<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 17:17:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 07 Aug 2026 17:17:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا نوجوانوں کے لیے پروٹین شیک واقعی ضروری ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511993/protein-shakes-teen-health-protein-supplements-fitness-nutrition-muscle-building-healthy-diet-sports-nutrition</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل فٹنس اور باڈی بلڈنگ کا رجحان نوجوانوں میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ جِم جانے والے افراد اور کھلاڑی پٹھوں کو مضبوط بنانے اور جسمانی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پروٹین پاؤڈرز اور مختلف سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ سپلیمنٹس واقعی صحت کے لیے محفوظ ہیں؟ اس حوالے سے امریکا کے ایک معروف طبی ادارے کے سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق اہم حقائق سامنے لاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیلر یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC10761008/"&gt;پروسیڈنگزجرنل&lt;/a&gt; میں شائع ہونے والی ایک طبی تحقیق میں پروٹین سپلیمنٹس کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے، جس میں پروٹین سپلیمنٹ پاؤڈر کو دودھاری تلوار سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ سپلیمنٹس جہاں صحت کے لیے فائدہ مند ہیں، وہیں ان کا غیر محتاط استعمال نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بلوغت کا دور جسمانی نشوونما کا نہایت اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس دوران پروٹین پٹھوں کی تعمیر اور مرمت، ہڈیوں کی مضبوطی، ہارمونز اور انزائمز کی تیاری، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور جسم کی مجموعی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم اگر نوجوان اپنی روزمرہ خوراک میں دودھ، دہی، انڈے، دالیں، پھلیاں، سویا، مچھلی، چکن، کم چکنائی والا گوشت، خشک میوہ جات اور بیج شامل کریں تو زیادہ تر صورتوں میں انہیں اضافی پروٹین سپلیمنٹس استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/65287'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/65287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر نوجوان جم جانے، کھیلوں میں حصہ لینے یا سوشل میڈیا پر فٹنس سے متعلق ویڈیوز دیکھ کر پروٹین شیک استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف دوستوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز یا جم ٹرینرز کے مشورے پر پروٹین پاؤڈر استعمال کرنا مناسب نہیں۔ البتہ وہ نوجوان جو انتہائی سخت جسمانی تربیت کرتے ہیں، خوراک سے مطلوبہ پروٹین حاصل نہیں کر پاتے یا کسی خاص طبی مسئلے کا شکار ہوں، ان کے لیے ڈاکٹر کی نگرانی میں پروٹین سپلیمنٹ فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ پروٹین استعمال کرنے سے لازمی طور پر پٹھے زیادہ نہیں بنتے بلکہ پٹھوں کی بہتر نشوونما کے لیے باقاعدہ ورزش، مناسب کیلوریز، اچھی نیند، جسم کو آرام دینا اور جینیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ضروری طور پر زیادہ پروٹین لینے سے اضافی کیلوریز جسم میں جمع ہو سکتی ہیں، جس سے وزن بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر جسمانی سرگرمی کم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بازار میں دستیاب بعض پروٹین پاؤڈرز میں اضافی چینی، مصنوعی مٹھاس، جڑی بوٹیوں سے تیار کیے گئے اجزا، زیادہ کیلوریز اور بعض صورتوں میں ایسے محرک اجزا بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ہر فرد کے لیے مناسب نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ  کچھ سپلیمنٹس کا معیار بھی مکمل طور پر جانچا نہیں جاتا، جس کی وجہ سے ان میں ایسے مادے شامل ہونے کا خطرہ رہتا ہے جن کا لیبل پر ذکر موجود نہ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30430288'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30430288"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق گردوں کی بیماری یا بعض میٹابولک امراض میں مبتلا نوجوانوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر زیادہ پروٹین والے سپلیمنٹس استعمال نہیں کرنے چاہییں۔ اسی طرح اگر کوئی نوجوان عام کھانے چھوڑ کر روزانہ کئی پروٹین شیک پی رہا ہو یعنی صرف سپلیمنٹس پر انحصار کر رہا ہو، انتہائی سخت ڈائٹ اختیار کیے ہوئے ہو یا پروٹین پاؤڈر استعمال کرنے کے بعد پیٹ کی تکلیف محسوس کرے تو اس معاملے پرفوراً توجہ دینی چاہیے اور ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ پروٹین شیک متوازن کھانے کا متبادل نہیں بن سکتے کیونکہ عام غذا سے صرف پروٹین ہی نہیں بلکہ فائبر، صحت مند چکنائیاں، وٹامنز، کیلشیم، آئرن اور دیگر ضروری غذائی اجزا بھی حاصل ہوتے ہیں، جو نوجوانوں کی بہتر نشوونما کے لیے بے حد اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور مناسب نیند نوجوانوں کی جسمانی صحت کے لیے سب سے مؤثر طریقہ ہیں، جبکہ پروٹین سپلیمنٹس صرف ضرورت کے وقت اور ماہرین کی ہدایت کے مطابق ہی استعمال کیے جانے چاہییں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل فٹنس اور باڈی بلڈنگ کا رجحان نوجوانوں میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ جِم جانے والے افراد اور کھلاڑی پٹھوں کو مضبوط بنانے اور جسمانی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پروٹین پاؤڈرز اور مختلف سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ سپلیمنٹس واقعی صحت کے لیے محفوظ ہیں؟ اس حوالے سے امریکا کے ایک معروف طبی ادارے کے سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق اہم حقائق سامنے لاتی ہے۔</strong></p>
<p>بیلر یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC10761008/">پروسیڈنگزجرنل</a> میں شائع ہونے والی ایک طبی تحقیق میں پروٹین سپلیمنٹس کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے، جس میں پروٹین سپلیمنٹ پاؤڈر کو دودھاری تلوار سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ سپلیمنٹس جہاں صحت کے لیے فائدہ مند ہیں، وہیں ان کا غیر محتاط استعمال نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بلوغت کا دور جسمانی نشوونما کا نہایت اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس دوران پروٹین پٹھوں کی تعمیر اور مرمت، ہڈیوں کی مضبوطی، ہارمونز اور انزائمز کی تیاری، مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور جسم کی مجموعی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم اگر نوجوان اپنی روزمرہ خوراک میں دودھ، دہی، انڈے، دالیں، پھلیاں، سویا، مچھلی، چکن، کم چکنائی والا گوشت، خشک میوہ جات اور بیج شامل کریں تو زیادہ تر صورتوں میں انہیں اضافی پروٹین سپلیمنٹس استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/65287'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/65287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر نوجوان جم جانے، کھیلوں میں حصہ لینے یا سوشل میڈیا پر فٹنس سے متعلق ویڈیوز دیکھ کر پروٹین شیک استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف دوستوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز یا جم ٹرینرز کے مشورے پر پروٹین پاؤڈر استعمال کرنا مناسب نہیں۔ البتہ وہ نوجوان جو انتہائی سخت جسمانی تربیت کرتے ہیں، خوراک سے مطلوبہ پروٹین حاصل نہیں کر پاتے یا کسی خاص طبی مسئلے کا شکار ہوں، ان کے لیے ڈاکٹر کی نگرانی میں پروٹین سپلیمنٹ فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ پروٹین استعمال کرنے سے لازمی طور پر پٹھے زیادہ نہیں بنتے بلکہ پٹھوں کی بہتر نشوونما کے لیے باقاعدہ ورزش، مناسب کیلوریز، اچھی نیند، جسم کو آرام دینا اور جینیاتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>غیر ضروری طور پر زیادہ پروٹین لینے سے اضافی کیلوریز جسم میں جمع ہو سکتی ہیں، جس سے وزن بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر جسمانی سرگرمی کم ہو۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بازار میں دستیاب بعض پروٹین پاؤڈرز میں اضافی چینی، مصنوعی مٹھاس، جڑی بوٹیوں سے تیار کیے گئے اجزا، زیادہ کیلوریز اور بعض صورتوں میں ایسے محرک اجزا بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ہر فرد کے لیے مناسب نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ  کچھ سپلیمنٹس کا معیار بھی مکمل طور پر جانچا نہیں جاتا، جس کی وجہ سے ان میں ایسے مادے شامل ہونے کا خطرہ رہتا ہے جن کا لیبل پر ذکر موجود نہ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30430288'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30430288"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>طبی ماہرین کے مطابق گردوں کی بیماری یا بعض میٹابولک امراض میں مبتلا نوجوانوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر زیادہ پروٹین والے سپلیمنٹس استعمال نہیں کرنے چاہییں۔ اسی طرح اگر کوئی نوجوان عام کھانے چھوڑ کر روزانہ کئی پروٹین شیک پی رہا ہو یعنی صرف سپلیمنٹس پر انحصار کر رہا ہو، انتہائی سخت ڈائٹ اختیار کیے ہوئے ہو یا پروٹین پاؤڈر استعمال کرنے کے بعد پیٹ کی تکلیف محسوس کرے تو اس معاملے پرفوراً توجہ دینی چاہیے اور ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ پروٹین شیک متوازن کھانے کا متبادل نہیں بن سکتے کیونکہ عام غذا سے صرف پروٹین ہی نہیں بلکہ فائبر، صحت مند چکنائیاں، وٹامنز، کیلشیم، آئرن اور دیگر ضروری غذائی اجزا بھی حاصل ہوتے ہیں، جو نوجوانوں کی بہتر نشوونما کے لیے بے حد اہم ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور مناسب نیند نوجوانوں کی جسمانی صحت کے لیے سب سے مؤثر طریقہ ہیں، جبکہ پروٹین سپلیمنٹس صرف ضرورت کے وقت اور ماہرین کی ہدایت کے مطابق ہی استعمال کیے جانے چاہییں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511993</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 14:12:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/071401179df78c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/071401179df78c6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
