<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 15:24:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 15:24:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا کے علماء کا فتویٰ: مخالف جنس کا لباس پہننا 'حرام' قرار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512519/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا کی بااثر اسلامی تنظیم علما کونسل (ایم یو آئی)  نے یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران مردوں کو خواتین کا لباس پہننے سے خبردار کرتے ہوئے اسے ’حرام‘ قرار دے دیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ایل جی بی ٹی کی مخالفت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشین علما کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ مردوں کا خواتین کا لباس پہننا شریعت اور سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کا باعث بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ’لیسبین، گے، سوڈومی اور فحاشی‘ (ایل جی ایس پی) کی تحریک کی مبینہ خفیہ مہم کو روکنا ہے۔ کونسل ایل جی بی ٹی کی اصطلاح کے متبادل کے طور پر LGSP کا استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا میں ہر سال 17 اگست کو 1945 میں نوآبادیاتی دور کے خاتمے اور آزادی کے اعلان کی مناسبت سے مختلف تقریبات اور کھیلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30438648'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30438648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملک کے مختلف علاقوں میں رسہ کشی، بوری ریس، کریکر کھانے کے مقابلے، چکنے کھمبوں پر چڑھنے اور رنگا رنگ پریڈ سمیت مختلف سرگرمیاں منعقد ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ علاقوں میں مرد خواتین کے کپڑے اور حجاب پہن کر فٹبال بھی کھیلتے ہیں۔ اس روایت کو عام طور پر مزاحیہ سرگرمی سمجھا جاتا ہے اور اسے صنفی شناخت کے اظہار کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ بعض مقامات پر مرد آزادی کی پریڈ میں شرکت کے لیے بھی خواتین کا لباس پہنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30444034'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30444034"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے بیان میں علما کونسل کے فتویٰ کمیشن نے کہا کہ مردوں کا خواتین کا لباس پہننا جیسے ’گمراہ کن اقدامات‘ شریعت اور سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کا سبب بن رہے ہیں۔ کونسل نے خواتین کے مردوں کا لباس پہننے پر بھی اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علما کونسل اس سے قبل بھی مردوں کے خواتین کا لباس پہننے کے خلاف بیانات جاری کرچکی ہے۔ تاہم حالیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈونیشیا میں ہم جنس پرست افراد پر جسمانی حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور صدر کی جانب سے ایک ضابطے میں ’ایل جی بی ٹی کلچر‘ کو سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقوقِ ہم جنس پرستوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم GAYa Nusantara کے بانی دیدے اوٹومو نے کہا ہے کہ مردوں کا روایتی طور پر خواتین کے لباس میں فٹبال کھیلنا یا پریڈ میں شرکت کرنا کئی علاقوں میں طویل عرصے سے یومِ آزادی کی تقریبات کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈونیشیا کی بااثر اسلامی تنظیم علما کونسل (ایم یو آئی)  نے یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران مردوں کو خواتین کا لباس پہننے سے خبردار کرتے ہوئے اسے ’حرام‘ قرار دے دیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ایل جی بی ٹی کی مخالفت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>انڈونیشین علما کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ مردوں کا خواتین کا لباس پہننا شریعت اور سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p>کونسل نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ’لیسبین، گے، سوڈومی اور فحاشی‘ (ایل جی ایس پی) کی تحریک کی مبینہ خفیہ مہم کو روکنا ہے۔ کونسل ایل جی بی ٹی کی اصطلاح کے متبادل کے طور پر LGSP کا استعمال کرتی ہے۔</p>
<p>انڈونیشیا میں ہر سال 17 اگست کو 1945 میں نوآبادیاتی دور کے خاتمے اور آزادی کے اعلان کی مناسبت سے مختلف تقریبات اور کھیلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30438648'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30438648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملک کے مختلف علاقوں میں رسہ کشی، بوری ریس، کریکر کھانے کے مقابلے، چکنے کھمبوں پر چڑھنے اور رنگا رنگ پریڈ سمیت مختلف سرگرمیاں منعقد ہوتی ہیں۔</p>
<p>کچھ علاقوں میں مرد خواتین کے کپڑے اور حجاب پہن کر فٹبال بھی کھیلتے ہیں۔ اس روایت کو عام طور پر مزاحیہ سرگرمی سمجھا جاتا ہے اور اسے صنفی شناخت کے اظہار کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ بعض مقامات پر مرد آزادی کی پریڈ میں شرکت کے لیے بھی خواتین کا لباس پہنتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30444034'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30444034"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے بیان میں علما کونسل کے فتویٰ کمیشن نے کہا کہ مردوں کا خواتین کا لباس پہننا جیسے ’گمراہ کن اقدامات‘ شریعت اور سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کا سبب بن رہے ہیں۔ کونسل نے خواتین کے مردوں کا لباس پہننے پر بھی اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا ہے۔</p>
<p>علما کونسل اس سے قبل بھی مردوں کے خواتین کا لباس پہننے کے خلاف بیانات جاری کرچکی ہے۔ تاہم حالیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈونیشیا میں ہم جنس پرست افراد پر جسمانی حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور صدر کی جانب سے ایک ضابطے میں ’ایل جی بی ٹی کلچر‘ کو سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>حقوقِ ہم جنس پرستوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم GAYa Nusantara کے بانی دیدے اوٹومو نے کہا ہے کہ مردوں کا روایتی طور پر خواتین کے لباس میں فٹبال کھیلنا یا پریڈ میں شرکت کرنا کئی علاقوں میں طویل عرصے سے یومِ آزادی کی تقریبات کا حصہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512519</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 14:23:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/1114133025fd5a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/1114133025fd5a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
