<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 10:12:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 10:12:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زمبابوے میں مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی، 44 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512765/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زمبابوے میں مسافروں سے بھری کشتی جھیل میں الٹنے کے نتیجے میں 44 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ متعدد افراد لاپتا ہیں۔ حکام کے مطابق حادثہ کشتی میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کے سوار ہونے کے باعث پیش آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق حادثے کے وقت کشتی پر عملے اور بچوں سمیت 153 افراد سوار تھے، جبکہ کشتی میں زیادہ سے زیادہ 90 افراد کے سوار ہونے کی گنجائش تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق فیری تیز لہر کی زد میں آکر الٹ گئی۔ حادثے کے وقت کشتی کی گنجائش سے متعلق بھی مختلف اعداد سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق فیری میں 90 مسافروں اور 5 عملے کے ارکان کی گنجائش تھی، جبکہ جھیل کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کشتی پر 12 بچوں سمیت 120 افراد سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمبابوے کے سول پروٹیکشن یونٹ کے مطابق رجسٹرڈ ٹکٹوں کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیری پر 114 بالغ مسافر سوار تھے، جبکہ ٹکٹ کی عمر سے کم بچوں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے تازہ ترین بیان کے مطابق جھیل سے اب تک 44 لاشیں نکالی جاچکی ہیں، جبکہ امدادی کارروائیوں میں 77 افراد کو بچایا گیا ہے۔ مزید لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30479850'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30479850"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں فوج کی کشتیوں کا دستہ، پولیس کا غوطہ خور یونٹ اور نجی ہیلی کاپٹر بھی شامل کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عینی شاہد میکسٹن کنہیما نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کشتی خراب موسم کے دوران سفر کر رہی تھی اور ممکنہ طور پر ایک بڑی لہر سے ٹکرانے کے بعد اس کے انجن بند ہوگئے، جس کے نتیجے میں کشتی الٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مسافر شدید پریشانی میں مبتلا تھے اور پانی میں لاشیں بھی موجود تھیں، تاہم جو افراد بچائے جاسکتے تھے، انہیں ریسکیو کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499350'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499350"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقامی رکن پارلیمنٹ موتسا مورو مبیدزی نے بھی سوشل میڈیا پر کشتی کی روانگی سے قبل کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی افراد جھیل عبور کرکے کاریبا شہر جارہے تھے، جہاں پہنچنے میں تقریباً 5 گھنٹے لگتے ہیں۔ انہوں نے حکام سے کشتی پر سوار افراد کی درست تعداد جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھیل کاریبا زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد پر واقع ہے اور دنیا کے بڑے مصنوعی آبی ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔ جھیل دونوں ممالک میں نقل و حمل اور ماہی گیری کے ساتھ ساتھ پن بجلی کی فراہمی کے لیے بھی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمبابوے کے وزیر بلدیات ڈینیئل گاروے کے مطابق صدر ایمرسن منانگاگوا نے تمام ضروری وسائل فوری طور پر متحرک کرنے کے لیے ریاستی سطح پر آفت کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے حادثے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زمبابوے میں مسافروں سے بھری کشتی جھیل میں الٹنے کے نتیجے میں 44 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ متعدد افراد لاپتا ہیں۔ حکام کے مطابق حادثہ کشتی میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کے سوار ہونے کے باعث پیش آیا۔</strong></p>
<p>حکام کے مطابق حادثے کے وقت کشتی پر عملے اور بچوں سمیت 153 افراد سوار تھے، جبکہ کشتی میں زیادہ سے زیادہ 90 افراد کے سوار ہونے کی گنجائش تھی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق فیری تیز لہر کی زد میں آکر الٹ گئی۔ حادثے کے وقت کشتی کی گنجائش سے متعلق بھی مختلف اعداد سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق فیری میں 90 مسافروں اور 5 عملے کے ارکان کی گنجائش تھی، جبکہ جھیل کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کشتی پر 12 بچوں سمیت 120 افراد سوار تھے۔</p>
<p>زمبابوے کے سول پروٹیکشن یونٹ کے مطابق رجسٹرڈ ٹکٹوں کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیری پر 114 بالغ مسافر سوار تھے، جبکہ ٹکٹ کی عمر سے کم بچوں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔</p>
<p>پولیس کے تازہ ترین بیان کے مطابق جھیل سے اب تک 44 لاشیں نکالی جاچکی ہیں، جبکہ امدادی کارروائیوں میں 77 افراد کو بچایا گیا ہے۔ مزید لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30479850'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30479850"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکام کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں فوج کی کشتیوں کا دستہ، پولیس کا غوطہ خور یونٹ اور نجی ہیلی کاپٹر بھی شامل کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ایک عینی شاہد میکسٹن کنہیما نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کشتی خراب موسم کے دوران سفر کر رہی تھی اور ممکنہ طور پر ایک بڑی لہر سے ٹکرانے کے بعد اس کے انجن بند ہوگئے، جس کے نتیجے میں کشتی الٹ گئی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مسافر شدید پریشانی میں مبتلا تھے اور پانی میں لاشیں بھی موجود تھیں، تاہم جو افراد بچائے جاسکتے تھے، انہیں ریسکیو کرلیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499350'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499350"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مقامی رکن پارلیمنٹ موتسا مورو مبیدزی نے بھی سوشل میڈیا پر کشتی کی روانگی سے قبل کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی افراد جھیل عبور کرکے کاریبا شہر جارہے تھے، جہاں پہنچنے میں تقریباً 5 گھنٹے لگتے ہیں۔ انہوں نے حکام سے کشتی پر سوار افراد کی درست تعداد جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>جھیل کاریبا زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد پر واقع ہے اور دنیا کے بڑے مصنوعی آبی ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔ جھیل دونوں ممالک میں نقل و حمل اور ماہی گیری کے ساتھ ساتھ پن بجلی کی فراہمی کے لیے بھی اہم ہے۔</p>
<p>زمبابوے کے وزیر بلدیات ڈینیئل گاروے کے مطابق صدر ایمرسن منانگاگوا نے تمام ضروری وسائل فوری طور پر متحرک کرنے کے لیے ریاستی سطح پر آفت کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>حکومت نے حادثے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512765</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 09:00:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/130855534d20edb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/130855534d20edb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
