<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 18:26:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 28 Jul 2026 18:26:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز کا انتظام؛ عمان نے خلیجی ممالک کا حمایت یافتہ نیا منصوبہ ایران کے سامنے رکھ دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510631/oman-presented-new-proposal-to-iran-regarding-toll-fees-in-the-strait-of-hormuz</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جسے خلیجی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کر سکے گا تاہم یہ فیس لازمی نہیں ہوگی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دھمکی دی ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ناکام ہوئی تو امریکا دوبارہ فضائی حملے شروع کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/gulf-states-back-plan-let-iran-collect-voluntary-fees-use-hormuz-2026-07-28/"&gt;رائٹرز &lt;/a&gt;نے ایک خلیجی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ علاقائی نظام کی تجویز دی ہے، جسے خطے کے دیگر ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمان کی نئی تجویز میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ علاقائی فریم ورک قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت ایران اور خلیجی ممالک خطے میں بحری سلامتی، محفوظ جہاز رانی، ماحولیاتی تحفظ اور ہنگامی امدادی کارروائیوں میں باہمی تعاون کریں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/HormuzReport/status/2082045052780675434'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/HormuzReport/status/2082045052780675434"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عمان کے مجوزہ فریم ورک کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل یا یکطرفہ کنٹرول حاصل نہیں ہوگا اور جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس بھی لازمی نہیں بلکہ رضاکارانہ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظام کو آبنائے ملاکا میں نافذ نظام سے تشبیہہ دی جارہی ہے جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور جہاز رانی، ماحولیاتی تحفظ اور سرچ اینڈ ریسکیو خدمات کے لیے رضاکارانہ فیس وصول کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ملاکا جنوب مشرقی ایشیا میں واقع دنیا کی مصروف ترین اور اہم ترین تجارتی بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جو ملائیشیا اور انڈونیشیا کے جزیرے سماترا کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحری گزرگاہ لگ بھگ 900 کلومیٹر طویل ہے جو بحرِ ہند کو بحرِ الکاہل سے ملاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/281746504727bd6.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/281746504727bd6.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران، سعودی عرب اور عمان کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510569/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510569"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے منگل کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطوں کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے دوران ہونے والے ان رابطوں میں باہمی تعلقات اور خطے کی صورت حال سمیت آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ اسی دوران مختلف خلیجی ممالک کے خطے کے حالات پر آپس میں گفتگو سے متعلق بھی خبریں رپورٹ ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے فروری کے آخر میں ایران پر حملوں کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت ’اسلام آباد میمورنڈم‘ طے پانے کے بعد اس راستے سے بحری آمدورفت جزوی طور پر بحال ہوئی تھی، تاہم جولائی کے آغاز میں دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر ڈیڈلاک فوجی کارروائیوں میں تبدیل ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی جانب سے ملسسل 13 روز تک رات کے وقت ہونے والی بمباری میں ایران میں متعدد افراد جاں بحق جب کہ جنوبی علاقوں میں پلوں، سرنگوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، ان حملوں میں چار امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا حملے نہیں کرتا، وہ بھی جنگ بندی برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران واضح کر چکا ہے کہ وہ اس آبی گزرگاہ کے دوسرے کنارے پر واقع ہونے کی وجہ سے عمان کے ساتھ مشترکہ طور پر کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہتا ہے۔ اس معاملے پر تہران کا مؤقف ہے کہ یہاں سے گزرنے والے جہازوں سے بحری خدمات کے عوض فیس وصول کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکا آبنائے ہرمز پر جہازوں سے فیس وصولی کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس اہم بحری راستے کی جنگ سے پہلے والی صورت حال کے تحت بحالی چاہتا ہے، جس میں یہاں سے جہاز بغیر کسی فیس کے آزادانہ طور پر گزرتے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جسے خلیجی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کر سکے گا تاہم یہ فیس لازمی نہیں ہوگی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر دھمکی دی ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ناکام ہوئی تو امریکا دوبارہ فضائی حملے شروع کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/gulf-states-back-plan-let-iran-collect-voluntary-fees-use-hormuz-2026-07-28/">رائٹرز </a>نے ایک خلیجی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ عمان نے ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ علاقائی نظام کی تجویز دی ہے، جسے خطے کے دیگر ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہے۔</p>
<p>عمان کی نئی تجویز میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ علاقائی فریم ورک قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت ایران اور خلیجی ممالک خطے میں بحری سلامتی، محفوظ جہاز رانی، ماحولیاتی تحفظ اور ہنگامی امدادی کارروائیوں میں باہمی تعاون کریں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/HormuzReport/status/2082045052780675434'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/HormuzReport/status/2082045052780675434"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>عمان کے مجوزہ فریم ورک کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل یا یکطرفہ کنٹرول حاصل نہیں ہوگا اور جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس بھی لازمی نہیں بلکہ رضاکارانہ ہوگی۔</p>
<p>اس نظام کو آبنائے ملاکا میں نافذ نظام سے تشبیہہ دی جارہی ہے جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور جہاز رانی، ماحولیاتی تحفظ اور سرچ اینڈ ریسکیو خدمات کے لیے رضاکارانہ فیس وصول کرتے ہیں۔</p>
<p>آبنائے ملاکا جنوب مشرقی ایشیا میں واقع دنیا کی مصروف ترین اور اہم ترین تجارتی بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جو ملائیشیا اور انڈونیشیا کے جزیرے سماترا کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحری گزرگاہ لگ بھگ 900 کلومیٹر طویل ہے جو بحرِ ہند کو بحرِ الکاہل سے ملاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/281746504727bd6.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/281746504727bd6.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب ایران، سعودی عرب اور عمان کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510569/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510569"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے منگل کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطوں کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے دوران ہونے والے ان رابطوں میں باہمی تعلقات اور خطے کی صورت حال سمیت آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ اسی دوران مختلف خلیجی ممالک کے خطے کے حالات پر آپس میں گفتگو سے متعلق بھی خبریں رپورٹ ہوئیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے فروری کے آخر میں ایران پر حملوں کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت ’اسلام آباد میمورنڈم‘ طے پانے کے بعد اس راستے سے بحری آمدورفت جزوی طور پر بحال ہوئی تھی، تاہم جولائی کے آغاز میں دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر ڈیڈلاک فوجی کارروائیوں میں تبدیل ہوگیا۔</p>
<p>امریکا کی جانب سے ملسسل 13 روز تک رات کے وقت ہونے والی بمباری میں ایران میں متعدد افراد جاں بحق جب کہ جنوبی علاقوں میں پلوں، سرنگوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، ان حملوں میں چار امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا حملے نہیں کرتا، وہ بھی جنگ بندی برقرار رکھے گا۔</p>
<p>آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران واضح کر چکا ہے کہ وہ اس آبی گزرگاہ کے دوسرے کنارے پر واقع ہونے کی وجہ سے عمان کے ساتھ مشترکہ طور پر کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہتا ہے۔ اس معاملے پر تہران کا مؤقف ہے کہ یہاں سے گزرنے والے جہازوں سے بحری خدمات کے عوض فیس وصول کی جائے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکا آبنائے ہرمز پر جہازوں سے فیس وصولی کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس اہم بحری راستے کی جنگ سے پہلے والی صورت حال کے تحت بحالی چاہتا ہے، جس میں یہاں سے جہاز بغیر کسی فیس کے آزادانہ طور پر گزرتے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510631</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 17:47:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/281652274ee3e53.webp" type="image/webp" medium="image" height="1500" width="2500">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/281652274ee3e53.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
