<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 01:34:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 06 Aug 2026 01:34:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موجودہ نظام کہیں نہیں جا رہا، وزیراعظم مدت پوری کریں گے: محسن نقوی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511789/current-system-will-continue-prime-minister-complete-term-mohsin-naqvi</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی، جب کہ تمام وفاقی وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام ملک کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اس میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام کہیں نہیں جا رہا، وزیراعظم اپنی آئینی مدت ہر صورت پوری کریں گے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں مکمل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تمام وزارتوں کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی وزارت کی کارکردگی پر بھی وزیراعظم کو جوابدہ ہیں، اس لیے ان کی وزارت کا بھی تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے کہا کہ جو نتائج سامنے آئیں انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کون سی وزارت کس حد تک اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاسوں میں ان کی حاضری تقریباً 70 فی صد رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510925/the-current-system-has-collapsed-new-administrative-units-and-provinces-are-the-need-of-the-hour-mohsin-naqvi'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510925"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بطور وزیر ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ہر وزارت کی کارکردگی کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 80 برس سے رائج نظام ناکام ہو چکا ہے۔ اگر یہ نظام مؤثر ہوتا تو ملک آج کہیں زیادہ ترقی کر چکا ہوتا۔ ان کے بقول صرف وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ نظام میں بنیادی اصلاحات لانا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے مزید کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں اور حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی، تاہم نظام کی بہتری کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے موجودہ نظام کو ملک کے مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کا موجودہ سسٹم مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اسے مؤثر بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر انہوں نے نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا دیرپا حل ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ نظام برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں بھی ملک کو انہی مسائل کا سامنا رہے گا، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو نظام کی بہتری کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511053/dg-ispr-ahmad-sharif-good-governance-mohsin-naqvi-new-provinces'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی کے بیان پر جمعے کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا تھا کہ وزیر داخلہ کی گفتگو ان کی ذاتی رائے ہے، اس لیے وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا تھا کہ اگر انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو وہ ہونا چاہیے، جب کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی گورننس میں بہتری لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئین و قانون کے مطابق کام کرتی ہے اور عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے موجودہ نظام، گڈ گورننس اور نئے صوبوں سے متعلق بیان کے بعد یہ معاملہ سیاسی بحث کا مرکز بن گیا تھا۔ ان کے اس بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر نے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی، جب کہ تمام وفاقی وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام ملک کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اس میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام کہیں نہیں جا رہا، وزیراعظم اپنی آئینی مدت ہر صورت پوری کریں گے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں مکمل کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تمام وزارتوں کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی وزارت کی کارکردگی پر بھی وزیراعظم کو جوابدہ ہیں، اس لیے ان کی وزارت کا بھی تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔</p>
<p>محسن نقوی نے کہا کہ جو نتائج سامنے آئیں انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کون سی وزارت کس حد تک اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاسوں میں ان کی حاضری تقریباً 70 فی صد رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510925/the-current-system-has-collapsed-new-administrative-units-and-provinces-are-the-need-of-the-hour-mohsin-naqvi'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510925"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بطور وزیر ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ہر وزارت کی کارکردگی کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 80 برس سے رائج نظام ناکام ہو چکا ہے۔ اگر یہ نظام مؤثر ہوتا تو ملک آج کہیں زیادہ ترقی کر چکا ہوتا۔ ان کے بقول صرف وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ نظام میں بنیادی اصلاحات لانا ہوں گی۔</p>
<p>محسن نقوی نے مزید کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں اور حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی، تاہم نظام کی بہتری کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے موجودہ نظام کو ملک کے مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کا موجودہ سسٹم مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اسے مؤثر بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر انہوں نے نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا دیرپا حل ممکن نہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ نظام برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں بھی ملک کو انہی مسائل کا سامنا رہے گا، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو نظام کی بہتری کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511053/dg-ispr-ahmad-sharif-good-governance-mohsin-naqvi-new-provinces'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>محسن نقوی کے بیان پر جمعے کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا تھا کہ وزیر داخلہ کی گفتگو ان کی ذاتی رائے ہے، اس لیے وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔</p>
<p>لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا تھا کہ اگر انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو وہ ہونا چاہیے، جب کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی گورننس میں بہتری لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئین و قانون کے مطابق کام کرتی ہے اور عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے موجودہ نظام، گڈ گورننس اور نئے صوبوں سے متعلق بیان کے بعد یہ معاملہ سیاسی بحث کا مرکز بن گیا تھا۔ ان کے اس بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر نے بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511789</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 23:58:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/05235742ed2252d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/05235742ed2252d.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
