<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Jul 2026 12:19:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Jul 2026 12:19:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی جنگی دباؤ کے باوجود ایران کی معیشت تباہ کیوں نہیں ہوئی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510701/why-has-irans-economy-not-collapsed-under-us-war-pressure</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی جانب سے عائد کردہ سخت ترین اقتصادی پابندیوں اور عسکری دباؤ کے باوجود یہ سوال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ آخر ایرانی معیشت اب تک مکمل طور پر تباہ کیوں نہیں ہوئی؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب کسی ملک پر اس قدر شدید پابندیاں اور جنگ مسلط کر دی جائے تو اس کا معاشی نظام چند ہی ہفتوں میں بیٹھ جاتا ہے، لیکن ایران نے اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تین دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک مخصوص طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے جس کی وجہ سے اس کی معاشی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکمرانوں نے اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ’مزاحمتی معیشت‘ کی حکمت عملی اپنائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک سرکاری خطاب کے دوران اپنی حکومتی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”قوم کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مزاحمتی معیشت کو اپنانا ہی ملک کی پیش رفت اور متکبر طاقتوں کے غرور کو توڑنے کا واحد ذریعہ ہے“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510631/oman-presented-new-proposal-to-iran-regarding-toll-fees-in-the-strait-of-hormuz'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510631"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس پالیسی کے تحت ایران نے غیر ملکی مصنوعات پر انحصار کم کر کے مقامی سطح پر اشیاء کی پیداوار کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں ملک میں بننے والے اسٹیل، پیٹروکیمیکلز اور بنیادی سامانِ زندگی کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور اندرونی مارکیٹ مکمل طور پر مفلوج ہونے سے بچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر حسین موسوی نے ایک غیر ملکی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ”ایران کی 80 فیصد سے زائد بنیادی غذائی ضروریات اور زیادہ تر ادویات ملک کے اندر ہی تیار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اگر بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع بھی ہو جائے تو عوام کو غذائی قحط کا سامنا نہیں کرنا پڑتا“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایران نے روایتی بین الاقوامی بینکنگ نظام سے کٹ جانے کے بعد ایک متوازی یعنی ’شیڈو اکانومی‘ قائم کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلس انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل افیئرز کی شائع کردہ تحقیقی رپورٹ میں اقتصادی ماہرین نے اس نظام کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ایران نے غیر رسمی تجارتی نیٹ ورکس، غیر قانونی مالیاتی راستوں اور خفیہ طریقے سے توانائی کی برآمدات کا ایک ایسا خودکار نظام تشکیل دے دیا ہے جو پابندیوں کے اثرات کو زائل کر کے ریاست اور مقامی مارکیٹ کی تسلسل کو برقرار رکھتا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر رسمی نظام کے ذریعے ایران چین جیسے خریداروں کو رعایتی نرخوں پر خام تیل فروخت کرتا ہے اور غیر رسمی طریقوں کے ذریعے غیر ملکی کرنسی ملک میں لاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی سینئر ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ایملینا ڈیاگو نے ایک گول میز کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ایران نے غیر قانونی اور غیر رسمی تجارتی راستوں کا ایک ایسا وسیع نیٹ ورک بنا لیا ہے جسے مکمل طور پر بند کرنا کسی بھی ملک کے لیے ناممکن ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظام کے تحت ایران خام تیل کی فروخت کے لیے روایتی بینکنگ ذرائع کا استعمال کرنے کے بجائے نجی کمپنیوں، غیر ملکی کرنسی ڈیلرز اور ثالثوں کے ذریعے تجارت کرتا ہے، جس سے اس کے پاس زر مبادلہ کا بہاؤ برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510468/iran-war-and-trumps-options'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510468"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کی رینمن یونیورسٹی کے پروفیسر اور ایشیائی معاشی امور کے ماہر وانگ ژینگ نے ایک چینی اقتصادی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ایران کا خام تیل بین الاقوامی مارکیٹ سے رعایت پر دستیاب ہوتا ہے، جسے چین جیسے بڑے خریدار مسلسل حاصل کر رہے ہیں، اور یہ تجارت ایران کی معاشی بقا کی سب سے بڑی ضمانت ہے“۔ اس غیر رسمی تیل کی تجارت کی بدولت ایران روزانہ لاکھوں بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہتا ہے، جس سے حاصل ہونے والی آمدن ملک کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی سطح پر سرحدوں کی جغرافیائی نوعیت نے بھی ایران کو بڑا سہارا فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب سینٹر واشنگٹن ڈی سی کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ”ایران کا جغرافیہ اس کی معاشی پائیداری کی سب سے بڑی وجہ ہے کیونکہ یہ کسی ایک بندرگاہ یا زمینی راستے پر منحصر نہیں ہے، اور اس کے پڑوسی ممالک کے ساتھ زمینی اور سمندری راستے تجارتی سامان کی آمدورفت کو جاری رکھتے ہیں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، پاکستان، عراق اور ترکیہ کے ساتھ غیر رسمی اور سرحدی تجارت کے ذریعے ایران کو بنیادی غذائی اجزاء، ادویات اور صنعتی خام مال کی فراہمی ممکن رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس معاشی ماڈل کے فوائد کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام کو شدید معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز ریسرچ فاؤنڈیشن کے مڈل ایسٹ فورم میں شامل ماہرِ معیشت سمردھی وج نے لکھا ہے کہ ”پابندیوں اور متبادل راستوں پر انحصار کی وجہ سے ایرانی معیشت میں شدید افراطِ زر اور بلیک مارکیٹ کا اثر بڑھا ہے، جس کی بھاری قیمت عام شہریوں کو مہنگائی کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510590/one-in-three-americans-support-iran-war-most-unaware-of-trump-goals-poll'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510590"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر پال کرسچنسن نے سیکیورٹی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ایران کی معیشت تباہ نہیں ہوئی لیکن یہ سخت دباؤ اور جمود کا شکار ہے، جہاں عام شہری کو شدید مہنگائی اور زندگی کے معیار میں کمی کا سامنا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام تر مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود، ایران کی داخلی پیداواری صلاحیت، غیر رسمی تجارتی راستے اور علاقائی تعاون وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے امریکی جنگی دباؤ کے باوجود اس کے معاشی نظام کو مکمل طور پر بیٹھنے نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی جانب سے عائد کردہ سخت ترین اقتصادی پابندیوں اور عسکری دباؤ کے باوجود یہ سوال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ آخر ایرانی معیشت اب تک مکمل طور پر تباہ کیوں نہیں ہوئی؟</strong></p>
<p>عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب کسی ملک پر اس قدر شدید پابندیاں اور جنگ مسلط کر دی جائے تو اس کا معاشی نظام چند ہی ہفتوں میں بیٹھ جاتا ہے، لیکن ایران نے اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تین دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک مخصوص طریقہ کار اختیار کر رکھا ہے جس کی وجہ سے اس کی معاشی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں۔</p>
<p>ایرانی حکمرانوں نے اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ’مزاحمتی معیشت‘ کی حکمت عملی اپنائی ہے۔</p>
<p>ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک سرکاری خطاب کے دوران اپنی حکومتی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”قوم کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مزاحمتی معیشت کو اپنانا ہی ملک کی پیش رفت اور متکبر طاقتوں کے غرور کو توڑنے کا واحد ذریعہ ہے“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510631/oman-presented-new-proposal-to-iran-regarding-toll-fees-in-the-strait-of-hormuz'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510631"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس پالیسی کے تحت ایران نے غیر ملکی مصنوعات پر انحصار کم کر کے مقامی سطح پر اشیاء کی پیداوار کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں ملک میں بننے والے اسٹیل، پیٹروکیمیکلز اور بنیادی سامانِ زندگی کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور اندرونی مارکیٹ مکمل طور پر مفلوج ہونے سے بچ گئی۔</p>
<p>تہران یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر حسین موسوی نے ایک غیر ملکی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ”ایران کی 80 فیصد سے زائد بنیادی غذائی ضروریات اور زیادہ تر ادویات ملک کے اندر ہی تیار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اگر بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع بھی ہو جائے تو عوام کو غذائی قحط کا سامنا نہیں کرنا پڑتا“۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایران نے روایتی بین الاقوامی بینکنگ نظام سے کٹ جانے کے بعد ایک متوازی یعنی ’شیڈو اکانومی‘ قائم کر لی ہے۔</p>
<p>اٹلس انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل افیئرز کی شائع کردہ تحقیقی رپورٹ میں اقتصادی ماہرین نے اس نظام کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ایران نے غیر رسمی تجارتی نیٹ ورکس، غیر قانونی مالیاتی راستوں اور خفیہ طریقے سے توانائی کی برآمدات کا ایک ایسا خودکار نظام تشکیل دے دیا ہے جو پابندیوں کے اثرات کو زائل کر کے ریاست اور مقامی مارکیٹ کی تسلسل کو برقرار رکھتا ہے“۔</p>
<p>اس غیر رسمی نظام کے ذریعے ایران چین جیسے خریداروں کو رعایتی نرخوں پر خام تیل فروخت کرتا ہے اور غیر رسمی طریقوں کے ذریعے غیر ملکی کرنسی ملک میں لاتا ہے۔</p>
<p>انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی سینئر ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ایملینا ڈیاگو نے ایک گول میز کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ایران نے غیر قانونی اور غیر رسمی تجارتی راستوں کا ایک ایسا وسیع نیٹ ورک بنا لیا ہے جسے مکمل طور پر بند کرنا کسی بھی ملک کے لیے ناممکن ہے“۔</p>
<p>اس نظام کے تحت ایران خام تیل کی فروخت کے لیے روایتی بینکنگ ذرائع کا استعمال کرنے کے بجائے نجی کمپنیوں، غیر ملکی کرنسی ڈیلرز اور ثالثوں کے ذریعے تجارت کرتا ہے، جس سے اس کے پاس زر مبادلہ کا بہاؤ برقرار رہتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510468/iran-war-and-trumps-options'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510468"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیجنگ کی رینمن یونیورسٹی کے پروفیسر اور ایشیائی معاشی امور کے ماہر وانگ ژینگ نے ایک چینی اقتصادی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ایران کا خام تیل بین الاقوامی مارکیٹ سے رعایت پر دستیاب ہوتا ہے، جسے چین جیسے بڑے خریدار مسلسل حاصل کر رہے ہیں، اور یہ تجارت ایران کی معاشی بقا کی سب سے بڑی ضمانت ہے“۔ اس غیر رسمی تیل کی تجارت کی بدولت ایران روزانہ لاکھوں بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہتا ہے، جس سے حاصل ہونے والی آمدن ملک کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔</p>
<p>علاقائی سطح پر سرحدوں کی جغرافیائی نوعیت نے بھی ایران کو بڑا سہارا فراہم کیا ہے۔</p>
<p>عرب سینٹر واشنگٹن ڈی سی کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ”ایران کا جغرافیہ اس کی معاشی پائیداری کی سب سے بڑی وجہ ہے کیونکہ یہ کسی ایک بندرگاہ یا زمینی راستے پر منحصر نہیں ہے، اور اس کے پڑوسی ممالک کے ساتھ زمینی اور سمندری راستے تجارتی سامان کی آمدورفت کو جاری رکھتے ہیں“۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، پاکستان، عراق اور ترکیہ کے ساتھ غیر رسمی اور سرحدی تجارت کے ذریعے ایران کو بنیادی غذائی اجزاء، ادویات اور صنعتی خام مال کی فراہمی ممکن رہتی ہے۔</p>
<p>تاہم اس معاشی ماڈل کے فوائد کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام کو شدید معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔</p>
<p>اوورسیز ریسرچ فاؤنڈیشن کے مڈل ایسٹ فورم میں شامل ماہرِ معیشت سمردھی وج نے لکھا ہے کہ ”پابندیوں اور متبادل راستوں پر انحصار کی وجہ سے ایرانی معیشت میں شدید افراطِ زر اور بلیک مارکیٹ کا اثر بڑھا ہے، جس کی بھاری قیمت عام شہریوں کو مہنگائی کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510590/one-in-three-americans-support-iran-war-most-unaware-of-trump-goals-poll'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510590"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عالمی بینک کے مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر پال کرسچنسن نے سیکیورٹی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ایران کی معیشت تباہ نہیں ہوئی لیکن یہ سخت دباؤ اور جمود کا شکار ہے، جہاں عام شہری کو شدید مہنگائی اور زندگی کے معیار میں کمی کا سامنا ہے“۔</p>
<p>ان تمام تر مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود، ایران کی داخلی پیداواری صلاحیت، غیر رسمی تجارتی راستے اور علاقائی تعاون وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے امریکی جنگی دباؤ کے باوجود اس کے معاشی نظام کو مکمل طور پر بیٹھنے نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510701</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Jul 2026 10:46:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/29104122b6146b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/29104122b6146b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
