<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 13:15:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 13:15:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاطینی امریکا کے 10 تباہ کن زلزلے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512484/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاطینی امریکا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں زمین کی مختلف تہوں کی حرکت کے باعث زلزلوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ خطے میں ماضی کے کئی زلزلے ایسی تباہی لائے جن میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد جان سے گئے، شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولمبیا میں 10 اگست کو آنے والے طاقتور زلزلے میں اب تک کم از کم 132 افراد ہلاک ہوئے ہیں مزید ہلاکتوں کا امکان ہے کیونکہ کئی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہونے کے وجہ سے لوگ ملبے تلے دب گئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خطے میں آنے والے بڑے زلزلوں اور ان سے ہونے والی تباہی کی یاد تازہ کر دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512467/rescue-operation-natural-disaster-colambia-colombia-earthquake-74-magnitude-earthquake-earthquake-deaths-earthquake-news-colombia-disaster'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/environment/latin-americas-10-deadliest-earthquakes-2026-08-10/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt;، لاطینی امریکا کی تاریخ میں آنے والے ہلاکت خیز زلزلوں میں بعض کی شدت بہت زیادہ تھی، لیکن کئی ایسے زلزلے بھی تھے جن کی تباہ کاری کی بڑی وجہ کمزور عمارتیں، زیادہ آبادی، ناقص تعمیرات اور امدادی سہولتوں کی کمی بنی۔ ذیل میں خطے کے 10 ہلاکت خیز ترین زلزلوں کی تفصیل پیش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" href="#1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;1۔ 2010 کا ہیٹی زلزلہ  (3 لاکھ 16 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;12 جنوری 2010 کو ہیٹی میں 7.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں اندازاً 3 لاکھ 16 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ شدت کے اعتبار سے یہ فہرست میں موجود بعض دوسرے زلزلوں سے کم تھا، لیکن جانی نقصان کے لحاظ سے یہ تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کا سب سے بڑا اثر دارالحکومت پورٹ او پرنس پر پڑا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ رہتے تھے اور عمارتیں شدید زلزلے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ کمزور تعمیرات، ناقص معیار کا کنکریٹ، عمارتوں کے ڈیزائن میں حفاظتی اصولوں کی کمی اور ہنگامی امداد کے محدود وسائل نے تباہی کو مزید بڑھا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس زلزلے کے نتیجے میں ملک کو تقریباً 8 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جو 2009 میں ہیٹی کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 120 فیصد کے برابر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" href="#2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;2۔ 1868 کے ایکواڈور اور کولمبیا کے زلزلے (70 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;15 اگست 1868 کو ایکواڈور اور کولمبیا میں زلزلوں کا ایک سلسلہ آیا۔ ابتدا میں نسبتاً کم شدت کے جھٹکے محسوس ہوئے، لیکن اگلی صبح 7.7 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے کے نتیجے میں ایکواڈور میں تقریباً 40 ہزار جبکہ کولمبیا میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ کئی قصبے تباہ ہوگئے۔ اس وقت کی تحریری دستاویزات کے مطابق ایکواڈور کے شہر ایبارا میں زلزلہ رات تقریباً سوا ایک بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف چند سیکنڈ کے شدید جھٹکوں نے شہر کو اس قدر تباہ کر دیا کہ بہت سے لوگ اپنے ہی گھروں کے ملبے تلے دب گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" href="#3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;3۔ 1970 کا پیرو زلزلہ (66 ہزار 794 اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;31 مئی 1970 کو پیرو میں 7.9 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس زلزلے نے ایک انتہائی خطرناک قدرتی آفت کو جنم دیا۔ زلزلے کے نتیجے میں پیرو کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک کی شمالی ڈھلوان غیر مستحکم ہوئی اور برف، چٹانوں اور مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ نیچے کی جانب تیزی سے آنے لگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506788'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ تودہ تقریباً 335 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے یُونگے اور رَانراہیرکا کے علاقوں کی طرف بڑھا۔ اندازاً 8 کروڑ مکعب میٹر برف اور چٹانیں اپنے راستے میں آنے والی آبادیوں پر جا گریں اور کئی مقامات پر ملبے کی تہہ چار میٹر تک بلند ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونگے شہر میں اندازاً 19 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ صرف تقریباً ڈھائی ہزار(2,500) لوگ زندہ بچ سکے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر شہروں کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا، جن میں چمبوٹے اور ہُواراز شامل تھے۔ مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" href="#4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;4۔ 1797 کا ایکواڈور زلزلہ (40 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1797 میں ایکواڈور میں آنے والا زلزلہ ملک میں ریکارڈ کیے گئے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی اندازاً شدت 8.3 تھی اور اس نے ملک کے بڑے حصے کو شدید متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کے باعث بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرے اور کئی شہروں میں عمارتیں چند ہی لمحوں میں زمین بوس ہوگئیں۔ کوئٹو، رِیوبامبا، لاتاکونگا اور امباتو سمیت کئی علاقوں میں تباہی پھیلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دور کی تاریخی تحریروں اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق زمین اس شدت سے ہلی کہ کئی عمارتیں کھڑے رہنے کے بجائے چند سیکنڈ میں ملبے میں تبدیل ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" href="#5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;5۔ 1939 کا چلی زلزلہ (30 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;چلی کو دنیا کے طاقتور ترین ریکارڈ شدہ زلزلے کا سامنا بھی رہا ہے۔ 1960 میں یہاں 9.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کے لحاظ سے 1939 کا زلزلہ ملک کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی شہر چِیان میں آنے والے اس 8.3 شدت کے زلزلے نے چِیان اور کونسیپسیون سمیت کئی علاقوں کو تباہ کردیا۔ اس وقت بڑی تعداد میں عمارتیں ایڈوب یعنی مٹی اور اینٹوں جیسے کمزور تعمیراتی مواد سے بنی ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلہ ماہر سِنّا لومنٹز کے مطابق تعمیرات میں انجینئرنگ کے اصولوں اور زلزلے کے دوران عمارتوں کو افقی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے انتظامات کی شدید کمی تھی۔ اس تباہی کے بعد چلی نے پہلی بار زلزلہ برداشت کرنے والی عمارتوں کی تعمیر کے لیے باقاعدہ حفاظتی قوانین بنائے اور ملک میں زلزلہ برداشت کرنے والی تعمیرات کے لیے اپنا پہلا اہم بلڈنگ کوڈ متعارف کرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" href="#6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;6۔ 1812 کا وینزویلا زلزلہ (26 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1812 میں وینزویلا میں آنے والے 7۔7 شدت کے زلزلے میں تقریباً 26 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1962 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ یہ ایک ہی زلزلہ نہ ہو بلکہ ایک دوسرے کے قریب آنے والے تین زلزلوں کا سلسلہ ہو، جنہوں نے ایک دوسرے کو متحرک کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس آفت نے دارالحکومت کراکس کا تقریباً 90 فیصد حصہ تباہ کردیا۔ بارکیسیمیتو، میریدا، لا گوئیرا اور سان فیلیپے سمیت کئی دوسرے شہروں میں بھی ہزاروں افراد جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ زلزلہ ایسے وقت آیا جب وینزویلا اسپین کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اس وقت ہسپانوی حکام نے زلزلے کو انقلابی تحریک کے خلاف خدائی سزا قرار دیا۔ دوسری جانب امریکا نے متاثرین کے لیے خوراک اور مالی امداد بھیجی، جسے بیرونِ ملک سے قدرتی آفت کے متاثرین کی مدد کی ابتدائی مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" href="#7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;7۔ 1868 کا اریکا زلزلہ (25 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1868 میں 8.5 شدت کا ایک انتہائی طاقتور زلزلہ اریکا کے علاقے میں آیا۔ اس وقت اریکا پیرو کا حصہ تھا، جبکہ آج یہ علاقہ چلی میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے نے اریکا کے ساتھ ساتھ اریکیپا، موکیگوا، مولینڈو اور ایلو سمیت کئی شہروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ تاہم تباہی صرف زمین تک محدود نہیں رہی۔ زلزلے کے بعد سمندر میں سونامی پیدا ہوا، جس نے پیرو کے ساحلی علاقوں اور بندرگاہی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونامی کی لہروں کا اثر بہت دور تک محسوس ہوا اور ہوائی اور نیوزی لینڈ تک تباہ کن لہریں پہنچنے کی اطلاعات ملیں۔ مجموعی طور پر اس آفت میں تقریباً 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" href="#8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;8۔ 1976 کا گوئٹے مالا زلزلہ (23 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;4 فروری 1976 کو گوئٹے مالا میں 7.5 شدت کا زلزلہ رات تقریباً 3 بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ گھروں میں سو رہے تھے۔ دارالحکومت گوئٹے مالا سٹی سمیت گنجان آباد علاقوں میں شدید تباہی ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506698/islamabad-khyber-pakhtunkhwa-5-4-magnitude-earthquake-hit-pakistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506698"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;زلزلے سے تقریباً ایک لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے میں نقصان ہوا۔ مٹی اور اینٹوں سے بنی بڑی تعداد میں گھروں کا وجود مٹ گیا، جبکہ بعد میں آنے والے طاقتور جھٹکوں نے مزید اموات اور نقصان کا سبب بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔ ملک کے تقریباً دو پانچویں حصے کے اسپتال بھی تباہ یا شدید متاثر ہوئے، جس کے باعث زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا مزید مشکل ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" href="#9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;9۔ 1797 کا وینزویلا زلزلہ (16 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1797 میں وینزویلا میں آنے والے ایک اور بڑے زلزلے نے تقریباً 16 ہزار جانیں لیں۔ اس زلزلے کی شدت کا درست اندازہ موجود نہیں، کیونکہ اس زمانے میں زلزلے ریکارڈ کرنے کے لیے جدید آلات دستیاب نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن ماہرِ جغرافیہ اور قدرتی علوم کے محقق الیگزینڈر فان ہمبولٹ نے بعد میں اس زلزلے کے بارے میں معلومات درج کیں۔ زلزلے نے کومانا شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو تباہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کے بعض عینی شاہدین نے زلزلے سے پہلے زمین کے اندر سے تیز آوازیں آنے اور گندھک جیسی بو محسوس ہونے کا ذکر کیا۔ 1855 میں شائع ہونے والے زلزلوں کے ایک ریکارڈ میں بھی زمین سے شعلے نکلنے اور اس کے بعد زیرِ زمین ابلتے پانی جیسی آوازوں کا ذکر کیا گیا، تاہم ان تاریخی مشاہدات کی جدید سائنسی تشریح مختلف ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" href="#10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;10۔ 1861 کا ارجنٹینا زلزلہ (14 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1861 میں ارجنٹینا کے شہر مینڈوزا کے قریب آنے والے زلزلے نے تقریباً 14 ہزار افراد کی جان لی۔ زلزلہ رات کے قریب آیا اور شہر کی زیادہ تر عمارتیں تباہ ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تباہ ہونے والی عمارتوں میں سین فرانسسکو باسیلیکا بھی شامل تھی۔ اس دور میں شہروں میں گیس کے چراغ عام استعمال ہوتے تھے۔ عمارتوں کے ملبے کے ساتھ ان چراغوں سے لگنے والی آگ نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا اور آگ کئی دن تک جلتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلی اور لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے۔ نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن کے اہم زلزلہ ڈیٹا بیس میں اس زلزلے کی شدت درج نہیں، تاہم بعض تاریخی ریکارڈ اسے تقریباً 7.2 شدت کا زلزلہ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" href="#زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زلزلوں کی تباہی صرف شدت سے طے نہیں ہوتی&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;لاطینی امریکا کی ان 10 بڑی قدرتی آفات کی تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ زلزلے کی شدت جانی نقصان کا واحد سبب نہیں ہوتی۔ ہیٹی کا 2010 کا 7.0 شدت کا زلزلہ اس کی واضح مثال ہے، جس میں 3 لاکھ 16 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمزور عمارتیں، گنجان آبادی، تعمیراتی قوانین پر عمل نہ ہونا، امدادی سہولتوں کی کمی اور زلزلے کے بعد آنے والے دیگر خطرات، جیسے لینڈ سلائیڈنگ اور سونامی، کسی زلزلے کو زیادہ خطرناک بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اعداد و شمار میں معمولی فرق مختلف تاریخی ذرائع اور اس دور میں ریکارڈنگ کی محدود سہولتوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قدرتی آفت کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن مضبوط تعمیرات، بہتر منصوبہ بندی اور بروقت امدادی نظام کے ذریعے اس کے انسانی نقصان کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق یہ اعداد و شمار نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن اور ورلڈ ڈیٹا سروس فار جیو فزکس سے مرتب کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاطینی امریکا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں زمین کی مختلف تہوں کی حرکت کے باعث زلزلوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ خطے میں ماضی کے کئی زلزلے ایسی تباہی لائے جن میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد جان سے گئے، شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔</strong></p>
<p>کولمبیا میں 10 اگست کو آنے والے طاقتور زلزلے میں اب تک کم از کم 132 افراد ہلاک ہوئے ہیں مزید ہلاکتوں کا امکان ہے کیونکہ کئی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہونے کے وجہ سے لوگ ملبے تلے دب گئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خطے میں آنے والے بڑے زلزلوں اور ان سے ہونے والی تباہی کی یاد تازہ کر دی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512467/rescue-operation-natural-disaster-colambia-colombia-earthquake-74-magnitude-earthquake-earthquake-deaths-earthquake-news-colombia-disaster'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برطانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/environment/latin-americas-10-deadliest-earthquakes-2026-08-10/">رائٹرز کے مطابق</a>، لاطینی امریکا کی تاریخ میں آنے والے ہلاکت خیز زلزلوں میں بعض کی شدت بہت زیادہ تھی، لیکن کئی ایسے زلزلے بھی تھے جن کی تباہ کاری کی بڑی وجہ کمزور عمارتیں، زیادہ آبادی، ناقص تعمیرات اور امدادی سہولتوں کی کمی بنی۔ ذیل میں خطے کے 10 ہلاکت خیز ترین زلزلوں کی تفصیل پیش ہے۔</p>
<h3><a id="1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" href="#1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>1۔ 2010 کا ہیٹی زلزلہ  (3 لاکھ 16 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>12 جنوری 2010 کو ہیٹی میں 7.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں اندازاً 3 لاکھ 16 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ شدت کے اعتبار سے یہ فہرست میں موجود بعض دوسرے زلزلوں سے کم تھا، لیکن جانی نقصان کے لحاظ سے یہ تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شامل ہے۔</p>
<p>زلزلے کا سب سے بڑا اثر دارالحکومت پورٹ او پرنس پر پڑا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ رہتے تھے اور عمارتیں شدید زلزلے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ کمزور تعمیرات، ناقص معیار کا کنکریٹ، عمارتوں کے ڈیزائن میں حفاظتی اصولوں کی کمی اور ہنگامی امداد کے محدود وسائل نے تباہی کو مزید بڑھا دیا۔</p>
<p>اس زلزلے کے نتیجے میں ملک کو تقریباً 8 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جو 2009 میں ہیٹی کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 120 فیصد کے برابر تھا۔</p>
<h3><a id="2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" href="#2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>2۔ 1868 کے ایکواڈور اور کولمبیا کے زلزلے (70 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>15 اگست 1868 کو ایکواڈور اور کولمبیا میں زلزلوں کا ایک سلسلہ آیا۔ ابتدا میں نسبتاً کم شدت کے جھٹکے محسوس ہوئے، لیکن اگلی صبح 7.7 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔</p>
<p>اس سلسلے کے نتیجے میں ایکواڈور میں تقریباً 40 ہزار جبکہ کولمبیا میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ کئی قصبے تباہ ہوگئے۔ اس وقت کی تحریری دستاویزات کے مطابق ایکواڈور کے شہر ایبارا میں زلزلہ رات تقریباً سوا ایک بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔</p>
<p>صرف چند سیکنڈ کے شدید جھٹکوں نے شہر کو اس قدر تباہ کر دیا کہ بہت سے لوگ اپنے ہی گھروں کے ملبے تلے دب گئے۔</p>
<h3><a id="3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" href="#3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>3۔ 1970 کا پیرو زلزلہ (66 ہزار 794 اموات)</strong></h3>
<p>31 مئی 1970 کو پیرو میں 7.9 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس زلزلے نے ایک انتہائی خطرناک قدرتی آفت کو جنم دیا۔ زلزلے کے نتیجے میں پیرو کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک کی شمالی ڈھلوان غیر مستحکم ہوئی اور برف، چٹانوں اور مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ نیچے کی جانب تیزی سے آنے لگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506788'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ تودہ تقریباً 335 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے یُونگے اور رَانراہیرکا کے علاقوں کی طرف بڑھا۔ اندازاً 8 کروڑ مکعب میٹر برف اور چٹانیں اپنے راستے میں آنے والی آبادیوں پر جا گریں اور کئی مقامات پر ملبے کی تہہ چار میٹر تک بلند ہوگئی۔</p>
<p>یونگے شہر میں اندازاً 19 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ صرف تقریباً ڈھائی ہزار(2,500) لوگ زندہ بچ سکے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر شہروں کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا، جن میں چمبوٹے اور ہُواراز شامل تھے۔ مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔</p>
<h3><a id="4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" href="#4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>4۔ 1797 کا ایکواڈور زلزلہ (40 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1797 میں ایکواڈور میں آنے والا زلزلہ ملک میں ریکارڈ کیے گئے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی اندازاً شدت 8.3 تھی اور اس نے ملک کے بڑے حصے کو شدید متاثر کیا۔</p>
<p>زلزلے کے باعث بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرے اور کئی شہروں میں عمارتیں چند ہی لمحوں میں زمین بوس ہوگئیں۔ کوئٹو، رِیوبامبا، لاتاکونگا اور امباتو سمیت کئی علاقوں میں تباہی پھیلی۔</p>
<p>اس دور کی تاریخی تحریروں اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق زمین اس شدت سے ہلی کہ کئی عمارتیں کھڑے رہنے کے بجائے چند سیکنڈ میں ملبے میں تبدیل ہوگئیں۔</p>
<h3><a id="5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" href="#5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>5۔ 1939 کا چلی زلزلہ (30 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>چلی کو دنیا کے طاقتور ترین ریکارڈ شدہ زلزلے کا سامنا بھی رہا ہے۔ 1960 میں یہاں 9.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کے لحاظ سے 1939 کا زلزلہ ملک کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ ثابت ہوا۔</p>
<p>جنوبی شہر چِیان میں آنے والے اس 8.3 شدت کے زلزلے نے چِیان اور کونسیپسیون سمیت کئی علاقوں کو تباہ کردیا۔ اس وقت بڑی تعداد میں عمارتیں ایڈوب یعنی مٹی اور اینٹوں جیسے کمزور تعمیراتی مواد سے بنی ہوئی تھیں۔</p>
<p>زلزلہ ماہر سِنّا لومنٹز کے مطابق تعمیرات میں انجینئرنگ کے اصولوں اور زلزلے کے دوران عمارتوں کو افقی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے انتظامات کی شدید کمی تھی۔ اس تباہی کے بعد چلی نے پہلی بار زلزلہ برداشت کرنے والی عمارتوں کی تعمیر کے لیے باقاعدہ حفاظتی قوانین بنائے اور ملک میں زلزلہ برداشت کرنے والی تعمیرات کے لیے اپنا پہلا اہم بلڈنگ کوڈ متعارف کرایا۔</p>
<h3><a id="6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" href="#6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>6۔ 1812 کا وینزویلا زلزلہ (26 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1812 میں وینزویلا میں آنے والے 7۔7 شدت کے زلزلے میں تقریباً 26 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1962 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ یہ ایک ہی زلزلہ نہ ہو بلکہ ایک دوسرے کے قریب آنے والے تین زلزلوں کا سلسلہ ہو، جنہوں نے ایک دوسرے کو متحرک کیا۔</p>
<p>اس آفت نے دارالحکومت کراکس کا تقریباً 90 فیصد حصہ تباہ کردیا۔ بارکیسیمیتو، میریدا، لا گوئیرا اور سان فیلیپے سمیت کئی دوسرے شہروں میں بھی ہزاروں افراد جان سے گئے۔</p>
<p>یہ زلزلہ ایسے وقت آیا جب وینزویلا اسپین کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اس وقت ہسپانوی حکام نے زلزلے کو انقلابی تحریک کے خلاف خدائی سزا قرار دیا۔ دوسری جانب امریکا نے متاثرین کے لیے خوراک اور مالی امداد بھیجی، جسے بیرونِ ملک سے قدرتی آفت کے متاثرین کی مدد کی ابتدائی مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<h3><a id="7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" href="#7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>7۔ 1868 کا اریکا زلزلہ (25 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1868 میں 8.5 شدت کا ایک انتہائی طاقتور زلزلہ اریکا کے علاقے میں آیا۔ اس وقت اریکا پیرو کا حصہ تھا، جبکہ آج یہ علاقہ چلی میں شامل ہے۔</p>
<p>زلزلے نے اریکا کے ساتھ ساتھ اریکیپا، موکیگوا، مولینڈو اور ایلو سمیت کئی شہروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ تاہم تباہی صرف زمین تک محدود نہیں رہی۔ زلزلے کے بعد سمندر میں سونامی پیدا ہوا، جس نے پیرو کے ساحلی علاقوں اور بندرگاہی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔</p>
<p>سونامی کی لہروں کا اثر بہت دور تک محسوس ہوا اور ہوائی اور نیوزی لینڈ تک تباہ کن لہریں پہنچنے کی اطلاعات ملیں۔ مجموعی طور پر اس آفت میں تقریباً 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<h3><a id="8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" href="#8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>8۔ 1976 کا گوئٹے مالا زلزلہ (23 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>4 فروری 1976 کو گوئٹے مالا میں 7.5 شدت کا زلزلہ رات تقریباً 3 بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ گھروں میں سو رہے تھے۔ دارالحکومت گوئٹے مالا سٹی سمیت گنجان آباد علاقوں میں شدید تباہی ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506698/islamabad-khyber-pakhtunkhwa-5-4-magnitude-earthquake-hit-pakistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506698"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>زلزلے سے تقریباً ایک لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے میں نقصان ہوا۔ مٹی اور اینٹوں سے بنی بڑی تعداد میں گھروں کا وجود مٹ گیا، جبکہ بعد میں آنے والے طاقتور جھٹکوں نے مزید اموات اور نقصان کا سبب بنایا۔</p>
<p>تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔ ملک کے تقریباً دو پانچویں حصے کے اسپتال بھی تباہ یا شدید متاثر ہوئے، جس کے باعث زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا مزید مشکل ہوگیا۔</p>
<h3><a id="9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" href="#9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>9۔ 1797 کا وینزویلا زلزلہ (16 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1797 میں وینزویلا میں آنے والے ایک اور بڑے زلزلے نے تقریباً 16 ہزار جانیں لیں۔ اس زلزلے کی شدت کا درست اندازہ موجود نہیں، کیونکہ اس زمانے میں زلزلے ریکارڈ کرنے کے لیے جدید آلات دستیاب نہیں تھے۔</p>
<p>جرمن ماہرِ جغرافیہ اور قدرتی علوم کے محقق الیگزینڈر فان ہمبولٹ نے بعد میں اس زلزلے کے بارے میں معلومات درج کیں۔ زلزلے نے کومانا شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو تباہ کردیا۔</p>
<p>اس وقت کے بعض عینی شاہدین نے زلزلے سے پہلے زمین کے اندر سے تیز آوازیں آنے اور گندھک جیسی بو محسوس ہونے کا ذکر کیا۔ 1855 میں شائع ہونے والے زلزلوں کے ایک ریکارڈ میں بھی زمین سے شعلے نکلنے اور اس کے بعد زیرِ زمین ابلتے پانی جیسی آوازوں کا ذکر کیا گیا، تاہم ان تاریخی مشاہدات کی جدید سائنسی تشریح مختلف ہوسکتی ہے۔</p>
<h3><a id="10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" href="#10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>10۔ 1861 کا ارجنٹینا زلزلہ (14 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1861 میں ارجنٹینا کے شہر مینڈوزا کے قریب آنے والے زلزلے نے تقریباً 14 ہزار افراد کی جان لی۔ زلزلہ رات کے قریب آیا اور شہر کی زیادہ تر عمارتیں تباہ ہوگئیں۔</p>
<p>تباہ ہونے والی عمارتوں میں سین فرانسسکو باسیلیکا بھی شامل تھی۔ اس دور میں شہروں میں گیس کے چراغ عام استعمال ہوتے تھے۔ عمارتوں کے ملبے کے ساتھ ان چراغوں سے لگنے والی آگ نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا اور آگ کئی دن تک جلتی رہی۔</p>
<p>زلزلے کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلی اور لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے۔ نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن کے اہم زلزلہ ڈیٹا بیس میں اس زلزلے کی شدت درج نہیں، تاہم بعض تاریخی ریکارڈ اسے تقریباً 7.2 شدت کا زلزلہ قرار دیتے ہیں۔</p>
<h3><a id="زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" href="#زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زلزلوں کی تباہی صرف شدت سے طے نہیں ہوتی</strong></h3>
<p>لاطینی امریکا کی ان 10 بڑی قدرتی آفات کی تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ زلزلے کی شدت جانی نقصان کا واحد سبب نہیں ہوتی۔ ہیٹی کا 2010 کا 7.0 شدت کا زلزلہ اس کی واضح مثال ہے، جس میں 3 لاکھ 16 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔</p>
<p>کمزور عمارتیں، گنجان آبادی، تعمیراتی قوانین پر عمل نہ ہونا، امدادی سہولتوں کی کمی اور زلزلے کے بعد آنے والے دیگر خطرات، جیسے لینڈ سلائیڈنگ اور سونامی، کسی زلزلے کو زیادہ خطرناک بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>ان اعداد و شمار میں معمولی فرق مختلف تاریخی ذرائع اور اس دور میں ریکارڈنگ کی محدود سہولتوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قدرتی آفت کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن مضبوط تعمیرات، بہتر منصوبہ بندی اور بروقت امدادی نظام کے ذریعے اس کے انسانی نقصان کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق یہ اعداد و شمار نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن اور ورلڈ ڈیٹا سروس فار جیو فزکس سے مرتب کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512484</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 11:37:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/11112817b8e9662.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/11112817b8e9662.webp"/>
        <media:title>(وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں زلزلے سے منہدم عمارت کا منظر، 25 جون 2026 )</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
