<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 14:30:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 31 Jul 2026 14:30:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: 3 بچوں کے قتل کا ڈراپ سین، سفاک ماں ہی مرکزی ملزمہ نکلی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511023/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے کاہنہ میں امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت کے سنسنی خیز مقدمے کا معمہ حل ہوگیا۔ لاہور پولیس کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے آن لائن منگوائے گئے پوٹاشیم سائنائیڈ کو آئس کریم میں ملا کر اپنے تین بچوں کو کھلایا اور بعد ازاں خود بھی وہی آئس کریم کھا کر جان دے دی۔ پولیس نے ممنوعہ کیمیکل فراہم کرنے کے الزام میں کیمیکل شاپ کے مالک اور ایک رائیڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علاقے کاہنہ میں 17 جولائی کو پیش آنے والے امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت کے کیس کا ڈراپ سین ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ تفتیش، فرانزک شواہد اور دیگر ثبوتوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول بچوں کی والدہ ہی اپنے تینوں بچوں کے قتل کی مرکزی ملزمہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث مزید دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں آن لائن ممنوعہ کیمیکل فروخت کرنے والی دکان کا مالک اور کیمیکل کی ترسیل کرنے والا رائیڈر شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی کے مطابق خاتون نے خودکشی کے طریقوں سے متعلق کئی ماہ تک انٹرنیٹ پر سرچ کیا۔ نومبر سے اس کے موبائل فون پر خودکشی سے متعلق مختلف مضامین اور معلومات موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق خاتون نے ایک آن لائن رابطے کے ذریعے پوٹاشیم سائنائیڈ منگوایا اور اس کی خریداری کے لیے ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے منی گرام کے ذریعے ادا کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق خاتون اپنے شوہر اور تین بچوں کے ہمراہ امریکا سے لاہور آئی تھی اور ویلنشیا ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھی۔ اس نے کیمیکل والا پارسل اپنی ایک سہیلی کے گھر منگوایا، جبکہ 16 جولائی کو نجی پیزا شاپ پر سہیلی سے ملاقات کے دوران پارسل وصول کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سہیلی کو پارسل کے مندرجات سے متعلق کوئی علم نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ 17 جولائی کو خاتون نے آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر اپنے 15 سالہ بیٹے ریحان، 11 سالہ بیٹی اریشا اور 9 سالہ بیٹے ارسل کو کھلا دیا۔ بچوں کو زہر دینے کے بعد خاتون نے خود بھی وہی آئس کریم کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510241/lahore-valencia-town-woman-three-children-death-us-embassy-investigation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510241"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے شوہر کو بھی زہر ملی آئس کریم کھلانے کی کوشش کی، تاہم وہ اس سے محفوظ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیشان رضا نے بتایا کہ مقتولہ کے شوہر کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کیا گیا اور ہر پہلو سے تحقیقات کی گئیں، تاہم تمام فرانزک شواہد اور واقعاتی ثبوت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خاتون نے پہلے اپنے بچوں کو زہر دیا اور بعد ازاں خودکشی کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ خاتون شدید ڈپریشن کا شکار تھی، اس کا علاج جاری تھا اور وہ ڈپریشن کی ادویات بھی استعمال کر رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ خاتون پورے خاندان کی زندگی ختم کرنا چاہتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ وقوعے کے اگلے روز خاندان نے سیالکوٹ جانا تھا، جبکہ اس سے قبل خاتون نے گروسری کی خریداری کے ساتھ ممنوعہ کیمیکل بھی حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق چونکہ متاثرہ خاندان امریکی شہریت رکھتا تھا، اس لیے &lt;strong&gt;ایف بی آئی&lt;/strong&gt; کی ٹیم نے بھی اہل خانہ سے ملاقات کی اور کیس کے حوالے سے متعلقہ امور کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیجیٹل شواہد اور پیشہ ورانہ تفتیش کی مدد سے کیس حل کیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مضبوط چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے کاہنہ میں امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت کے سنسنی خیز مقدمے کا معمہ حل ہوگیا۔ لاہور پولیس کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے آن لائن منگوائے گئے پوٹاشیم سائنائیڈ کو آئس کریم میں ملا کر اپنے تین بچوں کو کھلایا اور بعد ازاں خود بھی وہی آئس کریم کھا کر جان دے دی۔ پولیس نے ممنوعہ کیمیکل فراہم کرنے کے الزام میں کیمیکل شاپ کے مالک اور ایک رائیڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>لاہور کے علاقے کاہنہ میں 17 جولائی کو پیش آنے والے امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی ہلاکت کے کیس کا ڈراپ سین ہوگیا۔</p>
<p>ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ تفتیش، فرانزک شواہد اور دیگر ثبوتوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول بچوں کی والدہ ہی اپنے تینوں بچوں کے قتل کی مرکزی ملزمہ تھی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث مزید دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں آن لائن ممنوعہ کیمیکل فروخت کرنے والی دکان کا مالک اور کیمیکل کی ترسیل کرنے والا رائیڈر شامل ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی کے مطابق خاتون نے خودکشی کے طریقوں سے متعلق کئی ماہ تک انٹرنیٹ پر سرچ کیا۔ نومبر سے اس کے موبائل فون پر خودکشی سے متعلق مختلف مضامین اور معلومات موجود تھیں۔</p>
<p>تحقیقات کے مطابق خاتون نے ایک آن لائن رابطے کے ذریعے پوٹاشیم سائنائیڈ منگوایا اور اس کی خریداری کے لیے ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے منی گرام کے ذریعے ادا کیے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق خاتون اپنے شوہر اور تین بچوں کے ہمراہ امریکا سے لاہور آئی تھی اور ویلنشیا ٹاؤن میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھی۔ اس نے کیمیکل والا پارسل اپنی ایک سہیلی کے گھر منگوایا، جبکہ 16 جولائی کو نجی پیزا شاپ پر سہیلی سے ملاقات کے دوران پارسل وصول کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سہیلی کو پارسل کے مندرجات سے متعلق کوئی علم نہیں تھا۔</p>
<p>ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ 17 جولائی کو خاتون نے آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر اپنے 15 سالہ بیٹے ریحان، 11 سالہ بیٹی اریشا اور 9 سالہ بیٹے ارسل کو کھلا دیا۔ بچوں کو زہر دینے کے بعد خاتون نے خود بھی وہی آئس کریم کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510241/lahore-valencia-town-woman-three-children-death-us-embassy-investigation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510241"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے شوہر کو بھی زہر ملی آئس کریم کھلانے کی کوشش کی، تاہم وہ اس سے محفوظ رہے۔</p>
<p>ذیشان رضا نے بتایا کہ مقتولہ کے شوہر کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کیا گیا اور ہر پہلو سے تحقیقات کی گئیں، تاہم تمام فرانزک شواہد اور واقعاتی ثبوت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خاتون نے پہلے اپنے بچوں کو زہر دیا اور بعد ازاں خودکشی کر لی۔</p>
<p>ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ خاتون شدید ڈپریشن کا شکار تھی، اس کا علاج جاری تھا اور وہ ڈپریشن کی ادویات بھی استعمال کر رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ خاتون پورے خاندان کی زندگی ختم کرنا چاہتی تھی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ وقوعے کے اگلے روز خاندان نے سیالکوٹ جانا تھا، جبکہ اس سے قبل خاتون نے گروسری کی خریداری کے ساتھ ممنوعہ کیمیکل بھی حاصل کیا۔</p>
<p>ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق چونکہ متاثرہ خاندان امریکی شہریت رکھتا تھا، اس لیے <strong>ایف بی آئی</strong> کی ٹیم نے بھی اہل خانہ سے ملاقات کی اور کیس کے حوالے سے متعلقہ امور کا جائزہ لیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیجیٹل شواہد اور پیشہ ورانہ تفتیش کی مدد سے کیس حل کیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مضبوط چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511023</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 13:15:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/311303254936e2b.webp" type="image/webp" medium="image" height="1260" width="2100">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/311303254936e2b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
