<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 02 Aug 2026 12:53:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 02 Aug 2026 12:53:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پھیپھڑوں کو تندرست رکھنے کے لیے روزانہ کتنے منٹ کی چہل قدمی ضروری ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511256/how-many-minutes-should-you-walk-daily-to-keep-your-lungs-healthy</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پھیپھڑے انسانی جسم کا نہایت اہم عضو ہیں، کیونکہ یہی ہر سانس کے ذریعے آکسیجن کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں۔ اگر ان کی صحت متاثر ہو جائے یا  ان میں کوئی خرابی ہوجائے تو روزمرہ زندگی کے معمولات بھی مشکل ہو سکتے ہیں۔اس لیے ان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق آج کی ہنگامہ خیز زندگی میں فضائی آلودگی، سگریٹ نوشی، ویپنگ، صنعتی دھواں، غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی اور مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت پھیپھڑوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے والی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ یہی عوامل وقت کے ساتھ سانس کی مختلف بیماریوں اور بعض صورتوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے پھیپھڑوں کو صحت مند رکھنا چاہتا ہے تو اسے روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ تک تیز رفتاری سے پیدل چلنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ اگر کوئی شخص ورزش کا عادی نہیں ہے تو وہ ابتدا میں 15 سے 20 منٹ کی چہل قدمی سے آغاز کر سکتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30409244'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30409244"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;روزانہ صرف 30 منٹ کی تیز چہل قدمی بھی پھیپھڑوں اور دل دونوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ روزانہ تیز چلنے سے پھیپھڑوں کی آکسیجن جذب کرنے کی طاقت بڑھتی ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔ باقاعدگی سے پیدل چلنے والے افراد میں سانس پھولنے کی شکایت نسبتاً کم دیکھی جاتی ہے جبکہ جسمانی قوت برداشت بھی بہتر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت کے ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف پیدل چلنا ہی کافی نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب، تازہ پھلوں، سبزیوں اور متوازن غذا کا استعمال، مناسب مقدار میں پانی پینا، روزانہ سانس کی مشقیں اور یوگا کرنا، معیاری نیند لینا اور وزن کو قابو میں رکھنا بھی پھیپھڑوں کی بہتر صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لمبی سانسیں لینے کی مشقیں کرنا بھی پھیپھڑوں کی صفائی کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی شخص کو مسلسل کھانسی، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، بار بار سانس کا انفیکشن یا کھانسی کے ساتھ خون آنے جیسی علامات محسوس ہوں تو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت تشخیص کئی سنگین بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ&lt;/strong&gt;: صحت سے متعلق یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں۔ اگر کسی شخص کو پہلے سے سانس، دل یا کسی اور بیماری کا سامنا ہے تو ورزش یا معمولات میں تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پھیپھڑے انسانی جسم کا نہایت اہم عضو ہیں، کیونکہ یہی ہر سانس کے ذریعے آکسیجن کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں۔ اگر ان کی صحت متاثر ہو جائے یا  ان میں کوئی خرابی ہوجائے تو روزمرہ زندگی کے معمولات بھی مشکل ہو سکتے ہیں۔اس لیے ان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔</strong></p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق آج کی ہنگامہ خیز زندگی میں فضائی آلودگی، سگریٹ نوشی، ویپنگ، صنعتی دھواں، غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی اور مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت پھیپھڑوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے والی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ یہی عوامل وقت کے ساتھ سانس کی مختلف بیماریوں اور بعض صورتوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے پھیپھڑوں کو صحت مند رکھنا چاہتا ہے تو اسے روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ تک تیز رفتاری سے پیدل چلنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ اگر کوئی شخص ورزش کا عادی نہیں ہے تو وہ ابتدا میں 15 سے 20 منٹ کی چہل قدمی سے آغاز کر سکتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30409244'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30409244"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>روزانہ صرف 30 منٹ کی تیز چہل قدمی بھی پھیپھڑوں اور دل دونوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ روزانہ تیز چلنے سے پھیپھڑوں کی آکسیجن جذب کرنے کی طاقت بڑھتی ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے۔ باقاعدگی سے پیدل چلنے والے افراد میں سانس پھولنے کی شکایت نسبتاً کم دیکھی جاتی ہے جبکہ جسمانی قوت برداشت بھی بہتر ہوتی ہے۔</p>
<p>صحت کے ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف پیدل چلنا ہی کافی نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب، تازہ پھلوں، سبزیوں اور متوازن غذا کا استعمال، مناسب مقدار میں پانی پینا، روزانہ سانس کی مشقیں اور یوگا کرنا، معیاری نیند لینا اور وزن کو قابو میں رکھنا بھی پھیپھڑوں کی بہتر صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لمبی سانسیں لینے کی مشقیں کرنا بھی پھیپھڑوں کی صفائی کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اگر کسی شخص کو مسلسل کھانسی، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، بار بار سانس کا انفیکشن یا کھانسی کے ساتھ خون آنے جیسی علامات محسوس ہوں تو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت تشخیص کئی سنگین بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ</strong>: صحت سے متعلق یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں۔ اگر کسی شخص کو پہلے سے سانس، دل یا کسی اور بیماری کا سامنا ہے تو ورزش یا معمولات میں تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511256</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Aug 2026 10:41:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/02103905ec67f4d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/02103905ec67f4d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
