<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 18:20:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 10 Aug 2026 18:20:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میر رضا قتل کیس: گیسٹ ہاؤس کس کی ملکیت ہے؟ اہم دستاویزات سامنے آگئیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512389/mir-raza-murder-case-who-owns-the-guesthouse-important-documents-come-to-light</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے تفتیش کے دوران گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق اہم دستاویزات حاصل کر لی ہیں جب کہ پولیس ویریفکیشن میں موجود کرایہ نامہ بھی سامنے آگیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر رضا قتل کیس سے منسلک گلستان جوہر کے گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق اہم دستاویزات آج نیوز سامنے لے آیا جب کہ دستاویزات میں پولیس ویریفکیشن کے دوران جمع کرایا گیا کرایہ نامہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق گیسٹ ہاؤس کے لیے مکان لیاقت نامی شخص نے کرائے پر حاصل کیا تھا، مکان C-349 طاہرہ سلطانہ کی ملکیت ہے جب کہ مکان مالکن اور گیسٹ ہاؤس کے مالک کے درمیان ہونے والا معاہدہ پولیس کے سافٹ ویئر ”ٹریکس“ میں بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ویریفکیشن کے ریکارڈ میں موجود کرایہ نامے کے مطابق مکان کو گیسٹ ہاؤس کے لیے کرائے پر دیا گیا تھا۔ کرایہ نامے پر 2 گواہوں کے نام بھی درج ہیں، جن میں جام علی اور عاصم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ہر کرایہ دار متعلقہ تھانے میں اندراج کرانے کا پابند ہوتا ہے جب کہ مذکورہ مکان کے حوالے سے پولیس ویریفکیشن کے دوران کرایہ نامہ بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میر رضا قتل کیس میں گیسٹ ہاؤس سے متعلق یہ دستاویزات اس لیے اہم ہیں کہ تفتیشی حکام واقعے سے قبل اور واقعے کے وقت گیسٹ ہاؤس میں موجود افراد، ان کی آمد و رفت اور مکان کے استعمال سے متعلق معلومات جمع کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز سوشل میڈیا پر یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ گلستانِ جوہر کا یہ گیسٹ ہاؤس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے، جہاں میر علی رضا کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان الزامات پر شرجیل میمن اور ان کے بیٹے راول میمن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رجوع کرتے ہوئے تحریری شکایت درج کرائی تھی کہ نامعلوم افراد ان کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچا رہے ہیں لہٰذا اس مہم کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512377/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل میر رضا قتل کیس کی تفتیش کے دوران آج نیوز اس پُراسرار گیسٹ ہاؤس کی اندرونی تفصیلات بھی سامنے لے آیا تھا، جہاں سے مبینہ طور پر میر رضا کی لاش ملی تھی۔ اس تفتیش کے دوران گیسٹ ہاؤس سے روتے ہوئے بھاگنے والا بچہ بھی سامنے آیا تھا، جس کی شناخت 14 سالہ شاہد کے نام سے ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد اس گیسٹ ہاؤس میں دن کے وقت بطور ملازم کام کرتا ہے اور اس نے پولیس کے سامنے واقعے کی رات کے تمام احوال اور اپنے رونے کی اصل وجہ بتائی۔ 14 سالہ شاہد نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ اس نے میر رضا کو اس واقعے سے پہلے کبھی بھی گیسٹ ہاؤس میں نہیں دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد کے مطابق، جب میر رضا کے والد گیسٹ ہاؤس پہنچے اور انہوں نے وہاں شور مچایا تو گیسٹ ہاؤس کا دیگر عملہ پیچھے کے راستے سے فرار ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد نے کہا تھا کہ ”ہمیں لگا پولیس اور میڈیا کا چھاپہ پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے میں شدید ڈر گیا اور میں نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا، جب بعد میں دروازہ کھولا تو میر رضا کے والد سامنے کھڑے تھے تاہم انہوں نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہد نے گیسٹ ہاؤس کے دیگر عملے کے فرار ہونے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ دیگر عملے نے درخت پر چڑھ کر دیوار عبور کی اور بھاگ نکلے۔ پولیس نے بعد میں فرار ہونے والے عملے کے تین میں سے دو افراد کو پکڑ لیا جب کہ ایک شخص تاحال فرار ہے۔ شاہد کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے میرا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد مجھے چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512351/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512351"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس وقت گیسٹ ہاؤس سے 6 افراد پولیس کی حراست میں ہیں، جن سے میر رضا کیس کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز سندھ حکومت نے عوامی دباؤ اور معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھنے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں سندھ حکومت نے میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مؤخر کردیا، وزیرداخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ میئر کراچی نے میر رضا کی والدہ سے بات کی، متاثرہ فیملی کو شفاف انکوائری کا یقین دلایا ہے، شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ والدین نے نئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، نئی کمیٹی ہی کیس کی تحقیقات کرے گی، فی الحال عدالتی کمیشن کے قیام کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512328/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512328"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ میر رضا علی 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ پولیس نے شروع میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی لیکن مقتول کے والد میر حسین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے حکم پر قبر کشائی کے بعد جب 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی، تو اس میں تصدیق ہوئی کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی پیچھے کی جانب سے لگی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمے میں اغوا کی دفعہ کے ساتھ قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے، جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے دوست عبداللہ سے فون پر بات کی تھی اور ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے تفتیش کے دوران گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق اہم دستاویزات حاصل کر لی ہیں جب کہ پولیس ویریفکیشن میں موجود کرایہ نامہ بھی سامنے آگیا ہے۔</strong></p>
<p>میر رضا قتل کیس سے منسلک گلستان جوہر کے گیسٹ ہاؤس کی ملکیت سے متعلق اہم دستاویزات آج نیوز سامنے لے آیا جب کہ دستاویزات میں پولیس ویریفکیشن کے دوران جمع کرایا گیا کرایہ نامہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>دستاویزات کے مطابق گیسٹ ہاؤس کے لیے مکان لیاقت نامی شخص نے کرائے پر حاصل کیا تھا، مکان C-349 طاہرہ سلطانہ کی ملکیت ہے جب کہ مکان مالکن اور گیسٹ ہاؤس کے مالک کے درمیان ہونے والا معاہدہ پولیس کے سافٹ ویئر ”ٹریکس“ میں بھی موجود ہے۔</p>
<p>پولیس ویریفکیشن کے ریکارڈ میں موجود کرایہ نامے کے مطابق مکان کو گیسٹ ہاؤس کے لیے کرائے پر دیا گیا تھا۔ کرایہ نامے پر 2 گواہوں کے نام بھی درج ہیں، جن میں جام علی اور عاصم شامل ہیں۔</p>
<p>پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ہر کرایہ دار متعلقہ تھانے میں اندراج کرانے کا پابند ہوتا ہے جب کہ مذکورہ مکان کے حوالے سے پولیس ویریفکیشن کے دوران کرایہ نامہ بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>میر رضا قتل کیس میں گیسٹ ہاؤس سے متعلق یہ دستاویزات اس لیے اہم ہیں کہ تفتیشی حکام واقعے سے قبل اور واقعے کے وقت گیسٹ ہاؤس میں موجود افراد، ان کی آمد و رفت اور مکان کے استعمال سے متعلق معلومات جمع کر رہے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ روز سوشل میڈیا پر یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ گلستانِ جوہر کا یہ گیسٹ ہاؤس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے، جہاں میر علی رضا کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔</p>
<p>ان الزامات پر شرجیل میمن اور ان کے بیٹے راول میمن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رجوع کرتے ہوئے تحریری شکایت درج کرائی تھی کہ نامعلوم افراد ان کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچا رہے ہیں لہٰذا اس مہم کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512377/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل میر رضا قتل کیس کی تفتیش کے دوران آج نیوز اس پُراسرار گیسٹ ہاؤس کی اندرونی تفصیلات بھی سامنے لے آیا تھا، جہاں سے مبینہ طور پر میر رضا کی لاش ملی تھی۔ اس تفتیش کے دوران گیسٹ ہاؤس سے روتے ہوئے بھاگنے والا بچہ بھی سامنے آیا تھا، جس کی شناخت 14 سالہ شاہد کے نام سے ہوئی تھی۔</p>
<p>شاہد اس گیسٹ ہاؤس میں دن کے وقت بطور ملازم کام کرتا ہے اور اس نے پولیس کے سامنے واقعے کی رات کے تمام احوال اور اپنے رونے کی اصل وجہ بتائی۔ 14 سالہ شاہد نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ اس نے میر رضا کو اس واقعے سے پہلے کبھی بھی گیسٹ ہاؤس میں نہیں دیکھا۔</p>
<p>شاہد کے مطابق، جب میر رضا کے والد گیسٹ ہاؤس پہنچے اور انہوں نے وہاں شور مچایا تو گیسٹ ہاؤس کا دیگر عملہ پیچھے کے راستے سے فرار ہو گیا۔</p>
<p>شاہد نے کہا تھا کہ ”ہمیں لگا پولیس اور میڈیا کا چھاپہ پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے میں شدید ڈر گیا اور میں نے خود کو ایک کمرے میں بند کر لیا، جب بعد میں دروازہ کھولا تو میر رضا کے والد سامنے کھڑے تھے تاہم انہوں نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا۔“</p>
<p>شاہد نے گیسٹ ہاؤس کے دیگر عملے کے فرار ہونے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ دیگر عملے نے درخت پر چڑھ کر دیوار عبور کی اور بھاگ نکلے۔ پولیس نے بعد میں فرار ہونے والے عملے کے تین میں سے دو افراد کو پکڑ لیا جب کہ ایک شخص تاحال فرار ہے۔ شاہد کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے میرا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد مجھے چھوڑ دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512351/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512351"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس وقت گیسٹ ہاؤس سے 6 افراد پولیس کی حراست میں ہیں، جن سے میر رضا کیس کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔</p>
<p>گزشتہ روز سندھ حکومت نے عوامی دباؤ اور معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھنے کا اعلان کیا۔</p>
<p>بعد ازاں سندھ حکومت نے میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مؤخر کردیا، وزیرداخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ میئر کراچی نے میر رضا کی والدہ سے بات کی، متاثرہ فیملی کو شفاف انکوائری کا یقین دلایا ہے، شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ والدین نے نئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، نئی کمیٹی ہی کیس کی تحقیقات کرے گی، فی الحال عدالتی کمیشن کے قیام کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512328/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512328"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ میر رضا علی 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ پولیس نے شروع میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی لیکن مقتول کے والد میر حسین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا۔</p>
<p>عدالت کے حکم پر قبر کشائی کے بعد جب 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی، تو اس میں تصدیق ہوئی کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی پیچھے کی جانب سے لگی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمے میں اغوا کی دفعہ کے ساتھ قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر لی ہے۔</p>
<p>تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے، جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے دوست عبداللہ سے فون پر بات کی تھی اور ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512389</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 18:07:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/10170806a485997.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/10170806a485997.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
