<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 12:06:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 12:06:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوٹیوب نے کمائی کا قانون مزید سخت کر دیا، واچ ٹائم کی شرط دگنی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512472/new-youtubers-face-a-setback-youtube-tightens-monetization-rules-doubles-watch-time-requirement</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوٹیوب نے نئے کریئیٹرز کے لیے اپنے پلیٹ فارم سے پیسے کمانے کی شرائط مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اب نئے کریئیٹرز کو یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شامل ہوکر اشتہارات اور یوٹیوب پریمیم سے آمدنی حاصل کرنے کے لیے پہلے کے مقابلے میں دگنے واچ آورز یا زیادہ شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی ملکیت رکھنے والے یوٹیوب نے یوٹیوب پارٹنر پروگرام یعنی وائی پی پی کے قواعد میں یہ تبدیلی کی ہے۔ یہ پروگرام دنیا بھر کے کریئیٹرز کو اپنی ویڈیوز کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے اور اس وقت اس میں 30 لاکھ سے زیادہ کریئیٹرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کے مطابق نئی شرائط یکم فروری 2027 سے نئے درخواست گزاروں پر لاگو ہوں گی۔ اس کے بعد کسی نئے کریئیٹر کو اشتہارات اور یوٹیوب پریمیم کی آمدنی میں حصہ لینے کے لیے گزشتہ 365 دنوں میں 8 ہزار اہل واچ آورز حاصل کرنا ہوں گے یا گزشتہ 90 دنوں میں 2 کروڑ اہل یوٹیوب شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471464'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471464"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے یہ شرط 4 ہزار واچ آورز یا ایک کروڑ شارٹس ویوز تھی۔ یعنی نئے کریئیٹرز کے لیے دونوں اہم اہداف دگنے کردیئے گئے ہیں۔ تاہم سبسکرائبرز کی کم از کم تعداد ایک ہزار ہی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد پلیٹ فارم پر بڑھتی ہوئی ویڈیو اور شارٹس کی مقبولیت کو مدنظر رکھنا ہے۔ کمپنی کے مطابق یوٹیوب پر روزانہ تقریباً 200 ارب شارٹس ویوز آتے ہیں جبکہ لوگ ہر روز ٹی وی پر یوٹیوب کی ویڈیوز دیکھنے میں ایک ارب سے زیادہ گھنٹے گزارتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں 2018 کے بعد پہلی بڑی تبدیلی قرار دی جارہی ہے۔ تاہم جو کریئیٹرز پہلے ہی وائی پی پی کا حصہ ہیں، ان پر نئے واچ ٹائم اور شارٹس ویوز کے یہ معیار لاگو نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب نے شارٹس سے کمائی کرنے والے کریئیٹرز کے لیے بھی ایک نئی شرط متعارف کرائی ہے جو نئے اور پرانے دونوں کریئیٹرز پر اثر انداز ہوگی۔ یکم فروری سے شارٹس کے اشتہارات اور سبسکرپشن آمدنی میں حصہ جاری رکھنے کے لیے کریئیٹرز کو ہر 90 دن کے دوران کم از کم ایک کروڑ اہل شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی چینل کے شارٹس ویوز اس حد سے نیچے چلے جاتے ہیں تو وہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام سے باہر نہیں ہوگا اور اپنی لمبی ویڈیوز سے کمائی جاری رکھ سکے گا۔ تاہم شارٹس سے آمدنی اس وقت تک رک جائے گی جب تک چینل دوبارہ 90 دن میں ایک کروڑ ویوز کا معیار پورا نہیں کرلیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کے مطابق جو کریئیٹرز پہلے ہی شارٹس سے اچھی خاصی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، ان پر اس نئی شرط کا زیادہ اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ کریئیٹرز یوٹیوب اسٹوڈیو میں جاکر نئی شرائط دیکھ سکیں گے اوران کے نافذ ہونے سے پہلے انہیں قبول کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن چینلز کے شارٹس ویوز نئی حد سے کم ہوں گے، ان کے لیے یوٹیوب آمدنی کے دوسرے راستے بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان میں یوٹیوب شاپنگ سے متعلق بونس، برانڈ ڈیلز کے لیے مراعات اور نئے ٹرینڈز شروع کرنے یا انہیں مقبول بنانے پر اضافی آمدنی جیسے طریقے شامل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا ابتدائی یا نچلا درجے والا نظام تبدیل نہیں کیا گیا۔ اس کے تحت 500 سبسکرائبرز، گزشتہ 90 دنوں میں تین عوامی ویڈیوز اور یا تو 3 ہزار اہل واچ آورز یا 30 لاکھ شارٹس ویوز حاصل کرنے والے کریئیٹرز فین فنڈنگ اور شاپنگ جیسے ٹولز استعمال کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30414886'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30414886"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب نے اپنی پریمیم لائٹ سروس کو بھی ان تمام ممالک تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے جہاں یوٹیوب پریمیم دستیاب ہے۔ پریمیم لائٹ کے ذریعے صارفین زیادہ تر مواد اشتہارات کے بغیر دیکھ سکتے ہیں اور آف لائن اور بیک گراؤنڈ ویونگ کی سہولت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کے مطابق پریمیم صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ الگ کریئیٹر پول میں شامل کیا جائے گا۔ کمپنی نے بتایا کہ آپریٹنگ اور تشہیری اخراجات اور میوزک پارٹنرز کو ادائیگی کے بعد پریمیم کی خالص سبسکرپشن آمدنی کا 30 فیصد جبکہ پریمیم لائٹ کی آمدنی کا 60 فیصد کریئیٹرز کے لیے مختص کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رقم کو صارفین کے دیکھنے کے وقت اور ویوز کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا۔ لمبی ویڈیوز کے لیے کریئیٹرز کو 55 فیصد جبکہ شارٹس کے لیے 45 فیصد حصہ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے بعض کریئیٹرز کی آمدنی بڑھ سکتی ہے۔ کمپنی نے کہا، “جب کوئی صارف پریمیم کے لیے سائن اپ کرتا ہے تو اوسطاً پارٹنرز کو اس صارف کی جانب سے اشتہارات دیکھنے کے مقابلے میں زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ 2027 میں کریئیٹرز کو 2026 کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوٹیوب کی جانب سے یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی کریئیٹرز کی کمائی کے نظام میں تبدیلیاں کررہے ہیں۔ ایکس نے اپنے کریئیٹر پے آؤٹ سسٹم میں تبدیلی کرکے اصل مواد کو زیادہ اہمیت دی ہے جبکہ فیس بک نے بھی رواں سال ایک نیا مونیٹائزیشن پروگرام شروع کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے قواعد کا مطلب یہ ہے کہ اب یوٹیوب پر نئے آنے والے کریئیٹرز کو کمائی شروع کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ محنت اور زیادہ ناظرین حاصل کرنا ہوں گے، جبکہ پہلے سے پارٹنر پروگرام میں شامل کریئیٹرز کے لیے بنیادی وائی پی پی  اہلیت کی یہ نئی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوٹیوب نے نئے کریئیٹرز کے لیے اپنے پلیٹ فارم سے پیسے کمانے کی شرائط مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اب نئے کریئیٹرز کو یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شامل ہوکر اشتہارات اور یوٹیوب پریمیم سے آمدنی حاصل کرنے کے لیے پہلے کے مقابلے میں دگنے واچ آورز یا زیادہ شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔</strong></p>
<p>گوگل کی ملکیت رکھنے والے یوٹیوب نے یوٹیوب پارٹنر پروگرام یعنی وائی پی پی کے قواعد میں یہ تبدیلی کی ہے۔ یہ پروگرام دنیا بھر کے کریئیٹرز کو اپنی ویڈیوز کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے اور اس وقت اس میں 30 لاکھ سے زیادہ کریئیٹرز شامل ہیں۔</p>
<p>یوٹیوب کے مطابق نئی شرائط یکم فروری 2027 سے نئے درخواست گزاروں پر لاگو ہوں گی۔ اس کے بعد کسی نئے کریئیٹر کو اشتہارات اور یوٹیوب پریمیم کی آمدنی میں حصہ لینے کے لیے گزشتہ 365 دنوں میں 8 ہزار اہل واچ آورز حاصل کرنا ہوں گے یا گزشتہ 90 دنوں میں 2 کروڑ اہل یوٹیوب شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471464'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471464"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے پہلے یہ شرط 4 ہزار واچ آورز یا ایک کروڑ شارٹس ویوز تھی۔ یعنی نئے کریئیٹرز کے لیے دونوں اہم اہداف دگنے کردیئے گئے ہیں۔ تاہم سبسکرائبرز کی کم از کم تعداد ایک ہزار ہی رہے گی۔</p>
<p>یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد پلیٹ فارم پر بڑھتی ہوئی ویڈیو اور شارٹس کی مقبولیت کو مدنظر رکھنا ہے۔ کمپنی کے مطابق یوٹیوب پر روزانہ تقریباً 200 ارب شارٹس ویوز آتے ہیں جبکہ لوگ ہر روز ٹی وی پر یوٹیوب کی ویڈیوز دیکھنے میں ایک ارب سے زیادہ گھنٹے گزارتے ہیں۔</p>
<p>یہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں 2018 کے بعد پہلی بڑی تبدیلی قرار دی جارہی ہے۔ تاہم جو کریئیٹرز پہلے ہی وائی پی پی کا حصہ ہیں، ان پر نئے واچ ٹائم اور شارٹس ویوز کے یہ معیار لاگو نہیں ہوں گے۔</p>
<p>یوٹیوب نے شارٹس سے کمائی کرنے والے کریئیٹرز کے لیے بھی ایک نئی شرط متعارف کرائی ہے جو نئے اور پرانے دونوں کریئیٹرز پر اثر انداز ہوگی۔ یکم فروری سے شارٹس کے اشتہارات اور سبسکرپشن آمدنی میں حصہ جاری رکھنے کے لیے کریئیٹرز کو ہر 90 دن کے دوران کم از کم ایک کروڑ اہل شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔</p>
<p>اگر کسی چینل کے شارٹس ویوز اس حد سے نیچے چلے جاتے ہیں تو وہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام سے باہر نہیں ہوگا اور اپنی لمبی ویڈیوز سے کمائی جاری رکھ سکے گا۔ تاہم شارٹس سے آمدنی اس وقت تک رک جائے گی جب تک چینل دوبارہ 90 دن میں ایک کروڑ ویوز کا معیار پورا نہیں کرلیتا۔</p>
<p>یوٹیوب کے مطابق جو کریئیٹرز پہلے ہی شارٹس سے اچھی خاصی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، ان پر اس نئی شرط کا زیادہ اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ کریئیٹرز یوٹیوب اسٹوڈیو میں جاکر نئی شرائط دیکھ سکیں گے اوران کے نافذ ہونے سے پہلے انہیں قبول کرسکیں گے۔</p>
<p>جن چینلز کے شارٹس ویوز نئی حد سے کم ہوں گے، ان کے لیے یوٹیوب آمدنی کے دوسرے راستے بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان میں یوٹیوب شاپنگ سے متعلق بونس، برانڈ ڈیلز کے لیے مراعات اور نئے ٹرینڈز شروع کرنے یا انہیں مقبول بنانے پر اضافی آمدنی جیسے طریقے شامل ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا ابتدائی یا نچلا درجے والا نظام تبدیل نہیں کیا گیا۔ اس کے تحت 500 سبسکرائبرز، گزشتہ 90 دنوں میں تین عوامی ویڈیوز اور یا تو 3 ہزار اہل واچ آورز یا 30 لاکھ شارٹس ویوز حاصل کرنے والے کریئیٹرز فین فنڈنگ اور شاپنگ جیسے ٹولز استعمال کرسکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30414886'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30414886"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یوٹیوب نے اپنی پریمیم لائٹ سروس کو بھی ان تمام ممالک تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے جہاں یوٹیوب پریمیم دستیاب ہے۔ پریمیم لائٹ کے ذریعے صارفین زیادہ تر مواد اشتہارات کے بغیر دیکھ سکتے ہیں اور آف لائن اور بیک گراؤنڈ ویونگ کی سہولت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>یوٹیوب کے مطابق پریمیم صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ الگ کریئیٹر پول میں شامل کیا جائے گا۔ کمپنی نے بتایا کہ آپریٹنگ اور تشہیری اخراجات اور میوزک پارٹنرز کو ادائیگی کے بعد پریمیم کی خالص سبسکرپشن آمدنی کا 30 فیصد جبکہ پریمیم لائٹ کی آمدنی کا 60 فیصد کریئیٹرز کے لیے مختص کیا جائے گا۔</p>
<p>اس رقم کو صارفین کے دیکھنے کے وقت اور ویوز کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا۔ لمبی ویڈیوز کے لیے کریئیٹرز کو 55 فیصد جبکہ شارٹس کے لیے 45 فیصد حصہ ملے گا۔</p>
<p>یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے بعض کریئیٹرز کی آمدنی بڑھ سکتی ہے۔ کمپنی نے کہا، “جب کوئی صارف پریمیم کے لیے سائن اپ کرتا ہے تو اوسطاً پارٹنرز کو اس صارف کی جانب سے اشتہارات دیکھنے کے مقابلے میں زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔”</p>
<p>کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ 2027 میں کریئیٹرز کو 2026 کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کی جائے گی۔</p>
<p>یوٹیوب کی جانب سے یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی کریئیٹرز کی کمائی کے نظام میں تبدیلیاں کررہے ہیں۔ ایکس نے اپنے کریئیٹر پے آؤٹ سسٹم میں تبدیلی کرکے اصل مواد کو زیادہ اہمیت دی ہے جبکہ فیس بک نے بھی رواں سال ایک نیا مونیٹائزیشن پروگرام شروع کیا ہے۔</p>
<p>نئے قواعد کا مطلب یہ ہے کہ اب یوٹیوب پر نئے آنے والے کریئیٹرز کو کمائی شروع کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ محنت اور زیادہ ناظرین حاصل کرنا ہوں گے، جبکہ پہلے سے پارٹنر پروگرام میں شامل کریئیٹرز کے لیے بنیادی وائی پی پی  اہلیت کی یہ نئی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512472</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 11:17:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/11102850785a322.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/11102850785a322.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
