<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 14:15:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 14:15:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سورج گرہن نے یورپ میں دن کو رات بنا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512772/solar-eclipse-2026-solar-eclipse-2027-astronomy-space-total-solar-eclipse-europe-north-africa</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بدھ، 12 اگست 2026 کو دنیا نے 21ویں صدی کا ایک انتہائی نادر اور شاندار فلکیاتی منظر دیکھا، جب مکمل سورج گرہن نے زمین کے بڑے حصے بالخصوص یورپ کو چند منٹوں کے لیے پراسرار تاریکی کی آغوش میں لے لیا۔ برّی یورپ میں 1999 کے بعد یعنی تقریباً 27 سالوں بعد دیکھا جانے والا یہ پہلا مکمل سورج گرہن تھا، جس نے سائنسدانوں، سیاحوں اور عام شہریوں کو یکساں طور پر حیرت زدہ کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس گرہن کے مرکزی راستے کا جائزہ لیا جائے تو تاریکی کے اہم مراکز میں چاند کے سائے کی شروعات قطب شمالی کے قریب روس کے دور دراز شمالی علاقوں سے ہوئی، جس کے بعد اس نے گرین لینڈ، آئس لینڈ اور اتلانتک سمندر کو عبور کرتے ہوئے سپین اور پرتگال کا رخ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک اور مغربی ساحلی پٹی پر شام پونے چھ بجے کے قریب چاند نے سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا اور دوپہر کے فوراً بعد دن اچانک رات کا منظر پیش کرنے لگا، جس سے آسمان پر سورج کا چمکتا ہوا بیرونی ہالہ صاف دکھائی دینے لگا، جسے کرونا کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سپین کے شمالی اور مشرقی علاقوں بشمول آکورونیا، لیان، ساراگوسا، والنسیا اور جزائرِ بالیارک میں یہ منظر شام کو غروبِ آفتاب کے بالکل قريب پیش آیا، جہاں شفق کی سرخ روشنی کے درمیان سورج کا مکمل تاریک ہو جانا ایک جادوئی فضا قائم کر گیا۔ علاوہ ازیں، آرکٹک کے انتہائی برفانی خطوں میں دوپہر کے وقت گرہن اپنے عروج پر تھا، جہاں چاند نے سورج کو تقریباً دو منٹ اور اٹھارہ سیکنڈز کے لیے مکمل طور پر چھپا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&amp;href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F903877945647316%2F&amp;show_text=false&amp;width=267&amp;t=0" width="267" height="476" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مکمل تاریکی مخصوص علاقوں تک محدود تھی، لیکن دنیا کی ایک بڑی آبادی نے اس واقعے کو جزوی گرہن کی صورت میں دیکھا۔ یورپ کے دیگر ممالک جیسے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ میں سورج کا 80 فیصد سے 95فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا، جس سے دوپہر کے وقت روشنی مدہم ہو کر ڈوبتی شام میں بدل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، شمالی امریکا میں امریکا اور کینیڈا کے شمالی و مشرقی حصوں بشمول الاسکا، نیویارک اور بوسٹن میں صبح اور دوپہر کے اوائل میں جزوی گرہن دیکھا گیا، جہاں سورج کا ایک چھوٹا حصہ کٹا ہوا نظر آیا، جبکہ شمال مغربی افریقہ کے ساحلی علاقوں میں بھی سورج گرہن کا جزوی اثر دیکھا گیا۔ تاہم، پاکستان، بھارت اور بیشتر ایشیائی ممالک میں اس وقت رات کا وقت ہونے کی وجہ سے یہ گرہن براہِ راست نہیں دیکھا جا سکا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512768/solar-eclipse-2026-total-solar-eclipse-august-2026-eclipse-europe-astronomy-celestial-event-eclipse-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخی منظر کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں سیاح اور ماہرینِ فلکیات اسپین اور آئس لینڈ پہنچے ہوئے تھے، جہاں ساحلوں، فلک بوس عمارتوں کی چھتوں اور تاریخی مقامات پر لوگوں نے مخصوص حفاظتی چشموں کے ذریعے اس منظر کو محفوظ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکمل گرہن کے ان چند منٹوں میں درجہ حرارت میں اچانک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور ہوا میں ٹھنڈک پھیل گئی۔ قدرتی ماحول پر بھی اس کا گہرا اثر دیکھا گیا، پرندے اور دیگر جنگلی جانور ماحول میں اچانک آنے والی اس تاریکی سے دھوکا کھا کر خاموش ہو گئے اور اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹنے لگے، جبکہ سڑکوں پر خودکار لائٹس خود بخود روشن ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلکیاتی سائنسدانوں کے مطابق یورپ کو آنے والے کچھ سالوں میں مزید نایاب فلکیاتی نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔ یورپی خلائی ایجنسی اور ناسا کی پیش گوئی کے مطابق 2 اگست 2027 کو یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض حصوں میں ایک اور مکمل سورج گرہن ہوگا، جس کا دورانیہ تاریخ کا طویل ترین دورانیہ بتایا جارہا ہے جو تقریباً 6 منٹ ہوگا۔ اس کے علاوہ 26 جنوری 2028 اسپین اور جنوب مغربی یورپ میں رنگ آف فائر سورج گرہن کا نظارہ ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کے حالیہ سورج گرہن نے سائنسی تحقیق کے لیے بھی اہم موقع فراہم کیا اوریہ سائنسدانوں، ماہرینِ فلکیات اور قدرتی مناظر کے شوقین افراد کے لیے سائنسی تحقیق اور فلکیاتی خوبصورتی کا ایک ناقابلِ فراموش امتزاج ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بدھ، 12 اگست 2026 کو دنیا نے 21ویں صدی کا ایک انتہائی نادر اور شاندار فلکیاتی منظر دیکھا، جب مکمل سورج گرہن نے زمین کے بڑے حصے بالخصوص یورپ کو چند منٹوں کے لیے پراسرار تاریکی کی آغوش میں لے لیا۔ برّی یورپ میں 1999 کے بعد یعنی تقریباً 27 سالوں بعد دیکھا جانے والا یہ پہلا مکمل سورج گرہن تھا، جس نے سائنسدانوں، سیاحوں اور عام شہریوں کو یکساں طور پر حیرت زدہ کر دیا۔</strong></p>
<p>اگر اس گرہن کے مرکزی راستے کا جائزہ لیا جائے تو تاریکی کے اہم مراکز میں چاند کے سائے کی شروعات قطب شمالی کے قریب روس کے دور دراز شمالی علاقوں سے ہوئی، جس کے بعد اس نے گرین لینڈ، آئس لینڈ اور اتلانتک سمندر کو عبور کرتے ہوئے سپین اور پرتگال کا رخ کیا۔</p>
<p>آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک اور مغربی ساحلی پٹی پر شام پونے چھ بجے کے قریب چاند نے سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا اور دوپہر کے فوراً بعد دن اچانک رات کا منظر پیش کرنے لگا، جس سے آسمان پر سورج کا چمکتا ہوا بیرونی ہالہ صاف دکھائی دینے لگا، جسے کرونا کہا جاتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح سپین کے شمالی اور مشرقی علاقوں بشمول آکورونیا، لیان، ساراگوسا، والنسیا اور جزائرِ بالیارک میں یہ منظر شام کو غروبِ آفتاب کے بالکل قريب پیش آیا، جہاں شفق کی سرخ روشنی کے درمیان سورج کا مکمل تاریک ہو جانا ایک جادوئی فضا قائم کر گیا۔ علاوہ ازیں، آرکٹک کے انتہائی برفانی خطوں میں دوپہر کے وقت گرہن اپنے عروج پر تھا، جہاں چاند نے سورج کو تقریباً دو منٹ اور اٹھارہ سیکنڈز کے لیے مکمل طور پر چھپا دیا۔</p>
<raw-html>
<iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F903877945647316%2F&show_text=false&width=267&t=0" width="267" height="476" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"></iframe></raw-html>
<p>اگرچہ مکمل تاریکی مخصوص علاقوں تک محدود تھی، لیکن دنیا کی ایک بڑی آبادی نے اس واقعے کو جزوی گرہن کی صورت میں دیکھا۔ یورپ کے دیگر ممالک جیسے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ میں سورج کا 80 فیصد سے 95فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا، جس سے دوپہر کے وقت روشنی مدہم ہو کر ڈوبتی شام میں بدل گئی۔</p>
<p>دوسری جانب، شمالی امریکا میں امریکا اور کینیڈا کے شمالی و مشرقی حصوں بشمول الاسکا، نیویارک اور بوسٹن میں صبح اور دوپہر کے اوائل میں جزوی گرہن دیکھا گیا، جہاں سورج کا ایک چھوٹا حصہ کٹا ہوا نظر آیا، جبکہ شمال مغربی افریقہ کے ساحلی علاقوں میں بھی سورج گرہن کا جزوی اثر دیکھا گیا۔ تاہم، پاکستان، بھارت اور بیشتر ایشیائی ممالک میں اس وقت رات کا وقت ہونے کی وجہ سے یہ گرہن براہِ راست نہیں دیکھا جا سکا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512768/solar-eclipse-2026-total-solar-eclipse-august-2026-eclipse-europe-astronomy-celestial-event-eclipse-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس تاریخی منظر کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں سیاح اور ماہرینِ فلکیات اسپین اور آئس لینڈ پہنچے ہوئے تھے، جہاں ساحلوں، فلک بوس عمارتوں کی چھتوں اور تاریخی مقامات پر لوگوں نے مخصوص حفاظتی چشموں کے ذریعے اس منظر کو محفوظ کیا۔</p>
<p>مکمل گرہن کے ان چند منٹوں میں درجہ حرارت میں اچانک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور ہوا میں ٹھنڈک پھیل گئی۔ قدرتی ماحول پر بھی اس کا گہرا اثر دیکھا گیا، پرندے اور دیگر جنگلی جانور ماحول میں اچانک آنے والی اس تاریکی سے دھوکا کھا کر خاموش ہو گئے اور اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹنے لگے، جبکہ سڑکوں پر خودکار لائٹس خود بخود روشن ہو گئیں۔</p>
<p>فلکیاتی سائنسدانوں کے مطابق یورپ کو آنے والے کچھ سالوں میں مزید نایاب فلکیاتی نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔ یورپی خلائی ایجنسی اور ناسا کی پیش گوئی کے مطابق 2 اگست 2027 کو یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض حصوں میں ایک اور مکمل سورج گرہن ہوگا، جس کا دورانیہ تاریخ کا طویل ترین دورانیہ بتایا جارہا ہے جو تقریباً 6 منٹ ہوگا۔ اس کے علاوہ 26 جنوری 2028 اسپین اور جنوب مغربی یورپ میں رنگ آف فائر سورج گرہن کا نظارہ ممکن ہوگا۔</p>
<p>2026 کے حالیہ سورج گرہن نے سائنسی تحقیق کے لیے بھی اہم موقع فراہم کیا اوریہ سائنسدانوں، ماہرینِ فلکیات اور قدرتی مناظر کے شوقین افراد کے لیے سائنسی تحقیق اور فلکیاتی خوبصورتی کا ایک ناقابلِ فراموش امتزاج ثابت ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512772</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 11:39:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/131128132666779.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/131128132666779.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
