<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 20:01:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 06 Aug 2026 20:01:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین کے کن آرٹیکلز میں ترمیم کرنا ہوگی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511878/constitutional-amendments-for-new-provinces-in-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث کے دوران پارلیمانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ آئینِ پاکستان اس حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین کی پانچ اہم شقوں میں ترمیم، پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری لازمی ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمانی ذرائع کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین کے آرٹیکل 1، 51، 59، 106 اور 239 میں ترامیم درکار ہوں گی، کیونکہ ان شقوں کا تعلق وفاقی اکائیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی، صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں اور ملک کے انتظامی ڈھانچے سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کی شق 239 نئے صوبوں کے قیام میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس شق کے تحت آئینی ترمیم کا بل پہلے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور کرانا ضروری ہوگا۔ اگر کسی موجودہ صوبے کو تقسیم کرکے نیا صوبہ بنایا جائے تو متعلقہ صوبائی اسمبلی سے بھی اسی آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری لینا آئینی تقاضا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر متعلقہ صوبائی اسمبلی آئینی ترمیم کی منظوری نہ دے تو نئے صوبے کے قیام کا عمل آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ صرف کسی صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی بنیاد پر نیا صوبہ قائم نہیں کیا جا سکتا بل کہ اس کے لیے باقاعدہ آئینی ترمیم ہی واحد قانونی راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمانی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی، سینیٹ اور جہاں ضروری ہو متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری کے بعد آئینی ترمیم صدرِ مملکت کی توثیق کے لیے بھجوائی جائے گی، جس کے بعد ہی وہ آئینِ پاکستان کا حصہ بن سکے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510925/the-current-system-has-collapsed-new-administrative-units-and-provinces-are-the-need-of-the-hour-mohsin-naqvi'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510925"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ اس وقت دوبارہ قومی بحث کا موضوع بنا جب گزشتہ ماہ اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ پاکستان کا موجودہ نظام مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اسے مؤثر بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں، جب کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا دیرپا حل ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے کہا تھا کہ اگر موجودہ نظام برقرار رہا تو آئندہ دس برس بعد بھی ملک کو انہی مسائل کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہے بل کہ موجودہ جمہوری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے انتظامی اصلاحات، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ کے اس بیان کے بعد ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی اور آئینی بحث تیز ہوگئی۔ حکومتی اتحادی جماعتوں کے بعض رہنماؤں نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی، جب کہ مختلف سیاسی اور آئینی حلقوں نے اس معاملے کو وسیع قومی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں سے مشروط قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511055/new-administrative-units-provinces-and-a-map-circulating-on-social-media'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے انتظامی بنیادوں پر ہر صوبے کو مزید حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی، جب کہ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے بھی نئے صوبوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں عوامی رائے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزرا کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی نئے صوبوں سے متعلق مختلف نقشے اور تجاویز گردش کرتی رہیں، تاہم حکومت کی جانب سے کسی مجوزہ نقشے یا انتظامی تقسیم کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اس معاملے پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے بھی پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس سے متعلق وزیر داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، اس لیے وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511053/dg-ispr-ahmad-sharif-good-governance-mohsin-naqvi-new-provinces'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اس پر غور ہونا چاہیے، جب کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی گورننس کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت آئین اور قانون کے مطابق کام کرتی ہے اور عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے مؤقف بھی مختلف رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی ماضی سے جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتی رہی ہے، تاہم سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہے، جب کہ مسلم لیگ (ن) سمیت بعض جماعتیں خیبرپختونخوا میں ہزارہ صوبے کے قیام کی حامی رہی ہیں۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی نئے صوبوں کی بعض تجاویز کی مخالفت کرتی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی ماہرین کے مطابق نئے صوبوں کا قیام محض سیاسی اعلان یا انتظامی فیصلے سے ممکن نہیں بل کہ اس کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے، پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری ناگزیر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ پارلیمانی صورتِ حال میں کسی ایک جماعت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں، اس لیے اگر مستقبل میں نئے صوبوں کے قیام کی کوئی تجویز سامنے آتی ہے تو اس کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے بنیادی شرط ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث کے دوران پارلیمانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ آئینِ پاکستان اس حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین کی پانچ اہم شقوں میں ترمیم، پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری لازمی ہوگی۔</strong></p>
<p>پارلیمانی ذرائع کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین کے آرٹیکل 1، 51، 59، 106 اور 239 میں ترامیم درکار ہوں گی، کیونکہ ان شقوں کا تعلق وفاقی اکائیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی، صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں اور ملک کے انتظامی ڈھانچے سے ہے۔</p>
<p>آئین کی شق 239 نئے صوبوں کے قیام میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس شق کے تحت آئینی ترمیم کا بل پہلے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور کرانا ضروری ہوگا۔ اگر کسی موجودہ صوبے کو تقسیم کرکے نیا صوبہ بنایا جائے تو متعلقہ صوبائی اسمبلی سے بھی اسی آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری لینا آئینی تقاضا ہوگا۔</p>
<p>اگر متعلقہ صوبائی اسمبلی آئینی ترمیم کی منظوری نہ دے تو نئے صوبے کے قیام کا عمل آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ صرف کسی صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی بنیاد پر نیا صوبہ قائم نہیں کیا جا سکتا بل کہ اس کے لیے باقاعدہ آئینی ترمیم ہی واحد قانونی راستہ ہے۔</p>
<p>پارلیمانی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی، سینیٹ اور جہاں ضروری ہو متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری کے بعد آئینی ترمیم صدرِ مملکت کی توثیق کے لیے بھجوائی جائے گی، جس کے بعد ہی وہ آئینِ پاکستان کا حصہ بن سکے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510925/the-current-system-has-collapsed-new-administrative-units-and-provinces-are-the-need-of-the-hour-mohsin-naqvi'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510925"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ اس وقت دوبارہ قومی بحث کا موضوع بنا جب گزشتہ ماہ اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ پاکستان کا موجودہ نظام مسائل حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے اور اسے مؤثر بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں، جب کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا دیرپا حل ممکن نہیں۔</p>
<p>محسن نقوی نے کہا تھا کہ اگر موجودہ نظام برقرار رہا تو آئندہ دس برس بعد بھی ملک کو انہی مسائل کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہے بل کہ موجودہ جمہوری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے انتظامی اصلاحات، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔</p>
<p>وزیر داخلہ کے اس بیان کے بعد ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی اور آئینی بحث تیز ہوگئی۔ حکومتی اتحادی جماعتوں کے بعض رہنماؤں نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی، جب کہ مختلف سیاسی اور آئینی حلقوں نے اس معاملے کو وسیع قومی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں سے مشروط قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511055/new-administrative-units-provinces-and-a-map-circulating-on-social-media'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے انتظامی بنیادوں پر ہر صوبے کو مزید حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی، جب کہ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے بھی نئے صوبوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں عوامی رائے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔</p>
<p>وفاقی وزرا کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی نئے صوبوں سے متعلق مختلف نقشے اور تجاویز گردش کرتی رہیں، تاہم حکومت کی جانب سے کسی مجوزہ نقشے یا انتظامی تقسیم کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔</p>
<p>بعد ازاں اس معاملے پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے بھی پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس سے متعلق وزیر داخلہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، اس لیے وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511053/dg-ispr-ahmad-sharif-good-governance-mohsin-naqvi-new-provinces'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اس پر غور ہونا چاہیے، جب کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی گورننس کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت آئین اور قانون کے مطابق کام کرتی ہے اور عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے۔</p>
<p>نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے مؤقف بھی مختلف رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی ماضی سے جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتی رہی ہے، تاہم سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہے، جب کہ مسلم لیگ (ن) سمیت بعض جماعتیں خیبرپختونخوا میں ہزارہ صوبے کے قیام کی حامی رہی ہیں۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی نئے صوبوں کی بعض تجاویز کی مخالفت کرتی آئی ہے۔</p>
<p>آئینی ماہرین کے مطابق نئے صوبوں کا قیام محض سیاسی اعلان یا انتظامی فیصلے سے ممکن نہیں بل کہ اس کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے، پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری ناگزیر ہوگی۔</p>
<p>موجودہ پارلیمانی صورتِ حال میں کسی ایک جماعت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں، اس لیے اگر مستقبل میں نئے صوبوں کے قیام کی کوئی تجویز سامنے آتی ہے تو اس کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے بنیادی شرط ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511878</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 18:11:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/06174924b4d8f7b.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/06174924b4d8f7b.webp"/>
        <media:title>سوشل میڈیا پر زیرِ گردش نقشہ</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
