<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 17:45:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Jul 2026 17:45:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی ڈراموں کے لیے اپنا چہرہ کرائے پر دیں اور 700 ڈالر تک کمائیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510902/generative-ai-ai-art-digital-art-halftone-art-graphic-design-creative-design-ai-portrait</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین میں آرٹیفیشیل انٹیلیجنس کی تیزی سے ترقی نے لوگوں کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ پیدا کر دیا ہے۔ اب اداکار، ماڈلز اور عام شہری بھی اپنی تصویر یا چہرے کے استعمال کی اجازت دے کر 15 سے 700 امریکی ڈالر تک معاوضہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ چہرے بعد میں اے آئی کی مدد سے تیار کیے جانے والے ویڈیوز اور ڈراموں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی پلیٹ فارم ریسٹ آف ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق چین میں کئی ایسے آن لائن پلیٹ فارم کام کر رہے ہیں جہاں لوگ اپنی تصاویر رجسٹر کراتے ہیں اور پھر پروڈیوسرز اپنی ضرورت کے مطابق مختلف چہروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر عمر، جنس اور ظاہری شکل کے مطابق چہروں کی الگ الگ فہرستیں موجود ہوتی ہیں۔ بعض کیٹیگریز میں ”عام لڑکی“، ”سپر ماڈل“ اور دیگر انداز شامل ہیں، جبکہ پروڈیوسرز کامیڈی، رومانوی یا سنسنی خیز کہانیوں کے مطابق بھی چہرے منتخب کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://restofworld.org/2026/china-ai-microdramas-face-licensing/"&gt;ریسٹ آف ورلڈ کے مطابق&lt;/a&gt; اس رجحان کی ایک بڑی وجہ چین میں مائیکرو ڈراموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ یہ مختصر دورانیے کے ڈرامے خاص طور پر موبائل فون پر دیکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ رواں سال 2026 کے پہلے تین ماہ کے دوران چین میں تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار مائیکرو ڈرامے جاری کیے گئے، جن میں سے 95 فیصد سے زیادہ کی تیاری میں کسی نہ کسی مرحلے پر مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509587/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509587"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شین ژین میں قائم ایک کمپنی ”ایکٹ آئی ڈی“ نے مارچ 2026 میں اپنی سروس شروع کی۔ کمپنی کے مطابق اب تک تقریباً 800 افراد نے اس پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں سے تقریباً 300 افراد نے اپنے چہرے کو اے آئی پروڈکشنز کے لیے لائسنس دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ کمپنی کے مطابق اب تک دو اے آئی ڈراموں میں تقریباً 10 افراد کے چہرے استعمال کیے جا چکے ہیں، جن کے بدلے فی قسط 15 سے 74 ڈالر تک ادائیگی کی گئی، جبکہ کمپنی اس رقم پر 10 فیصد کمیشن وصول کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ صرف خوبصورت یا ماڈل جیسے چہروں کی ہی نہیں بلکہ منفرد شکل و صورت رکھنے والے افراد اور معمر لوگوں کی بھی مانگ موجود ہے۔ چونکہ اصل شخص خود اداکاری نہیں کرتا، اس لیے اس کا چہرہ صرف اے آئی کے لیے بنیادی مواد کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جس کے بعد مصنوعی ذہانت اسی بنیاد پر ایک نیا کردار تیار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/301600585a49777.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/301600585a49777.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح چینگڈو میں قائم ”نیو کلا“ نامی کمپنی نے بھی چہروں کے لائسنس دینے کا کاروبار شروع کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث روایتی ڈراموں اور اشتہارات کے بجٹ میں کمی آئی ہے، جبکہ کئی مہنگے برانڈز بھی اب اے آئی سے تیار کردہ مواد کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ کمپنی نے ہر تصویر کی کم از کم قیمت 74 ڈالر مقرر کی ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے سے کم قیمت پر مقابلہ نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے کاروبار کے ساتھ کئی قانونی اور اخلاقی مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ چین میں متعدد افراد نے شکایت کی ہے کہ ان کے چہرے اجازت کے بغیر اے آئی ویڈیوز میں استعمال کیے گئے۔ ایک واقعے میں دو سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے الزام لگایا کہ ان کے چہرے ایک اے آئی ڈرامے میں ان کی اجازت کے بغیر استعمال کیے گئے، جسے چار کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا، بعد ازاں متعلقہ پلیٹ فارم نے وہ مواد ہٹا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعلقہ کمپنی نے بتایا کہ 2026 کے آغاز سے اب تک ایسے 85 ہزار سے زیادہ ویڈیوز ہٹائے جا چکے ہیں جن میں لوگوں کے چہرے یا آواز بغیر اجازت اے آئی کے ذریعے دوبارہ تیار کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں اس حوالے سے قانونی مقدمات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ گوانگ ژو انٹرنیٹ کورٹ نے گزشتہ تین برسوں کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے چہرے کے غیر مجاز استعمال سے متعلق تقریباً 700 مقدمات کی سماعت کی ہے۔ مارچ 2026 میں بیجنگ انٹرنیٹ کورٹ نے بھی فیصلہ دیا کہ اگر کسی شخص کی تصویر کو اس کی اجازت کے بغیر اے آئی فیس سوئپ ٹیکنالوجی میں استعمال کیا جائے تو یہ غیر قانونی ہو سکتا ہے، چاہے بعد میں تصویر میں تبدیلی ہی کیوں نہ کر دی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی ماہر یی لے ڈینگ کا کہنا ہے کہ اگر چہروں کی خرید و فروخت واضح قانونی اصولوں کے تحت ہو تو اس سے کاروباری معاملات میں شفافیت آ سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ایک بار کسی شخص کی تصاویر ایسے نظام میں شامل ہو جائیں تو وہ مستقبل میں اپنے بائیومیٹرک ڈیٹا پر مکمل کنٹرول کھو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507793/anthropic-claude-artificialintelligence-airesearch-machinelearning-aisafety-technologynews'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507793"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ لائسنس یافتہ تصاویر بعد میں غیر قانونی طریقے سے حاصل نہیں کی جائیں گی، انہیں غیر مجاز اے آئی فیس سوئپ میں استعمال نہیں کیا جائے گا یا مستقبل میں مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض معاہدے اتنے غیر واضح ہوتے ہیں کہ صارف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مستقبل میں اس کا چہرہ کون استعمال کرے گا اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خدشات کی وجہ سے بعض ماڈلز اس کاروبار سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ شنگھائی سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ ماڈل شو فینگ نے ایک فیشن کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے ان کا چہرہ ان مصنوعات پر استعمال کیا جن کی انہوں نے کبھی ماڈلنگ ہی نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے چہرے کے حقوق فروخت نہیں کریں گے کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت ان کی تصویر کو کس انداز میں تبدیل کرے گی یا کس مقصد کے لیے استعمال کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ چہروں کو لائسنس دینے کا یہ کاروبار مستقبل میں کتنا بڑا بنے گا۔ ایک اے آئی ڈرامہ ڈائریکٹر کے مطابق زیادہ تر پروڈکشنز اب بھی مکمل طور پر مصنوعی کردار استعمال کرتی ہیں، کیونکہ حقیقی افراد کے چہرے خریدنا لازمی نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق پروڈیوسرز کا حتمی فیصلہ اکثر لاگت اور بجٹ کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین میں آرٹیفیشیل انٹیلیجنس کی تیزی سے ترقی نے لوگوں کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ پیدا کر دیا ہے۔ اب اداکار، ماڈلز اور عام شہری بھی اپنی تصویر یا چہرے کے استعمال کی اجازت دے کر 15 سے 700 امریکی ڈالر تک معاوضہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ چہرے بعد میں اے آئی کی مدد سے تیار کیے جانے والے ویڈیوز اور ڈراموں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔</strong></p>
<p>چینی پلیٹ فارم ریسٹ آف ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق چین میں کئی ایسے آن لائن پلیٹ فارم کام کر رہے ہیں جہاں لوگ اپنی تصاویر رجسٹر کراتے ہیں اور پھر پروڈیوسرز اپنی ضرورت کے مطابق مختلف چہروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر عمر، جنس اور ظاہری شکل کے مطابق چہروں کی الگ الگ فہرستیں موجود ہوتی ہیں۔ بعض کیٹیگریز میں ”عام لڑکی“، ”سپر ماڈل“ اور دیگر انداز شامل ہیں، جبکہ پروڈیوسرز کامیڈی، رومانوی یا سنسنی خیز کہانیوں کے مطابق بھی چہرے منتخب کر سکتے ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://restofworld.org/2026/china-ai-microdramas-face-licensing/">ریسٹ آف ورلڈ کے مطابق</a> اس رجحان کی ایک بڑی وجہ چین میں مائیکرو ڈراموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ یہ مختصر دورانیے کے ڈرامے خاص طور پر موبائل فون پر دیکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ رواں سال 2026 کے پہلے تین ماہ کے دوران چین میں تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار مائیکرو ڈرامے جاری کیے گئے، جن میں سے 95 فیصد سے زیادہ کی تیاری میں کسی نہ کسی مرحلے پر مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509587/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509587"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شین ژین میں قائم ایک کمپنی ”ایکٹ آئی ڈی“ نے مارچ 2026 میں اپنی سروس شروع کی۔ کمپنی کے مطابق اب تک تقریباً 800 افراد نے اس پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں سے تقریباً 300 افراد نے اپنے چہرے کو اے آئی پروڈکشنز کے لیے لائسنس دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ کمپنی کے مطابق اب تک دو اے آئی ڈراموں میں تقریباً 10 افراد کے چہرے استعمال کیے جا چکے ہیں، جن کے بدلے فی قسط 15 سے 74 ڈالر تک ادائیگی کی گئی، جبکہ کمپنی اس رقم پر 10 فیصد کمیشن وصول کرتی ہے۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ صرف خوبصورت یا ماڈل جیسے چہروں کی ہی نہیں بلکہ منفرد شکل و صورت رکھنے والے افراد اور معمر لوگوں کی بھی مانگ موجود ہے۔ چونکہ اصل شخص خود اداکاری نہیں کرتا، اس لیے اس کا چہرہ صرف اے آئی کے لیے بنیادی مواد کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جس کے بعد مصنوعی ذہانت اسی بنیاد پر ایک نیا کردار تیار کرتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/301600585a49777.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/301600585a49777.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح چینگڈو میں قائم ”نیو کلا“ نامی کمپنی نے بھی چہروں کے لائسنس دینے کا کاروبار شروع کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث روایتی ڈراموں اور اشتہارات کے بجٹ میں کمی آئی ہے، جبکہ کئی مہنگے برانڈز بھی اب اے آئی سے تیار کردہ مواد کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ کمپنی نے ہر تصویر کی کم از کم قیمت 74 ڈالر مقرر کی ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے سے کم قیمت پر مقابلہ نہ کریں۔</p>
<p>دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے کاروبار کے ساتھ کئی قانونی اور اخلاقی مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ چین میں متعدد افراد نے شکایت کی ہے کہ ان کے چہرے اجازت کے بغیر اے آئی ویڈیوز میں استعمال کیے گئے۔ ایک واقعے میں دو سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے الزام لگایا کہ ان کے چہرے ایک اے آئی ڈرامے میں ان کی اجازت کے بغیر استعمال کیے گئے، جسے چار کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا، بعد ازاں متعلقہ پلیٹ فارم نے وہ مواد ہٹا دیا۔</p>
<p>متعلقہ کمپنی نے بتایا کہ 2026 کے آغاز سے اب تک ایسے 85 ہزار سے زیادہ ویڈیوز ہٹائے جا چکے ہیں جن میں لوگوں کے چہرے یا آواز بغیر اجازت اے آئی کے ذریعے دوبارہ تیار کی گئی تھی۔</p>
<p>چین میں اس حوالے سے قانونی مقدمات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ گوانگ ژو انٹرنیٹ کورٹ نے گزشتہ تین برسوں کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے چہرے کے غیر مجاز استعمال سے متعلق تقریباً 700 مقدمات کی سماعت کی ہے۔ مارچ 2026 میں بیجنگ انٹرنیٹ کورٹ نے بھی فیصلہ دیا کہ اگر کسی شخص کی تصویر کو اس کی اجازت کے بغیر اے آئی فیس سوئپ ٹیکنالوجی میں استعمال کیا جائے تو یہ غیر قانونی ہو سکتا ہے، چاہے بعد میں تصویر میں تبدیلی ہی کیوں نہ کر دی گئی ہو۔</p>
<p>قانونی ماہر یی لے ڈینگ کا کہنا ہے کہ اگر چہروں کی خرید و فروخت واضح قانونی اصولوں کے تحت ہو تو اس سے کاروباری معاملات میں شفافیت آ سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ایک بار کسی شخص کی تصاویر ایسے نظام میں شامل ہو جائیں تو وہ مستقبل میں اپنے بائیومیٹرک ڈیٹا پر مکمل کنٹرول کھو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507793/anthropic-claude-artificialintelligence-airesearch-machinelearning-aisafety-technologynews'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507793"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ لائسنس یافتہ تصاویر بعد میں غیر قانونی طریقے سے حاصل نہیں کی جائیں گی، انہیں غیر مجاز اے آئی فیس سوئپ میں استعمال نہیں کیا جائے گا یا مستقبل میں مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض معاہدے اتنے غیر واضح ہوتے ہیں کہ صارف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مستقبل میں اس کا چہرہ کون استعمال کرے گا اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔</p>
<p>ان خدشات کی وجہ سے بعض ماڈلز اس کاروبار سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ شنگھائی سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ ماڈل شو فینگ نے ایک فیشن کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے ان کا چہرہ ان مصنوعات پر استعمال کیا جن کی انہوں نے کبھی ماڈلنگ ہی نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے چہرے کے حقوق فروخت نہیں کریں گے کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت ان کی تصویر کو کس انداز میں تبدیل کرے گی یا کس مقصد کے لیے استعمال کرے گی۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ چہروں کو لائسنس دینے کا یہ کاروبار مستقبل میں کتنا بڑا بنے گا۔ ایک اے آئی ڈرامہ ڈائریکٹر کے مطابق زیادہ تر پروڈکشنز اب بھی مکمل طور پر مصنوعی کردار استعمال کرتی ہیں، کیونکہ حقیقی افراد کے چہرے خریدنا لازمی نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق پروڈیوسرز کا حتمی فیصلہ اکثر لاگت اور بجٹ کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510902</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 16:04:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/30153259212aaa8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/30153259212aaa8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
