<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 12:10:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 10 Aug 2026 12:10:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ سے فوج نکالنے سے انکار؛ نیتن یاہو، ٹرمپ کی ناراضی کا خطرہ کیوں مول لے رہے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512339/netanyahu-calculates-upsetting-trump-is-his-least-bad-option</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عام طور پر پیچیدہ اور حساس معاملات پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ فیصلوں کو ٹال دیتے ہیں اور اگر کوئی موقف اپنانا بھی پڑے تو اس میں تھوڑی بہت گنجائش اور ابہام برقرار رکھتے ہیں تاکہ بعد میں کسی مشکل صورتحال سے بچا جا سکے۔ لیکن اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے لیے پیش کردہ روڈ میپ کے معاملے پر انہوں نے بالکل مختلف اور سخت رویہ اپنایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز میں اپنے خطاب کے دوران انتہائی واضح انداز میں کہا کہ وہ بالکل درست اور واضح بات کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل پندرہ نکات پر مشتمل اس دستاویز کو تسلیم نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ آپ نے یہ بات نہیں کہی، اس لیے میں یہاں دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ اسرائیل اس پندرہ نکاتی دستاویز کو قبول نہیں کرتا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، نیتن یاہو کا یہ سخت اور کھلا موقف ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512292/israel-rejects-trumps-15-point-plan-for-gaza'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512292"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ، جو اس وقت خارجہ امور میں ایک بڑی کامیابی کے شدید خواہش مند ہیں، انہوں نے دس دن قبل غزہ کے معاملے میں دوبارہ دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کے ’بورڈ آف پیس‘ نے حماس کے ساتھ مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کا ایک تاریخی معاہدہ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ کے اعلیٰ ایلچی نکولے ملاڈینوف نے سوشل میڈیا پر اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا تھا کہ حماس کے ہتھیار ڈالنے کا عمل اسرائیلی فوج کے انخلا کے ساتھ ساتھ مرحلہ وار چلے گا، یعنی جیسے جیسے حماس اپنے ہتھیار جمع کرائے گی، اسرائیلی فوج غزہ کے اندرونی علاقوں سے پیچھے ہٹتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، نیتن یاہو کے تازہ بیان نے اس منصوبے میں اسرائیل کی شمولیت کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جب تک حماس کے تمام چھوٹے بڑے ہتھیار مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے، اسرائیلی فوج غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گی، اور وہ ”کسی فرضی نہیں بلکہ حقیقی طور پر ہتھیاروں کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512303/trump-is-ready-to-end-the-iran-war-in-exchange-for-opening-the-strait-of-hormuz-wall-street-journal'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512303"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال پر حماس کی جانب سے کافی سنجیدہ اور نپا تلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے کہا ہے کہ وہ اس روڈ میپ پر قائم ہے اور اسے توقع ہے کہ امریکی بورڈ آف پیس نیتن یاہو پر اس معاہدے پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، امریکی ایلچی نکولے ملاڈینوف نے اسرائیل کے چینل 12 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ زمین پر تصدیق شدہ اقدامات سے پہلے کسی سے بھی کچھ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا، اور اگر حماس کے ہتھیاروں کے خاتمے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اسرائیل غزہ سے نکل جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس منصوبے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے تو متبادل صرف یہ ہوگا کہ حماس دوبارہ سے مسلح ہو جائے گی جس سے اسرائیل کے لیے سیکیورٹی خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کے مطابق، نیتن یاہو کی جانب سے امریکی صدر کو عوامی سطح پر اس طرح چیلنج کرنے کی اصل وجہ اسرائیل کے عام انتخابات ہیں، جن میں اب بارہ ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور پولنگ رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512303/trump-is-ready-to-end-the-iran-war-in-exchange-for-opening-the-strait-of-hormuz-wall-street-journal'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512303"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کو الیکشن کے بعد حکومت بنانے کے لیے اپنے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کی ضرورت ہوگی، جو اس امن منصوبے پر نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، اسرائیل کے بیشتر ووٹرز کا بھی یہی ماننا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی آزادی پر کسی قسم کی امریکی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیاسی ماحول میں نیتن یاہو نے امریکی صدر کی ناراضی مول لینا اپنے لیے کم نقصان دہ سودا سمجھا ہے۔ جبکہ اس تمام سیاسی اور عسکری بحث کے درمیان غزہ کے بیس لاکھ محصور شہری اب بھی بے بس ہیں، جن کا مستقبل ان مذاکرات اور سیاسی فیصلوں کی زد میں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عام طور پر پیچیدہ اور حساس معاملات پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ فیصلوں کو ٹال دیتے ہیں اور اگر کوئی موقف اپنانا بھی پڑے تو اس میں تھوڑی بہت گنجائش اور ابہام برقرار رکھتے ہیں تاکہ بعد میں کسی مشکل صورتحال سے بچا جا سکے۔ لیکن اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے لیے پیش کردہ روڈ میپ کے معاملے پر انہوں نے بالکل مختلف اور سخت رویہ اپنایا ہے۔</strong></p>
<p>نیتن یاہو نے اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز میں اپنے خطاب کے دوران انتہائی واضح انداز میں کہا کہ وہ بالکل درست اور واضح بات کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل پندرہ نکات پر مشتمل اس دستاویز کو تسلیم نہیں کرتا۔</p>
<p>انہوں نے اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ آپ نے یہ بات نہیں کہی، اس لیے میں یہاں دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ اسرائیل اس پندرہ نکاتی دستاویز کو قبول نہیں کرتا۔“</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، نیتن یاہو کا یہ سخت اور کھلا موقف ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512292/israel-rejects-trumps-15-point-plan-for-gaza'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512292"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>صدر ٹرمپ، جو اس وقت خارجہ امور میں ایک بڑی کامیابی کے شدید خواہش مند ہیں، انہوں نے دس دن قبل غزہ کے معاملے میں دوبارہ دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کے ’بورڈ آف پیس‘ نے حماس کے ساتھ مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کا ایک تاریخی معاہدہ کر لیا ہے۔</p>
<p>بورڈ کے اعلیٰ ایلچی نکولے ملاڈینوف نے سوشل میڈیا پر اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا تھا کہ حماس کے ہتھیار ڈالنے کا عمل اسرائیلی فوج کے انخلا کے ساتھ ساتھ مرحلہ وار چلے گا، یعنی جیسے جیسے حماس اپنے ہتھیار جمع کرائے گی، اسرائیلی فوج غزہ کے اندرونی علاقوں سے پیچھے ہٹتی جائے گی۔</p>
<p>تاہم، نیتن یاہو کے تازہ بیان نے اس منصوبے میں اسرائیل کی شمولیت کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔</p>
<p>نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جب تک حماس کے تمام چھوٹے بڑے ہتھیار مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے، اسرائیلی فوج غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گی، اور وہ ”کسی فرضی نہیں بلکہ حقیقی طور پر ہتھیاروں کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512303/trump-is-ready-to-end-the-iran-war-in-exchange-for-opening-the-strait-of-hormuz-wall-street-journal'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512303"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس صورتحال پر حماس کی جانب سے کافی سنجیدہ اور نپا تلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔</p>
<p>حماس نے کہا ہے کہ وہ اس روڈ میپ پر قائم ہے اور اسے توقع ہے کہ امریکی بورڈ آف پیس نیتن یاہو پر اس معاہدے پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔</p>
<p>دوسری جانب، امریکی ایلچی نکولے ملاڈینوف نے اسرائیل کے چینل 12 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ زمین پر تصدیق شدہ اقدامات سے پہلے کسی سے بھی کچھ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا، اور اگر حماس کے ہتھیاروں کے خاتمے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اسرائیل غزہ سے نکل جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس منصوبے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے تو متبادل صرف یہ ہوگا کہ حماس دوبارہ سے مسلح ہو جائے گی جس سے اسرائیل کے لیے سیکیورٹی خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔</p>
<p>سی این این کے مطابق، نیتن یاہو کی جانب سے امریکی صدر کو عوامی سطح پر اس طرح چیلنج کرنے کی اصل وجہ اسرائیل کے عام انتخابات ہیں، جن میں اب بارہ ہفتوں سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور پولنگ رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512303/trump-is-ready-to-end-the-iran-war-in-exchange-for-opening-the-strait-of-hormuz-wall-street-journal'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512303"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کو الیکشن کے بعد حکومت بنانے کے لیے اپنے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کی ضرورت ہوگی، جو اس امن منصوبے پر نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی تھیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ، اسرائیل کے بیشتر ووٹرز کا بھی یہی ماننا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی آزادی پر کسی قسم کی امریکی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>اس سیاسی ماحول میں نیتن یاہو نے امریکی صدر کی ناراضی مول لینا اپنے لیے کم نقصان دہ سودا سمجھا ہے۔ جبکہ اس تمام سیاسی اور عسکری بحث کے درمیان غزہ کے بیس لاکھ محصور شہری اب بھی بے بس ہیں، جن کا مستقبل ان مذاکرات اور سیاسی فیصلوں کی زد میں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512339</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 10:38:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/10103638fead437.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/10103638fead437.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
