D8%B6%D8%A7%D8%AA">العریبیہ </a>کے مطابق امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر اپنے اپنے مؤقف سے ثالث ممالک کو آگاہ کر دیا ہے۔</p>
<p>العریبیہ نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی روشنی میں امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ایران مذاکرات میں پہلے آبنائے ہرمز، اس کے بعد اپنے منجمد اثاثوں اور آخر میں اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کا خواہاں ہے، تاہم وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی بحری راہداری کے قیام کو مسترد کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AlArabiya_Eng/status/2081377324751032400'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AlArabiya_Eng/status/2081377324751032400"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل دوسری رات بھی امریکا کی جانب سے ایران پر حملے نہیں کیے گئے اور نہ ہی ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے تصدیق کی ہے  کہ امریکا نے گزشتہ دو راتوں کے دوران ایران پر حملے نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا ’چوں کہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی ردعمل پر مبنی ہے، اس لیے ہم نے بھی اپنی فوجی کارروائیاں روک رکھی ہیں۔‘</p>
<p>دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے بھی حملے عارضی طور پر روکنے اور سفارتی کوششوں کو موقع دینے کا اشارہ دیا ہے۔</p>
<p>مائیک والٹز نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر ٹرمپ مذاکرات کو کچھ وقت اور گنجائش دے رہے ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملے عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جا سکے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AlArabiya_Eng/status/2081373762679697858'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AlArabiya_Eng/status/2081373762679697858"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>العریبیہ کے مطابق پاکستان اور قطر نے گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آ سکیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان اور قطر کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی واشنگٹن اور تہران کو 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی ایک نظرثانی شدہ تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز کی دو بنیادی شرائط میں دونوں جانب سے حملے روکنے اور آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی کی بحالی شامل ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت عمانی سمندری حدود میں واقع جنوبی بحری راستہ ایرانی حملوں سے محفوظ ہوگا جب کہ ایرانی سمندری حدود میں واقع شمالی بحری راستے پر امریکی بحری ناکہ بندی نہیں ہوگی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 10 روزہ عارضی جنگ بندی کا مقصد دونوں ممالک کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق ڈیڈلاک کے مستقل حل کے لیے بات چیت کے لیے وقت فراہم کرنا ہے۔ یہی وہ معاملہ ہے جسے پاکستان کی ثالثی میں گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورنڈم) کے معطل ہونے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AlArabiya_Eng/status/2081331276666003792'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AlArabiya_Eng/status/2081331276666003792"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ثالث ممالک 11 جولائی کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں عمان، ایران اور قطر کے درمیان ہونے والی بات چیت میں زیر غور آنے والی تجاویز کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد امریکا نے ایران سے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کی مکمل آزادی کے اعلان کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ عارضی جنگ بندی کے دوران واشنگٹن اور تہران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایک طویل المدتی انتظام پر بھی مذاکرات کریں گے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ ایران کو بحری سلامتی سے متعلق خدمات کے عوض ’مناسب سروس فیس‘ وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس حوالے سے واقف ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر آبنائے ملاکا کی مثال بھی موجود ہے، جہاں ملائیشیا، انڈونیشیا اور سنگاپور عام ٹرانزٹ فیس کے بجائے مخصوص خدمات کے عوض فیس وصول کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510301/irgc-spokesman-us-death-toll-after-violating-mou-exceeds-200'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510301"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس ایک مشترکہ فنڈ میں جمع کی جائے، جس کی نگرانی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کرے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کے نام سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدہ پر الیکٹرانک دستخط کیے تھے جب کہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے بطورِ ثالث اس دستاویز کی توثیق کی تھی۔</p>
<p>تاہم چند روز بعد ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی معطلی کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>اس اعلان کے بعد 12 جولائی کی رات سے امریکی فوج نے ایران پر بمباری کا سلسلہ شروع کیا جو مسلسل 13 راتوں تک جاری رہا، جس کے بعد ایران نے بھی مفاہمتی یادداشت معطل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں واقع امریکی اہداف پر حملے شروع کر دیے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510368</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 19:35:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2619051301bf83d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2619051301bf83d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
