<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 20:55:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 01 Aug 2026 20:55:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کو ایرانی حملوں سے بچانے کے لیے وسائل ناکافی ہیں: امریکی جنرل کا حکومت کو انتباہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511195/us-top-general-warned-pentagon-about-insufficient-troops-to-protect-israel-from-iranian-attacks</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی فوج کی یورپی کمان (ای یو کام) کے سربراہ جنرل الیکسس گرنکیوچ نے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ ان کے پاس اسرائیل کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے بچانے کے لیے مطلوبہ بحری وسائل موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مزید بحری جنگی جہاز فراہم نہ کیے گئے تو وہ امریکی سرزمین کے تحفظ کو فوقیت دیتے ہوئے اسرائیل کا دفاع نہیں کرسکیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/national-security/2026/08/01/general-warns-pentagon-he-lacks-sufficient-forces-protect-israel/"&gt;واشنگٹن پوسٹ&lt;/a&gt; نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنرل الیکسس گرنکیوچ نے رواں ہفتے پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ یورپی کمانڈ کے پاس موجود وسائل اسرائیل کے دفاع کے لیے ناکافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی بحریہ کا ایک اور ’طیارہ بردار جہاز‘ فراہم نہ کیا گیا تو انہیں اسرائیل کے بجائے صرف امریکی دفاع کو ترجیح دینا ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2083527033976410128'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2083527033976410128"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی دفاعی عہدیدار کے مطابق فوجی کمانڈرز کی جانب سے اس نوعیت کی تحریری تنبیہ غیر معمولی نہیں ہوتی کیوں کہ جب وسائل محدود ہوں اور مختلف محاذوں پر ان کی ضرورت بڑھ جائے تو اعلیٰ فوجی حکام ممکنہ خطرات سے پینٹاگون کو آگاہ کرتے ہیں تاکہ پالیسی ساز مناسب فیصلے کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری پانچ ماہ طویل تنازع ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدہ معطل ہونے کے بعد دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جس کے باعث امریکی فضائی دفاعی نظام اور میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ynetnews/status/2083549639744041340'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ynetnews/status/2083549639744041340"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز کئی برس سے مشرقی بحیرۂ روم میں اسرائیل کے دفاعی نظام کا حصہ رہے ہیں۔ جدید ریڈار اور میزائلوں سے لیس یہ جنگی جہاز نہ صرف ایران بلکہ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو بھی فضا میں ہی تباہ کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے فیصلے سے امریکی بحریہ پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی فوج کی یورپی کمانڈ بحیرۂ روم میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اسے نیٹو اتحاد کے رکن ممالک کے دفاع کے لیے روس سے ممکنہ خطرات پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے۔ روس کے پاس ایسے بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اسپین کے شہر روٹا میں امریکی بحریہ کے پانچ طیارہ برادر جہاز تعینات ہیں جب کہ چھٹا جہاز رواں سال اسی علاقے میں پہنچنے والا ہے۔ تاہم ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث ان جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے وسائل کی دستیابی مزید متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق جمعہ تک امریکی بحیرہ کے دو طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس پال اگنیشس‘ اور ’یو ایس ایس روزویلٹ‘ مشرقی بحیرۂ روم میں موجود تھے، جب کہ ’یو ایس ایس آرلی برک‘، ’یو ایس ایس بلکلی‘ اور ’یو ایس ایس آسکر آسٹن‘ روٹا میں تعینات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بحیرۂ عرب میں امریکا کے دو طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جارج ڈبلیو بش‘ اور ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ سمیت کم از کم 15 جنگی جہاز موجود ہیں، جن میں 11 طیارہ بردار ہیں۔ یہ بحری بیڑا تجارتی جہازوں کی حفاظت اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے تحت آبنائے ہرمز میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ’یو ایس ایس گونزالیز‘ بحیرۂ احمر میں تعینات ہے، جہاں یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔ سعودی عرب نے بھی اس سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ امریکی عوام میں بتدریج غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے،  جب کہ کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی جنگ کے خاتمے کے لیے واضح حکمت عملی پیش کرنے میں ناکامی پر ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511147/trump-orders-new-strikes-on-iran'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511147"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کی ہدایت دے چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور یہ حملے ویک اینڈ کے اختتام تک کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے بھی ان رپورٹس کے بعد امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات سمیت کسی بھی انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی فوج کی یورپی کمان (ای یو کام) کے سربراہ جنرل الیکسس گرنکیوچ نے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ ان کے پاس اسرائیل کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے بچانے کے لیے مطلوبہ بحری وسائل موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مزید بحری جنگی جہاز فراہم نہ کیے گئے تو وہ امریکی سرزمین کے تحفظ کو فوقیت دیتے ہوئے اسرائیل کا دفاع نہیں کرسکیں گے۔</strong></p>
<p>امریکی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/national-security/2026/08/01/general-warns-pentagon-he-lacks-sufficient-forces-protect-israel/">واشنگٹن پوسٹ</a> نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنرل الیکسس گرنکیوچ نے رواں ہفتے پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ یورپی کمانڈ کے پاس موجود وسائل اسرائیل کے دفاع کے لیے ناکافی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی بحریہ کا ایک اور ’طیارہ بردار جہاز‘ فراہم نہ کیا گیا تو انہیں اسرائیل کے بجائے صرف امریکی دفاع کو ترجیح دینا ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2083527033976410128'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2083527033976410128"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک امریکی دفاعی عہدیدار کے مطابق فوجی کمانڈرز کی جانب سے اس نوعیت کی تحریری تنبیہ غیر معمولی نہیں ہوتی کیوں کہ جب وسائل محدود ہوں اور مختلف محاذوں پر ان کی ضرورت بڑھ جائے تو اعلیٰ فوجی حکام ممکنہ خطرات سے پینٹاگون کو آگاہ کرتے ہیں تاکہ پالیسی ساز مناسب فیصلے کر سکیں۔</p>
<p>ہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری پانچ ماہ طویل تنازع ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔</p>
<p>واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدہ معطل ہونے کے بعد دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جس کے باعث امریکی فضائی دفاعی نظام اور میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ynetnews/status/2083549639744041340'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ynetnews/status/2083549639744041340"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز کئی برس سے مشرقی بحیرۂ روم میں اسرائیل کے دفاعی نظام کا حصہ رہے ہیں۔ جدید ریڈار اور میزائلوں سے لیس یہ جنگی جہاز نہ صرف ایران بلکہ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو بھی فضا میں ہی تباہ کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے فیصلے سے امریکی بحریہ پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکی فوج کی یورپی کمانڈ بحیرۂ روم میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اسے نیٹو اتحاد کے رکن ممالک کے دفاع کے لیے روس سے ممکنہ خطرات پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے۔ روس کے پاس ایسے بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں جو امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اسپین کے شہر روٹا میں امریکی بحریہ کے پانچ طیارہ برادر جہاز تعینات ہیں جب کہ چھٹا جہاز رواں سال اسی علاقے میں پہنچنے والا ہے۔ تاہم ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث ان جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے وسائل کی دستیابی مزید متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق جمعہ تک امریکی بحیرہ کے دو طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس پال اگنیشس‘ اور ’یو ایس ایس روزویلٹ‘ مشرقی بحیرۂ روم میں موجود تھے، جب کہ ’یو ایس ایس آرلی برک‘، ’یو ایس ایس بلکلی‘ اور ’یو ایس ایس آسکر آسٹن‘ روٹا میں تعینات تھے۔</p>
<p>اس کے علاوہ بحیرۂ عرب میں امریکا کے دو طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جارج ڈبلیو بش‘ اور ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ سمیت کم از کم 15 جنگی جہاز موجود ہیں، جن میں 11 طیارہ بردار ہیں۔ یہ بحری بیڑا تجارتی جہازوں کی حفاظت اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے تحت آبنائے ہرمز میں موجود ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ’یو ایس ایس گونزالیز‘ بحیرۂ احمر میں تعینات ہے، جہاں یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی جہازوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔ سعودی عرب نے بھی اس سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ امریکی عوام میں بتدریج غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے،  جب کہ کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی جنگ کے خاتمے کے لیے واضح حکمت عملی پیش کرنے میں ناکامی پر ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511147/trump-orders-new-strikes-on-iran'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511147"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کی ہدایت دے چکے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور یہ حملے ویک اینڈ کے اختتام تک کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>ایران نے بھی ان رپورٹس کے بعد امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات سمیت کسی بھی انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511195</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 19:06:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/011852060d244ef.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/011852060d244ef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
