<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 10:19:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 31 Jul 2026 10:19:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آج پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510991/today-petrol-and-diesel-price-in-pakistan-july-31-2026</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے 31 جولائی کے لیے پیٹرول کی قیمت 336 روپے 15 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 393 روپے 04 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول ایک روپے 9 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کردیا گیا جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 2 روپے 42 پیسے کا مزید اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کے فیصلہ کے بعد سے اب تک پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں متعدد بار ردوبدل دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510309/details-of-taxes-on-petrol-and-diesel'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510309"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو 20 جولائی سے لے کر 30 جولائی کے عرصے میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر تین بار کمی کی گئی ہے جبکہ پانچ بار اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کا گراف زیادہ تر اوپر ہی رہا، اس دوران ڈیزل کی قیمت میں سات بار اضافہ کیا گیا اور ایک بار بھی کمی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کے اس مسلسل ردوبدل اور اتار چڑھاؤ کا سلسلہ 20 جولائی سے نمایاں نظر آیا، جب پیٹرول میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی لیکن اسی دن ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 71 پیسے مہنگا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 21، 22، 23 اور 24 جولائی کو مسلسل چار دن تک پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں پے در پے اضافے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 جولائی کو حکومت نے دونوں ایندھن کی قیمتیں برقرار رکھیں، تاہم 28 جولائی کو ایک بار پھر پیٹرول میں ایک روپے کی معمولی کمی کی گئی تھی جبکہ ڈیزل کی قیمت 3 روپے 37 پیسے مزید بڑھا دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی نوٹیفکیشن اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس تیزی سے ہوتے اضافے اور اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید عسکری و سیاسی کشیدگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگی صورتحال کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل شدید اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، اور روزانہ کی بنیاد پر درآمدی لاگت کو مقامی قیمتوں میں شامل کیے جانے کی وجہ سے عوام تک ان فیصلوں کا براہ راست اثر پہنچ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے 31 جولائی کے لیے پیٹرول کی قیمت 336 روپے 15 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 393 روپے 04 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے۔</strong></p>
<p>حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول ایک روپے 9 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کردیا گیا جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 2 روپے 42 پیسے کا مزید اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کے فیصلہ کے بعد سے اب تک پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں متعدد بار ردوبدل دیکھا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510309/details-of-taxes-on-petrol-and-diesel'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510309"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو 20 جولائی سے لے کر 30 جولائی کے عرصے میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر تین بار کمی کی گئی ہے جبکہ پانچ بار اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کا گراف زیادہ تر اوپر ہی رہا، اس دوران ڈیزل کی قیمت میں سات بار اضافہ کیا گیا اور ایک بار بھی کمی نہیں ہوئی۔</p>
<p>قیمتوں کے اس مسلسل ردوبدل اور اتار چڑھاؤ کا سلسلہ 20 جولائی سے نمایاں نظر آیا، جب پیٹرول میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی لیکن اسی دن ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 71 پیسے مہنگا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 21، 22، 23 اور 24 جولائی کو مسلسل چار دن تک پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں پے در پے اضافے کیے گئے۔</p>
<p>25 جولائی کو حکومت نے دونوں ایندھن کی قیمتیں برقرار رکھیں، تاہم 28 جولائی کو ایک بار پھر پیٹرول میں ایک روپے کی معمولی کمی کی گئی تھی جبکہ ڈیزل کی قیمت 3 روپے 37 پیسے مزید بڑھا دی گئی تھی۔</p>
<p>حکومتی نوٹیفکیشن اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس تیزی سے ہوتے اضافے اور اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید عسکری و سیاسی کشیدگی ہے۔</p>
<p>اس جنگی صورتحال کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل شدید اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، اور روزانہ کی بنیاد پر درآمدی لاگت کو مقامی قیمتوں میں شامل کیے جانے کی وجہ سے عوام تک ان فیصلوں کا براہ راست اثر پہنچ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510991</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 08:42:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/31082839da378f3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/31082839da378f3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
