<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 03 Aug 2026 20:40:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 03 Aug 2026 20:40:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں مون سون بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب، مانسہرہ میں 3 طالبات برساتی نالے میں بہہ گئیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511456/monsoon-rains-inundate-low-lying-areas-across-the-country-3-female-students-swept-away-in-storm-drain</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آنے سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوگئے ہیں جب کہ خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں اسکول سے چھٹی کے بعد گھر واپس جانے والی 3 کمسن طالبات برساتی نالے میں بہہ گئیں، جن میں سے 2 طالبات کی لاشیں نالے سے نکال لی گئیں جب کہ ایک طالبہ کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے جبوڑی میں پیر کے روز افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں 3 طالبات برساتی نالے میں بہہ گئیں جب کہ تینوں طالبات سکول سے چھٹی کر کے گھر کی طرف جا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی ذرائع کے مطابق بچیاں چٹو سے سرن کی جانب بہنے والے برساتی نالے کو عبور کر رہی تھیں کہ نالے کا تیز بہاؤ انہیں اپنے ساتھ بہا لے گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دو طالبات کی لاشیں جبوڑی میں نادرا آفس کے قریب نالے سے برآمد کر لی گئی ہیں جب کہ تیسری طالبہ کو بحفاظت بچا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاں بحق ہونے والی طالبات کڑاک کے رہائشی قاری شفیق ولد محمد اشرف اور عاشق حسین ولد عبدالجلیل کی بیٹیاں تھیں، جاں بحق طالبات کی عمریں سات سے آٹھ سال کے درمیان تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی جب کہ ریسکیو اہلکاروں اور مقامی افراد نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مون-سون-بارشوں-کا-سلسلہ-وقفے-وقفے-سے-جاری" href="#مون-سون-بارشوں-کا-سلسلہ-وقفے-وقفے-سے-جاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مون سون بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور بیشتر اضلاع میں بادل خوب برسے، جس کے باعث مختلف شہروں میں سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسلادھار بارش نے راولپنڈی کو ایک بار پھر پانی میں ڈبو دیا، ڈھوک کھبہ، چکلالہ، کچہری اور لیاقت باغ سمیت متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے جب کہ کئی گھروں اور دکانوں میں بارشی پانی داخل ہوگیا، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرجا روڈ پر برساتی نالے میں 6 سالہ بچہ بہہ گیا، جس کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ واسا کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں نکاسیٔ آب کے لیے واٹر پمپ اور ہیوی مشینری کے ذریعے ہنگامی آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مسلسل بارش کے باعث کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے اور شہریوں کو آمدورفت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی، جس سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا اور موسم خوشگوار ہو گیا تاہم بارش کے بعد متعدد علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 55 ملی میٹر بارش شادمان اور شادی پورہ میں ریکارڈ کی گئی جب کہ گلبرگ میں 54 ملی میٹر، مغل پورہ میں 50 ملی میٹر اور تاج پورہ میں 34 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اس کے علاوہ فاروق آباد، رینالہ خورد، شیخوپورہ، چک جھمرہ، کامونکی، ننکانہ صاحب، شرقپور شریف، دینہ اور بہاولنگر میں بھی موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامونکی میں سروس روڈ، جی ٹی روڈ اور انڈر پاسز میں پانی جمع ہونے سے ٹریفک شدید متاثر رہی جب کہ دیگر شہروں کے نشیبی علاقے، گلیاں اور بازار بھی زیر آب آ گئے۔ بارش شروع ہوتے ہی متعدد شہروں میں بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا اور کئی فیڈرز ٹرپ کر جانے سے مختلف علاقے بجلی سے محروم ہو گئے جب کہ نکاسی آب کے ناقص انتظامات کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="محکمہ-موسمیات-کی-موسلادھار-بارش-کی-پیشگوئی" href="#محکمہ-موسمیات-کی-موسلادھار-بارش-کی-پیشگوئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;محکمہ موسمیات کی موسلادھار بارش کی پیشگوئی&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کل بھی موسلا دھار بارش کا امکان ہے جب کہ مری اور گلیات کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔ دوسری جانب جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تربیلا ڈیم کے سپل ویز بھی کھول دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 20 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔ دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر ملحقہ علاقوں کے مکینوں کو آبی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="24-گھنٹوں-میں-بارشوں-کے-باعث-10-افراد-جاں-بحق" href="#24-گھنٹوں-میں-بارشوں-کے-باعث-10-افراد-جاں-بحق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;24 گھنٹوں میں بارشوں کے باعث 10 افراد جاں بحق&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 10 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے۔ سندھ میں 3 بچوں سمیت 5 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ پنجاب میں 2 بچوں سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں مون سون بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں کم از کم 136 افراد جاں بحق اور 418 زخمی ہو چکے ہیں جب کہ جاں بحق افراد میں 63 بچے اور 26 خواتین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا حالیہ بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں اب تک 57 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 27 بچے بھی شامل ہیں۔ صوبے کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب میں بارشوں اور چھتیں گرنے کے مختلف واقعات میں 50 افراد جاں بحق اور 308 زخمی ہوئے ہیں جب کہ سندھ میں 10 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے۔ آزاد کشمیر میں 10 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ 5 افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بلوچستان میں مختلف حادثات میں 8 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے جب کہ کوہِ سلیمان اور شمالی اضلاع کے ندی نالوں میں سیلابی ریلے گزر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلابی صورت حال سے ملک بھر میں ایک ہزار 150 سے زائد گھروں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے جب کہ 545 مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے اور 37 پلوں کے علاوہ 25 کلومیٹر طویل سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر سیلابی صورت حال برقرار ہے جب کہ دریائے راوی میں بلوکی ہیڈورکس پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ لاہور کے گرد و نواح کے دیہات، قصور، اوکاڑہ اور پاکپتن کے اضلاع کے لیے بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نے پنجاب اور دیگر متاثرہ علاقوں میں 75 سے زائد ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، جہاں متاثرین کو منتقل کیا جا رہا ہے جب کہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر امدادی ادارے ہائی الرٹ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ندی نالوں، بجلی کے کھمبوں اور کمزور عمارتوں سے دور رہیں جب کہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h1&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آنے سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوگئے ہیں جب کہ خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں اسکول سے چھٹی کے بعد گھر واپس جانے والی 3 کمسن طالبات برساتی نالے میں بہہ گئیں، جن میں سے 2 طالبات کی لاشیں نالے سے نکال لی گئیں جب کہ ایک طالبہ کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے جبوڑی میں پیر کے روز افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں 3 طالبات برساتی نالے میں بہہ گئیں جب کہ تینوں طالبات سکول سے چھٹی کر کے گھر کی طرف جا رہی تھیں۔</p>
<p>مقامی ذرائع کے مطابق بچیاں چٹو سے سرن کی جانب بہنے والے برساتی نالے کو عبور کر رہی تھیں کہ نالے کا تیز بہاؤ انہیں اپنے ساتھ بہا لے گیا۔</p>
<p>ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دو طالبات کی لاشیں جبوڑی میں نادرا آفس کے قریب نالے سے برآمد کر لی گئی ہیں جب کہ تیسری طالبہ کو بحفاظت بچا لیا گیا۔</p>
<p>جاں بحق ہونے والی طالبات کڑاک کے رہائشی قاری شفیق ولد محمد اشرف اور عاشق حسین ولد عبدالجلیل کی بیٹیاں تھیں، جاں بحق طالبات کی عمریں سات سے آٹھ سال کے درمیان تھیں۔</p>
<p>واقعے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی جب کہ ریسکیو اہلکاروں اور مقامی افراد نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔</p>
<h1><a id="مون-سون-بارشوں-کا-سلسلہ-وقفے-وقفے-سے-جاری" href="#مون-سون-بارشوں-کا-سلسلہ-وقفے-وقفے-سے-جاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مون سون بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری</strong></h1>
<p>دوسری جانب ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور بیشتر اضلاع میں بادل خوب برسے، جس کے باعث مختلف شہروں میں سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہو گیا۔</p>
<p>موسلادھار بارش نے راولپنڈی کو ایک بار پھر پانی میں ڈبو دیا، ڈھوک کھبہ، چکلالہ، کچہری اور لیاقت باغ سمیت متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے جب کہ کئی گھروں اور دکانوں میں بارشی پانی داخل ہوگیا، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>گرجا روڈ پر برساتی نالے میں 6 سالہ بچہ بہہ گیا، جس کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ واسا کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں نکاسیٔ آب کے لیے واٹر پمپ اور ہیوی مشینری کے ذریعے ہنگامی آپریشن جاری ہے۔</p>
<p>وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مسلسل بارش کے باعث کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے اور شہریوں کو آمدورفت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی، جس سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا اور موسم خوشگوار ہو گیا تاہم بارش کے بعد متعدد علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 55 ملی میٹر بارش شادمان اور شادی پورہ میں ریکارڈ کی گئی جب کہ گلبرگ میں 54 ملی میٹر، مغل پورہ میں 50 ملی میٹر اور تاج پورہ میں 34 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اس کے علاوہ فاروق آباد، رینالہ خورد، شیخوپورہ، چک جھمرہ، کامونکی، ننکانہ صاحب، شرقپور شریف، دینہ اور بہاولنگر میں بھی موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>کامونکی میں سروس روڈ، جی ٹی روڈ اور انڈر پاسز میں پانی جمع ہونے سے ٹریفک شدید متاثر رہی جب کہ دیگر شہروں کے نشیبی علاقے، گلیاں اور بازار بھی زیر آب آ گئے۔ بارش شروع ہوتے ہی متعدد شہروں میں بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا اور کئی فیڈرز ٹرپ کر جانے سے مختلف علاقے بجلی سے محروم ہو گئے جب کہ نکاسی آب کے ناقص انتظامات کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<h1><a id="محکمہ-موسمیات-کی-موسلادھار-بارش-کی-پیشگوئی" href="#محکمہ-موسمیات-کی-موسلادھار-بارش-کی-پیشگوئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>محکمہ موسمیات کی موسلادھار بارش کی پیشگوئی</strong></h1>
<p>محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کل بھی موسلا دھار بارش کا امکان ہے جب کہ مری اور گلیات کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔ دوسری جانب جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>دوسری جانب تربیلا ڈیم کے سپل ویز بھی کھول دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 20 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔ دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر ملحقہ علاقوں کے مکینوں کو آبی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p>نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔</p>
<h1><a id="24-گھنٹوں-میں-بارشوں-کے-باعث-10-افراد-جاں-بحق" href="#24-گھنٹوں-میں-بارشوں-کے-باعث-10-افراد-جاں-بحق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>24 گھنٹوں میں بارشوں کے باعث 10 افراد جاں بحق</strong></h1>
<p>این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 10 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے۔ سندھ میں 3 بچوں سمیت 5 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ پنجاب میں 2 بچوں سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے۔</p>
<p>ادارے کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں مون سون بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں کم از کم 136 افراد جاں بحق اور 418 زخمی ہو چکے ہیں جب کہ جاں بحق افراد میں 63 بچے اور 26 خواتین شامل ہیں۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا حالیہ بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں اب تک 57 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 27 بچے بھی شامل ہیں۔ صوبے کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے۔</p>
<p>پنجاب میں بارشوں اور چھتیں گرنے کے مختلف واقعات میں 50 افراد جاں بحق اور 308 زخمی ہوئے ہیں جب کہ سندھ میں 10 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے۔ آزاد کشمیر میں 10 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ 5 افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>اسی طرح بلوچستان میں مختلف حادثات میں 8 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے جب کہ کوہِ سلیمان اور شمالی اضلاع کے ندی نالوں میں سیلابی ریلے گزر رہے ہیں۔</p>
<p>این ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلابی صورت حال سے ملک بھر میں ایک ہزار 150 سے زائد گھروں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے جب کہ 545 مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے اور 37 پلوں کے علاوہ 25 کلومیٹر طویل سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔</p>
<p>ادھر دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر سیلابی صورت حال برقرار ہے جب کہ دریائے راوی میں بلوکی ہیڈورکس پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ لاہور کے گرد و نواح کے دیہات، قصور، اوکاڑہ اور پاکپتن کے اضلاع کے لیے بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔</p>
<p>این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نے پنجاب اور دیگر متاثرہ علاقوں میں 75 سے زائد ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، جہاں متاثرین کو منتقل کیا جا رہا ہے جب کہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر امدادی ادارے ہائی الرٹ ہیں۔</p>
<p>شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ندی نالوں، بجلی کے کھمبوں اور کمزور عمارتوں سے دور رہیں جب کہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<h1><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h1>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511456</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Aug 2026 19:09:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد بشیرمحمد خورشید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/03190735e2e9ef6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/03190735e2e9ef6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/031856060c7c7dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/031856060c7c7dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
