<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 11:08:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 01 Aug 2026 11:08:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بین الاقوامی پابندیاں؛ ایران نے جوئے سے رقم منتقلی کا طریقہ کھوج لیا: رائٹرز کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511121/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/investigations/illicit-iranian-gambling-network-helped-pull-off-4-billion-sanctions-dodge-2026-07-31/"&gt;’رائٹرز‘&lt;/a&gt; نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے دنیا کے سب سے بڑے غیر قانونی آن لائن جوئے کے نیٹ ورکس میں سے ایک کے ذریعے کرپٹو کرنسی کی صورت میں کروڑوں ڈالر منتقل کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو کرپٹو تحقیقاتی کمپنیوں اور ایک آزاد تجزکار کے ڈیٹا پر مبنی رائٹرز کی اس رپورٹ کے مطابق، دبئی کے ایک غیر معروف علاقے میں واقع بجٹ ہوٹل کی عمارت میں ’شیل بِٹ‘ نامی ایک غیر لائسنس یافتہ کرپٹو ایکسچینج کا دفتر قائم ہے جسے ایک ایرانی تارکینِ وطن چلا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503562'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503562"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مئی 2024 سے اب تک اس ایکسچینج کے ذریعے چار ارب ڈالر سے زائد رقم کی لین دین کی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، اس شیل بِٹ ایکسچینج کے اہم ترین گاہکوں میں فارسی زبان کا ایک بڑا جوئے کا نیٹ ورک شامل ہے جس کے ساتھ دو ہزار سے زائد ویب سائٹس منسلک ہیں۔ اس نیٹ ورک کی تشہیر سوشل میڈیا پر دو معروف ایرانی انفلوائنسرز کر رہے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری تعلقات رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان انفلوئسرز میں سے ایک اسپین کے شہر میڈرڈ میں ایک قیمتی ولا سے اور دوسرا حالیہ دنوں تک ہانگ کانگ کے ایک مہنگے ہوٹل سے کارروائیاں چلا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس نیٹ ورک کی تشہیر کرنے والے انفلوئنسرز میں سے ایک ساشا سبحانی سابق ایرانی سفارت کار کا بیٹا ہے جس کے انسٹاگرام پر لاکھوں فالوورز ہیں اور وہ میڈرڈ میں اپنے اربوں روپے کے ولا اور لگژری لائف اسٹائل کی نمائش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/010921338cdffb7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/010921338cdffb7.webp'  alt='  ساشا سبحانی سابق ایرانی سفارت کار کا بیٹا ہے۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ساشا سبحانی سابق ایرانی سفارت کار کا بیٹا ہے۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسرا انفلوئنسر پویان مختاری ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ پاسدارانِ انقلاب یا کسی ملٹری گروپ کا حصہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پویان مختاری نے ہانگ کانگ میں ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میں ان کا حصہ نہیں ہوں، لیکن میں امید کرتا ہوں کہ ایک دن ان جیسا بن سکوں، کسی پر حملہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کا دفاع کرنے کے لیے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختاری نے مزید کہا کہ ”انہوں نے کبھی اپنی طاقت، رقم یا سوشل میڈیا کا استعمال کسی انسان کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں کیا“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/010917016526358.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/010917016526358.webp'  alt=' مختاری نے ایران روانگی سے کچھ دیر قبل ہانگ کانگ کے اپنے ہوٹل میں رائٹرز سے بات کی تھی۔ انہوں نے جون کے آخر میں اپنے سوشل میڈیا فالوورز کو بتایا تھا کہ وہ قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ (تصویر: رائٹرز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مختاری نے ایران روانگی سے کچھ دیر قبل ہانگ کانگ کے اپنے ہوٹل میں رائٹرز سے بات کی تھی۔ انہوں نے جون کے آخر میں اپنے سوشل میڈیا فالوورز کو بتایا تھا کہ وہ قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ (تصویر: رائٹرز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سبحانی اور مختاری دونوں نے رقم کی منتقلی، پابندیوں کو چکمہ دینے یا ایرانی حکومت کے لیے کام کرنے کے الزامات کی مکمل تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ایران میں جوئے پر مکمل پابندی ہے اور اس کی سزا کوڑے اور قید ہے، تاہ، رائٹرز نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود اس نیٹ ورک کو ایرانی مرکزی بینک کے زیرِاثر آن لائن ادائیگیوں کے نظام تک براہِ راست رسائی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے ایرانی معاملات اور بلاک چین کے ماہر رچ سینڈرز نے رائٹرز سے شیل بٹ سے رقم کی منتقلی کے عمل کے بارے میں بات کی اور کہا کہ ”یہ واضح طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی کارروائی ہے اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ غیر قانونی جوئے کی تحقیقات پر سات سال کام کرنے والے اور ٹی آر ایم لیبز کے سینئر تجزیہ کار جان ووچک نے کہا کہ ”یہ اب تک کا دریافت ہونے والا سب سے بڑا ایرانی غیر قانونی جوئے کا نیٹ ورک ہے اور دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے ایک ہے“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503758'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503758"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے سالوں پہلے ایران سے چلنے والی جوئے کی بڑی ویب سائٹس کا کنٹرول سنبھال لیا تھا تاکہ اس کے ذریعے رقم بیرونِ ملک منتقل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق ایرانی سرکاری اہلکار رضا غیبی اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق مشیر حامد نیکو نے رائٹرز کو بتایا کہ جب جوئے کا کاروبار بڑا ہوا تو پاسدارانِ انقلاب نے اندرون اور بیرونِ ملک کے مالیاتی نظام کو جوڑنے کے لیے ان سائٹس کا سہارا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حامد نیکو نے اس حوالے سے بتایا کہ ”جب مالیاتی ادارے بڑے ہو جاتے ہیں اور حکومتی و سیکیورٹی اداروں سے آزاد  ہو کر کام کرتے ہیں تو پاسدارانِ انقلاب ان کی نگرانی اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/01091912bfb316f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/01091912bfb316f.webp'  alt=' جوئے کی ویب سائٹ abt90 سے حاصل کردہ یہ اسکرین شاٹ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کس طرح ایران کے ادائیگیوں کے نظام تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہے، جس پر وہاں کا مرکزی بینک سخت کنٹرول رکھتا ہے۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جوئے کی ویب سائٹ abt90 سے حاصل کردہ یہ اسکرین شاٹ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کس طرح ایران کے ادائیگیوں کے نظام تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہے، جس پر وہاں کا مرکزی بینک سخت کنٹرول رکھتا ہے۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دبئی کی ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نے جولائی 2026 میں شیل بٹ کے خلاف غیر قانونی کام کرنے اور منی لانڈرنگ کے قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کرتے ہوئے اسے تمام سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے کہا تھا کہ اس ایکسچینج کے غیر قانونی اقدامات نے متحدہ عرب امارات کے مالیاتی نظام کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی وزارتِ خزانہ نے بھی ان الزامات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایرانی رژیم سے جڑے ڈیجیٹل اثاثوں کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/investigations/illicit-iranian-gambling-network-helped-pull-off-4-billion-sanctions-dodge-2026-07-31/">’رائٹرز‘</a> نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے دنیا کے سب سے بڑے غیر قانونی آن لائن جوئے کے نیٹ ورکس میں سے ایک کے ذریعے کرپٹو کرنسی کی صورت میں کروڑوں ڈالر منتقل کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>دو کرپٹو تحقیقاتی کمپنیوں اور ایک آزاد تجزکار کے ڈیٹا پر مبنی رائٹرز کی اس رپورٹ کے مطابق، دبئی کے ایک غیر معروف علاقے میں واقع بجٹ ہوٹل کی عمارت میں ’شیل بِٹ‘ نامی ایک غیر لائسنس یافتہ کرپٹو ایکسچینج کا دفتر قائم ہے جسے ایک ایرانی تارکینِ وطن چلا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503562'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503562"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مئی 2024 سے اب تک اس ایکسچینج کے ذریعے چار ارب ڈالر سے زائد رقم کی لین دین کی جا چکی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، اس شیل بِٹ ایکسچینج کے اہم ترین گاہکوں میں فارسی زبان کا ایک بڑا جوئے کا نیٹ ورک شامل ہے جس کے ساتھ دو ہزار سے زائد ویب سائٹس منسلک ہیں۔ اس نیٹ ورک کی تشہیر سوشل میڈیا پر دو معروف ایرانی انفلوائنسرز کر رہے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری تعلقات رکھتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان انفلوئسرز میں سے ایک اسپین کے شہر میڈرڈ میں ایک قیمتی ولا سے اور دوسرا حالیہ دنوں تک ہانگ کانگ کے ایک مہنگے ہوٹل سے کارروائیاں چلا رہا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس نیٹ ورک کی تشہیر کرنے والے انفلوئنسرز میں سے ایک ساشا سبحانی سابق ایرانی سفارت کار کا بیٹا ہے جس کے انسٹاگرام پر لاکھوں فالوورز ہیں اور وہ میڈرڈ میں اپنے اربوں روپے کے ولا اور لگژری لائف اسٹائل کی نمائش کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/010921338cdffb7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/010921338cdffb7.webp'  alt='  ساشا سبحانی سابق ایرانی سفارت کار کا بیٹا ہے۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ساشا سبحانی سابق ایرانی سفارت کار کا بیٹا ہے۔</figcaption>
    </figure>
<p>دوسرا انفلوئنسر پویان مختاری ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ پاسدارانِ انقلاب یا کسی ملٹری گروپ کا حصہ نہیں ہے۔</p>
<p>پویان مختاری نے ہانگ کانگ میں ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میں ان کا حصہ نہیں ہوں، لیکن میں امید کرتا ہوں کہ ایک دن ان جیسا بن سکوں، کسی پر حملہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کا دفاع کرنے کے لیے“۔</p>
<p>مختاری نے مزید کہا کہ ”انہوں نے کبھی اپنی طاقت، رقم یا سوشل میڈیا کا استعمال کسی انسان کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں کیا“۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/010917016526358.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/010917016526358.webp'  alt=' مختاری نے ایران روانگی سے کچھ دیر قبل ہانگ کانگ کے اپنے ہوٹل میں رائٹرز سے بات کی تھی۔ انہوں نے جون کے آخر میں اپنے سوشل میڈیا فالوورز کو بتایا تھا کہ وہ قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ (تصویر: رائٹرز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مختاری نے ایران روانگی سے کچھ دیر قبل ہانگ کانگ کے اپنے ہوٹل میں رائٹرز سے بات کی تھی۔ انہوں نے جون کے آخر میں اپنے سوشل میڈیا فالوورز کو بتایا تھا کہ وہ قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ (تصویر: رائٹرز)</figcaption>
    </figure>
<p>سبحانی اور مختاری دونوں نے رقم کی منتقلی، پابندیوں کو چکمہ دینے یا ایرانی حکومت کے لیے کام کرنے کے الزامات کی مکمل تردید کی ہے۔</p>
<p>اگرچہ ایران میں جوئے پر مکمل پابندی ہے اور اس کی سزا کوڑے اور قید ہے، تاہ، رائٹرز نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود اس نیٹ ورک کو ایرانی مرکزی بینک کے زیرِاثر آن لائن ادائیگیوں کے نظام تک براہِ راست رسائی حاصل ہے۔</p>
<p>اس تمام معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے ایرانی معاملات اور بلاک چین کے ماہر رچ سینڈرز نے رائٹرز سے شیل بٹ سے رقم کی منتقلی کے عمل کے بارے میں بات کی اور کہا کہ ”یہ واضح طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی کارروائی ہے اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے“۔</p>
<p>اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ غیر قانونی جوئے کی تحقیقات پر سات سال کام کرنے والے اور ٹی آر ایم لیبز کے سینئر تجزیہ کار جان ووچک نے کہا کہ ”یہ اب تک کا دریافت ہونے والا سب سے بڑا ایرانی غیر قانونی جوئے کا نیٹ ورک ہے اور دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے ایک ہے“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503758'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503758"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے سالوں پہلے ایران سے چلنے والی جوئے کی بڑی ویب سائٹس کا کنٹرول سنبھال لیا تھا تاکہ اس کے ذریعے رقم بیرونِ ملک منتقل کی جا سکے۔</p>
<p>سابق ایرانی سرکاری اہلکار رضا غیبی اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق مشیر حامد نیکو نے رائٹرز کو بتایا کہ جب جوئے کا کاروبار بڑا ہوا تو پاسدارانِ انقلاب نے اندرون اور بیرونِ ملک کے مالیاتی نظام کو جوڑنے کے لیے ان سائٹس کا سہارا لیا۔</p>
<p>حامد نیکو نے اس حوالے سے بتایا کہ ”جب مالیاتی ادارے بڑے ہو جاتے ہیں اور حکومتی و سیکیورٹی اداروں سے آزاد  ہو کر کام کرتے ہیں تو پاسدارانِ انقلاب ان کی نگرانی اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں“۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/01091912bfb316f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/01091912bfb316f.webp'  alt=' جوئے کی ویب سائٹ abt90 سے حاصل کردہ یہ اسکرین شاٹ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کس طرح ایران کے ادائیگیوں کے نظام تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہے، جس پر وہاں کا مرکزی بینک سخت کنٹرول رکھتا ہے۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جوئے کی ویب سائٹ abt90 سے حاصل کردہ یہ اسکرین شاٹ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کس طرح ایران کے ادائیگیوں کے نظام تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہے، جس پر وہاں کا مرکزی بینک سخت کنٹرول رکھتا ہے۔</figcaption>
    </figure>
<p>دبئی کی ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نے جولائی 2026 میں شیل بٹ کے خلاف غیر قانونی کام کرنے اور منی لانڈرنگ کے قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کرتے ہوئے اسے تمام سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>اتھارٹی نے کہا تھا کہ اس ایکسچینج کے غیر قانونی اقدامات نے متحدہ عرب امارات کے مالیاتی نظام کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی وزارتِ خزانہ نے بھی ان الزامات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایرانی رژیم سے جڑے ڈیجیٹل اثاثوں کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511121</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 09:26:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/0109235741c8104.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/0109235741c8104.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
