<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 19:58:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 01 Aug 2026 19:58:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین کے بحیرۂ اسود میں ڈرون حملے، روسی کارگو جہاز ڈوب گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511187/ukrainian-drones-sank-a-russian-owned-container-ship-yanina-in-the-black-sea</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بحیرۂ اسود میں یوکرین کے ڈرون حملے میں روسی کمپنی کی ملکیت ایک کارگو جہاز ڈوب گیا۔ روس کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی ’روس ایٹم‘ کے مطابق جہاز پر سوار تمام 17 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یوکرینی افواج نے رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران روس کے علاقے باشکورتوستان میں واقع تین آئل ریفائنریوں کے بنیادی ڈھانچے کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیلنسکی کے مطابق یہ ریفائنریاں ہر سال لاکھوں ٹن خام تیل پراسیس کرتی ہیں اور یہ تمام اہداف یوکرین کی سرحد سے تقریباً ایک ہزار 600 کلومیٹر دور واقع تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی صدر نے بحیرہ اسود میں روسی جہاز ڈوبنے کی رپورٹس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یوکرینی افواج نے بحیرۂ اسود میں روسی پرچم تلے چلنے والے اور پابندیوں کی فہرست میں شامل ’یانینا‘ نامی کارگو جہاز کو نشانہ بنایا، یہ جہاز حملے کے نتیجے میں سمندر برد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی فورسز نے بحیرۂ اسود اور بحیرۂ آزوف میں بھی دیگر اہداف پر کامیاب حملے کیے۔ اپنے بیان میں زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین کے حملوں کا ہدف روس کی وہ تنصیبات ہیں جو اس کی جنگی مشینری کو سہارا دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ZelenskyyUa/status/2083507395410411619/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ZelenskyyUa/status/2083507395410411619/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب روس کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی ’روس ایٹم‘ نے اس حملے کو سمندری قزاقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہفتے کی صبح بحیرۂ اسود میں روسی بندرگاہ نووروسیسک کے قریب اس کے شپنگ ادارے ’فیسکو‘ کے زیر انتظام چلنے والے کارگو جہاز ’یانینا‘ پر کم از کم دو یوکرینی ڈرونز نے حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق حملے کے وقت جہاز پر کوئی جنگی سامان موجود نہیں بلکہ کارگو جہاز خشک خوراک اور تعمیراتی مواد لے جا رہا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ جہاز میں پانی بھر جانے کے بعد عملے نے اسے چھوڑ دیا۔ کمپنی کے مطابق تمام 17 ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا اور ان کی حالت بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/visionergeo/status/2083507240309309848'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/visionergeo/status/2083507240309309848"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان تقریباً ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے دوران یوکرین متعدد بار بحیرۂ اسود میں روسی پرچم بردار جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ روس بحیرۂ اسود کے راستے تیل سمیت پابندیوں کا شکار دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے اس آبی گزرگاہ کا استعمال کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر روس بھی جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کی بندرگاہوں پر موجود تنصیبات اور یوکرینی بندرگاہوں کی جانب آنے والے جہازوں پر متعدد حملے کر چکا ہے جسے یوکرین جنگی جرائم قرار دیتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بحیرۂ اسود میں یوکرین کے ڈرون حملے میں روسی کمپنی کی ملکیت ایک کارگو جہاز ڈوب گیا۔ روس کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی ’روس ایٹم‘ کے مطابق جہاز پر سوار تمام 17 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یوکرینی افواج نے رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران روس کے علاقے باشکورتوستان میں واقع تین آئل ریفائنریوں کے بنیادی ڈھانچے کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>زیلنسکی کے مطابق یہ ریفائنریاں ہر سال لاکھوں ٹن خام تیل پراسیس کرتی ہیں اور یہ تمام اہداف یوکرین کی سرحد سے تقریباً ایک ہزار 600 کلومیٹر دور واقع تھے۔</p>
<p>یوکرینی صدر نے بحیرہ اسود میں روسی جہاز ڈوبنے کی رپورٹس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یوکرینی افواج نے بحیرۂ اسود میں روسی پرچم تلے چلنے والے اور پابندیوں کی فہرست میں شامل ’یانینا‘ نامی کارگو جہاز کو نشانہ بنایا، یہ جہاز حملے کے نتیجے میں سمندر برد ہو گیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی فورسز نے بحیرۂ اسود اور بحیرۂ آزوف میں بھی دیگر اہداف پر کامیاب حملے کیے۔ اپنے بیان میں زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین کے حملوں کا ہدف روس کی وہ تنصیبات ہیں جو اس کی جنگی مشینری کو سہارا دیتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ZelenskyyUa/status/2083507395410411619/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ZelenskyyUa/status/2083507395410411619/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب روس کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی ’روس ایٹم‘ نے اس حملے کو سمندری قزاقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہفتے کی صبح بحیرۂ اسود میں روسی بندرگاہ نووروسیسک کے قریب اس کے شپنگ ادارے ’فیسکو‘ کے زیر انتظام چلنے والے کارگو جہاز ’یانینا‘ پر کم از کم دو یوکرینی ڈرونز نے حملہ کیا۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق حملے کے وقت جہاز پر کوئی جنگی سامان موجود نہیں بلکہ کارگو جہاز خشک خوراک اور تعمیراتی مواد لے جا رہا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ جہاز میں پانی بھر جانے کے بعد عملے نے اسے چھوڑ دیا۔ کمپنی کے مطابق تمام 17 ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا اور ان کی حالت بہتر ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/visionergeo/status/2083507240309309848'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/visionergeo/status/2083507240309309848"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان تقریباً ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے دوران یوکرین متعدد بار بحیرۂ اسود میں روسی پرچم بردار جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔</p>
<p>یوکرین کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ روس بحیرۂ اسود کے راستے تیل سمیت پابندیوں کا شکار دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے اس آبی گزرگاہ کا استعمال کرتا ہے۔</p>
<p>ادھر روس بھی جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کی بندرگاہوں پر موجود تنصیبات اور یوکرینی بندرگاہوں کی جانب آنے والے جہازوں پر متعدد حملے کر چکا ہے جسے یوکرین جنگی جرائم قرار دیتا آیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511187</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 17:52:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/011751039058c88.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/011751039058c88.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
