<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 14:50:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Jul 2026 14:50:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹ بھرا ہونے کے باوجود کچھ کھانے کا دل کیوں کرتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510433/fried-food-food-cravings-healthyeating-dopamine-nutrition-brain-health-food-science-experts-says-research-says</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیٹ بھرنے کے باوجود پکوڑے، سموسے، فرنچ فرائز یا فرائیڈ چکن دیکھ کر انہیں کھانے کی خواہش ہونا ایک عام بات ہے۔ اکثر لوگ اسے صرف ذائقے کی پسند یا اپنی کمزور قوتِ ارادی سمجھتے ہیں، لیکن مختلف سائنسی تحقیقات کے مطابق اس کے پیچھے کئی عوامل ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور یہ کیفیت صرف آپ کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ دنیا بھر میں بہت سے لوگ اس کا تجربہ کرتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس دانوں کے مطابق اس کی وجہ صرف کمزور قوتِ ارادی نہیں بلکہ ہمارے دماغ، ذائقے اور کھانے کی عادتوں کا ایک مشترکہ اثر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف سائنسی تحقیقات کے مطابق جب کسی چیز کو تیل میں تلا جاتا ہے تو اس کی ساخت، خوشبو اور ذائقہ بدل جاتا ہے۔ برازیل کی یونیورسٹی آف ساؤ پالو کی تحقیق کے مطابق تلنے کے دوران خوراک میں موجود پانی کم ہو جاتا ہے، جس سے اس کی بیرونی سطح خستہ اور کراری بن جاتی ہے۔ اسی دوران پروٹین اور نشاستے میں بھی تبدیلی آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس عمل کے دوران ایک کیمیائی تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے جسے ”میلارڈ ری ایکشن“ کہا جاتا ہے۔ یہی عمل کھانے کو سنہری رنگ، دلکش خوشبو اور بھرپور ذائقہ دیتا ہے، جس کے باعث تلی ہوئی چیزیں ابلی ہوئی یا کچی غذا کے مقابلے میں زیادہ پرکشش محسوس ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30470437/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30470437"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ذائقہ ہی نہیں بلکہ ہمارا دماغ بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ”نیچر ریویوز نیوروسائنس“ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جب انسان ایسی غذا کھاتا ہے جو اسے بہت پسند ہو تو دماغ میں ڈوپامین سے متعلق نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ عام طور پر ڈوپامین کو خوشی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن سائنس دانوں کے مطابق اس کا اصل کام دماغ کو خوشگوار تجربات یاد رکھنا اور دوبارہ ان کی طرف مائل کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ انسان کو بھوک نہ بھی ہو، پھر بھی فرنچ فرائز، سموسوں یا پکوڑوں کی خوشبو یا منظر دیکھ کر انہیں کھانے کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/27111532509c5c5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/27111532509c5c5.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ تلی ہوئی چیزیں کھانے کی شدید خواہش کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں کہ جسم میں کسی خاص غذائی جز کی کمی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی خواہشات زیادہ تر روزمرہ عادتوں، اردگرد موجود کھانوں کی خوشبو اور منظر، جذباتی کیفیت اور ماضی کے کھانے کے تجربات سے جڑی ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا تلی ہوئی غذا واقعی صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار تلی ہوئی چیزیں کھانا عام طور پر تشویش کی بات نہیں، لیکن اگر یہی معمول بن جائے تو اس کے منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ ڈاکٹر لیہ اور ان کی ٹیم نے ایک بڑی تحقیق میں ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ بالغ افراد کا بیس سال سے زائد عرصے تک جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ہفتے میں سات یا اس سے زیادہ مرتبہ تلی ہوئی غذائیں کھاتے تھے، ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔ اسی طرح دل کی شریانوں کی بیماری کا خطرہ بھی ان لوگوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ تھا جو ہفتے میں ایک بار سے بھی کم تلی ہوئی چیزیں کھاتے تھے۔ محققین کے مطابق اس اضافی خطرے کی ایک اہم وجہ بڑھتا ہوا وزن، بلند فشارِ خون اور غیر متوازن کولیسٹرول کی سطح بھی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30464644'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30464644"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تلی ہوئی غذا کو زندگی بھر کے لیے مکمل طور پر چھوڑ دیا جائے۔ ان کے مطابق بہتر طریقہ یہ ہے کہ کھانے کے اوقات نہ چھوڑے جائیں کیونکہ زیادہ بھوک ایسی خواہشات کو بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح کسی غذا کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینے سے بھی بعض اوقات اسے کھانے کی خواہش مزید بڑھ جاتی ہے۔ متوازن غذا کھانا اور کبھی کبھار اعتدال کے ساتھ تلی ہوئی چیزوں سے لطف اندوز ہونا نسبتاً بہتر حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں کے مطابق تلی ہوئی غذا کی کشش دراصل ذائقے، خوشبو، بناوٹ اور دماغ کی یادداشت کا ایسا امتزاج ہے جو انسان کو بار بار اسی تجربے کی طرف واپس لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹ بھر جانے کے باوجود کبھی کبھی ایک گرم، خستہ اور خوشبودار نوالہ دل کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیٹ بھرنے کے باوجود پکوڑے، سموسے، فرنچ فرائز یا فرائیڈ چکن دیکھ کر انہیں کھانے کی خواہش ہونا ایک عام بات ہے۔ اکثر لوگ اسے صرف ذائقے کی پسند یا اپنی کمزور قوتِ ارادی سمجھتے ہیں، لیکن مختلف سائنسی تحقیقات کے مطابق اس کے پیچھے کئی عوامل ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور یہ کیفیت صرف آپ کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ دنیا بھر میں بہت سے لوگ اس کا تجربہ کرتے ہیں۔</strong></p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس دانوں کے مطابق اس کی وجہ صرف کمزور قوتِ ارادی نہیں بلکہ ہمارے دماغ، ذائقے اور کھانے کی عادتوں کا ایک مشترکہ اثر ہے۔</p>
<p>مختلف سائنسی تحقیقات کے مطابق جب کسی چیز کو تیل میں تلا جاتا ہے تو اس کی ساخت، خوشبو اور ذائقہ بدل جاتا ہے۔ برازیل کی یونیورسٹی آف ساؤ پالو کی تحقیق کے مطابق تلنے کے دوران خوراک میں موجود پانی کم ہو جاتا ہے، جس سے اس کی بیرونی سطح خستہ اور کراری بن جاتی ہے۔ اسی دوران پروٹین اور نشاستے میں بھی تبدیلی آتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس عمل کے دوران ایک کیمیائی تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے جسے ”میلارڈ ری ایکشن“ کہا جاتا ہے۔ یہی عمل کھانے کو سنہری رنگ، دلکش خوشبو اور بھرپور ذائقہ دیتا ہے، جس کے باعث تلی ہوئی چیزیں ابلی ہوئی یا کچی غذا کے مقابلے میں زیادہ پرکشش محسوس ہوتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30470437/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30470437"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ذائقہ ہی نہیں بلکہ ہمارا دماغ بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ”نیچر ریویوز نیوروسائنس“ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جب انسان ایسی غذا کھاتا ہے جو اسے بہت پسند ہو تو دماغ میں ڈوپامین سے متعلق نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ عام طور پر ڈوپامین کو خوشی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن سائنس دانوں کے مطابق اس کا اصل کام دماغ کو خوشگوار تجربات یاد رکھنا اور دوبارہ ان کی طرف مائل کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ انسان کو بھوک نہ بھی ہو، پھر بھی فرنچ فرائز، سموسوں یا پکوڑوں کی خوشبو یا منظر دیکھ کر انہیں کھانے کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/27111532509c5c5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/27111532509c5c5.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تحقیقات یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ تلی ہوئی چیزیں کھانے کی شدید خواہش کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں کہ جسم میں کسی خاص غذائی جز کی کمی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی خواہشات زیادہ تر روزمرہ عادتوں، اردگرد موجود کھانوں کی خوشبو اور منظر، جذباتی کیفیت اور ماضی کے کھانے کے تجربات سے جڑی ہوتی ہیں۔</p>
<p>سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا تلی ہوئی غذا واقعی صحت کے لیے نقصان دہ ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار تلی ہوئی چیزیں کھانا عام طور پر تشویش کی بات نہیں، لیکن اگر یہی معمول بن جائے تو اس کے منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ ہارورڈ ٹی ایچ چان اسکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ ڈاکٹر لیہ اور ان کی ٹیم نے ایک بڑی تحقیق میں ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ بالغ افراد کا بیس سال سے زائد عرصے تک جائزہ لیا۔</p>
<p>اس تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ہفتے میں سات یا اس سے زیادہ مرتبہ تلی ہوئی غذائیں کھاتے تھے، ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔ اسی طرح دل کی شریانوں کی بیماری کا خطرہ بھی ان لوگوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ تھا جو ہفتے میں ایک بار سے بھی کم تلی ہوئی چیزیں کھاتے تھے۔ محققین کے مطابق اس اضافی خطرے کی ایک اہم وجہ بڑھتا ہوا وزن، بلند فشارِ خون اور غیر متوازن کولیسٹرول کی سطح بھی ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30464644'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30464644"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تلی ہوئی غذا کو زندگی بھر کے لیے مکمل طور پر چھوڑ دیا جائے۔ ان کے مطابق بہتر طریقہ یہ ہے کہ کھانے کے اوقات نہ چھوڑے جائیں کیونکہ زیادہ بھوک ایسی خواہشات کو بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح کسی غذا کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینے سے بھی بعض اوقات اسے کھانے کی خواہش مزید بڑھ جاتی ہے۔ متوازن غذا کھانا اور کبھی کبھار اعتدال کے ساتھ تلی ہوئی چیزوں سے لطف اندوز ہونا نسبتاً بہتر حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں کے مطابق تلی ہوئی غذا کی کشش دراصل ذائقے، خوشبو، بناوٹ اور دماغ کی یادداشت کا ایسا امتزاج ہے جو انسان کو بار بار اسی تجربے کی طرف واپس لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹ بھر جانے کے باوجود کبھی کبھی ایک گرم، خستہ اور خوشبودار نوالہ دل کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510433</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 11:38:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/27114415b383266.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/27114415b383266.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
